نادِ علی۔۔۔۔

مقربینِ دربارِ الہی اور بالخصوص سید الرسل جانِ کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے توسل نہ صرف اہلسنت کے معمولات سے ہے بلکہ دعاؤں کی قبولیت کا آسان ترین اور مجرب ترین ذریعہ ہے۔ لیکن توسل کی ایک صورت “نادِ علی” کے عنوان سے پیش کی جاتی ہے جو شیعہ حضرات کے بیچ خاصی شہرت کی حامل ہے اور اہلسنت کے ہاں بھی مجربات سے ہے۔ اور بعض لوگ تو غزوہ احد کے موقع پر اس کے آسمان سے نازل ہونے کا قصہ بھی بتاتے ہیں۔

لیکن اگر ہم اس کی صحت وثبوت کی طرف جائیں تو اہلسنت کے ہاں یہ محض من گھڑت ، بے اصل اور شیعہ حضرات کے ڈھکوسلوں سے ہے ، علامہ علی قاری رحمہ اللہ تعالی پھر علامہ عجلونی (متوفی 1162ھ) لکھتے ہیں:

وكذا من مفتريات الشيعة الشنيعة حديث: ناد عليا مظهر العجائب تجده عونا لك في النوائب بنبوتك يا محمد بولايتك يا علي

(الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ 385 ، کشف الخفاء 2 : 447)

اگر ہم شیعہ مصادر کی طرف جاتے ہیں تو تلاشِ بسیار کے باوجود شیعہ عالم إبراهيم بن علي كفعمي (متوفی 905ھ) کی کتاب “المصباح” سے پہلے کتبِ شیعہ میں اس عبارت کا کہیں وجود نہیں ملتا۔ شیخ كَفْعَمي لکھتے ہیں:

وَمِمَّا ذُكِرَ لِرَدِّ الضَّائِعِ وَالْآبِق تَكْرَارُ هَذَيْنِ الْبَيْتَيْن:

نَادِ عَلِيّاً مَظْهَرَ الْعَجَائِب * تجِدْهُ عَوْناً لَكَ فِي النَّوَائِب

كُلُّ هَمٍّ وَغَمٍّ سَيَنْجَلِي * بوَلَايَتِكَ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِي

(المصباح 182 ، 183)

شیخ كَفْعَمي نے نہ تو ان اشعار کا کوئی ماخذ ذکر کیا اور نہ ہی ان کے حدیث ہونے کی طرف کسی قسم کا اشارہ کیا۔ شیخ كَفْعَمي کے بعد اسی طرح کی گفتگو شیعہ عالم فيض كاشاني (متوفی 1091هـ) نے (الرسائل 13: 69) میں اور علامہ باقر مجلسی (متوفی 1111ھ) نے (زاد المعاد: 561) میں کی۔

البتہ علامہ باقر مجلسی (متوفی 1111ھ) نے بحار الانوار (20: 73) ، محمد باقر كجوري (متوفی 1255هـ) نے اپنی کتاب (الخصائص الفاطميّة: 2: 170، 236) ، شیخ محمد مھدی حائری (متوفی 1369ھ) نے (شجرة طوبى 2: 280) ، محدث نوری (متوفی 1320ھ) نے (مستدرك الوسائل ومستنبط المسائل: 15: 483) میں ، شيخ نمازي شاهرودي (متوفی 1405هـ) نے (مستدرك سفينة البحار 10 : 19 ، 5 : 452) میں ، سيد مرعشي نجفي (متوفی 1411هـ) نے (شرح إحقاق الحقّ 31 : 219 ، 220) میں سے بعض نے ان اشعار کی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت کی اور بعض نے شیعہ کے ہاں ائمہ معصومین کی طرف نسبت کی ، لیکن کسی کے پاس علامہ مجلسی کی کتاب بحار الانوار سے پہلے کا کوئی ماخذ موجود نہیں۔

عقلمند یہیں سے با آسانی سمجھ سکتا ہے کہ وہ اشعار جنہیں “نادِ علی” کا نام دیا جاتا ہے ، جب علامہ باقر مجلسی جو گیارہویں صدی کے شیعہ عالم ہیں ، ان سے پہلے کسی کتاب میں ان کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف نہیں ملتی ، زیادہ سے زیادہ شیخ كَفْعَمي کی کتاب میں ان کا ذکر ملتا ہے لیکن شیخ كَفْعَمي نے ان اشعار کی دورِ رسالت کی طرف کوئی نسبت نہیں کی۔ شیخ كَفْعَمي جو نویں صدی کی شخصیت ہیں ، ان سے پہلے کسی شیعہ کتاب میں ان اشعار کا ذکر نہیں ملتا۔۔۔۔ جب شیعہ حضرات کے نزدیک بھی ان اشعار کا ظہور نویں صدی میں ہو رہا ہے تو پھر ان کی نسبت دورِ رسالت کی طرف کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟؟؟

علاوہ ازیں کچھ کتابوں میں کہا گیا کہ جنگِ احد کے موقع پر جنابِ جبریل نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے آکر عرض کی:

ناد علياً مظهر العجائب

تجده عوناً لك في النوائب

كلّ غمّ وهمّ سينجلي

بولايتك يا علي يا علي يا علي

یعنی حضرت جبریل نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجھہ الکریم کی ذاتِ والا سے توسل کا درس دینے کے لیے یہ اشعار پیش کیے۔۔۔۔

حیرت کی بات ہے کہ جو ذاتِ والا دربارِ الہی میں حضرت آدم اور اولادِ آدم کا وسیلہ ہیں انہیں حکم فرمایا جا رہا ہے کہ آپ خود حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجھہ الکریم کی ذاتِ عالیہ کو وسیلہ بنائیں۔۔۔۔ آخر یہ حضرات اپنے اس طرزِ گفتگو سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اہلِ اسلام کے اذہان وقلوب کو کس فکر کا حامل بنانا چاہتے ہیں؟

اور اگر ان اشعار کی ترکیب پر غور کی جائے تو عجیب بے ترتیبی ظاہر ہوتی ہے ، کیونکہ ان حضرات کے بقول ” ناد علياً” کا مخاطبِ اول رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ذاتِ عالیہ ہیں ، جبکہ آخری مصرع میں “بولايتك يا علي يا علي يا علي” کہا جا رہا ہے ، یعنی خطاب حضرت علی سے ہو رہا ہے۔۔۔!!! مطلب یہ کہ اگر خطاب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ذاتِ والا کو ہو تو ” بولايتك يا علي يا علي يا علي ” بے محل ہے اور اگر خطاب حضرت علی سے ہو تو سوال ہو گا کہ “نادِ علیا” میں حضرت علی کو کس “علی” کو پکارنے کا حکم دیا جا رہا ہے؟؟؟

اسی بے ترتیبی کو سمجھتے ہوئے بحار الانوار کے محشی نے ان اشعار کے تحت لکھا:

الجملة الأخيرة فيها غرابة ولا تلائم سابقها، والظاهر أنها من زيادة بعض الجهلة، أو الصوفية المضلة الذين يزعمون أن هذه الجملات تكون دعاء فيذكرونها وردا وذكرا، غفلة عن معناها، بل بعضهم يرون للمداومة على ذكرها فضيلة ليست للصلاة، حفظنا الله عن البدع واتباع الأهواء

(حاشیۃ بحار الانوار 20 : 73)

حاصلِ گفتگو یہ ہے کہ:

اہلسنت کے ہاں “نادِ علی” بے اصل اور شیعہ حضرات کے افتراءات سے ہے۔ اور شیعہ حضرات کے ہاں بھی نویں صدی سے پہلے اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ لہذا جنابِ رسالتِ مآب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یا ائمہ کی جانب نسبت بالکل بے بنیاد ہے۔

علاوہ ازیں “نادِ علی” ترکیبی اور معنوی لحاظ سے بھی بے ترتیبی کا شکار ہے۔ جس کا اقرار شیعہ علماء بھی کرتے ہیں۔

بایں ہمہ اولیاء کرام وانبیاء عظام سے توسل ، بالخصوص سیدِ انبیاء صلی اللہ تعالی علیہ وعلیہم وسلم کی ذاتِ والا سے توسل موجبِ برکت وباعثِ سعادت ہے۔ اللہ کریم جل وعلا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے صدقے ہمیں دارین کی سعادتوں سے نوازے۔

آمین

بحرمۃ النبی الامین

علیہ وعلی آلہ وصحبہ الصلاۃ والتسلیم

چمن زمان

14 ذو الحجہ 1440ھ ، 15 اگست 2019