قارئین اہلسنت

دیوبندی مناظرین کےلیے گھمن کے عجیب و غریب نکات

گھمن نے زیادہ سمجھدار بنتے ہوئے دیوبندی مناظرین کے لیے کچھ نکات مرتب کیے ہیں جو بالکل فضول ہیں جن کا موضوع کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، ہاں مناظرے میں ٹائم پاس کرنے کےلیے اور جلد شکست نہ ہونےکے لیے یہ نکات ضرور دیوبندیوں کےلیے مفید ہیں

لیکن آخر کار ان میں بھی دیوبندیوں کو ہمشیہ کی طرح ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑے گا۔ ان شاءاللہ۔

1: سب سے پہلے اعلی حضرت کے ایمان و کفر پا بات ہوگی پھر حسام الحرمین پر

گھمن کا پہلا نکتہ یہ تھا

سب سے پہلے فاضل بریلوی کےکفر و ایمان پر بات ہوگی پھر حسام الحرمین پر کیوں کہ مصنف کا ذکر اور حالات کتاب سے پہلے ہوتے ہیں

(حسام الحرمین کا تحقیقی جائزہ ص 93)

یہ گھمن کی خوب چالاکی ہے کہ اس سے پہلے کہ لوگوں کو دیوبندیوں کےکفریات پتہ چلیں، اعلی حضرت کی شخصیت پر حملہ کردو اور جس طرح گھمن نے اعلی حضرت پر فضول اعتراضات کرکے اپنا اور قارئین کا وقت برباد کیا ہے، اسی طرح مناظرے میں چند گھنٹے اسی پر لگا دو تاکہ مناظرےکا وقت گزر جائے اور ہمارے مولویوں کی گستاخیاں بچ جائیں

اعلی حضرت کےایمان پر تو خود انکےا کابرین دیوبندیوں نے بھی کوئی شک نہیں کیا تھا بلکہ عاشق رسول ہی کہا تھا اور اعلی حضرت کی تمام تصانیف میں آج تک کوئی مائی کا لال ایسا پیدا نہیں ہوا جو یہ ثابت کردے کہ فلاں عبارت کفریہ ہے

وہابی دیوبندی فقط دعوی کرتے ہیں، ثابت آج تک نہیں کرپائے، علمائے اہل سنت نے مناظروں میں ان کی بولتیاں بند کروادی ہیں جیسا کہ مناظرہ جھنگ میں سرکاری افسروں کی موجودگی میں نام نہاد سپاہ صحابہ کا لیڈر حق نواز جھنگوی دیوبندی کو اشرف سیالوی صاحب کے ہاتھوں عبرتناک شکست ہوچکی ہے

پھر اگر اعلی حضرت کی شخصیت پر بھی بات کرو تو ہمارے پا س تمہارے معتبر علماء کے دلائل موجود ہیں جنہوں نے اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت کو سراہا ہے

دیوبند کے محدث انور شاہ کشمیری لکھتے ہیں

جب بندہ ترمذی شریف اور دیگر کتب احادیث کی شروح لکھ رہا تھا تو حسب ضرورت احادیث کی جزئیات دیکھنے کی ضرورت در پیش آئی تو میں نے شیعہ حضرات و اہل حدیث حضرات و دیوبندی حضرات کی کتابیں دیکھیں مگر ذہن مطمئن نہ ہوا۔ بالآخر ایک دوست کے مشورے سے مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کی کتابیں دیکھیں تو میرا دل مطمئن ہوگیا کہ اب بخوبی احادیث کی شروح بلا جھجک لکھ سکتا ہوں۔

تو واقعی بریلوی حضرات کے سرکردہ عالم مولانا احمد رضا خان صاحب کی تحریریں شستہ اور مضبوط ہیں جسے دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مولوی احمد رضا خان صاحب ایک زبردست عالم دین اور فقیہ ہیں

(رسالہ دیوبند، ص 21، جمادی الاولی 1330ھ)

دوسرا یہ کہ جب جج فیصلہ کرتا ہے تو جج پر اعتراض نہیں کیا جاتا کہ جج صاحب آپ خود کیا ہیں بلکہ جو فیصلہ کیا ہے وہ فیصلہ چیلنج ہوتا ہے۔ گھمن! اگر کوئی شخص آپ سے تین طلاقوں کا مسئلہ پوچھنے آئے کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہیں، اب کیا شرعی حکم ہے؟

آپ جب تک غیر مقلد نہ ہوں گے تب تک یقینا کہیں گے کہ تینوں طلاقیں ہوچکی ہیں اب رجوع نہیں ہوسکتا۔ اس پر مرد اگر آپ کو برا بھلا کہنا شروع کردے کہ مولوی صاحب آپ نے میرا گھر برباد کیا ہے۔ تو یقینا آپ یہی کہیں گے کہ گھر میں نے برباد نہیں کیا بلکہ تم نے خود برباد کیا ہے، میں نے تو فقط شرعی حکم بتا یا ہے۔

گھمن صاحب! اسی طرح اعلی حضرت نے بھی فقط شرعی حکم بتایا ہے کفریات آپ کے علماء نے کہے تھے۔

2: حسام الحرمین کی عبارات اکٹھی پیش کی جائیں

دوسرا نکتہ یہ لکھا

بریلوی مناظر حسام الحرمین کی عبارات من و عن اکٹھی اصل کتب سے دکھائے گا۔

(حسام الحرمین کا تحقیقی جائزہ ص 93)

یہ نکتہ بھی بہت پرانا ہے اور اہل سنت من و عن اکٹھی عبارات دکھاتے رہے ہیں، اور قاسم نانوتوی کی جو تین عبارتیں مختلف تھیں ان کا خلاصہ وہی بنتا ہے جو حسام الحرمین میں موجود ہے۔ علمائے اہل سنت مناظروں میں یہ کہتے ہیں کہ جو خلاصہ ان تینوں عبارتوں کا اعلی حضرت نے کیا ہےتم اسے غلط ثابت کرو، اگرچہ وہ تین عبارتیں بھی اپنی اپنی جگہ کفریہ ہیں، اس پر مزید کلام آگے آئے گا۔

3: حسام الحرمین کے منکر کے متعلق کیا حکم ہے؟

حسام الحرمین کے احکام جو ہمارے متعلق ہیں، اس کے منکر کا حکم بتانا ہوگا۔

(حسام الحرمین کا تحقیقی جائزہ ص 93)

یہ نکتہ اس لیےلکھا گیا ہےکہ دیوبندیوں نےبعض علمائے اہل سنت کی طرف یہ جھوٹ منسوب کیا ہے کہ انہوں نے اکابر دیوبندکی تعریف کی ہے جیسے پیر مہر علی شاہ صاحب، قمرالدین سیالوی صاحب علیھم الرحمہ وغیرہ جبکہ یہ صریح جھوٹ و بہتان ہے اور ہر گز ثابت نہیں ہے۔ یہ دیوبندیوں نے اپنی کتب میں خود سے لکھ دیا ہے کوئی مستند حوالہ نہیں ہے ۔اگر کہیں دیوبندیوں کے پاس ایک دو صلح کلی مولویوں کی عبارات ہوں تو وہ ہمارے لیے حجت نہیں، ایک دو عبارات تو ہمارے پاس دیوبندیوں کی بھی ہیں جنہوں نے ان عبارات کےخلاف کہا ہے۔ باقی ہمارے علمائے کرام کا فیصلہ آج بھی اٹل ہےکہ جو کوئی حسام الحرمین میں موجود دیوبندیوں کی کفریہ عبارات پر مطلع ہو کر انہیں کفریہ نہ سمجھے وہ خود کافر ہے۔

4: مناظرہ بریلوی اصول و قواعد کو سامنے رکھ کر ہوگا۔

چوتھا اور آخر نکتہ گھمن نے یہ دیا

گفتگو بریلوی اصول و قواعد کو سامنے رکھ کر ہوگی

(حسام الحرمین کا تحقیقی جائزہ ص 93)

گھمن! آپ کے اصولوں پر دیوبندی مناظر خاک عمل کریں گے جب ان اصولوں میں ہی تضاد ہے۔

آپ نے یہاں لکھا ہےبریلوی اصولوں کےمطابق مناظرہ ہوگا اور بریلوی اصول تو یہ ہے کہ کفریہ عبارات پر گفتگو ہو حالانکہ آپ نے اوپر پہلا پوائنٹ ہی اس کے برخلاف لکھا یعنی یہ کہ پہلے اعلی حضرت کی شخصیت پر گفتگو ہو۔

پھر ذرا بےچارے دیوبندی مناظرین کو بریلوی اصول و قواعد بھی بتا دیں۔ ایسا نہ ہو کہ پورے مناظرے میں دیوبندی اسی بات پر ذلیل ہوتے رہیں کہ بریلوی اصول کیا ہیں؟