قربانی کے پیسے غریب کو دینے سے کیا کیا خرابیاں لازم آئیں گی ؟؟

آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔

.

اسلام ایسا پیارا دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو غیرت وحمیت کا درس دیتا ہے ۔

قرآن کریم ایسی پیاری کتاب ہے جس میں ہر سوال کا جواب موجود ہے ۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات مبارک ہیں جن پر عمل کرکے انسان دنیا وآخرت میں سرخروئی حاصل کر سکتا ہے ۔۔

۔

کچھ عرصہ سے عیدِ قربان کے موقع پر بعض لوگ یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ عیدِ قربان پر جانور ذبح کرکے پیسے ضائع کرنے کی بجائے کسی غریب کی مدد کریں تو زیادہ بہتر ہے ۔

۔

سوال کا لوجیکل جواب ۔

دین اسلام اپنے ماننے والوں کو بھکاری بننے، دوسروں کا محتاج بن کر زندگی گزارنے سے منع کرتا ہے ۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک حدیث ہے!

اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنْ یَدٍ السُفْلٰی ۔۔۔

اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے. (دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے)

(خیرات دینے والا شخص لینے والے شخص سے بہتر ہے)

اِس حدیثِ کا مسلمانوں سے تقاضا ہے کہ مسلمان معاشی طور پر خودکفیل ہوں کسی اور کے محتاج نہ ہوں ۔

۔

عیدِ قربان اللہ پاک کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے نیز معاشی طور پر کثیر مسلمانوں کے لئے مستحکم کرنے انہیں خود کفیل بنانے کا ایک ذریعہ بھی ہے ۔

۔

علمائے کرام فرماتے ہیں ! عید قربان پر جوجانور منڈی میں لائے جاتے ہیں وہ خلق کثیر کو نفع پہنچانے کا ذریعہ ہیں ۔

عمومی طور پر جانور غریب لوگ پالتے ہیں پاکستان ،انڈیا وغیرہ ملکوں میں ایک تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جن کا گزر بسر خاص گلہ بانی (جانور پالنے) پر ہے ۔

بیوپاری حضرات اُن غریبوں سے جانور خریدتے ہیں ۔

جانوروں کی رقم اُن غریبوں کے لئے اناج خریدنے لباس ودیگر ضروریاتِ زندگی کا سامان وعلاج معالجہ کیلئے وسیلہ بن جاتا ہے ۔

۔

منڈی تک جانور لانے کےلئے عموماً گاڑیاں کرایہ پر لی جاتی ہے یہ گاڑی بھی متوسط یا غریب طبقہ کے لوگ ہی چلاتے ہیں تو یوں اِس موسم میں اُن کا بھی سلسلہ روزگار اچھا بن جاتا ہے ۔

۔

بعض لوگ کیٹل فارم بناتے ہیں کیٹل فارم کے جانوروں کی دیکھ بھال، چارہ پانی کا انتظام سنبھالنے والے لوگ غریب مزدور ہی ہوتے ہیں اِن کا گھر کا چولھا جلنے کا واحد ذریعہ یہی جانور ہوتے ہیں ۔

۔

یونہی منڈی سے باہر گھاس، بھوسہ وجانور کی زیب وزینت کا سامان بیچنے والے لوگ غریب ہی ہوتے ہیں سال کے ان 10 یا 15 دنوں میں وہ اپنے گھر کے اخراجات پورا کرنے کےلئے ایک اچھی خاصی رقم اکٹھی کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔

۔

جانور کاٹنے والے قصائ بھی غریب ہوتے ہیں عیدِ قربان کے یہ تینوں دن اُن کے لئے کسی خزانہ ہاتھ لگنے سے کم نہیں ہیں ۔

یونہی جانور کا چمڑا جن فیکٹریوں میں جاتا ہے وہاں اُسے صاف کرنے والے ،اٹھانے والے ودیگر ضروری کام کرنے والے بھی سارے کے سارے افراد غریب ہی ہوتے ہیں ۔

۔

الغرض عیدِ قربان خلقِ کثیر کےلئے باعزت طور پر روزی روٹی کمانے کا ذریعہ ہے ۔

۔

خونی لبرلز کو خون کا چسکا لگاہوتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ اپنی دھونس، دھاندلی،ظالمانہ نظریات لوگوں پر مُسَلّط کرکے اُن کا معاشی قتلِ عام کریں ۔

اگر ہم لبرلز کی بات مان لیں اور قربانی کے پیسے کسی غریب کو دے بھی دیں تو مندرجہ ذیل بھیانک انجام سامنے آسکتے ہیں ۔

نمبر 1

اوّلا تو کوئی بھی شخص اتنا سخی نہیں ہے کہ لاکھ، ڈیرھ لاکھ غریبوں میں بانٹے لہذا اگر بالفرض دولت مند مسلمان قربانی کی بجائے پیسے غریبوں میں بانٹیں تو جانوروں کی منڈی نہیں لگے گی جب منڈی نہیں لگے گی تو

کثیر افراد بےروزگار ہوں گے۔ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے نتیجتاً وہ لوگ برائ کا راستہ اپنائیں گے یوں معاشرہ میں کرائم بڑھ جائیں گے، قتل وغارت گری ہوگی ،معاشرے کا امن وسکون تہہ وبالا ہوکر رہ جائے گا اور خونی لبرلز یہی تو چاہتے ہیں ۔

نمبر 2

بے روزگار لوگوں کی عورتیں بھیک مانگنے کو اپنا پیشہ بنائیں گی ،یا دولت مند امراء کے گھروں

میں کام والی ماسی کی نوکری کریں گی یوں امراء کو اُن غریب عورتوں کے ساتھ براسلوک کرنے کا موقع ملے گا ۔

یا پھر وہ عورتیں پیٹ کی آگ بجھانے، تن ڈھانکنے کے لئے برائ کے اڈوں کا رخ کریں گی لبرلز بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہمیں ہرروز نیو عورت کے ساتھ منہ کالا کرنے کا موقع ملے۔

نمبر 3

غریب کو قربانی کے پیسے کسی امیر کی طرف سے بطورِ امداد ملیں گے تو اُس کی عزتِ نفس مجروح ہوگی اور اسلام چاہتا ہے کہ کسی کی بھی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔

نمبر 4

پیسے لینے والے کو بھیک کی عادت پڑے گی اور بھیک معاشرہ کے لئے ایک ناسور ہے اسلام نہیں چاہتا کہ اُس کے ماننے والے معاشرہ میں ناسور پھیلانے کا سبب بنیں ۔

نمبر 5

قربانی کے ذریعے پیسہ ایک ہاتھ دوسری ہاتھ منتقل ہوتا ہے یوں کثیر لوگوں کےلئے نفع کا سبب بنتا ہے جبکہ غریب کی مدد کی صورت میں پیسہ چند ہاتھوں میں محدود ہوکر رہے گا۔

نمبر 6

غریب کو مفت کا پیسہ مل جائے گا تو اُن پیسوں میں برکت ولذت نہیں ہوگی جبکہ جانور پالنے سے لےکر کھال فیکٹری تک پہنچنے میں کثیر لوگوں کو کام ملتا ہے اور اسلام کہتا ہے

الکاسب حبیب الله ۔

اپنے ہاتھ سے کمانے والا اللہ کا پیارا ہوتا ہے ۔۔

ایک ممکنہ سوال

جب مانگنے میں اتنی خرابیاں ہیں تو مدارس والے لوگ آئے روز چندہ کیوں مانگتے ہیں ؟؟

جواب

مانگنا واقعی اچھی بات نہیں ہے لیکن جب اپنی ذات کے لئے ہو ۔

مدارس والے مانگتے ہیں مدرسہ چلانے کےلئے، علم کی روشنی پھیلانے کےلئے لہذا اِس صورت میں مانگنا برا نہیں ہے۔

اگر اسلامی نظامِ حکومت ہو اور بیت المال کا سسٹم درست ہو تو مدارس والے آپ سے مانگنے کبھی نہیں آئیں گے ۔

جمھوریت کی لسٹ میں خدمتِ دین شامل ہی نہیں ہے لہذا کوئی بھی گورنمنٹ مسلمانوں کی دینی تعلیم کی طرف توجہ نہیں دیتا مجبوراً اہلِ مدارس کو مسلمان دولت مندوں سے چندہ کی اپیل کرنی پڑتی ہے ۔

دیکھئے نا! اگر اہلِ مدارس چندہ مہم نہ چلائیں تو دینی عالِمْ کہاں سے بنیں گے؟؟

۔

اہلِ مدارس نے چندہ مہمیں چلا چلا کر میرے جیسے کئ لوگوں کو خدمتِ علم دین کا موقع دیا اور میرے جیسے کئ لوگ ڈنکے کی چوٹ پر لبرلوں کے خلاف علمی وعملی جھاد کررہے ہیں ۔

معاشرے میں لبرلوں کی بھیانک خباثتیں روکنے کا ذریعہ مدارس ہیں لہذا خوب خوب مدارس سے تعاون کیجئے بالخصوص دعوتِ اسلامی کے جامعات کےلئے اپنی کمائ کا ایک خاص حصہ وقف کیجئے ۔

علمائے دین کو کتابیں خرید کر دیجئے ۔

الحمد لله میں نے اپنی حلال کمائی ایک خاص حصہ دعوتِ اسلامی کےلئے وقف کیا ہوا ہے ۔۔۔

✍️ محمد عظیم عطاری

27/07/2020….