حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا حیاء اور ہمارے معاشرے میں اس نفاذ کی ضرورت

(آپ کے یوم شہادت کی مناسبت سے اہم تحریر… پڑھ کر شیئر ضرور کریں)

حیاء مردِ مومن کا زیور ,زندگی کا حسن اور دنیا اور آخرت میں اس کے اعزاز و شرف کا سبب ہے۔یہ انسانی شخصییت میں وہ فطری وصف اور ملکہ ہےجو اسکی بہت سی اخلاقی خوبیوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ بے شمار اخلاقی براءیوں سے چھٹکارے کا سبب بنتا ہے ۔ مانگنے والے کو کچھ عطا کر کے رخصت کرنا ، بڑوں کے ساتھ ادب اور عاجزی سے پیش آنا ،چھوٹوں سے شفقت و محبت کارویہ رکھنا ،ہر کسی کے ساتھ مروت اور چشم پوشی کا معاملہ کرنا،دوسروں کی ملامت اور مذمت کے خوف سےگناہوں اور قبیح اعمال کو ترک کر دینا یہ سب اچھائیاں اسی کی بدولت نصیب ہوتی ہیں۔اور پھر سب سے بڑھ کر اس کا کمال یہ ہےکہ یہ انسانی شخصیت میں برائی کے معاملے میں جھجک وشرم اور آنکھوں ،کانوں،زبان ،شرمگاہ اور دل و دماغ کی پاکیزگی اس انتہاء تک پیدا کر دیتی ہے کہ انسان اپنی سیرت و کردار کی پاکیزگی میں معاشرے کا قابلِ فخر فرد اور دوسرے افراد کے لیے عفت و پاکبازی کا چلتا پھرتا نمونہ بن جاتا ہے۔حیاء کی صفت اتنی پاکیزہ ہے کہ اسے سب سے پہلے اللّٰہ تعالٰی نے اپنے لیے پسند فرمایا ہے۔

حضرت سلیمان فارسی رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلّٰی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

” إِنَّ اللَّهَ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي إِذَا رَفَعَ الرَّجُلُ إِلَيْهِ يَدَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا “.

“تمہارا رب بہت حیاء کرنے والا اور کریم ہے۔وہ اپنے بندے سے حیاء کرتا یے کہ جب بندہ اپنے ہاتھوں کو اٹھاءے اور وہ اسے خالی وااپس پلٹا دے”.

(ترمذی،ابو عیسٰی محمد بن عیسٰی،السنن،ابواب: دعوات عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم, رقم الحدیث:3556)

اس سے مراد ہے کہ وہ ہاتھ اٹھانے والوں کو ضرور کچھ نہ کچھ عطا فرماتا ہے ۔ یہ بات بھی یاد ریے کہ اللہ کا حیاء بندوں کہ حیاء کی طرح کا نہیں ہے کیونکہ اللہ بندوں کے افعال سے پاک ہے،بلکہ اسکے حیاء سے مراد اسکا اپنے بندوں کے ساتھ کرم نوازی اور جود و عطا کا معاملہ کرنا ہے۔

اور پھر یہی حیاء تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی عادت کریمہ میں شامل رہا ہے۔

حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

” أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ:الْحَيَاءُ، وَالتَّعَطُّرُ، وَالسِّوَاكُ، وَالنِّكَاحُ “.

“چار چیزیں رسولوں کی سنتوں میں سے ہیں:حیاء کرنا خوشبو لگانا ،مسواک کرنا اور نکاح “

(ترمذی،ابو عیسٰی محمد بن عیسٰی،ابواب النکاح عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ،باب:ما جاء فی فضل التزویج والحث علیہ ،رقم الحدیث:1080)

جب حیاء رسولانِ عظام علیہم السلام کی سنت سے ہے تو پھر سید المرسلین حضرت سیدنا محمد مصطفٰی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں یہ اعلٰی صفت سب سے بڑھ کر ہو گی اور یقینًا یے بھی۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ست روایت یے کہ :

کَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا.

“نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خیمے میں بیٹھی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیاء والے تھے”.

بخاری،محمد بن اسماعیل،الجامع الصحیح،کتاب الادب ،باب الحیاء ،رقم الحدیث:6119)

علامہ ابنِ حجر عسقلانی علیہ الرحمة لکھتے ہیں۔

“حیاء کی دو قسمیں ہیں: ایک حیا غزیری ہے۔ یہ وہ حیاءہے جو انسانی فطرت میں شامل ہے اور اسے ہی حدیث میں ایمان کا شعبہ قرار دیا گیا ہے۔دوسری حیاء کسبی ہے جو انسان اپنی محنت سے حاصل کرتا ہے۔ہمارے محبوب کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں حیاء کی یہ دونوں قسمیں جمع تھیں”۔

(فتح الباری،جلد 10،ص522-523)

اعلٰحضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمة نے کیا خوب کہا ہے:

نیچی آنکھوں کی شرم و حیاء پر درود

اونچی بینی کی رفعت پہ لاکھوں سلام

اللہ تعالٰی کی بارگاہ سے انبیاء کو حیاء کی صورت میں جو پاکیزہ وصف عطاہوا تھا اور پھر ہمارے نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں جو اپنے پورے کمال تک پہنچا تھ ہمارے نبی مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو بھی اس سے محروم نہیں رہنے دیا ۔آپ نے اپنی امت کو اس کا حصہ عطا فرماتے ہوئے اسے اپنے دین کا ایک مستقل شعبہ قرار دیا۔

حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

“الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ “

” حیاء کے ساٹھ سے کچھ زائد شعبے ہیں, اور حیاء بھی ایمان کا شعبہ ہے”.

( بخاری،محمد بن اسماعیل،الجامع الصحیح،کتاب الایمان ،باب:بیان عدد شعب الایمان ، رقم الحدیث:24 )

ایک روایت میں ستر سے کچھ زائد شعبے کے الفاظ آئے ہیں.

(قشیری, مسلم بن حجاج, الجامع الصحیح, کتاب الایمان, باب:بیان عدد شعب الایمان, رقم الحدیث: 35)

علامہ بدرالدین عینی علیہ الرحمة لکھتے ہیں کہ:

“اس حدیث میں ایمان کے دیگر شعبہ جات کے مقابلے میں حیاء کو اس لیے خصوصیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہےکہ حیاء ہی انسان کو گناہوں سے بچنے اوراللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کا عادی بناتی ہے”۔

(عمدة القاری،جلد:1،ص 202)

پھر ہمارے محبوب کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے حیاء کو ہمارے لیے صرف لازم ہی قرار نہیں دیا بلکہ ایک تو اپنی ذات کو اسکے لیے بطورِ نمونہ پیش کیا اور دوسرا اپنے امتیوں میں سے حضرت سیدنا عثمانِ غنی ر ضی اللہ عنہ کی اس شعبہ میں خصوصی تربیت فرمائی اور انھیں اپنی امت کے سامنے بطورِنمونہ پیش کرتے ہوئےارشاد فرمایا:

“اَلْحَیَاءُمِنَ الاِیْمَانِ وَاَحْیٰی اُمّتِیْ عُثْمَانُ.

“حیاء ایمان سے ہے اور میری امت میں سب سے زیادہ عثمانِ غنی حیاء والے ہیں”۔

( کنز العمال،جلد 3، ص 20)

ایک مقام پر اسی حوالےسے دیگر صحابہ کے مقابلے میں آپکی خصوصیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

أَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ،*

“اور (میرے صحابہ میں)سب سے سچی حیاء والے عثمان رضی اللہ عنہ ہیں”۔

(ابنِ ماجہ،السنن،المقدمہ،باب:فی فضائل اصحابِ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ،رقم الحدیث:154)

آپ کی حیاء کے متعلق ایک اور خوبصورت گواہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی اس حدیثِ پاک میں موجود ہے۔آپ فرماتی ہیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے۔آپ کی دونوں رانوں یا دونوں پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا ہوا تھا۔اتنے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔آپ نے اجازت عطا فرما دی اور خود اپنی حالت پر بر قرار رہے.

پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی ،آپ نے انھیں اجازت عطا فرما دی لیکن اپنی حالت پر برقرار رہے۔پھر حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ اٹھ کر بیٹھ گے اور کپڑا درست کر لیا۔جب سب چلے گے تو میں نے عرض کی :یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم :حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما آئے تو آپ نے انکی پرواہ نہیں کی اور جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے’ کپڑوں کو درست کر لیا اس کی کیا وجہ ہے؟

تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أَلَا أَسْتَحْيِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ “

” کیا میں اس آدمی سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں”.

( قشیری,مسلم بن حجاج،الجامع الصحیح،کتاب: فضائل الصحابہ رضی اللہ عنھم ،باب:من فضائل عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ, رقم الحدیث:2401)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمة نے اس حدیث کی شرح میں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی حیا کے متعلق درج ذیل نکات تحریر فرما ئے ہیں:

*…..تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے حیاء کرتے تھےاور آپ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے حیاء کرتے تھے،گویا کہ حیاء میں تمام صحابہ آپ کے طالب اور حضرت عثمانِ غنی آپ کے مطلوب تھے۔

*….مواخاة مدینہ کے موقع پر ایک مرتبہ آپ کے سینے سے قمیص ہٹ گئ تو فرشتے بھی وہاں سے ہٹ گئے,جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرشتوں سے اسکی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگے کہ ہمیں عثمان سے حیاءآتی ہے۔

*…..آپ غسل خانے میں بھی تہبند باندھ کر غسل کرتے تھے لیکن اسکےباوجود بھی حیاء سے سر جھکائے رکھتے۔

*…..آپ نے کبھی بھی اپنی شرمگاہ کو نہیں دیکھا۔

…..رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وجہ سے اپنے کپڑوں کو سیدھا کیا کہ میرا عثمان بڑا شرمیلا ہے,میری اس حالت میں یہ نہ ادھر بیٹھ سکے گا اور نہ میرے ساتھ بات کر سکے گا۔

…..رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ سے دعا مانگی: اے اللہ!میرا عثمان بڑا شر میلا ہے قیامت کے دن اس سے حساب نہ لینا کیونکہ یہ شرم کی وجہ سے تیرے سامنے کھڑا ہو کر حساب نہ دے سکے گا۔ آپ کی دعا قبول ہوئی اور قیامت کے دن آپ کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا….. (مرآة المناجیح ,جلد8 ,ص350)

حضرات گرامی!

آپ نے حیاء کی اہمیت, انسانی زندگی میں اس کی ضرورت و فوائد اور اس سلسلے میں امتِ مسلمہ کے لیے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے تربیت یافتہ فرد حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ پڑھ لیا….. آج جبکہ 18ذوالحجہ انہی کا یوم شہادت بھی ہے تو یہاں پہنچ کر ہمیں پہلے تو اپنی ذات کا محاسبہ کرنا ہو گا کہ ہمارے اندر یہ صفت حیاء کہاں تک موجود ہے ۔اور اس حوالے سے خو د ہمارے اندر کون کون سی کمزوریاں موجود ییں تا کہ انھیں دور کیا جا سکے۔پھر ہمیں اپنے معاشرے کا گہری نظر سے جائزہ لینا ہے کہ آج باطل قوتیں انٹرنیٹ،میڈیااور دیگر ذرائع سے مختلف حیلوں اور بہانوں سے کس طرح بے حیائی عام کر کے ہمارےپاکیزہ اور حیاء پرمبنی کلچر کو پاش پاش کر رہی ہیں۔ہمارے بچوں کی ترجیحات کو تبدیل کر رہی ہیں…….. ہمارے نوجوانوں کی آنکھوں اور دل سے پاکدامنی کا جوہر ختم کر کے وہاں بے حیائی اور گندگی داخل کر رہی ہیں…….. ہمارےبڑوں کی غیرت و حمیت پہ پردہ ڈال رہی ہیں اور ہماری ماؤوں ،بہنوں اور بیٹیوں کی چادرِ حیاء کو تار تار کرکے آزادیِ نسواں کے نام پر انہیں معاشرے کی گندی نظروں کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

آج ضرورت ہے کہ ہم اس سازش کو سمجھیں اور کسی سے سمجھوتہ کیے بغیر اپنے اس کلچر اور پاکیزہ ورثےکی حفاظت کے لیےاٹھ کھڑے ہوں۔باطل قوتوں کی اس سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے ایک ایک فرد سے لیکر پورے معاشرے تک حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی سیرت کے اس پیغام کو عام کریں …اسکا آغاز پہلے اپنی ذات سے کریں پھر اپنے گھر میں یہ پیغام عام کریں پھر اپنے محلے میں اور پھر اسکی کرنیں پورے معاشرے میں پھیلا دیں۔تاکہ یہاں سے بے حیائی کے کلچرکو دیس نکال ہو اور ہر طرف شرم و حیاء اور پاکیزگی کے پہرے قائم ہوں۔یہی حضرت عثنانِ غنی رضی اللہ عنہ کی زندگی کا پیغام ہے ,ہمارے محبوب کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور کل انبیاء کرام علیہم السلام کا مقصد زندگی بھی ہے اورہم سب کا اجتماعی فریضہ بھی ہے۔ اللہ ہمیں سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرما ئے۔آمین….

تحریر:

محافظ محمد تنویرقادری وٹالوی

خطیب:آستانہ عالیہ قادریہ قاسمیہ ڈھوڈا شریف گجرات

امیر: تحریک صراط الاسلام

08.08.2020