شیعہ…اور…..اُلُّو

مسلمانیت کا دعوی کرنے والوں میں سے سب سے جھوٹے مکار افسانہ نگار مجلسی لوگ شیعہ ہیں….انکی کتابیں جھوٹ و تضادات سے بھری پڑی ہیں… یہ لوگ اپنی طرف سے روایات واقعات قصے کہانیاں گھڑ لیتے ہیں اور ائمہ اطہار کی طرف منسوب کر دیتے ہیں….لاحول ولاقوۃ الا باللہ

.

افسانہ نگاری ملمع سازی کرکے واقعات بنا لیتے ہیں اپنے مفاد و مطلب کی روایات گھڑ لیتے ہیں یا اصل واقعات میں اتنا جھوٹ مرچ مصالہ ڈال دیتے ہیں کہ اللہ کی پناہ…

.

محرم میں نوحے مرثیے اور ذاکرین کے رلا دینے والے خطابات بھی جھوٹ افسانہ نگاری تصنع ملمع سازی مرچ مصالے سے بھرپور ہوتے ہیں……بھرپور

فلعنۃ اللہ علی الکاذبین(تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت)

.

افسوس ان شیعوں کی دیکھا دیکھی اور کم علمی اور پیسے کمانے اور رلا رلا کر “واہ واہ خطیب” کی عزت و شہرت کمانے کے چکر میں

یا

غفلت و بے توجھی اندھے اعتماد میں آکر کچھ اہلسنت خطیب بھی شیعہ ذاکرین کی طرح صحیح و غلط اور الفاظ و انداز اور احتیاط و تعمیر کی پرواہ کیے بغیر

“سچ جھوٹ ملا مرچ مسالے والا افسانہ کربلا” بیان کرنے ، رلانے غم تازہ کرانے واہ واہ اور پیسہ کمانے میں لگ گئے……ایسے سنیوں کی تقاریر و مجالس سے بھی دوری ضروری ہے…

ہاں توجہ دلائیے، ان سے سوالات کیجیے، معتبر کتب کے حوالا جات پوچھیے… تحقیق و تعمیری خطاب کا جذبہ بڑھائیے…

.

شیعوں کے جھوٹ افسانہ نگاری مکاری میں سے ایک قصہ پرندے “الو” ہے…

.

پہلا قصہ:

حضرت علی کی ولایت کا تذکرہ کرنے لگتے ہیں تو شیعہ جھوٹ گھڑ لیتے ہیں کہ حضرت علی نے فرمایا کہ الو نے میری ولایت کا سب سے پہلے انکار کیا اس لیے اس پر لعنت ہی لعنت برستی ہے……یہی لعنتی پرندہ اسی نحوست کی وجہ سے دن کو نہین نکلتا اور رات کو بیاباں ویرانوں میں رہتا ہے….یہ اسکی سزا ہے….لعنتی کہیں کا

(دیکھیے شیعہ کتاب بحارالانوار مجلسی23/281, مناقب ال ابی طالب2/153)

.

.

دوسرا قصہ:

یہی شیعہ افسانہ نگار مکار جھوٹے جب امام حسین کے ماتم و سوگواری کا تذکرہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ:

الو بڑا بہترین عمدہ ترین پرندہ ہے، یہ پرندہ پہلے انسانوں کے ساتھ رہا کرتا تھا، لوگ اسے کھلایا پلایا کرتے تھے، یہ دن میں بھی آبادیوں میں گھوما پھرا کرتا تھا……………پھر جب امام حسین کو شہید کیا گیا تو یہ عاشق و محب پرندہ امام حسین کے سوگ و ماتم میں گم ہو گیا اور لوگوں سے دور ہوگیا……سوگواری کرتے ہوئے بیابانوں میں رہنے لگا، دن کو روزہ رکھتا ہے اس لیے نظر نہیں اتا اور رات کو غمِ حسین میں رت جگی کرتا ہے، کبھی خوشی نہین کرتا…..قربان اس عظیم الشان پرندے پر…..!!

(دیکھیے شیعہ کتاب کامل الزیارات1/80 باب نوح البوم، بحارالانوار مجلسی61/329)

.

.

دیکھا آپ نے……کیسے پکڑی گئ انکی مکاری جھوٹ افسانہ نگاری…….!!

جھوٹ یہ ہے کہ سیدنا علی کی ولایت کا منکر الو تھا لعنتی قرار پایا اور بیاباں میں رہنے لگا

تو

یہ کہنا کہ شہادت ِ حسین سے پہلے الو بیاباں مین نہین رہتا تھا……یہ تو صاف جھوٹ ہوا کہ الو تو ولایت علی کا منکر ہونے کی وجہ سے پہلے ہی بیاباں میں رہتا تھا…

پھر ایک طرف لعنتی کہنا اور دوسری طرف محب و سوگوارِ حسین ماتمی کہنا بھی جھوٹ……..!!

.

پہلا قصہ سچا مانا جائے تو دوسرا جھوٹ اور دوسرا سچا مانا جائے تو پہلا جھوٹ…….دراصل دونوں ہی جھوٹ و من گھڑت ہیں… ولایت علی کا مقام آیا تو گھڑ لیا الو کا قصہ قرار دے دیا لعنتی اور ٹھوک دیا نام کسی اہلبیت کا….اور جب موقعہ آیا ذکرِ حسین کا تو گھڑ لیا قصہ الو کا اور کہہ دیا کہ ویرانوں مین نہین رہتا تھا پھر سوگواری میں بیاباں میں رہنے لگا…قرار دے دیا محب و عاشق پرندہ اور ٹھوک دیا نام کسی اہلبیت کا….فلعنۃ اللہ علی الکاذبین

.

اس طرح کے جھوٹ من گھڑت باتیں بھری پڑی ہیں ان کی کتابوں میں، یہ لوگ خود سے روایت بات بنا لیتے ہین اور آئمہ اہل بیت کی طرف منسوب کر دیتے ہیں…..

تو

دوستو بھائیو ان نام نہاد محبابانِ علی کی محفلوں مجلسوں ماتموں تعزیوں وغیرہ سے دور رہیے…….بہت بہت دور

اور

دشمنان اہل بیت کٹر گستاخ وہابی نجدیوں خوراج ناصبیوں سے بھی دور رہیے…….اور اہلسنت کے ساتھ رہیے، معتبر علماء اہلسنت کی کتابین پڑھیے، معتبر کتب سے خطاب کرنے والوں کا خطاب و وعظ سنیے….. رلانے دھلانے غم تازہ کرنے والا خطاب نہین بلکہ ذکر حسین فضائل اہلبیت اور ان سے معاشرتی انفرادی تعمیر و نصیحت بھرا خطاب کیجیے، ایسا خطاب سنیے………!!

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

facebook,whatsApp,telegram nmbr

03468392475