آصف رضا علوی کی خباثت

تین دن قبل امام بارگاہ قصرخدیجۃ الکبری ترلائی کلاں اسلام آباد میں ایک ملعون نےخلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں نہ صرف گستاخی کی بلکہ آپ رضی اللہ عنہ کی تکفیر کی بھی جسارت کر ڈالی۔اس پر اسلام آباد اور پورے ملک میں اہل سنت شدید غم و غصہ میں ہیں۔میری رائے اس ملعون کے بارے میں بالکل واضح ہے کہ وہ جہنمی کتا ہےجس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔وقتا فوقتا ایسے بدبخت نمودار ہوتے رہتے ہیں جنکا مقصد شر اور فساد پھیلانا ہوتاہے۔ہمارے اہل تشیع مسلک کے احباب ایسے لوگوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ انکا اہل تشیع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔لیکن یہ بات اتنی سادہ نہیں جسے یہ کہہ کر ختم کردیا جائے۔دیکھیں ان بدبختوں کوایک امام بارگاہ میں بلایا جاتا ہے، وہاں ایک انتظامیہ ہوتی ہے اور وہاں ان کے لیے پرجوش سامعین منتظر ہوتےہیں۔امام بارگاہ بھی شیعہ کی، انتظامیہ کمیٹی بھی شیعہ کی اور سامعین بھی شیعہ ہی ہوتے ہیں۔اس لیے یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ انکا اہل تشیع سے کوئی تعلق نہیں۔اگر واقعا انکا اہل تشیع سے کوئی تعلق نہیں ہےتو اہل تشیع انہیں پھر کیوں بلاتے ہیں۔کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انکو بلانے والے اور سننے والوں کا شیعیت سے کوئی تعلق نہیں؟؟۔کیا اگر انتظامیہ کسی ایسی امام بارگاہ جس میں انکو بلایا جاتا ہے ا سے ان ہرزہ سرائیوں کی وجہ سے سیل کردے تو لوگ خاموش رہیں گے؟؟؟

اہل تشیع کے کچھ علماء ان کے خلاف بہت جدوجہد کررہے ہیں۔انہوں نے ان ملعونوں کے خلاف تھانوں میں باقاعدہ ایف آئی آرز درج کرائی ہوئی ہیں۔اور وہ انکو مسلمان بھی نہیں سمجھتے۔میری تمام صالح فکر رکھنے والے اہل تشیع سے گزارش ہے کہ وہ ان علماء کی تقویت کریں جو ان ملعونوں کے خلاف روبعمل ہیں۔

سوشل میڈیا پر صاحبزادہ نورالحق قادری وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اور زلفی بخاری صاحب ایڈوائزر ٹو وزیراعظم برائے اوورسیزپاکستانی پر بہت تنقید ہورہی ہے کہ ان دوشخصیات نے اس ملعون آصف رضا علوی کے اسلام آباد داخلے پر پابندی اٹھوائی اور یوں اس شخص نے فساد پھیلایا۔جناب زلفی بخاری صاحب سے تو میری بات نہیں ہوئی اور وہ اگر مناسب سمجھیں گے تو وضاحت فرمادیں گے لیکن صاحبزادہ صاحب کے ساتھ آج میں نے اسی حوالہ سے ملاقات کی۔یہ انکی محبت ہے کہ جب بھی کوئی ایسا موقع آتا ہے وہ وقت عنایت فرمادیتے ہیں۔اللہ تعالی انکی عزتوں میں اور اضافہ فرمائے۔آمین۔

میں نے صاحبزادہ صاحب سے ان غالیوں کے ساتھ ملاقات کے بارے میں عرض کیا تو انہوں نے فرمایا” میں ایک پبلک فگر ہوں ایک حکومت کا وزیر ہوں اس لیے میں نے ہر کسی سے ملنا ہے۔اچھے برے شریف غیر شریف امیر غریب مسلم غیر مسلم شیعہ سنی سب پاکستانی ہیں اورہمارے پاس وہ آتے ہیں اور ہم ان سے ملتے ہیں” میرا خیال ہے آپ کی یہ بات بالکل درست ہےاور انہیں واقعی ایسا ہی کرنا چاہیے۔اپنے جاب اور وزارت کی نیچر کے مطابق انہیں تعامل رکھنا ہے نہ کہ کسی کی خواہش کے مطابق۔دوسری اہم بات جو ان پر پابندی کے حوالہ سے تھی اور انکے فورتھ شیڈول کی بات تھی۔اس پر صاحبزادہ صاحب نے فرمایا” میں نے ان سے کہا کہ اس سال تو یہ ممکن نہیں ہے ۔اگلے سال اگر میں زندہ رہا،پی ٹی آئی کی حکومت رہی اورمیں وزارت مذہبی امور کا وزیر رہا تو آپکو بلاؤں گا آپکے علماء علامہ راجہ ناصرعباس، علامہ نیاز نقوی، علامہ عارف حسین واحدی، شہنشاہ نقوی اور علامہ امین شھیدی کے علاوہ کچھ علمائے اہل سنت کو بھی بلاؤں گا۔اگر ان مذکورہ علمائے اہل تشیع نے آپکی ذمہ داری اٹھائی کہ یہ لوگ پاکستان میں فساد بپا نہیں کریں گے تو پھر آپکے علماء کی گارنٹی پر وزارت لکھ کردے گی کہ انہیں فورتھ شیڈول سے خارج کیا جائے۔”

صاحبزادہ صاحب کی گفتگو سننے کے بعد میں بالکل مطمئن ہوگیا ہوں کہ آپ کا ان غالیوں کے ساتھ نہ کوئی تعلق تھا اور نہ ہے، نہ آپ نے انکی کسی سطح پر حمایت کی۔اس لیے ترلائی امام بارگاہ کی گستاخی کو کسی طور پر بھی صاحبزادہ صاحب کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا۔تصویر پر بھی صاحبزادہ صاحب کو بڑے تحفظات تھے مگر ظاہر ہے کہ کولیگز کی کچھ باتیں ماننا پڑتی ہیں۔ہمارے اہل سنت بھائی جو آپ پر تنقید کررہے ہیں انہین سوچنا ہوگا کہ اگر صاحبزادہ صاحب کا ان غالیوں کے لیے کوئی نرم گوشہ ہوتا تو وہ انہیں اپنے آفس میں بلاتے۔

اب جب میں یہ سطور لکھ رہا تھا تو محترم زلفی بخاری صاحب کا فون آگیا۔انہوں نے کچھ اہم باتیں بتائیں۔انکا موقف بھی میں اپنے دوستوں کی خدمت میں عرض کرونگا مگر ان سے ملاقات کے بعد۔ایک بات جو صاحبزادہ صاحب اور بخاری صاحب کی ٹیلیفونک گفتگو میں مشترک ہے وہ یہ ان دونوں وزراء نے ان غالیوں سے بڑے دوٹوک انداز مین کہا تھا کہ ہم حکومتی طے کردہ ایس او پیز پر عمل کے بغیر کسی کوئی مجلس منعقد کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔بخاری صاحب نے یقین دلایا کہ وہ اب پاکستان میں کہیں بھی مجلس نہیں کر سکے گا۔

میں تمام دوستوں سے گزارش کرونگا کہ یہ لعین کوئی ایک نہیں اس جیسے کئی بدبخت ہیں جن سے خود اچھی سوچ رکھنے والے اہل تشیع بھی بہت تنگ ہیں۔ان کے اندر بہت خوفناک طریقہ سے یہ لوگ نصیریت پھلا رہے ہیں۔ہمیں مل ان فتنوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔اس ملک میں مرزائیت کا فتنہ، الحاد کا فتنہ اور یہ نصیریت کا فتنہ بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں۔اس کے مقابلہ میں ہم بہت بکھرے ہوئے ہیں۔اگر ہم متحد نہ ہوئے تو ہم ان فتنوں کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔

طالب دعاء

گلزار احمد نعیمی۔

آصف علوی کی خباثت (2)

کل میری ملاقات وزیر اعظم کے معاون خصوصی جناب زلفی بخاری سے ہوئی۔میں انکا شکرگزار ہوں کہ وہ ہمیشہ بہت پرتباک طریقہ سے ملتے ہیں اور بہت احترام دیتے ہیں۔بیٹھتے ہی انہوں نے کہا کہ باقی باتیں بعد میں سب سے پہلے میں اس شخص کےبارے میں بات کرتا ہوں جس نے آگ لگانے کی کوشش کی اور ہمیں بھی بدنام کیا۔بخاری صاحب نے کہا کہ یہ چند ذاکرین میرے پاس ملنے آئے اور کہا کہ حکومت ہمیں کوئی اہمیت نہیں دیتی تمام میٹنگز میں صرف علماء کو ہی بلاتی ہے جبکہ 70 فیصد شیعہ عوام ہمارے ساتھ ہیں۔میں نے انہیں کہا کہ ہم علماء کو اس لیے بلاتے ہیں کہ علماء ذمہ دار لوگ ہیں اور وہ قیام امن وامان میں ہماری معاونت کرتے ہیں جبکہ آپ کی وجہ سے بہت زیادہ فرقہ واریت پھیلتی ہے اور پھیل رہی ہے۔اس لیے ہم آپکو نہیں بلاتے۔انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو حلف دیتے ہیں کہ ہم اپنی مجلسوں میں کوئی فرقہ وارانہ بات نہیں کریں گے۔اس پر میں نے قادری صاحب سے بات کی اور کچھ دیگر اداروں کے لوگ بھی تھے۔ہم نے انہیں کہا کہ اس محرم میں آپ حکومت کے طے کردہ ایس او پیز پر مکمل عمل کرکے دکھائیں گے تو اگلے سال پھر علماء کرام کو بلا کر آپ سے گارنٹیز لیں گے۔(وہ تفصیل انہوں نے بھی بیان کی جو میں صاحبزادہ صاحب کے حوالہ سے بیان کر چکا ہوں اپنےپچھلے کالم میں)

میں نے بخاری صاحب سے گزارش کی کہ جب آپکا علمائے اہل تشیع سے رابطہ ہے اور آپ انکو میٹنگز میں بھی بلاتے ہیں توایسے بدبختوں کے ساتھ ملاقات کی کیا ضرورت تھی؟ اس پر بخاری صاحب نے جواب دیا “کہ ہمیں علماء کی طرف سے امن وامان کے حوالہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔مسائل ہمیشہ ان ذاکروں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، جب ہم علماء سے انہیں کنٹرول کرنے کا کہتے ہیں تو وہ ان ذاکروں اور امام بارگاہوں کی کمیٹیوں کے حوالہ سےاپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔اس لیے مجبورا ان کے ساتھ ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت پیش آئی تاکہ ان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کر کے ان کو مین سٹریم میں لایا جاسکے۔ہم اس مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں تاکہ امن وامان کی صورت حال مذہبی لوگوں کی وجہ سے خراب نہ ہواور مذہب بدنام نہ ہو۔آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس علوی کے ساتھ جوذاکرین آئے تھے وہ ایس او پیز پر عمل کرریے ہیں، انکی ابھی تک کوئی شکایت نہیں آئی۔صرف اس نے وعدہ خلافی کی ہے۔اس کی اس وعدہ خلافی کی وجہ سے میں نے خود ڈی سی اسلام آباد کو اس کے خلاف ایف آئی آر لانچ کرنے اور اسکو گرفتار کرنے کا کہا۔”میں نے بخاری صاحب سے گزارش کی کہ شنید ہے کہ وہ انگلینڈ بھاگ گیا ہے اور اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ آپ نے بھاگنے میں اسکی معاونت کی ہے۔اس پر بخاری صاحب نے کہا” میں حلفا کہتا ہوں کہ میرا اس سے اس میٹنگ سے پہلے یا بعد میں یا اس کے یہ آگ لگانے کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا مجھے بھی سوشل میڈیا کے ذریعہ پتہ چلا ہے کہ وہ بھاگ گیا ہے۔میں اگر اسے تحفظ دیتا تو اس کو بھاگنے کی کیا ضرورت تھی؟۔آپ دیکھیں گے کہ جب بھی پاکستان میں اسکی موجودگی کا پتہ چلا تو میں خود اسے گرفتار کرواؤں گا اور اسے اسکے جرم کے مطابق سزا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم مسالک کے درمیان ہم آہنگی چاہتے پاکستان فرقہ وارانہ تشدد کا متحمل نہیں ہوسکتا۔جلالی کے معاملے میں مجھ پر پریشر ڈالا گیا کہ آپ اس پر 295 c لگانے میں آپ اپنا کردار ادا کریں تو میں نے انکار کردیا اور کہا کہ کل آپکی طرف سے ایسی غلطی ہوگی تو وہ پریشر ڈالیں گے کہ 295c لگنی چاہیے اس طرح بہت خطرناک صورت حال پیدا ہوجائے گی اور ہم یہ نہیں چاہتے۔مفتی صاحب آپ جانتے ہیں کہ ہم محبتیں پھیلانے والے لوگ ہیں”۔

میں نے بخاری صاحب سے کہا کہ میری شیعہ علماء سےاکٹر اس موضوع کے حوالہ سے بات چیت رہتی ہے وہ اس تمام تر فساد کا موجب امام بارگاہوں کی کمیٹیوں اور بانیان مجالس کو قرار دیتے اور میری بھی یہی رائے ہے تو آپ ذاکرین کے ساتھ مذاکرات کے بجائے بانیان مجالس کے ساتھ بات کیوں نہیں کرتے؟؟

اس پر بخاری صاحب نے کہا کہ ہم علماء کے ساتھ ملکر بانیان مجالس کے ساتھ بھی بات کریں گے اور انہیں ضابطہ اخلاق کا پابند کریں گے تاکہ یہ فساد پھیلانے والے اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکیں۔۔۔

ہمارے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ شاید بخاری صاحب نے عمدا ایسا کیا ہے۔میں نہ بخاری صاحب کا ترجمان ہوں اور نہ خلیفہ اول سیدناابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کی معمولی سی بھی توہین برداشت کر سکتا ہوں۔ہم اہل بیت رسول اور اصحاب ہیغمبر کی ناموس کے لیے ایک نہیں ہزاروں ایسے تعلقات قربان کرنے کو تیار ہیں۔مگر خدا لگتی بات یہ ہے کہ میں نے پوری نشست میں بخاری صاحب کو اس واقعہ کے حوالہ سے بہت پریشان پایا۔بہت سخت الفاظ میں اس لعین کی مذمت بھی کررہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اس نے میری شہرت کو خراب کیا ہے اور میرے بہت سے دوست میرے ساتھ اسکی وجہ سے ناراض بھی ہوئے ہیں مگر میری نیت بالکل صاف تھی میرا مقصد انکو مین سٹریم میں لانا تھا تاکہ یہ مسائل حل ہوں مگر اس نے میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

باقی دلوں کے حال اللہ تعالی سب سے بہتر جانتا ہے۔میرا خیال ہے کہ ہمیں حسن ظن رکھنا چاہیے۔اتنے بڑے منصب پر بیٹھ کر کوئی شخص ایسی حماقت کبھی بھی نہیں کرتا جس سے اسکی شہرت داغدار ہو، اس کے دوست اس سے ناراض ہوں اور اسکی کارکردگی متاثر ہو۔لیکن میں نے بخاری صاحب کو ان کمینوں سے دور رہنے اور اپنے علماء اور اہل فکرو دانش سے مربوط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔مجھے امیدواثق ہے کہ اب وہ اس سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسے جائیں گے۔ایک دفعہ پھر ہم بخاری صاحب کی خدمت میں عرض کریں گے کہ آپکی معمولی سی بھول یا پھسلن آپ کو کم اور پاکستان کو زیادہ متاثر کرے گی۔

اللہ میرے وطن عزیز کی خیر فرمائے۔

طالب دعاء

گلزار احمد نعیمی۔