دینی مسائل چھپانے اور لعنت کرنے کے شرعی احکام

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارٸینِ کرام : احادیث میں دینی مسائل چھپانے کی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ جس سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی جسے وہ جانتا ہے لیکن وہ اسے چھپاتا ہے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام دی جائے گی۔‘‘ (ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی کتمان العلم، ۴/۲۹۵، الحدیث: ۲۶۵۸)

حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جو علم کے بغیر فتویٰ دے ا س پر زمین و آسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔(ابن عساکر، محمد بن اسحاق بن ابراہیم۔۔۔ الخ، ۵۲/۲۰۔چشتی)

غلط مسائل بیان کرنے والوں ، بغیر پڑھے عالم و مفتی و محدث و مفسر کہلانے والوں اور قرآن و حدیث کی غلط تشریحات و توضیحات کرنے والوں کی آج کل کمی نہیں اور یہ سب مذکورہ آیت و احادیث کی وعید میں داخل ہیں۔ اسی وعید میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ہیں تو محض کوئی آرٹیکل یا کالم لکھنے والے لیکن دین کو بھی اپنے قلم سے تختہ مشق بناتے ہیں۔

یَلۡعَنُہُمُ اللہُ: اللہ ان پر لعنت فرماتا ہے ۔ اسلام کی حقانیت، حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہ وَسَلَّمَ کی عظمت اور شریعت کے احکام چھپانے والوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور دیگر حضرات یعنی ملائکہ و مومنین کی بھی لعنت ہے۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَمَاتُوۡا وَہُمْ کُفَّارٌ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمْ لَعْنَۃُ اللہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیۡنَ﴿۱۶۱﴾ۙ

ترجمہ : بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی ۔

وَمَاتُوۡا وَہُمْ کُفَّارٌ: اور جو حالتِ کفر میں مرے ۔ سب سے بدبخت آدمی کفر پر مرنے والا ہے اگرچہ اس کی ساری زندگی اعلیٰ درجے کی عبادت و ریاضت اور تبلیغ و خدمت ِ دین میں گزری ہو ۔کفر پر مرنے والوں پراللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے ۔

اس آیت سے معلوم ہوا مرتے وقت ایمان کی دولت سے محروم رہ جانا سب سے بڑی بدبختی ہے اور اس وقت ایمان کا سلامت رہ جانا بہت بڑی سعادت ہے ،لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اگرچہ کتنا ہی نیک و پارسا،عبادت گزار اور پرہیزگار کیوں نہ ہو اپنے برے خاتمے سے خوفزدہ رہے ۔ہمارے بزرگانِ دین کا بھی یہی طرز عمل رہا ہے کہ وہ سب سے زیادہ برے خاتمے کے بارے میں خوفزدہ رہتے تھے۔چنانچہ جب حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا وقت وصال آیا تو آپ نے رونا شروع کر دیا، ان سے کہا گیا: آپ امید رکھئے ،اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر گناہوں سے درگزر فرمانے والا ہے۔آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: (تم کیا سمجھتے ہو کہ) کیا میں اپنے گناہوں کی وجہ سے آنسو بہا رہا ہوں ؟ اگر میں جانتا کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر قائم رہتے ہوئے مروں گا تو پھر مجھ پر پہاڑوں کے برابر بھی گناہ ڈال دئیے جاتے تو مجھے کوئی پروا نہ ہوتی۔ (یعنی ایمان پر موت ہوجائے تو مجھے کچھ ڈر نہیں۔) (احیاء العلوم، کتاب الخوف والرجائ، بیان الدواء الذی بہ یستجلب ۔۔۔ الخ، ۴/۲۱۱)

حضرت امام احمد بن حنبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے انتقال کے وقت جب آپ کے صاحب زادے نے طبیعت دریافت کی تو فرمایا،’’ابھی جواب کا وقت نہیں ہے ، بس دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ میرا خاتمہ ایمان پر کر دے کیونکہ ابلیس لعین اپنے سر پر خاک ڈالتے ہوئے مجھ سے کہہ رہا ہے کہ ’’تیرا دنیا سے ایمان سلامت لے جانا میرے لئے باعث ِ ملال ہے۔ اور میں اس سے کہہ رہا ہوں کہ ابھی نہیں ، جب تک ایک بھی سانس باقی ہے میں خطرے میں ہوں ، میں (تجھ سے ) پرامن نہیں ہوسکتا ۔(تذکرۃ الاولیائ، ذکر امام احمد حنبل، ص۱۹۹، الجز لاول۔چشتی)

حضور غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اولیاء کے سردار ہیں لیکن خوف ِ خدا کا جو عالم تھااس کا اندازہ آپ کی طرف منسوب ان اشعار سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عید کے دن فرمایا :

خلق گوید کہ فردای روز عید است

خوشی در روح ہر مومن پدید است

دراں روزے کہ باایماں بمیرم

مرا درد ملک خود آں روز عید است

یعنی لوگ کہہ رہے ہیں کہ کل عید ہے!کل عید ہے! اور سب خوش ہیں لیکن میں تو جس دن ا س دنیا سے اپنا ایمان سلامت لے کر گیا میرے لئے تو وہی دن عید ہو گا۔

لعنت کرنے سے متعلق شرعی مسائل

یہاں آیت میں کافروں پرلعنت کی گئی ہے۔ یہ مسئلہ یاد رکھنا چاہیے کہ جس شخص کے کفر پر مرنے کا یقین نہ ہو اس پر لعنت نہ کی جائے نیز فاسق کا نام لے کر لعنت جائز نہیں جیسے کہا جائے ’’ فلاں شخص پر لعنت ہو‘‘البتہ وصف کے ساتھ لعنت کر سکتے ہیں جیسے احادیث میں جھوٹوں ، سود خوروں ، چوروں اور شرابیوں وغیرہ پر لعنت کی گئی ہے ۔ نیزوصف کے اعتبار سے لعنت قرآن پاک میں بھی کی گئی ہے جیسے جھوٹوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ : لَعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ‘‘ (آل عمران:۶۱)

ترجمہ : جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ۔

وَالنَّاسِ اَجْمَعِیۡنَ: اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔ مومن تو کافروں پر لعنت کریں گے ہی ،بروزِ قیامت کافر بھی ایک دوسرے پر لعنت کریں گے ۔

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلَا ہُمْ یُنۡظَرُوۡنَ﴿۱۶۲﴾

ترجمہ : ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے۔

لَا یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ: ان پر سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا ۔ کفار کو کبھی عذاب سے چھٹکارا نہ ملے گا اور نہ انہیں نیک اعمال کی یا توبہ کی مہلت دی جائے گی ۔کافر کا عمل اسے کچھ نفع نہیں دیتا البتہ علماء نے فرمایا ہے اور احادیث سے سمجھ آتا ہے کہ جس عمل کا تعلق نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ذاتِ گرامی سے ہو اس سے کافر کو بھی فائدہ ہوتا ہے جیسا کہ بخاری و مسلم میں ہے کہ ابوطالب کے عذاب میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی برکت سے کمی ہوئی اور یونہی نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ولادت کی خوشی میں ابو لہب نے اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تو جس انگلی کے اشارے سے اس نے آزاد کیا تھا اس سے اسے کچھ سیراب کیا جاتا ہے۔ یہی کلام علامہ عینیرَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ابولہب والی حدیث کے تحت عمدۃ القاری جلد نمبر14 صفحہ45پر فرمایا ہے ۔

مؤمن گالی گلوچ کرنے والا یا لعن طعن کرنے والا نہیں ہوتا ۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم بھی ایسے کاموں سے اجتناب فرماتے تھے :

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا، وَلاَ فَحَّاشًا، وَلاَ لَعَّانًا، كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ المَعْتِبَةِ: «مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ»

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گوئی کرنے والے اور لعنت کرنے اور گالی گلوچ کرنے والے نہ تھے اور جب کبھی ناراض ہوتے تو صرف اس قدر فرماتے کہ اس کو کیا ہوگیا ہے، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔

(صحیح بخاری کتاب الأدب باب لم یکن النبی صلى اللہ علیہ وسلم فاحشا ولا متفحشا ح 6031۔چشتی)

فاسق کو معین کرکے لعنت کرنا سنت نبوی ﷺ میں موجود نہیں البتہ عام لعنت وارد ہے۔ مثلاً نبی ﷺ نے فرمای ا: لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ

چور پر اللہ کی لعنت کہ ایک انڈے پر اپنا ہاتھ کٹوا دیتا ہے۔

(صحیح البخاری، الحدود، باب لعن السارق إذا لم یسم، ح:۶۷۸۳ وصحیح مسلم، الحدود، باب حد السرقۃ ونصابہا، ح:۱۶۸۷)

فوت شدگان کو لعن طعن کرنے سے بھی نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے : لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا ۔ مردوں کو گالی مت دو کیونکہ وہ اپنے کیے کو پہنچ گئے ۔ (صحیح البخاری، الجنائز، باب ما ینہی من سب الأموات، ح:۱۳۹۳)

بلکہ جب لوگوں نے ابو جہل جیسے کفار کو گالیاں دینی شروع کیں تو انہیں منع کیا اور فرمایا : لَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا ۔ ہمارے مرے ہوؤں کو گالیاں مت دو کیونکہ اس سے ہمارے زندوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔ (سنن النسائی، القسامۃ، القود من اللطمۃ، ح:۴۷۷۹۔چشتی)

ایک دوسرے پر لعنت نہ بھیجو

سیدناسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آپس میں ایک دوسرے پر اللہ کی لعنت، غضب اور دوزخ کی پھٹکار نہ بھیجو۔ اس باب میں سیدنا ابن عباس، سیدناابوہریرہ،سیدنا ابن عمر اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2062 نیکی و صلہ رحمی کا بیان : لعنت کا بیان

مومن پر لعنت کرنا اُسے قتل کرنے کےمترادف ہے

سیدناثابت بن ضحاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کسی آدمی پر ایسی نذر کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے جس کا وہ مالک نہ ہو اور مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کی طرح ہے اور جس نے اپنے آپ کو دنیا میں کسی چیز سے قتل کر ڈالا قیامت کے دن وہ اسی سے عذاب دیا جائے گا اور جس نے اپنے مال میں زیادتی کی خاطر جھوٹا دعوی کیا تو اللہ تعالیٰ اس کا مال اور کم کر دے گا اور یہی حال اس آدمی کا ہوگا جو حاکم کے سامنے جھوٹی قسم کھائے گا۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 303 ایمان کا بیان : خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں

کثرت سے لعنت کرنا جہنم میں داخلے کا سبب

سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے عورتوں کے گروہ صدقہ کرتی رہا کرو اور کثرت سے استغفار کرتی رہا کرو کیونکہ میں نے دوزخ والوں میں سے زیادہ تر عورتوں کو دیکھا ہے، ان عورتوں میں سے ایک عقلمند عورت نے عرض کیا کہ ہمارے کثرت سے دوزخ میں جانے کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لعنت کثرت سے کرتی ہو اور اپنے خاوند کی نا شکری کرتی ہو میں نے تم عورتوں سے بڑھ کر عقل اور دین میں کمزور اور سمجھدار مردوں کی عقلوں پر غالب آنے والی نہیں دیکھیں، اس عقلمند عورت نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عقل اور دین کا نقصان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عقل کی کمی تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے یہ عقل کے اعتبار سے کمی ہے اور دین کی کمی یہ ہے کہ ماہواری کے دنوں میں نہ تم نماز پڑھ سکتی ہو اور نہ ہی روزہ رکھ سکتی ہو یہ دین میں کمی ہے۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 243 ایمان کا بیان : طاعات کی کمی سے ایمان میں کمی واقع ہونا اور ناشکری اور کفران نعمت پر کفر کے اطلاق کے بیان میں)

اس کو چھوڑ دو یہ ملعونہ ہے

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر میں تھے اور انصار کی ایک عورت اونٹنی پر سوار تھی تو اچانک وہ اونٹنی بدکنے لگی تو اس عورت نے اپنی اس اونٹنی پر لعنت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سن لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس اونٹنی پر جو سامان ہے اسے پکڑ لو اور اس اونٹنی کو چھوڑ دو کیونکہ یہ ملعونہ ہے سیدنا عمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا کہ میں اب بھی اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ اونٹنی لوگوں کے درمیان چل پھر رہی ہے اور کوئی آدمی اس سے تعرض نہیں کر رہا۔(صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2103 صلہ رحمی کا بیان :جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں۔چشتی)

لعنت کرنا ایک مسلمان کے شایان شان نہیں

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راست باز (مومن) کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔(صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2107 صلہ رحمی کا بیان :جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں)

یہ کام کرنے والا مومن نہیں

سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا طعن کرنے والا کسی پر لعنت بھیجنے والا، فحش گوئی کرنے والا اور بدتمیزی کرنے والا مومن نہیں ہے یہ حدیث حسن غریب ہے اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی سے کئی سندوں سے منقول ہیں۔(جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2063)

کسی پر بلاوجہ لعنت کی جائے تو

سیدہ ام درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی جانب پروان چڑھتی ہے اور آسمان کے دروازے اس پر بند کردئیے جاتے ہیں پھر وہ زمین کی جانب اترتی ہے تو اس کے لیے زمین کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں پھر دائیں بائیں جگہ پکڑتی ہے جب کہیں کوئی گھسنے کی جگہ نہیں ملتی تو جس پر لعنت کی گئی ہے اس کی طرف جاتی ہے اگر وہ اس لعنت کا حقدار ہو ورنہ کہنے والے کی طرف لوٹ جاتی ہے۔

(سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1500 ادب کا بیان : لعنت کا بیان۔چشتی)

زیادہ لعنت کرنے والے

سیدنازید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان نے سیدہ ام درداءرضی اللہ عنہا کی طرف اپنی طرف سے کچھ آرائشی سامان بھیجا پھر جب ایک رات عبدالملک اٹھا اور اس نے اپنے خادم کو بلایا تو اس نے آنے میں دیر کر دی تو عبدالملک نے اس پر لعنت کی پھر جب صبح ہوئی تو سیدہ ام درداءرضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ابوالدردا رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن شفاعت کرنے والے نہیں ہوں گے اور نہ ہی گواہی دینے والے ہوں گے۔

(صحیح مسلم جلد سوم حدیث نمبر 2109 صلہ رحمی کا بیان جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)