تمام صحابہ اکرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ پڑھا

عموماً منکرین صحابہ کی جانب سے اعتراض ہوتا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو تمام صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ چھوڑ کر سقیفہ بنو ساعدہ میں اکٹھے ہوگئے اور 10 یا 11 لوگوں کے سوا تمام صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ نہیں پڑھا۔

مخالفین کا یہ اعتراض انکی لاعلمی و جہالت پر مبنی ھے کیونکہ اگر وہ اپنے مذھب کی معتبر کتب پڑھ لیتے تو انکی یہ جہالت دور ہوجاتی۔

مخالفین کی معتبر کتب سے ثابت ھے کہ تمام مہاجر و انصار صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ پڑھا۔

مندرجہ ذیل مخالفین کی معتبر کتب سے چھ حوالہ جات

(1)اصول کافی میں روایت ہے کہ

امام باقر سے پوچھا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ کیسے پڑھا گیا تو آپ نے فرمایا جب حضرت علی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دے چکے تو حضرت علی نے دس دس آدمی کمرے میں داخل کیے روایت کے آخر میں ہے کہ اہل مدینہ اور اسکے اردگرد کوئی بھی بھی ایسا نا رہا جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ نا پڑھا ہو۔

( اصول کافی جلد سوم ص 26)

(2) امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ حضرت عباس نے امیر المومنین سے کہا کہ لوگ اس نیت سے اکٹھے ہوے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت البقیع میں دفن کیا جائے اور ان میں سے کوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازہ کی امامت کرے حضرت علی باہر آئے اور فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم جسطرح زندگی میں خلق کےامام تھے وصال فرماجانے کے بعد بھی امام ہیں (یعنی کوئی بھی انکے جنازے کی امامت نہیں کروا سکتا) روایت کے آخر میں ہے کہ حضرت علی نے نماز جنازہ پڑھی پھر مہاجر و انصار نے کو کہا کہ دس دس آئیں اور جنازہ پڑھ کر باہر نکل جائیں۔

(اصول کافی جلد سوم ص 27)

مذکورہ بالا حوالے سے جاہل قسم کے مخالفین کا یہ اعتراض بھی رفع ہوجاتا ھے کہ مولا علی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ پڑھایا جبکہ حضرت علی فرما رھے ہیں کہ کوئی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا امام نہیں بن سکتا۔

(3) کلینی نے بسند معتبر امام باقر سے روایت بیان کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا تو ملائکہ و تمام مہاجر و انصار صحابہ رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ پڑھا۔

(اصول کافی جلد سوم ص 27)

(4) مخالفین کی بہت ہی مشہور کتاب ھے احتجاج طبرسی اس میں لکھا ھے کہ

پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ دس دس صحابہ کو کمرے میں داخل کرتے رہے وہ جنازہ پڑھتے رہے اور نکلتے رہے یہاں تک کہ مہاجر و انصار صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین میں کوئی بھی ایسا نہ رہا جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ نا پڑھی ہو۔

(احتجاج طبرسی جلد اول ص 104)

(5) ملا باقر مجسلی حیات القلوب میں لکھتا ھے پڑھا۔

کلینی نے بسند معتبر امام باقر سے روایت بیان کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا تو ملائکہ و تمام مہاجر و انصار صحابہ رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ پڑھا۔

( حیات القلوب جلد دوم ص 1022)

(6) اسی روایت کو ملا باقر مجلسی جلاء العیون میں نقل کرتا ھے۔

کلینی نے بسند معتبر امام باقر سے روایت بیان کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا تو ملائکہ و تمام مہاجر و انصار صحابہ رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ پڑھا۔

( جلاء العیون جلد اول ص 153)

مندرجہ بالا حوالہ جات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ مخالفین کا اعتراض جہالت پر مبنی ھے اور تمام صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ پڑھا۔

نوٹ ۔ اسی موضوع پر ویڈیو دیکھنے کیلئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں شکریہ 👇👇

8احمدرضا رضوی