✨❄ اِصلاحِ اَغلاط: عوام میں رائج غلطیوں کی اصلاح ❄✨

🌻 وضو ٹوٹنے سے متعلق چند بے بنیاد مسائل

(تصحیح ونظر ثانی شدہ)

🌼 درج ذیل صورتوں میں وضو نہیں ٹوٹتا:

عوام میں وضو ٹوٹنے سے متعلق متعدد بے بنیاد مسائل رائج ہیں جیسے:

▫️ستر کھلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️لباس تبدیل کرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️اپنے ستر پر نظر پڑنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️بچے کو برہنہ دیکھنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️کسی کا گُھٹنا دیکھنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ (واضح رہے کہ گھٹنا ستر کا حصہ ہے، اس لیے کسی شدید مجبوری کے بغیر کسی کا گھٹنا دیکھنا گناہ ہے۔)

▫️شلوار گھٹنے سے اُوپر کرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ (واضح رہے کہ گھٹنا ستر کا حصہ ہے، اس لیے کسی شدید مجبوری کے بغیر کسی اور کے سامنے گھٹنا کھولنا گناہ ہے۔)

▫️اپنی شرمگاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️بیوی کو چھونے یا اس کا بوسہ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️برہنہ وضو کرنے سے وضو نہیں ہوتا۔

▫️چہرے سے بال نکالنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️سر منڈانے، بال بنوانے یا ناخن کاٹنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️بچے کو دودھ پلانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️گانا سننے یا ٹی وی دیکھنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️گالی دینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️غیبت یا بدنظری کرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️میت کو غسل دینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️ببل چبانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️اُونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

▫️نسوار منہ میں رکھنے سے وضوٹوٹ جاتا ہے۔

▫️سگریٹ پینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ (یہاں سگریٹ سے مراد عام سگریٹ ہے جس میں نشہ نہ ہو۔)

▫️بچے کو پیشاب کے بعد پاک کرنے سے وضوٹوٹ جاتا ہے۔

▫️نجاست پر پاؤں پڑنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

☀️ واضح رہے کہ یہ تمام باتیں بے بنیاد ہے، اِن سے وضو نہیں ٹوٹتا، کیوں کہ یہ وضو کو توڑنے والی چیزوں میں سے نہیں۔

🌼 گناہ کے بعد وضو کرنا مستحب ہے:

یہاں یہ بات بھی واضح کرنا مناسب ہے کہ گالی دینے، گانا سننے، غیبت کرنے، بد نظری کرنے اور ان جیسے دیگر گناہوں سے وضو نہیں ٹوٹتا البتہ حضرات فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ گناہ کے بعد وضو کرنا مستحب ہے، اس لیے وضو کرلینا بہتر ہے لیکن ضروری نہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ گناہ کے بعد توبہ کرنا ضروری ہے جس کی زیادہ فکر ہونی چاہیے۔

(تفصیلات کے لیے دیکھیے:

📿 فقہی عبارات

☀️ نور الایضاح میں ہے:

فصل [في أقسام الوضوء]:

الوضوء على ثلاثة أقسام: والثالث مندوب: …. وبعد غيبة وكذب ونميمة وكل خطيئة…..

فصل [فيما لا ينقض الوضوء]:

عشرة أشياء لا تنقض الوضوء: ظهور دم لم يسل عن محله….. ومس ذكر ومس امرأة….

☀️ رد المحتار میں ہے:

(قَوْلُهُ: بَعْدَ كَذِبٍ وَغِيبَةٍ)؛ لِأَنَّهُمَا مِنَ النَّجَاسَاتِ الْمَعْنَوِيَّةِ، وَلِذَا يَخْرُجُ مِنَ الْكَاذِبِ نَتِنٌ يَتَبَاعَدُ مِنْهُ الْمَلِكُ الْحَافِظُ كَمَا وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ، وَكَذَا أَخْبَرَهُ ﷺ عَنْ رِيحٍ مُنْتِنَةٍ بِأَنَّهَا رِيحُ الَّذِينَ يَغْتَابُونَ النَّاسَ وَالْمُؤْمِنِينَ وَلِإِلْفِ ذَلِكَ مِنَّا وَامْتِلَاءِ أُنُوفِنَا مِنْهَا لَا تَظْهَرُ لَنَا كَالسَّاكِنِ فِي مَحَلَّةِ الدَّبَّاغِينَ …. (قَوْلُهُ: وَبَعْدَ كُلِّ خَطِيئَةٍ) عَطْفُ عَامٍّ عَلَى خَاصٍّ بِالنِّسْبَةِ إلَى مَا ذَكَرَهُ مِمَّا هُوَ خَطِيئَةٌ، وَذَلِكَ لِمَا وَرَدَ فِي الْأَحَادِيثِ مِنْ تَكْفِيرِ الْوُضُوءِ لِلذُّنُوبِ. (كتاب الطهارة)

☀️ الفقہ الاسلامی واَدِلَّتُہ میں ہے:

الثالث: مندوب في أحوال كثيرة منها ما يأتي:…..

ح: بعد ارتكاب خطيئة من غيبة وكذب ونميمة ونحوها؛ لأن الحسنات تمحو السيئات، قال ﷺ: «ألا أدلكم على ما يمحو الله به الخطايا، ويرفع به الدرجات؟» قالوا: بلى يا رسول الله، قال: «إسباغ الوضوء على المكاره، وكثرة الخُطا إلى المساجد، وانتظار صلاة بعد صلاة، فذلكم الرباط، فذلكم الرباط».

✍🏻۔۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ