میرا مزاج نہیں سمجھتی
کوئی چھے سات سال ہونے کو ہیں ، میرا ایک عزیز اٹھتے بیٹھتے اپنی بیوی کا شکوہ کرتا رہتا ہے ۔
جب اُس سے پوچھا جائے کہ تجھے بیوی سے مسئلہ کیا ہے ؟ تو کہتاہے:
” وہ میرا مزاج نہیں سمجھتی ۔ “
سوچنے کی بات ہے:
مزاج ہمارا ہے ، اِسے ہمارے سمجھائے بغیر کوئی دوسرا کیسے سمجھے گا !!
کمی ان میں نہیں جو ہمارا مزاج نہیں سمجھتے ، کمی ہم میں ہے کہ ہم اپنا مزاج دوسروں کو سمجھا نہیں پاتے ۔
میاں بیوی ہوں ، بہن بھائی ہوں ، دوست احباب ہوں ، یا رشتے دار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سے یہ امید رکھنے کے بجائے کہ:
یہ ہمارا مزاج سمجھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں خود انھیں اپنا مزاج سمجھانا چاہیے ۔
انھیں بتانا چاہیے کہ ہمیں کیا پسند ہے ، اور کیا ناپسند ۔
اور ایک دفعہ ہی بتاکر یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ حافظ ہوگئے ہیں ، بلکہ گاہے گاہے اچھے انداز سے یاد دہانی کراوتے رہنا چاہیے ۔
وہ دَور گیا جب لوگ مزاج شناس ہوتے تھے ، اب تو بتانے سے بھی سمجھ جائیں تو غنیمت ہے ۔
پہلے زمانے کے حکیم نبض نہیں ، چہرہ دیکھ کر ہی مرض بتا دیتے تھے ۔
لیکن اب ڈاکٹر ایک ہزار فیس لے کر بھی کچھ نہیں بتا سکتے ، جب تک لیبارٹری ٹیسٹ نہ دیکھ لیں ۔
اس لیے اگر رشتے ناطے نبھانا چاہتے ہیں تو حالات سےسمجھوتا کرنا سیکھیں ۔
ویسے بھی ساری کائنات کے ہادی ، اللہ کے پیارے رسول ﷺ کا فرمان ہے:
إِذَا اَحَبَّ الرَّجُل أَخَاهُ ، فَلْيُخْبِرْهُ اَنَّهُ يُحِبُّهُ ۔
جب کوئی بندہ اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے بتادے کہ میں تیرے ساتھ محبت کرتا ہوں ۔
( ابو داود شریف ، ر 5124 )
آپ اس حدیث پاک پر غور کریں گے تو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا ، مثلاً:
¹ کسی سے محبت جیسا جذبہ نہیں چھپانا چاہیے ، اسے کیا معلوم آپ کے دلی جذبات کیا ہیں ۔
² اگر آپ اپنے دلی جذبات کی قدر کروانا چاہتے ہیں تو اپنے پیاروں کو ان سے آگاہ کریں ، انھیں احساس ہوا تو قدر کریں گے ، نہ احساس ہوا تو کم ازکم آپ ان سے آگاہ ہوجائیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
11-10-2020 ء