کرائے کی ماں کی شرعی حیثیت

تفصیلی فتویٰ : مفتی منیب الرحمٰن

سوال:

بلاشبہ ہر زمانہ اور ہر عہد اپنے تقاضے، مطالبات اور چیلنج لے کر سامنے آتا ہے۔پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ اسلام ،ماضی سے حال اور حال سے مستقبل یعنی ہر زمانے کے لیے آیا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ مسلمانوں کو ہمیشہ اسلام پر خود عمل پیرا ہونے کے ساتھ ،ہرزمانے میں دوسروں (نوعِ انسانی) کے سامنے دعوت پیش کرنے کا فریضہ انجام دیناہے۔

ہرزمانے میں مسائل ومشکلات کی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے دو صورتیں رہی ہیں: پہلی یہ کہ اسلام کے بنیادی اصولوں پر کوئی سمجھوتا کیے بغیر، مسائل ومشکلات کا حل پیش کیا گیا اور دوسرا یہ کہ مسائل ومصائب کے پہاڑ کے سامنے فدویانہ خود سپردگی کرتے ہوئے خود اسلام میں قطع وبُرید کی گئی اور اسے ان چیلنجوں کے حسبِ حال بناکر گزارا کیا گیا۔ پہلا راستہ ایمان، عزیمت اور دانشِ بُرہانی کا تھا اور دوسرا طریقہ ترمیم پسندی، مرعوبیت اور دین میں تحریف کا ۔ پہلے راستے پر علماء، فقہاء، محدثین،مفسرین اور متکلمین اسلام کی ایک بڑی شان دار تعداد نے علم ونور کے چراغ روشن کیے اور دوسرے طریقے پر چلنے والوں نے شرمندگی، انتشار اور تذبذب کے ایسے کانٹے بکھیرے ،جن سے امت مسلمہ کو سخت نقصان پہنچا۔ اس دوسری قسم میں چراغ علی، سرسید احمد خاں، احمد دین امرتسری ،عیانت اللہ خاں مشرقی، مرزاغلام احمد قادیانی، غلام احمد پرویز اور انہی کی خوشہ چینی کرتے ہوئے کچھ ڈگری یافتگان اور کچھ چرب زبان شامل رہے ہیں۔

ذیل میں وہ سوال درج کیا جارہا ہے، جوجناب جاوید احمد غامدی کے باقاعدہ نظام کے تحت چلائے جانے والے سوشل میڈیا پر فراہم کیا گیا۔ ایسے پروگرام سوچ سمجھ کر اور پوری تیاری کے ساتھ کیے جاتے ہیں، ایسے ہی سرِ راہ چلتے چلتے نہیں کیے جاتے۔ ان پروگراموں میں سامعین بھی گنے چنے ہوتے ہیں اور سوالات بھی سوچے سمجھے۔ مذکورہ پروگرام میں ایک خاتون سوال کرتی ہیں:

میرا سوال Surrogate(متبادل) ماں کے حوالے سے ہے، آج کے دور میں یہ مسئلہ سامنے آیا ہے کہ اگر ایک خاتون ماں نہیں بن سکتی اور اس میں کچھ Physical (جسمانی) مسائل ہیں ،تو دوسری خاتون کو کرائے پر حاصل کر کے اس سے بچہ پیدا کرایا جاتا ہے۔ ایک تو اس حوالے سے بتادیجیے کہ اس میں آپ کی کیا رائے ہے، دینِ اسلام کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے کیا یہ صحیح ہے۔

دوسرا یہ کہ ایک خاتون کو جسمانی مسائل نہیں ہیں، لیکن وہ خود بچہ پیدا کرنے کی زحمت نہیں اٹھانا چاہتی ،چنانچہ وہ (میاں بیوی) باہر سے دوسری خاتون کو حاصل کر کے بچہ پیدا کرواتے ہیں، توکیا یہ طریقہ جائز ہے ۔

جواب میں جاوید احمد صاحب کہتے ہیں:

’’میرے نزدیک اس مسئلے کا تعلق ’’رضاعت‘‘ سے ہے اور وہ قرآن میں بیان ہوگیا ہے، آپ کے علم میں ہے کہ یہ بات اللہ کی طرف سے واضح کردی گئی ہے کہ اگر کسی خاتون نے بچے کو دودھ پلایا ہے تو اس سے تمام رشتے قائم ہوجاتے ہیں۔ لیکن یہ علانیہ ہونا چاہیے اور یہ ہر ایک پر واضح ہونا چاہیے کہاگر اس طریقے کا تعلق قائم کیا جائے گا، اگر محض چھاتیوں کا تعلق قائم کردینے کے نتیجے میں اتنی حرمتیں واقع ہوگئیں تو یہاں (یعنی کرائے پر بچہ پیدا کرنے کی صورت میں) بھی واقع ہوں گی۔ نہ تو یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے کہ آپ نے کرایہ دیا اور فارغ ہوگئے۔ متعین طور پر معلوم ہونا چاہیے، اس کا اعلان ہونا چاہیے، بچے کے بارے میں واضح ہونا چاہیے کہ فلاں اس کی ماں ہے اور اس کے نتیجے میں جو رشتے پیدا ہوتے ہیں، وہ تمام رشتے اس طرح پیدا ہوجائیں گے کہ جس طرح ’’رضاعت‘‘ میں پیدا ہوتے ہیں، ان تمام چیزوں کا لحاظ کر کے کوئی آدمی اس جدید تکنیک سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔

جہاں تک دوسری صورت کا تعلق ہے، تو اس کا جواب بھی اسی میں موجود ہے کہ دودھ نہیں اترا تو اس صورت میں بھی ’’رضاعت‘‘ کا تعلق قائم کرلیا اور دودھ اترا ہے تو اس کے باوجود رضاعت کا تعلق قائم کرلیا، دونوں صورتوں میں ٹھیک ہے، لیکن یہ علانیہ ہونا چاہیے، یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح آپ ماں کا انتخاب کرتے ہیں، یعنی جیسے رسالت مآب ﷺ نے حلیمہ سعدیہ کا دودھ پیا اور وہ ماں کے درجے میں ہیں۔ ان کے تمام رشتے اسی طرح ہوں گے ۔ قرآن مجید تو یہاں تک چلا گیا کہ جس خاتون کا دودھ پیا ہے آپ نے اور پھرکسی اور نے بھی اسی خاتون کا دودھ پیا ہے تو آپ کے باہم وہی رشتہ پیدا ہوجائے گا جو بہن بھائی کا ہے۔یہ علانیہ ہونا چاہیے ،ابہام نہیں ہونا چاہیے، اس کے نتیجے میں ماں اور نان ونفقے کے حقوق قائم ہوجائیں گے اور جو کچھ معاہدہ ہوا ہے ،اس کی پابندی کرنی پڑے گی اور اس کے نتیجے میں جو رشتے پیدا ہوتے ہیں، ان رشتوں کو بھی وہی حُرمت ملے گی، یعنی نکاح ہونا ہے ،طلاق ہونا ہے، دین میں ایسی(صورت) ہوگی اگر کسی نے کرنی ہے‘‘۔

اس مبہم اور متضاد جواب نے ایسی صورتِ حال پیدا کی ہے کہ جس میں بہت سے اشکالات پیدا ہوتے ہیں:

(۱) دوسری عورت کی جانب سے غیر عورت کے بچے کو دودھ پلانے یعنی رضاعت اور ایک بے نکاحی ماں کے بطن سے غیر مرد کے بچے کی پیدائش کا آپس میں برابری کا کیا تعلق ہے۔

(۲) بچے کی پیدائش کے لیے داخلی، جسمانی اور جذباتی کیفیات اور دودھ پلانے کے عمل کو قائم مقام قرار دینا کہاں تک عقلی اور دینی مصالح کے تحت درست استدلال ہے۔

(۳) بچے کی خواہش رکھنے والے والدین یا خود بچہ پیدا نہ کرنے والی عورت کی جانب سے کسی غیر عورت سے بچے کی پیدائش کا اہتمام کرنا کیسے اخلاقی، سماجی وقانونی سوال پیدا کرتا ہے۔

(۴) ایک غیر مرد کے نطفے کو مصنوعی طور پر دوسری عورت کے ہاں منتقل کرنا کہ جو اس مرد کے نکاح میں نہیں ہے ، کیا یہ ایک میکانکی زنا تصور نہیں کیا جائے گا اور اس صورت میں پیدا ہونے والا بچہ جائز اور ناجائز کی کون سی قسم سے منسوب ہوگا۔

(۵) اس کلام وبیان کے ساتھ یہ خدشہ موجود ہے کہ کل جاوید صاحب یہ بھی کہہ گزریں:’’کمزور یا عدم بار آور سپرم رکھنے والا مرد، کسی دوسرے مرد یا دوست کا سپرم خرید کر یا تحفے میں لے کر اپنی اہلیہ محترمہ کے ہاں میکانکی انداز سے منتقل کروا کر بچہ حاصل کرسکتا ہے، لیکن اس کا باقاعدہ اعلان کرنا ہوگا‘‘۔

(۶) کیا اس شکل میں یہ صورتِ حال نہیں پیدا ہوگی کہ دولت مند مرد اور دولت مند عورتیں اپنی دولت کے بل بوتے پر ’’بچہ سپر مارکیٹ‘‘ سے بچے خریدنے یا بنوانے لگیں اور دولت نہ رکھنے والے والدین ’’بچے کی خرید وفروخت‘‘ کے لیے تدابیر سوچنے لگیں۔ یوں میکانکی تناسل اور توالد کا ایک ایسا کھیل شروع ہو جس میں ماں کا وجود، مرد کے سپرم اور بچے کی پیدائش کا تعلق منڈی کی معیشت سے جڑ جائے اور پھر سماجی، اخلاقی اور خانگی ڈھانچا ایک ایسی تہذیب پیدا کرے ،جس میں منکوحہ بیوی ، اپنے خاوند کا بچہ دوسری غیر منکوحہ عورت سے جنوائے یا ایک مرد کسی دوسرے مرد سے نطفہ خرید کر کسی اور جگہ سے بچہ پیدا کرائے گا، تو یوں واقعی ’’میرا جسم ،میری مرضی‘‘ ہی کا بول بالا ہوگا۔

مغرب اور غیر مسلم دنیا میں ان خطوط پر کام ہورہا ہے اور اس لہر سے متاثر’’روشن خیال‘‘ ماہرین اسلامی فکریات جدیدیت سے مرعوبیت یا آسانی پیدا کرنے کے ذوق وشوق میں کہاں کی اینٹ اور کہاں کے روڑے کا ملاپ کرا رہے ہیں۔ اس طرزِ فکر کے بہر حال اثرات مسلمانوں کے تہذیب وتمدن پر پڑ سکتے ہیں، اس لیے درخواست ہے کہ شخصی حوالے کو نظر انداز کر کے ،مجرّد مسئلے کی نوعیت اور مذکورہ بالا جواب میں ابھرنے والی گمراہ کن سوچ کا جائزہ لے کر اور دین کے منشا اور حکمت کو بیان فرمائیں،یہ بحث ہم ماہنامہ ’’ترجمان القرآن لاہور‘‘ میں شائع کریں گے، والسلام۔

سلیم منصور خالد

ایڈیٹر: ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن انٹرنیشنل

لاہور

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اَلْجَوَابُ ھُوَ الْمُوَفَّقُ لِلصَّوَاب

Surrogate Motherاُس عورت کو کہتے ہیں جو اپنا رحم اوربیضہ کسی غیر مرد کے نطفے کی افزائش کے لیے رضاکارانہ یا اجرت کے عوض پیش کرے ، یہ عمل شرعاً اور اخلاقاً جائز نہیں ہے،امام محمد بن سیرین متوفّٰی110ھ اور امام حسن بصری متوفّٰی110ھ سے روایت ہے: ’’اَلْفَرْجُ لَا يُعَارُ‘‘، ترجمہ:’’فرج کو عاریت پر نہیں دیا جائے گا، (مصنف ابن ابی شیبہ:17301،17297)‘‘، جب عاریت پر نہیں دیا جاسکتا تو اجرت کے عوض دینا بطریقِ اولیٰ ناجائز ہوگا ،کیونکہ یہ بدکارعورت کی اجرت کی مانند ہوگا ،جسے سنن ترمذی:1133میں منع فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ خدشات دوسری صدی ہجری کے آغاز میں بھی محدثین کرام کے ذہنوں میں تھے،حدیث پاک میں ہے:

’’عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْاَنْصَارِيِّ، قَالَ:: قَامَ فِيْنَا خَطِيْبًا، قَالَ:: أَمَا إِنِّي لَا أَقُوْلُ لَكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ ﷺيَقُوْلُ: يَوْمَ حُنَيْنٍ، قَالَ:لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُوْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهٗ زَرْعَ غَيْرِهٖ،يَعْنِي: إِتْيَانَ الْحَبَالٰى،وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُوْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَقَعَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ السَّبْيِ حَتّٰى يَسْتَبْرِئَهَا، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُوْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَبِيْعَ مَغْنَمًا حَتّٰى يُقْسَمَ‘‘۔

ترجمہ:’’رُوَیفع بن ثابت انصاری بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے ہمارے درمیان خطبہ دیتے ہوئے کہا: میں تمہیں وہی بات کہنے جارہا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے غزوۂ حنین کے موقع پر سنی ، آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے پانی (نطفہ)سے غیر کی کھیتی (رحم) کو سیراب کرے، یعنی غیر کے نطفے سے حاملہ عورت سے جماع کرنا، اور جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اُس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ رحم پاک ہونے تک کسی جنگی قیدی عورت سے مباشرت کرے اور جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ،اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ تقسیم سے پہلے مالِ غنیمت میں سے کسی چیز کو فروخت کرے، (سنن ابودائود: 2158)‘‘، یعنی مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اس میں دوسروں کے حقوق بھی شامل ہوتے ہیں۔

اس حدیث مبارک کے مطابق اپنی منکوحہ کے علاوہ کسی دوسری اجنبی خاتون کی کھیتی کو سیراب کرنے سے مراد جنسی ملاپ یا دیگر طبی طریقوں سے اُس کے رحم میں اپنامادّہ مَنویّہ پہنچانا ہےاور یہ عمل حرام ہے۔لہٰذا جب بیوی کے رحم میں شوہر کے علاوہ کسی اور شخص کے جرثومے رکھے جائیں گے تو وہ ازروئے حدیث حرام ہوگا اور جب بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کے رحم میں شوہر اور بیوی کا مادّہ مَنویّہ رکھاجائے گا تب بھی وہ عورت غیر کی کھیتی ہے ،اس لیے اس کے رحم میں شوہرکے علاوہ کسی اور کا مادّہ مَنویّہ رکھنا ناجائز ہوگا ۔لیکن چونکہ اس عمل پرزنا کی تعریف صادق نہیں آتی ،اس لیے اس پر نہ زناکا اطلاق ہوتا ہے اور نہ زنا کی حدِّ شرعی جاری ہوگی،البتہ یہ عمل سخت گناہ کا باعث ہےاورمعناً زنا ہے،کیونکہ اس سےاُس عورت کا حمل قرار پاسکتا ہے۔ جہاں تک بچے کے نسب کا تعلق ہے تو اس کا نسب صاحبِ نطفہ کے ساتھ قائم نہیں ہوگااور نہ اس کی منکوحہ بیوی اس بچے کی ماں کہلائے گی۔ لہٰذا شرعاً نہ تو یہ بچہ اُن کا وارث ہوگا اور نہ یہ دونوں بچے کے وارث بنیں گے،بچے کی ماں وہی عورت کہلائے گی جس کےبطن سےاُس نے جنم لیا ہے،چنانچہ اللہ کا تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ترجمہ:’’اور ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا ہے،(المجادلہ:2)‘‘۔

نیز ارشاد فرمایا:

(2): ’’اس (یعنی انسان کو) اُس کی ماں نے مشقت سے پیٹ میں اُٹھائے رکھا اور مشقت ہی سے جنا، (الاحقاف: 15)‘‘۔پہلی آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حقیقت میں انسان کی ماں وہی عورت ہے، جس نےاُسے جنم دیا ہےاور دوسری آیت میں مزید صراحت کے ساتھ فرمایا :’’ انسان کی ماں وہ عورت ہے جو حمل کو پیٹ میں رکھتی ہے اور پھر اسے جنتی ہے‘‘۔

اس کی مزید وضاحت نبی کریمﷺ کے زمانے میں پیش آنے والےاس واقعے سے ہوتی ہے: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بھائی عُتبہ نے مرتے وقت اپنے بھائی سعد کو یہ وصیت کی کہ زَمعہ (جوکہ اُم المومنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کےوالدتھے) کی لونڈی کا بیٹا عبدالرحمٰن میرے نطفہ سے ہے، لہٰذا تم اس کو لے لینا۔ چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ جب بچہ کو لینے گئے تو زَمعہ کےبیٹےعبدکہنے لگے کہ یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بچہ ہے،پھر یہ مقدمہ نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں پیش ہوا،چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

’’ كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلٰى أَخِيْهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيْدَةِ زَمْعَةَ مِنِّيْ فَاقْبِضْهُ، قَالَتْ:: فَلَمَّا كَانَ عَامُ الفَتْحِ أَخَذَهٗ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَقَالَ:: ابْنُ أَخِي قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ فِيْهِ، فَقَامَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ:: أَخِي، وَابْنُ وَلِيْدَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلٰى فِرَاشِهٖ، فَتَسَاوَقَا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ سَعْدٌ:: يَا رَسُوْلَ اللَّهِ! ابْنُ أَخِيْ كَانَ قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ فِيْهِ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ:: أَخِي، وَابْنُ وَلِيْدَةِ أَبِي، وُلِدَ عَلٰى فِرَاشِهٖ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِﷺ:هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ!، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّﷺ:اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ:اِحْتَجِبِيْ مِنْهُ یَاسَوْدَۃُ !لِمَا رَأٰى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتّٰى لَقِيَ اللَّهَ‘‘۔

ترجمہ:’’ عُتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ وصیت کی : ’’زَمعہ کی باندی کا بیٹا میرے نطفہ سے ہے ،تم اس پر قبضہ کرلینا ‘‘، حضرت عائشہ نے کہا:’’ جب فتح مکہ کا سال آیا تو حضرت سعد بن ابی وقاص نے زَمعہ کے بیٹے کو لے لیا اور کہا: یہ میرا بھتیجا ہے اور میرے بھائی نے مجھے اس کی وصیت کی تھی‘‘، پھر حضرت عبد بن زَمعہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا:’’ یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی باندی کا بیٹا ہے اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے‘‘۔ پھر ان دونوں نے اپنا مقدمہ نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’یارسول اللہ! یہ میرا بھتیجا ہے ،اس کے متعلق عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی ‘‘۔ حضرت عبد بن زَمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی باندی کا بیٹا ہے، ان کے بستر پر پیدا ہوا ہے‘‘، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ اے عبد بن زَمعہ! وہ تمہارا (بھائی) ہے‘‘ ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کے لیے پتھر ہے‘‘، پھر آپ نےاُمُّ المومنین سَودہ بنت زَمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’سَودہ! تم اس سے پردہ کرنا، کیونکہ آپ نے اس لڑکے میں عُتبہ کی مشابہت دیکھی تھی‘‘، پھر زَمعہ کے بیٹے نے حضرت سَودہ کو نہیں دیکھا حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جاملا، (صحیح البخاری:2053)‘‘۔

رسول اللہ ﷺ نے ’’اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاھِرِ الْحَجَر‘‘کے شرعی اصول کے تحت بچے کی ولدیت کے بارے میں فیصلہ عَبد بن زمعہ کے حق میں دیا کہ وہ تمہارا بھائی ہے اور چونکہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حقائق پر بھی مطلع فرمایا تھا ،اس لیے آپ نے اُمُّ المومنین حضرت سودہ بنتِ زمعہ کو حقیقتِ واقعہ کی بنا پر پردے کا حکم فرمایا۔علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ تعالیٰ لفظِ ’’فِراش‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’قَوْلُهٗ: اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ: أَيْ لِمَالِكِ الْفِرَاشِ وَهُوَ السَّيِّدُ أَوِ الزَّوْجُ ‘‘۔

ترجمہ: ’’رسول اللہ ﷺ کا فرمان ’’بچہ فِراش کا ہے‘‘ ،یعنی ’’مَالِکُ الْفِرَاش‘‘ ہے، یعنی وہ عورت جس سے شریعت نے کسی مرد کے لیے مباشرت کو حلال قرار دیا ہے اور وہ کسی کی منکوحہ بیوی ہے یا باندی، (فتح الباری،ج:1،ص:221،دارالمعرفہ، بیروت)‘‘۔

علامہ بدرالدین عینی رحمہ اللہ تعالیٰ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’قَوْلُهٗ :اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ : أَيْ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ، إِنَّمَا قَالَ ﷺ: ذٰلِكَ عَقِيْبَ حُكْمِهٖ لِعَبْدِ بْنِ زَمْعَةَ إِشَارَةً بِأَنَّ حُكْمَهٗ لَمْ يَكُنْ بِمُجَرَّدِ الْاِسْتِلْحَاقِ بَلْ بِالْفِرَاشِ، فَقَالَ: اَلْوَلَدُ لِلْفِراشِ ،وَأجْمَعَتْ جَمَاعَةٌ مِنَ الْعُلَمَآءِ بِاَنَّ الْحُرَّةَ فِرَاشٌ بِالْعَقْدِ عَلَيْهَا مَعَ إِمْكَانِ الْوَطْءِ وَإِمْكَانِ الْحَمْلِ، فَإِذَا كَانَ عَقْدُ النِّكَاحِ يُمْكِنُ مَعَهُ الْوَطْءُ وَالْحَمْلُ، فَالْوَلَدُ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ لَا يَنْتَفِيْ عَنهُ أبَدًا بِدَعْوٰى غَيْرِهٖ وَلَا بِوَجْهٍ مِنَ الْوُجُوْهِ إِلَّا بِاللِّعَانِ‘‘۔

ترجمہ:’’رسول اللہ ﷺ کا فرمان’’بچہ فراش کا ہے‘‘،یعنی ’’صَاحِبُ الْفِرَاش‘‘ کاہے، یہ ارشاد آپ نے عبد بن زَمعہ کا حکم بیان کرنے کے بعد فرمایا، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ محض اِسْتِلْحَاق (یعنی کسی کے نسب کو اپنے ساتھ لاحق کرنے کے مطالبے)سے نسب ثابت نہیں ہوتا ، بلکہ فِراش سے ثابت ہوتا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا:’’ بچہ صاحب فِراش کا ہے‘‘۔ علماء کی ایک جماعت کا اس پر اجماع ہے کہ آزاد عورت کا فِراش ہونا نکاح سے ثابت ہوتا ہے ،جبکہ وطی کرنا اور حمل قرار پاناممکن ہو، پس جب اس امکان کے ساتھ نکاح منعقد ہو تو بچہ صاحبِ فراش کا ہوگا ،لعان کے سوا کسی غیر کے دعوے یا کسی اور سبب سے بچے کا نسب اُس سےکبھی منقطع نہیں ہوگا،(عمدۃ القاری ،ج:11،ص:168)‘‘۔

علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:

’’ اس حدیث میں نبی ﷺ نے ’’اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاش‘‘ ‘کے بعد فرمایا: ’’لِلْعَاھِرِ الْحَجَر‘‘،’’بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر ہو اور زانی کے لیے پتھر ہے ‘‘۔ اس سے واضح ہوگیا کہ نبی ﷺ کو علم تھا کہ یہ بچہ زنا سے پیدا ہوا ہے، زَمعہ کے نطفے سے پیدا نہیں ہوا، اس کے باوجود آپ نے اس بچے کو زمعہ کے ساتھ لاحق کردیا ،اس سے ظاہر ہوگیا کہ ثبوت نسب صاحبِ نسب کے پانی اور اس کی وطی پر موقوف نہیں ہے ،بلکہ فراش پر موقوف ہے ، جس کا فراش ہوگا ،اس کا نسب ہوگا خواہ اس نے وطی کی ہو یا نہ کی ہو، یہی وجہ ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ نے فراش ہونے کے لیے امکان وطی کی شرط نہیں رکھی، (شرح صحیح مسلم،ج:3،ص:934)‘‘۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کا نسب صاحبِ فراش سے ثابت ہوگا ، صاحبِ فراش سے مراد یہ ہے کہ وہ عورت جس کے نکاح میں ہے ،اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’زانی کے لیے پتھر ہے‘‘، یعنی ایسا صاحبِ نطفہ اُس بچے کی نسبتِ نسب کے اعزاز سے محروم رہے گا۔ پس جب بچے کا نسب صاحبِ فراش کے ساتھ لاحق ہوگا تو اس کی بیوی اس کی ماں قرار پائے گی اور اس عورت کا شوہر اس کا باپ قرار پائے گا، کیونکہ ثبوتِ نسب بھی ضروریاتِ شرعیہ میں سے ہے اور اسی طرح دیگر رشتے قائم ہوں گے۔یہ مسئلہ کنواری مَزنیہ ( جس سے زنا کیا گیاہو )کے بارے میں نہیں، بلکہ کسی کی منکوحہ کے بارے میں ہے۔

جاوید غامدی صاحب نے تواجرت کے عوض یا رضاکارانہ اپنا بیضہ اور رحم فراہم کرنے والی عورت کو ’’رضاعی ماں‘‘ قرار دیاہے، جبکہ حدیث میں تو اسے حقیقی ماں ہی کا حکم دیا گیا ہے۔ رضاعی ماں تو اُسے کہتے ہیں کہ کسی کے ہاںبچہ پیدا ہوجائے اور پھر وہ بچہ مدتِ رضاعت (یعنی ڈھائی برس) کے اندرکسی دوسری عورت کا دودھ پیے ،وہ رضاعی ماں کہلائے گی ، اُس کا شوہربچے کا رضاعی باپ کہلائے گا اور اسی طرح دوسرے رضاعی رشتے بھی قائم ہوں گے۔ یہ شریعت میں کوئی عیب نہیں ہے ، یہ شعار اسلام سے پہلے بھی عالمِ عرب میں رائج تھا اور اسلام نے اسے برقرار رکھا ہے اور اس میں نسب کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں رہتا۔

غامدی صاحب کا کلام تضادات کا مجموعہ ہے ،آپ نے اُن کا موقف لکھا ہے: ’’یہ عَلانیہ ہونا چاہیے ، ابہام نہیں ہونا چاہیے، اس کے نتیجے میں ماں اور نان نفقے کے حقوق قائم ہوجائیں گے اور جو کچھ معاہدہ ہوا ہے، اُس کی پابندی کرنی پڑے گی۔ اُس کے نتیجے میں جو رشتے پیدا ہوتے ہیں، اُن رشتوں کو بھی وہی حرمت ملے گی ، یعنی نکاح ہونا ہے ، طلاق ہونا ہے ، دین میں ایسی صورت ہوگی ، اگر کسی نے کرنی ہے ‘‘۔

غامدی صاحب مغالطے کا شکار ہیں یا دوسروں کومغالطہ دینا چاہتے ہیں،اگر ان کی نکاح وطلاق اور نان نفقہ سے حقیقی نکاح وطلاق مراد ہے،تو اس پر کرائے کی ماں (Surrogate Mother)کا اطلاق بالکل غیر متعلق بات ہے اور اس کے لیے اتنی طویل فلسفیانہ بحث کی کیا ضرورت ہے اور اگراُن کی یہاں نکاح وطلاق سے مراد اجرت کے عوض یا رضاکارانہ طور پر اجنبیہ عورت کا رحم حاصل کرنا ہے ، تویہ دیدہ ودانستہ تحریف اور خَلطِ مبحث ہے، اس صورت میں نکاح ،طلاق اور نفقے کا اطلاق شرعی اصطلاح کے پردے میں لوگوں کو گمراہ کرنا ہے۔

پس اگرنکاح وطلاق ہے ، نان نفقہ ہے ، تو اُس پر کرائے کی ماں (Surrogate Mother)کا اطلاق ہرگز درست نہیںہے، اس طرح تو کوئی شخص اپنی منکوحہ بیوی کو بھی کرائے کی ماں قرار دے سکتا ہے ،کیونکہ شریعت نے بیوی اور بچوں کی کفالت کی ساری ذمے داری شوہر پر عائد کی ہے۔ جبکہ کرائےپر کسی اجنبیہ عورت کی خدمات اعلان کر کے حاصل کی جائیں ،تو یہ اعلان کسی بھی صورت میں نکاح کے ہم معنی نہیں ہے،نہ اس پر نکاح کے احکام مرتّب ہوتےہیں اور نہ اس کے لیے طلاق کی ضرورت ہے اور نان نفقہ بھی صاحبِ فراش کی ذمے داری ہے۔ پس جنابِ غامدی کا موقف مبہم ہے ، تشویشناک ہے یا تو وہ خودذہنی انتشار کا شکار ہیں ،یعنی Confusedہیںاور یا اپنا موقف کھل کر بیان کرنے کی جسارت نہیں کرپارہے، اس لیے الفاظ سے کھیل رہے ہیں۔ مزید یہ کہ آپ کے یہ خدشات درست ہیں کہ ایک خرابی کا دروازہ کھول دیا جائے تو دوسری خرابیاں اُسی راستے سے خود نفوذ کرلیتی ہیں اور پھر اُن کا سدِّباب مشکل ہوجاتا ہے، جبکہ دین کے نام پر اُن کو جواز فراہم کرنے والے بھی برائے خدمت دستیاب ہیں۔

اگرجاوید غامدی صاحب کے بیان کیے ہوئے اصول کو قبولِ عام دے دیا جائے تو آپ نے اِشکال نمبر5میں جویہ لکھا ہے :’’اس کلام وبیان کے ساتھ یہ خدشہ موجود ہے کہ کل جاوید صاحب یہ بھی کہہ گزریں: ’’کمزور یا عدم بار آور سپرم رکھنے والا مرد، کسی دوسرے مرد یا دوست کا سپرم خرید کر یا تحفے میں لے کر، اپنی اہلیہ محترمہ کے ہاں میکانکی انداز سے منتقل کرواکے بچہ حاصل کرسکتا ہے، لیکن اس کا باقاعدہ اعلان کرنا ہوگا‘‘، اس کا وقوع امکان کے درجے سے بڑھ کر حقیقت کا روپ دھار چکا ہے ، جس طرح مغرب میں جنسی تسکین کے لیے مصنوعی اعضاء (آلۂ تناسل اور فرج)کی دکانیں برسرِ عام کھل گئی ہیں ،شنید ہے کہ مغرب میں اس شعبے کے لیے بھی ایجنسیاں کھل گئی ہیں اوراب یہ باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کرچکاہے، پس ایسی صورت میں کنواری دوشیزائیں بھی شوقیہ یا اجرت پر اپنی خدمات پیش کرسکتی ہیں ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارت میں باقاعدہ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ طور پر یہ طریقہ رائج ہے اوراب وہ غربت کی وجہ سے اس کاروبار کا مرکز ہے۔گویا انسان مرتبۂ انسانیت سے گر کر حیوانیت کے درجے میں اتر آیاہے اور معاشرے میں یہ عمل کسی عار کا سبب نہیں رہا، پس یہ شریعت کی تعلیمات سے دوری اور اخلاقی زوال کی انتہا ہوگی۔ شروع میں جو ہم نے لکھا ہے کہ Surrogationپر زنا کا اطلاق نہیں ہوتا،اس لیے کہ شریعت نے ثبوتِ زنا کے لیے سخت شرائط مقرر کی ہیں، کیونکہ اس کی سزا بھی سنگین ہے۔

البتہ اگرکسی بیماری یا عارضہ کی وجہ سےشوہر عمل تزویج پر قادر نہ ہو ،یاعورت میں کوئی خرابی پائی جاتی ہو اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ جنسی ملاپ کے ذریعے حاملہ ہونے کی صلاحیت نہ رکھتی ہوتومصنوعی عمل تولید یا ٹیسٹ ٹیوب بےبی (نلکی زادی)کےذریعے حقیقی شوہرکا جرثومہ اس کی اپنی بیوی کے رحم میں منتقل کرنا شرعاً ناپسندیدہ ہونے کے باوجود جائز ہے ۔ہمارے فقہاءپر اللہ تعالیٰ کروڑوںرحمتیں نازل فرمائے ،اُنہوں نے آج سےتقریباًایک ہزاربرس پہلے ایسے اُصول وقواعد بیان کردیےکہ جن سے کئی سو برس بعد پیش آنے والے مسائل حل ہوگئے ،حتّٰی کہ صحبت کے بغیرعورت کے حاملہ ہونے کی صورتوں کو بیان فرمادیا ۔محمدبن سَماعہ بیان کرتے ہیں : امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ متوفی150؁ھ نے فرمایا:

’’إذَا عَالَجَ الرَّجُلُ جَارِيَتَهٗ فِيْمَا دُوْنَ الْفَرْجِ، فَاَنْزَلَ فَاَخَذَتِ الْجَارِيَةُ مَاءَهٗ فِي شَيْءٍ فَاسْتَدْخَلَتْهُ فِيْ فَرْجِهَا فِي حِدْثَانِ ذٰلِكَ فَعَلِقَتِ الْجَارِيَةُ وَوَلَدَتْ فَالْوَلَدُ وَلَدُهٗ وَالْجَارِيَةُ أُمُّ وَلَدٍ لَهٗ‘‘۔

ترجمہ:’’کسی شخص نے اپنی باندی کے ساتھ شرمگاہ کے علاوہ صحبت کی(یعنی بوس وکنار کیا) اور اُسے انزال ہوگیا ،پھر باندی نے اُس کے مادّہ مَنویّہ کو کسی چیز میں لیکر اپنی شرمگاہ میں داخل کرلیا اور اس سے وہ حاملہ ہوگئی اور اس نے بچہ جنا ،تو بچہ اس کے مالک کا ہوگا اور وہ اُمِّ وَلَد قرار پائے گی ‘‘۔

(المحیط البرہانی ،ج:9،ص:404،البحر الرائق،ج:4،ص:292،رَدُّالْمُحْتَار عَلَی الدُّرِّالْمُخْتَار،ج3ص528)

علامہ ابن ہمام حنفی متوفی861؁ھ لکھتے ہیں:

’’وَمَا قِيْلَ : لَا يَلْزَمُ مِنْ ثُبُوتِ النَّسَبِ مِنْهُ وَطْؤ ُهٗ لِاَنَّ الْحَبَلَ قَدْ يَكُوْنُ بِإِدْخَالِ الْمَاءِ الْفَرْجَ دُوْنَ جِمَاعٍ فَنَادِرٌ‘‘۔

ترجمہ:’’اور یہ جو کہا گیا ہے کہ کسی شخص سے ثبوتِ نسب سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس نے جماع بھی کیا ہو ،کیونکہ بغیر جماع کے بھی عورت کے فرج میں نطفہ پہنچانے سے عورت حاملہ ہوجاتی ہے ،تو ایسی صورت نادرالوقوع ہے،(فتح القدیر،ج:4،ص:350)‘‘۔

آپ نےاجرت کے عوض یا رضاکارانہ اپنا رحم پیش کرنے والی ماں کے حوالے سے پوچھا ہے:’’آج کے دور میں یہ مسئلہ آیا ہے کہ اگر ایک خاتون اپنے رحم میں جسمانی نقص کے سبب ماں نہیں بن سکتی تو آیا دوسری خاتون کو کرائے پر حاصل کر کے اس سے بچہ پیدا کرایا جاسکتا ہے ، اس حوالے سے شریعت کی روشنی میں آپ کا موقف کیا ہے ، دوسرا یہ کہ خاتون کسی جسمانی نقص میں مبتلا نہیں ہے ، لیکن وہ بچہ پیدا کرنے کی زحمت اٹھانے کے لیے آمادہ نہیں ہے اور زوجین باہمی اتفاقِ رائے سے دوسری خاتون کی خدمات حاصل کر کے بچہ پیدا کرواتے ہیں، کیا شریعت کی رو سے یہ جائز ہے ‘‘۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عمل ناجائز اور حرام ہے،چنانچہ ڈاکٹر وہبہ زحیلی لکھتے ہیں:

’’اَلتَّلْقِيْحُ الصَّنَاعِي: هُوَ اِسْتِدْخَالُ الْمَنِيِّ لِرَحِمِ الْمَرْأَةِ بِدُوْنِ جِمَاعٍ. ،فَإِنْ كَانَ بِمَاءِ الرَّجُلِ لِزَوْجَتِهٖ، جَازَ شَرْعًا، إِذْ لَا مَحْذُوْرَ فِيْهِ، بَلْ قَدْ يَنْدُبُ إِذَا كانَ هُنَاكَ مَا نِعٌ شَرْعِيٌّ مِنَ الْاِتِّصَالِ الْجِنْسِيِّ،وَأَمَّا إِنْ كَانَ بِمَآءِ رَجُلٍ أَجْنَبِيٍّ عَنِ الْمَرْأةِ، لَا زِوَاجَ بَيْنَهُمَا، فَهُوَ حَرَامٌ، لاَِنَّهٗ بِمَعْنَى الزِّنَا الَّذِيْ هُوَ إِلْقَاءُ مَآءِ رَجُلٍ فِي رَحِمِ امْرَأَةٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا زَوْجِيَّةٌ،. وَيُعَدَّ هٰذَا الْعَمَلُ أَيْضًا مُنَافِيًا لِلْمُسْتَوَى الْإنْسَانِیِّ‘‘۔

ترجمہ:’’مصنوعی عملِ تولید یعنی صحبت کےبغیر مادۂ مَنویّہ کو عورت کے رحم میں داخل کرنا ،پس اگر یہ عمل حقیقی شوہراپنی بیوی کےلیے اپنے مادّہ مَنویّہ کے ساتھ کرتا ہےتوشرعاً جائز ہے ،بلکہ بعض اوقات جب بیوی سے صحبت کرنے میں کوئی شرعی مانع پایاجاتا ہوایسا کرنا مستحب ہے۔لیکن اگر یہ عمل کسی ایسےشخص کے مادۂ منویہ کے ذریعےکیاجائےجو عورت کے لیے اجنبی ہواور ان کے درمیان ازدواجی رشتہ نہ ہو،تو ایسا کرنا حرام ہے،اس لیے کہ یہ معنًا(نہ کہ حقیقتًا)زنا ہے، کیونکہ عورت کے رحم میں ایسے شخص کا نطفہ پہنچایا جاتا ہے کہ ان دونوں درمیان زوجیت کا رشتہ نہیں ہوتا اور یہ عمل انسانی اَقدار کے بھی خلاف ہے،(اَلْفِقْہُ الْاِسْلَامِیْ وَاَدِلَّتُہٗ ،ج:4،ص:2649) ‘‘۔

علامہ غلام رسول سعیدی نے اس مسئلے کی تحقیق کے لیے کہ ’’بچہ صاحبِ فراش کا ہے ‘‘، امام سرخسی کا حوالہ دیا ہے، اس بحث کے بارے میں برسٹل (برطانیہ )سے مولانا قاری عبدالمجید شرقپوری لکھتے ہیں:

’’ٹیسٹ ٹیوب بے بیپر بھی حضرت علامہ نے بہت مبسوط بحث کی ہے، میں نے جب اس کا مطالعہ کیا تو بہت محظوظ ہوا، چند دنوں کے بعد میں ایک بین المذاہب مکالمے میں شریک ہوا ،اس مکالمے میں ایک درجن کے قریب انگریز سکالر بھی تھے۔ میں نے اس مجلس میںاسلام کی حقانیت پر چند باتیں پیش کیں، میں نے کہا: ’’رسول اللہﷺ کا ماضی اور مستقبل کی خبریں دینا تو الگ رہا، میں تم کو ان کے ایک غلام کی کرامت بیان کرتا ہوں، علامہ شمس الدین سرخسی متوفّٰی 483ھ نے لکھا ہے:

’’جس شخص کا آلہ تناسل کٹا ہوا ہواوروہ جماع نہیں کر سکتا، ایسے شوہر کا نطفہ اگر جماع کے بغیر کسی اور ذریعے سے عورت کے رحم میں پہنچادیا جائے اور بچہ پیدا ہو جائے ،تو اُس بچے کا نسب اس عورت کے شوہر سے ثابت ہو گا ،(شرح صحیح مسلم ،ج:3،ص:938)‘‘۔

میں نے کہا: میڈیکل سائنس کو آج معلوم ہوا کہ بغیر جماع کے بچہ پیدا ہو سکتا ہے اور ہمارے فقہاء نے ایک ہزار سال پہلے یہ مسئلہ بتا دیا تھا۔ جب انہوں نے یہ تقریر سنی تو ان میں سے دو انگریزوں نے اسلام قبول کر لیا، میںنے ایک کا نام محمد سلیم اور دوسرے کا نام محمد عابد رکھا، اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ دونوں نماز اوردینی مسائل سیکھ رہے ہیں۔

علامہ سرَخسِی کی جس عبارت کا حوالہ سن کر دو انگریز سکالر مسلمان ہو گئے، وہ تقریباً ایک ہزار سال سے مبسوط میں چھپ رہی ہے، لیکن اس عبارت کومنظر عام پر لانے اور اس کو ٹیسٹ ٹیوب بے بی پر منطبق کرنے اور اسلامی فقہ کی ہمہ گیری اور آفاقیت کو اُجاگر کرنے کا سہراعلامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ تعالیٰ ’’ شارِح صحیح مسلم‘‘ کے سر ہے،(شرح صحیح مسلم ،ج:1،ص:65-66)‘‘۔

اس سلسلے میں گزارش ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح کا مقصدافزائشِ نسلِ انسانی کو قرار دیا ہے ،چنانچہ احادیثِ مبارکہ میں ہے:

(۱)’’عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ:: جَآءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّﷺ، فَقَالَ:: إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ، وَإِنَّهَا لَا تَلِدُ، أَفَاَتَزَوَّجُهَا، قَالَ: : لَا، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: :تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ ،فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْاُمَمَ‘‘۔

ترجمہ:’’معقل بن یسار بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اورعرض کی: میں نے ایک خاندانی اور جمال والی عورت پائی ہے ، لیکن وہ بچہ جننے کی صلاحیت نہیں رکھتی، کیا میں اُس سے نکاح کرلوں، آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، پھر اس نے دوبارہ آکر یہی سوال کیا ،آپ نے اُسے پھر منع فرمایا، پھر سہ بارہ آکر اس نے یہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایسی عورت سے شادی کرو جو زیادہ محبت کرنے والی اوربچے زیادہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ہو، کیونکہ میں تمہاری کثرت کے سبب دوسری امتوں پر فخر کا اظہار کروں گا، (سنن ابودائود:2050)‘‘۔

(۲)’’عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ ﷺقَالَ::اَنْكِحُوْا أُمَّهَاتِ الْاَوْلَادِ، فَإِنِّي أُبَاهِيْ بِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‘‘۔

ترجمہ:’’عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بچہ پیداکرنے کی صلاحیت رکھنے والی عورتوں سے نکاح کرو، کیونکہ میں ان کے سبب قیامت کے دن (دوسری امتوں پر) فخر کا اظہار کروں گا، (مسند احمد: 6598)‘‘۔

آپ ﷺ کا فرمان ایک ترجیحی امر ہے ، ایسا ضروری نہیں ہے ، آپ ﷺ کی کئی ازواجِ مطہرات سے بچے پیدا نہیں ہوئے، لیکن اس کے باوجود آپ نے ان کو طلاق نہیں دی ، ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی واحد کنواری بیوی تھیں اوران سے آپ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی ،لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ ان سے محبت فرماتے تھے اوران کا لقب ’’حَبِیْبَۃُ الرَّسُوْل‘‘(محبوبۂ رسول)تھا۔

جہاں تک اولاد کاتعلق ہے تو ایک مسلمان کو اس بات پر پختہ یقین رکھناچاہیے کہ اولادعطا کرنے والی اور اس سے محروم رکھنے والی ذاتِ مقدّسہ اللہ تعالیٰ کی ہے،اگر شادی کے بعد کچھ سالوں تک اولاد نہ ہو تو مایوس ہونےاور ناجائز ذرائع واسباب اختیار کرنے کے بجائے رجوع الی اللہ اور صبر و توکل سے کام لینا چاہیےاور اس مقصد کےلیےجائز اسباب اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں ہے۔علاج کی ضرورت ہو تو جائز طریقوں سے علاج بھی کرنا چاہیے ،تمام اسباب اختیار کرنے کے باوجود اگر اولاد نہ ہو توتولید وتناسل کی صلاحیت کی طرح بانجھ پن بھی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی طرف سے ہے، اللہ پاک جسے چاہے اپنی حکمت کے تحت بانجھ کردیتا ہے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ترجمہ:’’ آسمانوں اور زمینوں میںحکومت اللہ ہی کی ہے ،وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے ،جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے (صرف)بیٹے عطا کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں(دونوں )عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے ،بیشک وہ بےحد علم والا بہت قدرت والا ہے،(الشوریٰ:49-50)‘‘۔لیکن بانجھ پن کی صورت میں خلافِ شرع طریقے اختیار کرنا جائز نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ترجمہ:’’(وہ مومن کامیاب ہوگئے) جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، ماسوا اپنی بیویوں کے یا وہ جو اُن کی مِلک میں ہیں، یقیناً وہ ملامت زدہ نہیں ہیں ،پس جو کوئی ان کے علاوہ (اپنی خواہش کی تکمیل )چاہے گا، تو وہی لوگ(اللہ کی حدود سے) تجاوز کرنے والے ہیں، (المؤمنون:5-7)‘‘۔

یہ اللہ کی طرف سے آزمائش بھی ہوسکتی ہے، ایک مومن کی شان یہ ہونی چاہیے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو مقدم رکھے، شوہر اگر بیوی کے بے اولاد ہونے کی وجہ سے اولاد کا خواہش مند ہے ، تو شریعت نے اس کے لیے دوسرے نکاح کی گنجائش رکھی ہے اور اگر بیوی لاوَلد ہے اور اولاد کی خواہش مند ہے ، تو اپنے کسی عزیز کے ایسے بچے کو ، جس کا اس کے ساتھ مَحرم کا رشتہ ہو، گود لے سکتی ہے ، لیکن گود لینے سے وہ اس کا یا اس کے شوہر کا وارث نہیں بنے گا، اس کا نسب بھی اس کے حقیقی باپ کی طرف منسوب ہوگااور سب سے بڑی بات قناعت اور تقدیرِ الٰہی پر راضی رہنا ہے ، اس کے لیے خلافِ شرع طریقے اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اسے اُس درجے کی شرعی ضرورت قرار نہیں دے سکتے، جس کی بابت یہ فقہی اصول بیان کیا گیا ہے :’’اَلضَّرُوْرَاتُ تُبِیْحُ الْمَحظُوْرَات‘‘ اور ’’اَلضَّرُوْرَاتُ تُقَدَّرُ بِقَدْرِھَا‘‘، یعنی’’ ضرورتیں ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں اور ضرورت کو اُس کی حد کے اندر رکھا جائے‘‘، اُسے عام معمول نہ بنایا جائے۔جاوید غامدی صاحب بہت سے معاملات میں تقریباً اباحتِ کُلّی کے قائل ہیں ، فقہ اور اصولِ فقہ تو دور کی بات ہے ،وہ احادیثِ مبارکہ کی قید سے آزاد ہوکر قرآن کو سمجھنا اور بیان کرنا چاہتے ہیں ،ہم اپنی بشری استطاعت کی حد تک اُصولِ شرعِ مُطَہِّر کے پابند ہیں۔