سلفی کون ، سلفی کا معنیٰ و مفہوم اور موجودہ غیرمقلدین

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارٸینِ کرام : لغت میں سلفی کے معنی سلف کے مادہ سے گزشتہ کے معنی میں ہے ۔

علامہ ابن منظور رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : سلف، یسلف، سلفا و سلوفا یعنی سبقت لینا ۔ و سلفہ : یعنی سبقت لینی والی جماعت ۔ (لسان العرب جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 330 و 331۔چشتی)

سلف ، تقدم اور سبقت پر دلالت کرتا ہے ، پس سلف وہ ہیں جوگذشتہ لوگ ہیں ۔ (معجم مقاییس اللغة ، مادہ سلف)

سلف، یسلف، سلفا (مضی) کے معنی میں ہے یعنی گذر گیا۔ سلف الرجل یعنی انسان کے گذشتہ اجداد ۔ (صحاح اللغة ، مادہ سلف)

ان تمام عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ لغت میں سلف کے معنی تقدم زمانی کے ہیں ، لہٰذا ہر زمانہ آئندہ زمانہ کے اعتبار سے سلف اور گذشتہ زمانہ کے اعتبار سے خلف ہے ۔ (السلفیة مرحلة زمانیہ صفحہ نمبر 9،چشتی)

سلفی کا مطلب ہے اپنے اکابر کےنقش قدم پر چلنے والا

فیروز اللغات صفحہ نمبر 507 مطبوعہ دہلی میں ہے سلفی یعنی سلف سے منسوب سلف یہ خلف کی ضد ہے یعنی اگلے لوگ آباؤ اجداد ۔

القاموس الجدید میں ہے : سلف گذشتہ مقدم ۔ (القاموس الجدید صفحہ نمبر 426)

لفظ سلفی سے بھی یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ شاید یہ لفظ غیر مقلد کے مترادف ہے ہم نے باحوالہ یہ عرض کیا ہے کہ حافظ ابو عمرو رحمۃ اللہ علیہ ابن الصلاح رحمۃ اللہ علیہ شافعی تھے اور باوجود مقلد ہونے کے وہ سلفی تھے چناچہ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : وکان ابن الصلاح سلفیا ۔ (تذکرہ جلد 4 صفحہ 215۔چشتی)

اس لیئے غیر مقلدین حضرات کو لفظ سلفی سے غلط فہمی ہوئی ہو تو وہ بھی رفع ہوجانی چاہئے باقی اہلحدیث اصحاب الحدیث اصحاب الاثر المحدث الحافظ المجتہد اور السلفیوغیرہ کے الفاظ سے کسی کو غیر مقلد سمجھا بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔

سلفی کی اصطلاح

تاریخ اسلام میں سلفی وہ لوگ ہیں جو ان مسائل میں جن میں قرآن و حدیث کی صریح راہنمائی نہ ملے سلف صالحین علیہم الرّحمہ کی پیروی کریں اور ان کی دلیل کے درپئے نہ ہوں ان حدود میں سلف کی بلادلیل پیروی سے ہی انسان سلفی بنتا (کہلاتا) ہے اور اسلاف کی بلادلیل پیروی کو ناجائز جاننے والا سلفی نہیں غیر مقلد کہلائے گا اس پہلو سے سلفی اور غیر مقلد دو متوازن اصطلاحیں ہیں نہ کسی پہلے دور میں سلفی غیر مقلدین تھے اور نہ اب انہیں سلفی کہا جاسکتا ہے یہ غیر مقلد علماء کا سعودی عرب کے مقلد علماء سے آشیرباد حاصل کرنے کا ایک لفظی فریب ہے جس پر پردہ ڈالا گیا ہے سو ضروری ہے کہ یہاں کے عام مسلمان سعودی حکومت اور ان کے علماء کو یہاں (پاک و ہند) کے اہل حدیث باصطلاح جدید کہلوانے والے گروہ کے آئینے میں نہ دیکھیں سعودی عرب کے علماء مع محمد بن عبدالوھاب نجدی مقلدین میں سے ہیں اور وہ چاروں اماموں علیہم الرّحمہ میں سے کسی کی تقلید پر انکار نہیں کرتے نہ اسے حرام اور شرک سمجھتے ہیں نہ اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔(چشتی)

حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کو یہ پتہ ہی نہیں کہ سلفی کسے کہتے ہیں اور اس حقیقت کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ غیر مقلدین کو تاریخ میں کبھی سلفی نہیں کہا گیا نہ یہ سلف کے دور میں کبھی تھے یہ لوگ ابھی ابھی سلفی کہلوانے لگے ہیں پھر درایتہ بھی ان لوگوں کی بیان کردہ سلفی تشریح لائق قبول نہیں کہ یہ قرآن و سنت کو سلف صالحین کی طرح ماننے والوں کا نام ہے یہ اس لئے کہ سلف صالحین بھی کسی ایک طریقہ پر نہ تھے سلف صالحین میں وہ تمام اختلافات ہی تھے جو آئمہ اربعہ علیہم الرّحمہ کے ہاں واقع ہوئے یہ صحابہ کرام رضی الله عنهم کے فقہی اختلافات ہی تھے جو بعد میں آئمہ علیہم الرّحمہ کے ہاں مدون ( کتابی شکل میں لکھ کر جمع کیا گیا ) اور منضبط (عمل درآمد) ہوبنا شروع ہوئے ائمہ کرام علیہم الرّحمہ نے اختلاف پیدا نہیں کئے انہوں نے اختلافات کو اوپر سے لیا ہے ائمہ علیہم الرّحمہ نے ان ہی کو مرتب اور منضبط کیا ہے ان کوششوں سے بیسوں اختلافات سمٹ کر چار میں محدود ہوکر رہ گئے اب جو شخص ان اختلافات کی بناء پر مسلک اربعہ کو افتراق و انتشار کا مؤجب بتلاتا ہے اور انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بناتا ہے وہ یہ نہیں سوچتا کہ یہ اختلافات تو صحابہ کرام رضی الله عنهم کے درمیان بھی پائے جاتے تھے اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ امت میں افتراق و انتشار کا سبب صحابہ کرام رضی الله عنهم کو قرار دینا شیعہ کے سوا کس کا کام ہوسکتا ہے اصحاب رسول صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کے خلاف شیعوں کی بے حساب کتب ہیں ۔ صرف 25 پچیس کتب غلام حسین نجفی کی ہیں اور اس میں خرافات ہیں اس سے الله کی پناہ آمین کیا اس طرح غیر مقلدین چھوٹے شیعہ نہیں اس عہد ( دور ) کے غیر مقلدین کو سلفی کہنا سلف کی اس تاریخ سے ایک کھلا مذاق ہے ۔(چشتی)

امام عبدالرؤف مناوی رحمۃ الله علیہ لکھتے ہیں : سلف صحابہ کرام رضی الله عنهم اور تابعین کرام اور تبع تابعین کرام ععلیہم الرّحمہ اللہ عز و جل ان سب سے راضی ہوا ان کے مذاہب بہت تھے انہیں گنا نہیں جاسکتا اور ایسے اجتہادات ہیں جو اجتہادی شرطوں کو پورا کرتے ہیں ان کو الله تعالی کی طرف سے مدد ملی اور کسی کو ان میں سے کسی پر طعن کرنے کا حق نہیں ہے خلاصۃ التحقیق اب آپ ہی سوچیں ان میں سے کس کے طریقے کو سلفی کہا جائے اور کس کو غیر سلفی حق یہ ہے کہ یہ سب اسلاف تھے اور ان میں سے ہر ایک کا مذہب سلفی طریق شمار ہوگا ۔

جب نام نہاد اہلحدیث فرقہ جس کو غیر مقلد بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ وہ فرقہ ہے جس کی صفات میں جہالت بغض اسلاف تکبر اور نفس پرستی انتہا درجے کی پائ جاتی ہیں ۔ مجتھدین اسلام اور ان کے پیروکاروں کو یہ اہل الحدیث نہیں مانتے ، مگر مجتھدین اور ان کے پیروکاروں کے بغیر یہ کسی ایک حدیث کے اہل بھی ثابت نہیں ہوتے ، یہ خود کو اہلحدیث کہتے ہیں جو کہ بالکل خلاف واقعہ بات ہے ۔ یہ کبھی خود کو سلفی کہتے ہیں کبھی اثری ، مگر اسلاف اور آثار کے شدید مخالف ہیں ۔ جب ان کو غیر مقلد کہا جاتا ہے تو بعض چڑجاتے ہیں اور بعض یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ غیر مقلد ہونا ان کیلئے قابل فخر بات ہے اور یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں سیدنا امام الاعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ غیر مقلد تھے ۔

جوابا عرض ہے : قرآن و حدیث میں لفظ مولا آیا ہے اس لفظ کے مختلف معانی ہیں

اور ہر جگہ استعمال کی مناسبت سے اس کا معنی لیا جاتا ہے : مالک.. کارساز … سردار …. حامی .. دوست … غلام..آقا .. لفظ مولا کے معنی ہیں ۔ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کیلئے استعمال ہو تو مراد مالک رب کارساز ہے ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کیلئے استعمال ہو تو مراد سردار اور آقا ہے ۔ جب کسی غلام کیلئے استعمال ہو تو اسی لفظ مولا کا معنی غلام ہے اور اسی غلام کے آقا کیلئے یہ لفظ آقا کا معنی بھی دیتا ہے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حدیث کہ جس کا میں مولا ہوں علی (رضی اللہ عنہ) بھی اس کا مولا ہے یہاں مراد دوست و محبوب رکھنا ہے ، شیعہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں کو مالک و کارساز و مختار کل کے معنی میں مولا کہتا ہے یقیناً یہ معنی غلظ ہیں ۔ اسی طرح جب لفظ غیر مقلد امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ یا ان کے پائے کے عالم کیلئے کہا جائے تو ان کے علم اور شان کے لائق معنی یہ ہونگے کہ یہ لوگ نہایت درجہ کے اہلِ علم ہیں ان کو قرآن و سنت پر اتنا عبور ہے کہ جب باقی علماء دلائل میں فیصلہ نہ کر پائیں اور مشکل میں پھنس جائیں تو ان لوگوں کی طرف رجوع کرتے ہیں جیسا کہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ : فقہاء ہی حدیث کے معانی کو سب سے زیادہ جانتے ہیں ۔ تو ایسے مجتھدین کیلئے لفظ غیر مقلد کا استعمال ان کی کبار اہل علم ہونے کی دلیل ہے کہ وہ سب سے بڑے ماہر امام ہیں امت میں سے کسی کی پیروی کرنے کی ان کو ضرورت نہیں اور جب یہی لفظ ایسے لوگوں کیلئے استعمال ہو جو نہ خود اہل ہیں نہ کسی اہل کی بات مانتے ہیں تو مطلب ہوتا ہے جاھلوں کا ٹولا جو نہ خود علم میں ماہر نہ ماہر کی مانتا ہو اس کیلئے جب لفظ غیر مقلد استعمال ہو تو مطلب ہوتا ہے جاہل ۔ امید ہے کہ آئندہ اصطلاح میں لفظ غیر مقلد دیکھ کر نا اہل لوگ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی برابری کا خواب دیکھتے ہوئے شرمائیں گے بشرطیکہ اُن میں شرم حیا کی کوئی رمق باقی ہو ۔

آج کل سلفیت سے علم کلام کی سلفیت مراد نہیں لی جاتی ، بلکہ ظاہریت (عدم تقلید) مراد لی جاتی ہے ، یہ عجیب دھوکہ ہے ، فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی نے دوہزار پانچ (2005) میں حج کے دوران مکہ مکرمہ میں مچھلی کا پکا ہوا ڈبہ خریدا ، اس پر لیبل لگا ہوا تھا (مذبوح علی طریقة الاسلام) اسلامی طریقے پر ذبح کیا ہوا ۔ میں نے دوکاندار سے پوچھا یہ کیا ؟ اس نے جواب دیا کسٹم کے آفیسر جاہل ہوتے ہیں ، وہ اس لیبل کے بغیر گوشت کا کوئی آئیٹم ملک میں نہیں آنے دیتے ، اس لئے یہ لیبل لگایا ہے ۔ خواہ یہ وجہ ہو یا کوئی اور وجہ بہرحال یہ لیبل ایک دھوکہ ہے ، اسی طرح غیرمقلدین نے اپنی ظاہریت پر سلفیت کا لیبل لگایا ہے ، اور اپنا کھوٹا مال چلایا ہے ، اس لیئے تمام مسلمانوں کو ہوشیار رہنا چاہئے ، اور اِن نام نہاد سلفیوں یعنی غیرمقلد وہابیوں کے فریب میں نہیں آنا چاہئے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)