تفسیر و ترجمہ قرآن کے لئے شرائط اجہل مرزا جہلمی کی ہفوات کا جواب

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارٸینِ کرام : اجہل پلیمبر محمد علی مرزا سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کر رہا یہ فتنہ پھیلاتے ہوئے کہتا ہے ہر شخص ترجمہ و تفسیر قرآن کر سکتا ہے آئیے اس جاہل کی جہالت کا مکمل مدللّ جواب پڑھتے ہیں :

امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ (م911ھ/1505ء) مفسر قرآن کے لئے مندرجہ ذیل شرائط ضروری قرار دیتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ مفسر قرآن کم از کم درج ذیل علوم پر ضروری دسترس رکھتا ہو :

’علم اللغۃ، علم نحو، علم صرف، علم اشتقاق، علم معانی، علم بیان، علم بدیع، علم قرأت، علم اصول دین، علم اصول فقہ، علم اسباب نزول، علم قصص القرآن، علم الحدیث، علم ناسخ و منسوخ، علم محاورات عرب، علم التاریخ اور علم اللدنی ۔ (الا تقان فی علوم القرآن جلد 2 ص: 180 سہیل اکیڈمی 1980ء۔چشتی)

مندرجہ بالا شرائط کے ساتھ ساتھ مفسر کو بہت زیادہ وسیع النظر ، صاحب بصیرت ہونا چاہیے کیونکہ ذرا سی کوتاہی تفسیر کو تفسیر باالرائے بنا دے گی جس کا ٹھکانہ پھر جہنم ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے ۔

(ومن قال فی القران برایئہِ فلیتبوأ مقعدہ من النار )جامع ترمذی جلد 2 حدیث 861)

اور جو قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرے اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے ۔

علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی قائم کردہ شرائط کی روشنی میں مترجم قرآن کی ذمہ داری مفسر قرآن سے بھی زیادہ سخت نظر آتی ہیں کیونکہ تفسیر میں مفسر ایک لفظ کی شرح میں ایک صفحہ بھی لکھ سکتا ہے مگر ترجمہ قرآن کرتے وقت عربی لفظ کا ترجمہ ایک ہی لفظ سے کرنا ہوتا ہے اس لئے مترجم قرآن کا کسی بھی زبان میں ترجمہ منشا الٰہی کے مطابق یا منشائے الٰہی کے قریب قریب کرنا مشکل ترین کام ہے۔ البتہ تمام شرائط کے ساتھ ترجمہ قرآن اس وقت ممکن ہے کہ جب مترجم قرآن تمام عربی تفاسیر ، کتب احادیث ، تاریخ، فقہ اور دیگر علوم و فنون پر دسترس کے ساتھ ساتھ عربی زبان و ادب پر مکمل عبور رکھتا ہو اور وہ ایک عبقری شخصیت کا حامل ہو ساتھ ہی مترجم قرآن کتاب اللہ کو عربی زبان میں سمجھنے کی حد درجہ صلاحیت رکھتا ہو تب ہی ترجمہ قرآن منشائے الٰہی اور فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب تر ہو گا ۔

علماء کرام نے ان شرائط کے متعلق طویل ابحاث فرمائی جو ان کی ہم پر مہربانی اور احسان ہے ۔میں چاہتا ہوں کہ ان کے ذکر کردہ اقوال اور نقول میں سے ایسے منتخب نکات بیان کروں جو ان تمام منقول اقوال کے ہار کا ہیرا اور پروئے ہوئے موتیوں میں سے قیمتی موتی ہو۔ امید ہے کہ یہ نکات آنکھوں کے لئے بصیرت افروز اور قلوب کے لئے شفا کا سامان مہیا کریں گے اور حقیقی توفیق اور مدد دینے والا تو خدائے واحد ہی ہے۔ امام سیوطی فرماتے ہیں کہ: اس بات میں علماء کرام کی دو آراء ہیں کہ آیا ہر شخص کے لئے قرآن کریم میں غور وفکر جائز ہے یا نہیں؟ ایک جماعت توکہتی ہے کہ کسی شخص کو قرآن کریم کی کسی آیت وجزء کی تفسیر کرنا روا نہیں ،چاہے وہ بڑا ادیب اور ادلہٴ شرعیہ ‘ علم فقہ‘ علم نحو‘ علم اخبار وآثار میں خوب رسوخ رکھتا ہو ،سوائے اس کے کہ وہ تفسیر بیان کرے جو نبی اکرم ا سے مروی ہو۔ اور دوسری جماعت کا کہنا ہے کہ قرآن کریم کی تفسیر کرنا ہر اس شخص کے لئے جائز ہے جو ان پندرہ علوم میں کامل رسوخ رکھتا ہو،جن کی مفسر کو احتیاج ہوا کرتی ہے ،وہ پندرہ علوم یہ ہیں:

۱- علم لغت‘ ۲- علم نحو‘ ۳- علم صرف‘ ۴- علم اشتقاق‘ ۵- علم معانی‘ ۶- علم بیان‘ ۷- علم بدیع‘ ۸- علم قرأت‘ ۹-علم فقہ ۱۰- علم اسباب نزول‘ ۱۱- علم قصص‘ ۱۲- علم اصول فقہ ۱۳- علم اصول دین (علم کلام) ۱۴- علم ناسخ ومنسوخ‘ ۱۵-علم توضیح مجمل ومبہم

اوران سب سے بڑھ کر وہبی علم جو اللہ رب العزت عاملین علماء کو الہام والقاء کے ذریعے مرحمت فرماتے ہیں، جس کی جانب حدیث نبوی امیں اشارہ بھی وارد ہوا ہے کہ : من عمل بما علم یورثہ اللّٰہ علم ما لم یعلم ۔

ترجمہ : جو شخص اپنے علم پر عمل کرے ،اللہ تعالیٰ ان چیزوں کا علم اسے مرحمت فرماویں گے جن کو وہ نہیں جانتا۔

امام سیوطی نے ان علوم کے احتیاج کی وجوہات بھی بیان فرمائی ہیں، لیکن یہ وجوہات چونکہ ہر سطحی فکر اور عربی زبان سے واقفیت رکھنے والا شخص بھی سمجھ سکتا ہے، اس لئے ان وجوہات کے بیان کرنے سے گریز کیا جاتاہے۔ امام سیوطی نے ابن ابی الدنیا سے نقل فرمایا ہے کہ: مندرجہ بالا پندرہ علوم مفسر کے لئے تفسیر میں ہتھیار کی مانند ہیں اور ان کو حاصل کئے بغیر کوئی شخص مفسر بن ہی نہیں سکتا، چنانچہ جو شخص ان علوم پر کامل دسترس حاصل کئے بغیر تفسیر کرتا ہے ،وہ تفسیر بالرأی کا ارتکاب کرنے والا ہوگا، جس سے احادیث مبارکہ میں ممانعت وارد ہوئی ہے ،اس کے مقابلے میں ان علوم میں رسوخ رکھنے والا تفسیر بالرأی کا مرتکب نہ ٹھہرے گا ،جو حدیث میں ممنوع قرار دی گئی ہے ۔ ان دونوں فریق میں تطبیق اور پہلے قول کو دوسرے قول کے مانند ٹھہراکر ان میں جمع کرنا چنداں مشکل نہیں ،کیونکہ جوتفسیر صحیح سند سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم سے ثابت ہو اور اسی طرح کی کوئی اور حدیث اس کے معارض ومقابل نہ ہو تو وہ تفسیر ہر دو فریق کے نزدیک متعین ومقرر ہوگی اور اگر کوئی تفسیر صحیح سند سے ثابت نہ ہو اور وہ مقام تفسیر وتوضیح کا محتاج ہو اور وہ متشابہات میں سے بھی نہ ہو (جن پر اجمالی ایمان تو ضروری ہوا کرتا ہے، لیکن اس کی حقیقت اورتفصیل اللہ جل شانہ کے سپر د کردی جاتی ہے) اور نہ ہی ایسا مشکل ومبہم ہو کہ گومتشابہات میں سے نہ ہو ، لیکن متشابہات کے مانند ہوگیا ہو (کہ غور وفکر سے اس کے معنی واضح نہ ہو سکتے ہوں) بلکہ اہل علم ہی اس کے صحیح معنی ومفہوم تک رسائی حاصل کر سکتے ہوں اور اہل زبان اس کے درست مصداق کو سمجھتے ہوں، تب اس جگہ کوئی کلام کرنا ایسے عالم کے لیے جائزہو گا جو مذکورہ بالا پندرہ علوم میں کامل رسوخ اور مہارت تامہ رکھتا ہو ۔ اس لئے کہ اللہ رب العزت کی یہ مقدس کتاب جو لوگوں کے لیے نصیحت اور ان تمام امراض کے لئے جو سینوں میں چھپے ہیں،شفا کا پیام ہے وہ کیونکر آسمان وزمین کے مابین یوں معلق رہ سکتی ہے کہ اس کا معنی کسی کو سمجھ نہ آئے ؟ حالانکہ باری تعالیٰ کا خود فرمانِ عالی شان ہے : لعلمہ اللّٰہ الذین یستنبطونہ منہم ۔

جب کہ اگر اس مقام پر قول اول سے اس کا سطحی معنی لیا جائے کہ استنباط واستخراج سے کچھ علم حاصل ہو ہی نہیں سکتا ہے تو قرآن کا بیشتر حصہ غیر معلوم ٹھہرے گا ۔بہتر بات یہی ہے کہ ان دونوں اقوال کو ایک مدار میں مرتکز کردیا جاے، اس طرح معاملہ آسان اورلچک دار ہوجائے گا اور ان دونوں فریق کے مابین یہ اختلاف پاٹنے میں مدد ملے گی۔ مذکورہ جمع وتطبیق کے بیان میں علامہ زرکشی کا یوں فرمانا -واللہ اعلم- میری تائید کرتا نظر آتا ہے کہ قرآن کریم دوحصوں پر مشتمل ہے : ایک حصہ تو وہ ہے جس کی تفسیر نقلاً بیان کی جائے اور دوسرا حصہ وہ ہے جس کی تفسیر کے متعلق نقلی روایات وارد نہیں ہوئیں ، پھر پہلے حصے کی تفسیر یاتو خود آنحضرت ا سے یا صحابہ کرام یا کبار تابعین سے منقول ہوگی، اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلّم سے منقول تفسیر ہو تو اس میں سندکی صحت سے بحث کی جائے گی ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سے منقول تفسیر میں دیکھا جائے گا کہ اگر وہ تفسیر لغوی اعتبار سے بیان کی گئی ہے تو چونکہ وہ اہل زبان تھے، اس لئے اس تفسیر پر اعتماد کیا جائے گا یا وہ تفسیر اسباب وقرائن کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے مشاہدہ کے پیش نظر ہوگی تب بھی اس تفسیر کی قبولیت میں شک نہ ہوگا ۔پھر یہ دیکھا جائے گا کہ اگر صحابہ کرام کی تفاسیر میں بظاہر اختلاف وتعارض واقع ہورہا ہو تو اگر جمع وتطبیق ممکن ہو توجمع وتطبیق کی صورت نکالی جائے گی اور اگر جمع وتطبیق ممکن نہ ہو توحضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر مقدم کی جائے گی، اس لئے کہ نبی اکرم ا نے ان کو صحت تاویل کی خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ : اللّٰہم علّمہ التأویل ۔

اے اللہ! ان کوتاویل قرآنی کا علم مرحمت فرما ۔ امام شافعی فرائض ومیراث کے مسائل میں حضرت زید کے قول کو مقدم فرمایا کرتے تھے ،اس لئے کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے : ”أفرضکم زید“

تم میں میراث کے مسائل کو سب سے زیادہ جاننے والا زید ہے۔ جو تفاسیر تابعین سے منقول ہیں ان پر اعتماد کی وہی صورتیں ہوں گی جو صورتیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی تفاسیر کے متعلق ابھی پچھلی سطور میں ذکر ہوئیں اور اگر ان میں تعارض واقع ہوجائے تو اجتہاد سے کام لیا جائے گا۔ جن مقامات کے متعلق کوئی نقلی روایات وارد نہیں ہوئی وہ بہت ہی کم ہیں، ان مقامات کے درست معانی ومفاہیم تک رسائی کے لئے سب سے پہلے لغت عرب میں مفردات کی چھان بین کی جائے گی اور ان کے مدلولات پر غورو خوض کیا جاوے گا اور سیاق وسباق کے ساتھ ساتھ ان کے دیگر استعمال کی جانچ پڑتال بھی کی جائے گی ،اسی طریقہ اجتہاد کو امام راغب نے اپنی کتاب ”مفردات القرآن“ میں اختیار فرمایاہے۔ یہ تمام کا تمام زرکشی کا بیان علامہ سیوطی نے نقل فرمایا ہے، اسی طرح راقم کی تائید میں امام سیوطی کا ”المدخل“ سے منقول یہ بیان بھی قابل قدر ہے کہ جو تفسیر شارع علیہ السلام سے منقول ہو، اس کے متعلق غور و فکر کی بالکل ضرورت نہیں اور جس تفسیر کا بیان صاحب شرع سے منقول نہیں ہے ،اس میں اہل علم علماء کو غور وخوض کرنے کی گنجائش ہے، تاکہ علماء کرام غیر منقول تفاسیر کو منقول تفاسیر کی روشنی میں استدلال واستنباط اور اجتہاد کو بروئے کار لاکر واضح بیان فرماسکیں ۔

تفسیر بالراۓ سے کیا مراد ہے ؟

”من تکلم فی القرآن برأیہ فأصاب فقد أخطأ“

ترجمہ:” جس نے قرآن کی تفسیر میں اپنی رائے سے کلام کیاتو باوجود صحیح تفسیر کرنے کے اس نے غلطی کی۔

جان لینا چاہئے کہ مذکورہ بالا حدیث میں ممنوعہ تفسیر بالرأی کی تشریح وتوضیح میں علماء کرام کی آراء مختلف ہیں کہ اس تفسیر بالرأی سے نبی کریم ا کی مراد مبارک کیا ہے؟ یہ الفاظ نسائی‘ ابوداؤد اور ترمذی کے ہیں، جبکہ ایک روایت میں ”من قال“ اور ایک دوسری روایت میں ”من فسر القرآن“ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں ۔

”من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوأ مقعدہ من النار“

ترجمہ : جس نے قرآن کی تفسیر میں بغیر علم کے کچھ کہا تووہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔

اسی طرح اس حدیث کے متعلق بھی علماء کرام کا اختلاف ہے کہ اس میں تفسیر بدون علم سے کیا مراد ہے؟ اس حدیث کو امام ابوداؤد نے نقل فرمایا ہے۔ پہلی حدیث کی صحت کے متعلق علماء کرام نے بحث فرمائی ہے اور جب بعض قرائن سے اس کی صحت ثابت ہوئی ،تب علامہ بیہقی نے فرمایا کہ: اس رائے سے مراد -واللہ اعلم- وہ رائے ہے جو بغیر کسی دلیل کے قائم کی جائے ۔ البتہ جو رائے برہان ودلیل سے مؤید ہو ،وہ رائے جائز ہے اور حدیث میں مذکور اس ٹکڑے ”فاصاب فقد اخطأ“ (اگر درست تفسیر بھی بیان کرلے ،تب بھی اس نے غلطی کی) کا مطلب امام سیوطی نے ”المدخل“ سے یوں نقل فرمایا ہے کہ: اگرچہ اس نے تفسیر میں درست تو کہا لیکن اس صحیح رائے زنی کے لئے جو طرز وطریقہ اس نے اختیار کیا، اس میں اس سے خطا ہوئی ،اس لئے کہ صحیح طرز تو یوں تھا کہ سب سے پہلے اس کے الفاظ کی تفسیر کے لئے اہل زبان لوگوں کی طرف رجوع کرتا، پھر اس کے ناسخ و منسوخ اور سبب نزول کے متعلق تأمل وتفحص کرتا اور صحابہ کرام جنہوں نے قرآن کریم کی وحی کے زمانہ کا مشاہدہ کیا ہے اور ہم تک وہ سنن واحادیث نقل فرمائی ہیں جو کلام اللہ کی تفسیر وتشریح میں مددکرتی ہیں، ان کے اقوال واخبار میں جس مقام کی وضاحت مطلوب ہو ،اس کے متعلق غور وفکر کرتا یا پھر اس رائے سے مراد اس شخص کی رائے ہے جو علوم کے اصول وفروع جانے بغیرمحض اپنی اٹکل سے رائے زنی کرے ۔چنانچہ اس کی درست بات سے اگرچہ موافقت بھی ہوجائے گی ،لیکن چونکہ وہ اس درست اور صواب رائے سے ناواقف بھی ہے تو محض اٹکل سے رائے زنی کچھ سود مند اور قابل تعریف نہ ہوئی۔ اور دوسری حدیث کے متعلق علامہ انباری کے بیان کردہ دومعانی میں سے ایک یہ ہے کہ : ”من قال فی القرآن قولاً یعلم ان الحق غیرہ فلیتبوأ مقعدہ من النار“

یعنی جس شخص نے قرآن کی تفسیر وتوضیح میں حق کے خلاف رائے زائی کی، باوجود یکہ حق کو جانتا ہو تو یہ شخص اپنا ٹھکا نہ جہنم بنالے ۔ امام سیوطی نے ”الاتقان“میں لکھا ہے کہ: ابن نقیب حنفی فرماتے ہیں کہ تفسیر بالرأی کے متعلق علماء کرام سے پانچ اقوال منقول ہیں :

۱- جو علوم تفسیر قرآن کے لئے بنیاد اور اساس کی حیثیت رکھتے ہیں ان کو بدوں حاصل کئے تفسیر قرآن بیان کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ علوم تفسیر کے لئے بمنزلہ شرائط کے ہیں اور ان کے حصول اور ان میں رسوخ کے بغیر تفسیر قرآن جائز نہیں ہے ۔

متشابہات کی تفسیر جن کا حقیقی علم صرف خدائے واحد کو ہے۔

مذہب فاسد کے مطابق تفسیر کرنا، بایں طور کہ مذہب کو اصل اور تفسیر کو تابع بنا دیا جائے کہ جس طرح ممکن ہو گو تفسیر ضعیف بھی ہو،اس کو لے کر مذہب فاسد کے موافق کردیا جائے۔

بغیر کسی دلیل کے قطعی طور پر کسی تفسیر کو خدائے قدوس کی مراد ٹھہرادینا۔

اپنی خواہش وہوس کے پیش نظر تفسیر بیان کرنا۔

اس موقع پر قول فیصل وہ ہے جو امام خازن نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے اور علماء فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں اپنی رائے سے تفسیرکرنے کے متعلق جو ممانعت احادیث میں وارد ہوئی ہے، یہ ممانعت اس شخص کے حق میں ہے جو اپنے جی کی مراد اور اپنی من چاہی تاویل وتفسیر بیان کرتاہو ۔ ظاہر ہے کہ یہ شخص علم رکھتا ہوگا یا نہیں ؟ اگر علم رکھتا ہے تو یہ اس شخص کی طرح ہوگا جو قرآن کی بعض آیات کو لے کر اپنی کسی بدعت کے درست اور صواب کے لئے دلیل بناکر پیش کرتا ہے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ آیت کی مرادکچھ اور ہے، لیکن اس کا مقصد یہ ہے کہ اپنی بدعت کی تصحیح کے لئے آیت کے ذریعے اپنی دلیل کو قوی قرار دے کر مخالف فریق کو التباس و پریشانی میں مبتلا کردے،۔جیساکہ فرقہٴ باطنیہ، خوارج اوردیگر گمراہ فرقوں نے اپنے فاسد مقاصد کی تکمیل کے لیے یہ وطیرہ استعمال کیا ،تاکہ لوگوں کو دھوکہ وفریب میں مبتلا کریں ،اور اگر قرآن میں یہ رائے زنی بغیر علم کے محض جہالت سے ہو ،بایں طور کہ آیت بہت سی وجوہ واسباب کا احتمال رکھتی ہو اوروہ شخص قرائن سے صرف نظر کرکے ان وجوہ محتملہ کے علاوہ آیت کی کسی اوروجہ سے تفسیر وتشریح کرے ،یہ دونوں طرز، غلط اور قابل مذمت ہیں۔ اور یہ دونوں اس ممانعت اور وعید میں داخل ہیں جو قرآن میں رائے زنی کرنے کے بارے میں وارد ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں جو طرز تاویل ہے جس کی تفصیل یوں ہے کہ استنباط واجتہاد سے آیت کو اس کے مطابق معنیٰ کی طرف پھر دیا جائے۔ نیز آیت کا سیاق وسباق اس معنیٰ کا احتمال بھی رکھتا ہو۔ اسی طرح یہ معنیٰ قرآن وسنت کے مخالف بھی نہ ہو، اس کے بارے میں علماء کرام نے رخصت دی ہے۔ اس لئے کہ صحابہ کرام نے قرآن کی تفسیر بیان فرمائی اوراپنی تفسیری روایات میں ان کے درمیان اختلاف بھی واقع ہوا ،اور یہ بات بھی نہ تھی کہ تمام صحابہ کرام صرف وہی تفسیر کرتے ہو ں،جو انہوں نے نبی پاک ا سے خود سنی ہو، بلکہ جتنا وہ سمجھتے اور لغوی معنیٰ ومفہوم کو جانتے، اس کے بقدر تفسیر بھی فرمایا کرتے تھے (اور یہی تاویل ہے) اور حضور صلی اللہ علیہ وسلّم نے حضرت ابن عباس کے لئے باقاعدہ یوں دعا فرمائی

”اللّٰہم فقّہہ فی الدین وعلّمہ التأویل“

اسی بناء پر صحابہ کرام میں سب سے زیادہ تفسیری روایات انہی کی منقول ہوئی ہیں۔ اگر کسی شخص کی اپنی رائے کے مطابق بیان کردہ تفسیر سے کوئی متفق ومجمع علیہ مسئلہ متغیر نہ ہوتا ہو، اسی طرح سلف صالحین کے متفقہ عقائد میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوتی ہو تو ایسی تفسیر اس ممنوع تفسیر بالرأی کے ضمن میں شمار نہ ہوگی۔ البتہ اگر کسی متفقہ متواترہ مسئلہ میں تغیر آجائے یا مقررہ عقیدے میں کوئی تبدیلی واقع ہوتی ہو، تب یہ تفسیر ‘ممنوعہ تفسیر بالرأی میں شمار کی جائے گی۔ نیز ایسی رائے زنی کرنے والا جہنم کا مستحق ہوگا ۔ یہ بات کہ تفسیر‘ تفسیر بالرأی کے زمرے میں داخل نہ ہو، اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ مفسرین کرام کے طرز طریق سے خوب واقفیت حاصل نہ کرلی جائے ،تب مفسرین نے اپنی بلند پایہ ذہانت اورصحیح فکر کی روشنی میں جوتفسیر بیان فرمائی، اس کے متعلق کسی قسم کا قلق وتردد نہ ہوگا ، اور جو شخص بھی کتب تفاسیر کا مطالعہ کرے گا ،وہ ان کو مفسرین کی آراء سے لدا ہوا پائے گا اور کون ہے جو علماء کرام کو سیاق وسباق میں تأمل وتدبر کرکے‘ الفاظ ونصوص کے حقائق میں غور وطلب کے ساتھ عقائد سلف صالحین کی رعایت رکھتے ہوئے قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنے سے روکے ، حالانکہ ان علماء کے لئے تو قرآن کریم کا یہی انعام واکرام ہے اور یہ علماء کرام ہی ہیں جو قرآنی عجائبات تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں ، اس کی باریک و پوشیدہ وجوہات سے پردے اٹھاسکتے ہیں اور اس کے حقائق میں چھپے معارف کے خزینوں کو آشکارائے خلائق کرسکتے ہیں۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ تفسیر بالرأی تو علماء کرام کا تحفہ ہے اور محقق مجتہدین کا خاصہ ہے۔ علاوہ ازیں جو شخص معاون اسباب تفسیر کی رہنمائی کے بغیرتفسیر قرآن کرے کہ نہ تو وہ سلف وخلف کے عقائد کے متعلق علم رکھتا ہو،نہ عربی زبان سے اس کو کچھ ذوق ہو، بلکہ بے وقوف اور ناخلف ہو کہ اس کو قرآن کی تفسیر بیان کرنے پر اس کی رسوائی اور قلت علم ،بلکہ جہالت نے برانگیختہ کیا ہوتو ایسے شخص پر سخت افسوس کرنا چاہئے اور ایسا آدمی دوزخ کا بھی مستحق ٹھہرے گا۔

علامہ ثعلبی جزاری نے ”الجواہر الحسان“ میں پہلی حدیث کی شرح وبسط میں اچھی بحث فرمائی ہے ،وہ لکھتے ہیں کہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ ”کسی شخص سے قرآنی آیت کی تفسیر کے متعلق پوچھا جائے اور وہ بے دھڑک اپنی رائے پیش کردے، نہ علماء کرام کے کلام میں غور وخوض کرے ،نہ علوم کے قوانین کے مقتضیات سے واقفیت رکھتا ہو، مثلا: نحو اور اصول سے نابلد ہو، اس حدیث میں یہ بات داخل نہیں جو نحاة نے اپنی نحوی تفسیر اور فقہاء نے فقیہانہ طرز پر قرآن کی تفسیر کے متعلق کلام فرمایا ہے‘ بایں طور کہ ہر فریق اپنے علم وفہم اور قوانین مقررہ کے پیش نظر اپنے اجتہادات سے کی گئی تفسیر قرآن میں کلام کرے ،اس لئے کہ ان باتوں پر دسترس رکھنے والا محض رائے زنی نہیں ،کبار اسلاف جیسے سعید بن مسیب‘ عامر شعبی وغیرہ حضرات گرامی تفسیر قرآن کو قابل عظمت سمجھتے تھے، لیکن تقویٰ واحتیاط برتتے ہوئے تفسیر قرآن بیان کرنے سے توقف فرمایا کرتے تھے ،باوجود اس کے کہ ان کا ادراک بھی بلند پایہ تھا اور فہم وفراست میں بھی وہ اپنے بعد والوں سے سبقت رکھتے تھے ۔رضی اللہ عنہم اجمعین ․ مذکورہ بالا تمام اقوالِ اسلاف صاحب بصیرت شخص کے لئے کافی ہیں ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)