کیا ولایۃ علی کا سوال ہوگا………………؟؟

علی مولا کا معنی و پسِ منظر………….؟؟

سوال:

حضرت اس وڈیو کا مدلل جواب چاہیے

وڈیو میں ایک خطیب کہہ رہا ہے کہ سورہ صافات ایت24 میں ہے کہ انہین روکا جاءے گا اور سوال کیا جاءے گا….پھر کہتا ہے کہ کتاب اہلسنت میں ہے کہ ان سے ولایۃ علی کے متعلق سوال کیا جائے گا.

جواب.و.تحقیق:

القرآن:وقِفُوۡہُمۡ اِنَّہُمۡ مَّسۡئُوۡلُوۡنَ

ترجمہ:انہیں ٹہراو بےشک ان سے سوال کیا جانا ہے

(سورہ صافات آیت24).

کونسا سوال کیا جائے گا،کتب اہلسنت میں کیا لکھا ہے….؟؟

پہلی تفسیر:

سوال ہوگا کہ کس کو کس طرف بلایا،نیکی کی طرف یا برائی کی طرف……؟؟

الحدیث:

«مَا مِنْ دَاعٍ دَعَا إِلَى شَيْءٍ إِلَّا كَانَ مَوْقُوفًا يَوْمَ القِيَامَةِ لَازِمًا لَهُ لَا يُفَارِقُهُ، وَإِنْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلًا» ثُمَّ قَرَأَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ} [الصافات: 25]:

کوئی بھی شخص کسی چیز کی طرف بلائے گا تو قیامت کے دن وہ روکا جائے گا اگرچہ اس نے کسی ایک کو بھی بلایا ہوگا پھر اس سے سوال ہوگا کہ کس کو کس طرف بلایا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ}

[سنن الترمذي ت شاكر ,5/364حدیث3228]

[التاريخ الكبير للبخاري حدیث1778]

[المستدرك على الصحيحين للحاكم ,2/467]

[الدر المنثور في التفسير بالمأثور7/84]

دوسری تفسیر:

سوال ہوگا کہ کس کی عبادت کرتے تھے……..؟؟

وَكَذَلِكَ لِمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللهِ شَيْئًا، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ} [الصافات: 24]حَتَّى يَمُرَّ الْمُسْلِمُونَ فَيَلْقَاهُمْ فَيَقُولُ: مَنْ تَعْبُدُونَ

اور اسی طرح جو شخص اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرتا ہوگا تو اس سے سوال ہوگا حتی کہ مسلمان گزریں گے تو ان سے بھی سوال ہوگا کہ تم کس کی عبادت کرتے تھے پھر سیدناعبداللہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ}

[المعجم الكبير للطبراني ,9/354]

[المستدرك على الصحيحين للحاكم ,4/541]

[استاد بخاری مصنف ابن أبي شيبة ,7/511]

تیسری تفسیر:

اعمال.و.اقوال کے بارے میں سوال ہوگا

عَنْ أنس ” عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ

سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ انہیں روک کر سوال کیا جائے گا اعمال کے متعلق

[التاريخ الكبير للبخاري2/86]

ابن عباس….وَلَكِنْ يَقُولُ: عَمِلْتُمْ كَذَا وَكَذَا

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ان سے اللہ تعالی سوال کرے گا تم نے فلاں فلاں کام کیے؟

[أبو بكر ,شعب الإيمان ,1/433روایت 270]

{إنهم مسؤولون} عن أقوالهم وأفعالهم

ان سے سوال کیا جائے گا ان کے اقوال کے متعلق اور افعال کے متعلق

[تفسير النسفي = مدارك التنزيل وحقائق التأويل ,3/120]

إنَّهُمْ مَسْئُولُونَ} عَنْ جَمِيع أَقْوَالهمْ وَأَفْعَالهمْ

بے شک ان سے سوال کیا جائے گا ان کے تمام اقوال اور تمام افعال کے متعلق

[تفسير الجلالين ,page 589]

وَقَوْلُهُ: {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ} أَيْ: قِفُوهُمْ حَتَّى يُسألوا عَنْ أَعْمَالِهِمْ وَأَقْوَالِهِمُ الَّتِي صَدَرَتْ عَنْهُمْ فِي الدَّارِ الدُّنْيَا كَمَا قَالَ الضَّحَّاكُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:

جیسےکہ سیدنا الضَّحَّاكُ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے مروی کیا ہے کہ انہیں قیامت کے روز انہیں روکا جائے گا یہاں تک کہ ان سے سوال کیا جائے گا ان کے اعمال کے متعلق اور ان کے اقوال کے متعلق کے جو دنیا میں ان سے صادر ہوئے

[تفسير ابن كثير ت سلامة ,7/9]

 چوتھی تفسیر:

چار سوال ہونگے…………!!

وَقِفُوهُمْ {إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ} قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: عَنْ جَمِيعِ أَقْوَالِهِمْ وَأَفْعَالِهِمْ…وَرُوِيَ عَنْهُ عَنْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ… وَفِي الْخَبَرِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعَةِ أَشْيَاءَ: عَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ، وَعَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ، وَعَنْ عِلْمِهِ مَاذَا عَمِلَ بِهِ”

انہیں روکا جائے گا اور ان سے سوال کیا جائے گا سیدنا ابن عباس نے فرمایا کہ ان سے تمام اقوال اور افعال کے متعلق سوال کیا جائے گا اور انھیں سے مروی ہے کہ لا الہ الا اللہ کے بارے میں سوال کیا جائے گا

اور

حدیث پاک میں ہے کہ قیامت کے روز ابن آدم کو روکا جائے گا یہاں تک کہ ان سے #چار چیزوں کے بارے میں سوال ہوگا

جوانی کیسے گزاری۔ ۔اپنی عمر کیسے گزاری۔۔اور مال کے بارے میں سوال ہوگا کہ تم نے کہاں سے حاصل کیا اور کہاں کیسے کتنا خرچ کیا ، علم کے بارے میں سوال ہو گا کہ اس پر کتنا عمل کیا

[تفسير البغوي – طيبة ,7/38]

[التفسير المظهري ,8/113]

إِنَّهُمْ مَسْؤُلُونَ” عن أعمالهم وأقوالهم وأفعالهم، قال الْقُرَظِيُّ وَالْكَلْبِيُّ. الضَّحَّاكُ: عَنْ خَطَايَاهُمْ. ابْنُ عَبَّاسٍ: عَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. وَعَنْهُ أَيْضًا: عَنْ ظُلْمِ الْخَلْقِ…..وَقِيلَ سُؤَالُهُمْ أَنْ يُقَالَ لهم:” لَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ

ان سے سوال ہوگا ان کے اعمال کے متعلق اور اقوال کے متعلق اور افعال کے متعلق اور الْقُرَظِيُّ اور الْكَلْبِيُّ اور الضَّحَّاكُ نے فرمایا کہ ان سے خطاؤں کے بارے میں سوال ہوگا۔۔۔سیدنا ابن عباس نے فرمایا کہ ان سے لاالہ الااللہ کے بارے میں سوال ہوگا۔۔۔اور انہی سے مروی ہے کہ مخلوق پر ظلم کرنے کے متعلق سوال کیا جائے گا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان سے سوال کیا جائے گا کہ کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے

[تفسير القرطبي ,15/74بحذف یسییر]

تفسیر طبری میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ مختلف تفسیریں بیان کرتے ہیں اور پھر اپنی مختار تفسیر کا ذکر کرتے ہیں جبکہ اس موقع پر آپ نے دونوں تفسیروں کو برقرار رکھا لکھتے ہیں

وقال آخرون: بل ذلك للسؤال عن أعمالهم…وقال آخرون: بل معنى ذلك:….إنهم مسئولون عما كانوا يعبدون من دون الله

بعض نے فرمایا کہ ان سے سوال ہوگا اعمال کے متعلق اور بعض دوسروں نے کہا کہ ان سے سوال ہوگا کہ وہ اللہ کے علاوہ کس کی عبادت کرتے تھے

[تفسير الطبري = جامع البيان ت شاكر ,21/30)

 

منگھڑت،مردود تفسیر

اہلسنت کی ایک دو کتب میں جو تفسیر لکھی ہے کہ ولایۃ علی کا سوال ہوگا تو اس کے راوی منکر و مجھول مردود ہیں…لیھذا اس تفسیر کو محققین نے من گھڑت و مردود باطل جھوٹ قرار دیا

وَهَذَا كذب

ولایۃ علی والی تفسیر جھوٹ ہے

(المنتقى من منهاج الاعتدال ص441)

وأتى بمنكر من القول…

قال: {وقفوهم إنهم مسؤولون} عن ولاية علي

اس راوی نے صحیح حدیث و روایت کے خلاف تفسیر بیان کی ہے جو کہ منکر باطل اور مردود ہے وہ یہ ہے کہ انہیں روکا جائے گا اور ولایت علی کے بارے میں سوال کیا جائے گا

(لسان الميزان ت أبي غدة5/510)

شیعہ سنی نجدی سب کا متفقہ اصول ہے کہ

فحديثه منكر مردود

ترجمہ:

اس(غیرثقہ)کی حدیث.و.روایت(بلامتابع بلاتائید ہو تو)منکر و مردود ہے

[شیعہ کتاب رسائل فی درایۃ الحدیث1/185]

[المقنع في علوم الحديث1/188]

 

عید غدیر، حدیث غدیر…………؟؟

علی مولا کا معنی و پس منظر……..؟؟

18ذوالحج کو شیعہ لوگ عید غدیر مناتے ہیں کہتے ہیں کہ اس روز حجۃ الوداع سے واپسی پر “غدیر خم” مقام پے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ” میں جس کا مولا علی اسکا مولی……حضور اکرم کے اس فرمان سے شیعہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ رسول کریم نے حضرت علی کو اس قول کےذریعے اپنا خلیفہ بلافصل بنایا

جواب.و.تحقیق:

عجیب بات ہے کہ حجۃ الوداع جو اس وقت مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع تھا اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلیفہ کسی کو نہ بنایا اور واپسی پر تھوڑی تعداد کے سامنے غدیرخم پر خلیفے کا اعلان کر دیا……؟؟

اگر خلافت کا اعلان رسول کریم نے کرنا ہوتا تو اسکا صحیح و بہترین موقعہ حجۃ الوداع تھا……..غدیرخم مقام پے تو رسول کریم نے ایک تنازع کا حل فرمایا اور فرمایا کہ علی سے ناگواری مت رکھو، اس سے محبت کرو، جسکو میں محبوب ہوں وہ علی سے محبت رکھے

دراصل ہوا یہ تھا کہ مال غنیمت حضرت علی نے تقسیم کی تھی ، تقسیم پر کچھ صحابہ کرام کو ناگوار گذرا انہوں نے غدیرخم مقام پر رسول کریم سے حضرت علی کی شکایت کی….رسول کریم نے پوچھا اے بریدہ کیا تم علی سے(اس تقسیم کی وجہ سے)ناگواری محسوس کرتے ہو…؟ حضرت بریدہ نے فرمایا جی ہاں… رسول کریم نے فرمایا علی سے ناگواری مت رکھ، جتنا حصہ علی نے لیا ہےحق تو اس سے زیادہ حصہ بنتا ہے….بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد میری ناگواری ختم ہوگئ…اس تقسیم وغیرہ کی وجہ سے دیگر صحابہ کرام وغیرہ کو بھی ناگواری گذری ہو تو انکی بھی ناگواری ختم ہو اس لیے رسول کریم نے اعلان فرمایا:

میں جسکا مولا علی اسکا مولا…. یعنی میں جسکو محبوب ہوں وہ علی سے بھی محبت رکھے،ناگواری ختم کردے

(دیکھیے بخاری حدیث4350,

مسند احمد23036,22967

مرقاۃ شرح مشکاۃ11/247

البيهقي في الكبرى 6/342

الصواعق المحرقة 1/109

الاعتقاد للبيهقي ص 498

البداية والنهاية 5/227.)

شیعہ کتب سے بھی یہی پس منظر ثابت ہے

وخرج بريدة الأسلمي فبعثه علي عليه السلام في بعض السبي، فشكاه بريدة إلى رسول الله صلى الله عليه وآله فقال رسول الله صلى الله عليه وآله: من كنت مولاه فعلي مولاه

یعنی

بریدہ اسلمی نے رسول کریم سے حضرت علی کی مال غنیمت کی تقسم کی شکایت تو رسول کریم نے فرمایا میں جسکا مولا و محبوب ہوں علی بھی اس کے مولا و محبوب ہیں)لیھذا ناگواری نہ رکھو، ختم کرو)

(شیعہ کتاب بحار الانوار37/190)

فأصبنا سبيا قال: فكتب إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: أبعث لنا من يخمسه، قال: فبعث إلينا عليا رضي الله عنه وفي السبي وصيفه هي من أفضل السبي قال: وقسم فخرج ورأسه يقطر، فقلنا: يا أبا الحسن ما هذا؟ قال: ألم تروا إلى الوصيفة التي كانت في السبي فإني قسمت وخمست فصارت في الخمس، ثم صارت في أهل بيت النبي صلى الله عليه وآله، ثم صارت في آل علي ووقعت بها، قال: فكتب الرجل إلى نبي الله صلى الله عليه وآله، فقلت: ابعثني مصدقا، قال: فجعلت أقرأ الكتاب وأقول صدق، قال: فأمسك يدي والكتاب، قال: أتبغض عليا؟ قال: قلت: نعم قال: فلا تبغضه وان كنت تحبه فازدد له حبا، فوالذي نفس محمد بيده لنصيب علي في الخمس أفضل من وصيفة، قال: فما كان من الناس أحد بعد قول رسول الله صلى الله عليه وآله أحب إلي من علي

یعنی

بریدہ اسلمی کہتےہیں ہمیں مال غنیمت حاصل ہوا…رسول کریم کی طرف خط لکھا کہ تقسیم کے لیے کسی کو بھیجیں،رسول کریم نے علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا حضرت علی نے تقسیم کیا اور اپنا حصہ بھی نکالا، ابو بریدہ تقسیم کی شکایت لے کر (غدیر خم مقام پے) رسول کریم کو پہنچے اور شکایت و ناگواری کا اظہار کیا رسول کریم نے فرمایا علی نے جتنا لیا اس سے بڑھ کرحصہ ہے اگر علی سے ناگواری ہے تو ختم کردو اگر محبت ہےتو زیادہ محبت کرو

(شیعہ کتاب کشف الغمہ لاربیلی1/293)

یہ تھا اصل پس منظر کہ تنازع پے ناگواری جگھڑا ختم کرایا گیا باقی نہ تو کوئی بیعت لی گئ اور نہ بیعت و خلافت کا اعلان کیا گیا….یہ تھا پس منظر جسکو جھوٹے مکار شیعوں نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا….لاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم و لعنۃ اللہ علی الماکرین الکاذبین

عید غدیر چونکہ شیعہ لوگ غلط نظریہ خلیفہ بلافصل کے تناظر میں مناتے ہیں اس لیے یہ کوئی عید نہیں، اسکی کوئی اصل نہیں بلکہ یہ جرم و گناہ ہے…کیونکہ سیدنا علی خلیفہ بلافصل نہیں بلکہ چوتھے خلیفہ ہیں

دما دم مست قلندر……سیدنا علی دا چوتھا نمبر

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

facebook,whatsApp,bip nmbr

00923468392475

03468392475