نماز میں دونوں پاؤں کے درمیان چار انگلیوں کا فاصلہ رکھیں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارٸینِ کرام آٸیے اس مسلہ کے متعلق پڑھتے ہیں : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ، عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَقِیمُوا صُفُوفَکُمْ، فَإِنِّی أَرَاکُمْ مِنْ وَرَاء ظَہْرِی، وَکَانَ أَحَدُنَا یُلْزِقُ مَنْکِبَہُ بِمَنْکِبِ صَاحِبِہِ، وَقَدَمَہُ بِقَدَمِہِ .

ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ اپنی صفیں ٹھیک کر لیا کرو کیونکہ میں اپنی پیٹھ پیچھے بھی دیکھتا ہوں اور ہم میں سے ہر آدمی اپنا کندھا ساتھ والے آدمی کے کندھے سے سٹا دیتا اور اپنا قدم ان کے قدم سے ملا دیتا ۔ (صحیح بخاری، کتاب الاذان، باب إِلْزَاقِ المَنْکِبِ بِالْمَنْکِبِ وَالقَدَمِ بِالقَدَمِ فِی الصَّفِّ، ص325، حدیث 686۔چشتی)

مصنف عبد الرزاق میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضرت نافع سے مروی ہے : أن بن عمر كان لا يفرسخ بينهما ولا يمس إحداهما الأخرى قال بين ذلك ۔

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دونوں پاں کو پھیلا کر (اور چیز کر) نہیں کھڑے ہوتے تھے اور نہ ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں سے چھوتے تھے بلکہ ان کی درمیانی حالت پر رکھتے تھے ۔ (مصنف عبد الرزاق : ج2 ص172باب التحریک فی الصلاۃ،چشتی)

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی کے بارے میں مروی ہے : وكان ابن عمر لا يفرج بين قدميه ولا يمس إحداهما بالأخرى ولكن بين ذلك لا يقارب ولا يباعد ۔

ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما دونوں قدموں کے درمیان نہ زیادہ فاصلہ کرتے اور نہ ایک دوسرے سے ساتھ لگاتے بلکہ (ان دونوں کی درمیانی حالت کو اختیار فرماتے یعنی ) دونوں پاؤں کو نہ ایک دوسرے کے زیادہ قریب کرتے اور نہ ایک دوسرے سے زیادہ دور رکھتے ۔ (المغنی لابن قدامۃ: ج1 ص696- فصل : ما يكره من حركۃ البصر فی الصلاة)

علامہ بدر الدین العینی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : يستحب للمصلي أن يكون بين قدميه في القيام [ قدر] أربع أصابع يديه ، لأن هذا أقرب للخشوع ۔

ترجمہ : نمازی کے مستحب ہے کہ اس کے دونوں پاؤں کے درمیان ہاتھ کی چار انگلیوں کا فاصلہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ خشوع کے زیادہ قریب ہے ۔ (شرح ابی داود للعینی:ج3 ص354 باب وضع الیمنی علی الیسریٰ فی الصلاۃ)

خالد بن ابراہیم السقبعی الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : رابعاً : تَفْرِقَتُه بين قدميه, والقاعدة هنا { أن الهيئات في الصلاة تكون على مقتضى الطبيعة, ولا تخالف الطبيعة إلا ما دل النص عليه}, والوقوف الطبيعي أن يفرج بين قدميه فكذلك في الصلاة, فما كان على غير وفق الطبيعة يحتاج إلى دليل ۔

ترجمہ : چوتھی سنت قدموں کے درمیان فاصلہ کرنا ہے۔ فاصلہ کرنے کے بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ نماز والی کیفیات انسانی طبیعت کےتقاضا کے مطابق ہوتی ہیں اور طبیعت کے تقاضے کے خلاف وہی کیفیت ہو گی جو مستقل نص سے ثابت ہو ۔ چنانچہ قیام کی حالت میں طبعی تقاضا یہ ہے کہ کہ دونوں قدموں کے درمیان کشادگی ہو ، لہذا نماز میں قیام کی حالت میں طبعی تقاضے کے مطابق قدموں کے درمیان فاصلہ ہونا چاہیے ۔ پس نماز کی جو کیفیت بھی غیر طبعی ہے وہ محتاجِ دلیل ہے ۔ (القول الراجح مع الدلیل: ج2 ص85،چشتی)

قال الأثرم احمد بن محمد ہانی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ : رأيت أبا عبد الله وهو يصلي وقد فرَّج بين قدميه)۔۔۔ هذا هو الأولى ، لأن قبل هذا الفعل يجعل القدمين على طبيعتها ، وحيث لم يرد نص في قدميه حال القيام فإنه يبقيهما على الطبيعة ۔

ترجمہ : امام اثرم کہتے ہیں: میں نے امام ابو عبد اللہ (احمد بن حنبل) کو نماز پڑھتے دیکھا کہ آپ نے اپنے قدموں کے درمیان فاصلہ کیا ہوا ہے۔ یہی بہتر ہے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے اپنے قدموں کو اپنی طبعی حالت پر رکھے، چونکہ قیام کی حالت میں قدموں کے درمیان فاصلہ کے بارے میں کوئی نص موجود نہیں ہے اس لیے ان کو اپنی طبعی حالت پر باقی رکھے ۔ (شرح زاد المستقنع للشيخ حمد بن عبد الله: ج5 ص150) ۔ پاؤں پھیلا کر کھڑا ہونا تکبر کی علامت ہے۔یہ بات واضح ہے۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صف میں کندھا بغل والے کے کندھے سے سٹا لیا جائے اور اپنے پیر کی ایڑی کو بغل والے کی ایڑی کے برابر کر لیا جائے۔ اگر دونوں پاؤں کے درمیان زیادہ فاصلہ ہو تو اپنا کندھا بغل والے کے کندھے سے نہیں سٹے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کی تخلیق ان حکمتوں کے سبب کچھ ایسی کی ہے کہ جب کندھا بغل والے سے ملے گا تو پاؤں نہیں ملے گا اور پاؤں ملے گا تو کندھا نہیں۔لیکن جب دونوں پاؤں کے درمیان چار انگلیوں کا فاصلہ ہو تو اپنا کندھا بغل والے نمازی کے کندھے سے بالکل سٹ جائے گا اور صف بھی سیدھی رہے گی ۔

قدموں کے درمیان فاصلہ اور مذاھب اربعہ

نمازی اپنے دونوں پاؤں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھے، جو کم از کم چار انگشت سے لے کر زیادہ سے زیادہ ایک بالشت کی مقدار ہونا چاہیے ۔

فقہ حنفی

وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ بين قَدَمَيْهِ أَرْبَعُ أَصَابِعَ في قِيَامِهِ ۔

ترجمہ : نمازی کو چاہیے کہ قیام کے حالت میں اس کے دونوں پاؤں کے درمیان چار انگشت کا فاصلہ ہونا چاہیے ۔ (فتاویٰ عالمگیری: ج1 ص81-الفصل الثالث فی سنن الصلاۃ و کیفیتھا)

وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا مِقْدَارُ أَرْبَعِ أَصَابِعِ الْيَدِ لِأَنَّهُ أَقْرَبُ إلَى الْخُشُوعِ ۔

ترجمہ : نمازی کے دونوں پاؤں کے درمیان ہاتھ کی چار انگلیوں کا فاصلہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ خشوع کے زیادہ قریب ہے ۔ (رد المحتار: ج2 ص163 باب صفۃ الصلاۃ)

فقہ مالکی

يُنْدَب تفريجُ القَدَمين بأن يكون المصلي بحالةٍ متوسطةٍ في القيام بحيث لا يَضُمُّهما ولا يُفرِّجُهما كثيراً ۔

ترجمہ : قیام کی حالت میں دونوں پاؤں کے درمیان متوسط حالت کا فاصلہ رکھنا مستحب ہے، وہ اس طرح کہ دونوں پاؤں کو نہ زیادہ ملائے اور نہ زیادہ کشادہ کرے ۔ (فقہ العبادات- مالکی: ص161،چشتی)

فقہ شافعی

ویُسَنُّ ان یُفَرِّق بین قدمیہ بِشِبْرٍ ۔

ترجمہ : نمازی کے لیے اپنے دونوں پاؤں کے درمیان ایک بالشت کی مقدار فاصلہ رکھنا سنت ہے ۔ (اعانۃ الطالبین لابی بکر الدمیاطی:ج3ص247)

ونَدُبَ التفریقُ بینہما ای باربع اصابعَ او بِشِبْرٍ ۔

ترجمہ : دونوں پاؤں کے درمیان چار انگشت یا ایک بالشت کی مقدار فاصلہ رکھنامستحب ہے ۔ (اسنی المطالب فی شرح روض الطالب لزکریا الانصاری الشافعی: ج2 ص345)

فقہ حنبلی

وكان ابن عمر لا يفرج بين قدميه ولا يمس إحداهما بالأخرى ولكن بين ذلك لا يقارب ولا يباعد ۔

ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما دونوں قدموں کے درمیان نہ زیادہ فاصلہ کرتے اور نہ ایک دوسرے سے ساتھ لگاتے بلکہ (ان دونوں کی درمیانی حالت کو اختیار فرماتے یعنی ) دونوں پاؤں کو نہ ایک دوسرے کے زیادہ قریب کرتے اور نہ ایک دوسرے سے زیادہ دور رکھتے ۔ (المغنی لابن قدامۃ: ج1 ص696- فصل : ما يكره من حركۃ البصر فی الصلاة)

مذہبِ غیر مقلدین

غیر مقلدین کا طرزِ عمل یہ ہے کہ حالتِ قیام میں دونوں پاؤں کے درمیان کافی زیادہ فاصلہ رکھتے ہیں جن کی وجہ سے پاؤں کے اس فاصلہ کی مقدار دو بالشت سے لے کر اڑھائی بالشت تک ہو جاتی ہے۔ ”تسہیل الوصول الی تخریج صلوٰۃ الرسول صلی اللہ علیہ و سلم“ کے شروع میں جو نماز پڑھنے کی عملی مشق کی تصاویر دی گئی ہے اس سے یہ بات بخوبی معلوم کی جاتی ہے۔ نیز عبد اللہ روپڑی صاحب ( تنظیم اہلحدیث) کے فتویٰ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ موصوف لکھتے ہیں : قدموں میں فاصلہ اتنا ہی ہونا چاہیے جتنا کہ کندھوں میں ہے ۔ تاکہ دونوں مل جائیں ۔ (فتاویٰ علمائے حدیث:جلد3 ص 21)

حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ ”الزاق“ (چپکانا، ملانا) کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : المراد بذلک المبالغة فی تعدیل الصف وسد خللہ ۔

ترجمہ : ”الزاق“ سے مراد صف سیدھی رکھنے اور خالی جگہوں کو پُرکرنے میں مبالغہ کرنا ہے ۔ (فتح الباری:ج2 ص273)

علامہ ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : وما روي أنهم ألصقوا الكعاب بالكعاب أريد به الجماعة أي قام كل واحد بجانب الآخر ۔ ترجمہ : یہ جو روایت کیا گیاہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ٹخنوں کو ٹخنوں سے ملاتے تھے اس سے مقصود جماعت (کی کیفیت بتانا) ہے کہ ہر نمازی دوسرے کے قریب کھڑا ہو ۔ (رد المحتار: جلد 2 صفحہ 163 بحث القیام)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)