جس نے مولا علی کو حضرت سیدنا عثمانؓ پر مقدم کیا اس نے بارہ ہزار(صحابہ)پر عیب لگایا

امام ابن حجر عسقلانی الاصابہ کے مقدمہ میں صحابہ کی تعداد جو نبی اکرمﷺ کی وفات کے ۱۲ سال بعد بچی تھی اور ان کتب اسلام میں بہت سارے صحابہ کے نام کی تصریح نہ ہونے کی وجوہات لکھتے ہوئے فرماتے ہیں ؟

قلت: وقرأت بخط الحافظ الذهبي من ظهر كتابه «التجريد» : لعل الجميع ثمانية آلاف إن لم يزيدوا لم ينقصوا، ثم رأيت بخطه أن جميع من [في «أسد الغابة» سبعة آلاف وخمسمائة وأربعة وخمسون نفسا] ومما يؤيد قول أبي زرعة ما ثبت في [الصحيحين عن كعب بن مالك في قصة] ؤ تبوك: والناس كثير لا يحصيهم ديوان.

وثبت عن الثوري فيما [أخرجه الخطيب بسنده الصحيح إليهؤ ، قال:] ؤ من قدم عليا على عثمان فقد أزرى على اثني عشر ألفا [مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض،] ؤ فقال النووي: وذلك بعد النبي صلى الله عليه وسلم باثني عشر عاما بعد أن مات في خلافة أبي بكر في الردة والفتوح- الكثير ممن لم يضبط أسماؤهم، ثم مات في خلافة عمر في الفتوح وفي الطاعون العام وعمواس وغير ذلك من لا يحصى كثرة.

وسبب خفاء أسمائهم أن أكثرهم أعراب، وأكثرهم حضروا حجة الوداع. والله أعلم.

میں (ابن حجر) کہتا ہوں کہ میں نے حافظ ذھبی کی لکھی تحریر ان کی کتاب التجرید سے پڑھی ہے جو یہ ہے :

ہو سکتا ہے سب صحابہ آٹھ ہزار ہوں اگر زیادہ نہ ہوئے تو ک نہ ہونگے ۔

پھر میں (ابن حجر) نے انہی (الذھبی) کی تحریر دیکھی کہ اسد الغابہ (ابن اٖثیر کی کتاب) میں تعداد میں تمام صحابہ سات ہزار پانچ سو چون آدمی ہیں ۔ پھر جس سے ابو زرعہ رازی کی دونوں باتوں کو تائید ملتی ہے وہ روایت ہے جو تبوک کے قصہ میں حضرت کعب بن مالکؓ سے صحیحین میں ثابت ہے

”لوگ اتنی کثیر تعداد میں تھے جنہیں کسی رجسٹر میں شمار نہیں کیا جا سکتا تھا”

اور امام سفیان ثوری کے بقول جسکو امام خطیب نے باسند صحیح ان سے روایت کیا ہے جس نے مولا علی کو حضرت سیدنا عثمانؓ پر مقدم کیا اس نے بارہ ہزار(صحابہ)پر عیب لگایا جن سے نبی اکرمﷺ راضی ہو کر فوت ہوئے ۔

امام نوویؒ نے فرمایا یہ نبی اکرمﷺ کے بارہ سال بعد کی بات ہے ۔ اس کے بد حضرت صدیق اکبرؓ کی خلافت میں بہت سے ایسے افراد جو

فتنہ ارتد،

اور فتوحات

کے دوران فوت ہوئے انکے نام محفوظ نہیں کیے گئے ۔ اسی طرح جو لوگ حضرت عمرؓ کی خلافت میں

فتوحات

عام طاعون

اور طاعون عموداس وغیرہ

میں فوت ہوئے انکی اکثریت کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے اسماء اس وجہ سے پردہ خفا میں رہے کہ ان میں سے اکثریت دیہاد کے رہنے والوں کی تھی جن میں زیادہ ترحجتہ الوداع کے موقع پر حاضرہوئے تھے ۔ واللہ اعلم

(مقدمہ الاصابہ فی تمیز الصحابہ از ابن حجر ص۔155)

کیا شان تھی صحابہ کی جنکی قربانیوں کے سبب انکی کثیر تعداد فتوحات اور شریعت کے نفاض میں فوت ہوگئی

اور جو مرتد ہوئے وہ انکی اولادیں آج شان صحابہ پر بھونکتے ہوئے نظر آتے ہیں

یہ وہ منافق تھے جو ظاہری طور پر صحابہ میں گھلے ملے ہوئےتھے نبی اکرمﷺ کی زندگی میں اور جن کے نام حضرت نبی اکرمﷺ نے بتائے بھی اور مولا علی نے انکو کانوں سے پکڑ پکڑ کر مسجد سے نکال باہر کیا

ایسے بد بخت پھر حضرت ابو بکر صدیق کی زندگی میں مرتد ہوگئے کیونکہ اللہ نے جماعت صحابہ کو پاک کر دیا منافقین سے

دعاگو:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی