وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِؕ-قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ(۸۳)

اور تم سے (ف۱۷۹) ذوالقرنین کو پوچھتے ہیں (ف۱۸۰) تم فرماؤ میں تمہیں اس کا مذکور پڑھ کر سناتا ہوں

(ف179)

ابوجہل وغیرہ کُفّارِ مکّہ یا یہود بہ طریقِ امتحان ۔

(ف180)

ذوالقرنین کا نام اسکندر ہے یہ حضرت خضرعلیہ السلام کے خالہ زاد بھائی ہیں انہوں نے اسکندریہ بنایا اور اس کا نام اپنے نام پر رکھا ، حضرت خضر علیہ السلام ان کے وزیر اور صاحبِ لواء تھے ، دنیا میں ایسے چار بادشاہ ہوئے ہیں جو تمام دنیا پر حکمران تھے ، دو مومن حضرت ذوالقرنین اور حضرت سلیمان علٰی نبینا وعلیہما السلام اور دو کافِر نمرود اور بُخْتِ نصر اور عنقریب ایک پانچویں بادشاہ اور اس اُمَت سے ہونے والے ہیں جن کا اسمِ مبارک حضرت امام مہدی ہے ، ان کی حکومت تمام روئے زمین پر ہو گی ۔ ذوالقرنین کی نبوّت میں اختلاف ہے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ وہ نہ نبی تھے ، نہ فرشتے ، اللہ سے مَحبت کرنے والے بندے تھے ، اللہ نے انہیں محبوب بنایا ۔

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ(۸۴)

بےشک ہم نے اسے زمین میں قابو دیا اور ہر چیز کا ایک سامان عطا فرمایا (ف۱۸۱)

(ف181)

جس چیز کی خَلق کو حاجت ہوتی ہے اور جو کچھ بادشاہوں کو دیار و اَمصار فتح کرنے اور دشمنوں کے محاربہ میں درکار ہوتا ہے وہ سب عنایت کیا ۔

فَاَتْبَعَ سَبَبًا(۸۵)

تو وہ ایک سامان کے پیچھے چلا(ف۱۸۲)

(ف182)

سبب وہ چیز ہے جو مقصود تک پہنچنے کا ذریعہ ہو خواہ وہ علم ہو یا قدرت تو ذوالقرنین نے جس مقصد کا ارادہ کیا اسی کا سبب اختیار کیا ۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا۬ؕ-قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا(۸۶)

یہاں تک کہ جب سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا اُسے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا پایا (ف۱۸۳) اور وہاں (ف۱۸۴) ایک قوم ملی (ف۱۸۵) ہم نے فرمایا اے ذوالقرنین یا تو تو انہیں سزا دے (ف۱۸۶) یا اُن کے ساتھ بھلائی اختیار کر (ف۱۸۷)

(ف183)

ذوالقرنین نے کتابوں میں دیکھا تھا کہ اولادِ سام میں سے ایک شخص چشمۂ حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی ، یہ دیکھ کروہ چشمۂ حیات کی طلب میں مغرب و مشرق کی طرف روانہ ہوئے اور آپ کے ساتھ حضرت خضر بھی تھے وہ تو چشمۂ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں نے پی بھی لیا مگر ذوالقرنین کے مقدر میں نہ تھا انہوں نے نہ پایا اس سفر میں جانبِ مغرب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی ہے وہ سب منازل قطع کر ڈالے اور سمتِ مغرب میں وہاں پہنچے جہاں آبادی کا نام و نشان باقی نہ رہا ، وہاں انہیں آفتاب وقتِ غروب ایسا نظر آیا گویا کہ وہ سیاہ چشمہ میں ڈوبتا ہے جیسا کہ دریائی سفر کرنے والے کو پانی میں ڈوبتا معلوم ہوتا ہے ۔

(ف184)

اس چشمہ کے پاس ۔

(ف185)

جو شکار کئے ہوئے جانوروں کے چمڑے پہنے تھے اس کے سوا ان کے بدن پر اور کوئی لباس نہ تھا اور دریائی مردہ جانور ان کی غذا تھے ، یہ لوگ کافِر تھے ۔

(ف186)

اور ان میں سے جو اسلام میں داخل نہ ہو اس کو قتل کر دے ۔

(ف187)

اور انہیں احکامِ شرع کی تعلیم دے اگر وہ ایمان لائیں ۔

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا(۸۷)

عرض کی کہ وہ جس نے ظلم کیا (ف۱۸۸) اسے تو ہم عنقریب سزادیں گے (ف۱۸۹) پھر اپنے رب کی طرف پھیرا جائے گا (ف۱۹۰) وہ اسے بُری مار دے گا

(ف188)

یعنی کُفر و شرک اختیار کیا ایمان نہ لایا ۔

(ف189)

قتل کریں گے یہ تو اس کی دنیوی سزا ہے ۔

(ف190)

قیا مت میں ۔

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اﰳلْحُسْنٰىۚ- وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ(۸۸)

اور جو ایمان لایا اور نیک کام کیا تو اُس کا بدلہ بھلائی ہے (ف۱۹۱) اور عنقریب ہم اسے آسان کام کہیں گے (ف۱۹۲)

(ف191)

یعنی جنّت ۔

(ف192)

اور اس کو ایسی چیزوں کا حکم دیں گے جو اس پر سہل ہوں دشوار نہ ہوں ۔ اب ذوالقرنین کی نسبت ارشاد فرمایا جاتا ہے کہ وہ ۔

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا(۸۹)

پھر ایک سامان کے پیچھے چلا (ف۱۹۳)

(ف193)

جانبِ مشرق میں ۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ(۹۰)

یہاں تک کہ جب سورج نکلنے کی جگہ پہنچا اُسے ایسی قوم پر نکلتا پایا جن کے لیے ہم نے سورج سے کوئی آڑ نہیں رکھی (ف۱۹۴)

(ف194)

اس مقام پر جس کے اور آفتاب کے درمیان کوئی چیز پہاڑ درخت وغیرہ حائل نہ تھی ، نہ وہاں کوئی عمارت قائم ہو سکتی تھی اور وہاں کے لوگوں کا یہ حال تھا کہ طلوعِ آفتاب کے وقت غاروں میں گھس جاتے تھے اور زوال کے بعد نکل کر اپنا کام کاج کرتے تھے ۔

كَذٰلِكَؕ-وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا(۹۱)

بات یہی ہے اور جو کچھ اس کے پاس تھا (ف۱۹۵) سب کو ہمارا علم محیط ہے (ف۱۹۶)

(ف195)

فوج ، لشکر ، آلاتِ حرب ، سامانِ سلطنت اور بعض مفسِّرین نے فرمایا سلطنت و مُلک داری کی قابلیت اور امورِ مملکت کے سر انجام کی لیاقت ۔

(ف196)

مفسِّرین نے کذالک کے معنی میں یہ بھی کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ذوالقرنین نے جیسا مغربی قوم کے ساتھ سلوک کیا تھا ایسا ہی اہلِ مشرق کے ساتھ بھی کیا کیونکہ یہ لوگ بھی ان کی طرح کافِر تھے تو جو ان میں سے ایمان لائے ان کے ساتھ احسان کیا اور جوکُفر پر مُصِر رہے ان کو تعذیب کی ۔

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا(۹۲)

پھر ایک ساما ن کے پیچھے چلا (ف۱۹۷)

(ف197)

جانبِ شمال میں ۔ (خازن)

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًاۙ-لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا(۹۳)

یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے بیچ پہنچا اُن سے ادھر کچھ ایسے لوگ پائے کہ کوئی بات سمجھتے معلوم نہ ہوتے تھے (ف۱۹۸)

(ف198)

کیونکہ ان کی زبان عجیب و غریب تھی ان کے ساتھ اشارہ وغیرہ کی مدد سے بہ مشقّت بات کی جا سکتی تھی ۔

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا(۹۴)

انہوں نے کہا اے ذوالقرنین بےشک یاجوج و ماجوج (ف۱۹۹) زمین میں فساد مچاتے ہیں تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ مال مقرر کردیں اس پر کہ آپ ہم میں اور اُن میں ایک دیوار بنادیں (ف۲۰۰)

(ف199)

یہ یافث بن نوح علیہ السلام کی اولاد سے فسادی گروہ ہیں ، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے ، زمین میں فساد کرتے تھے ، ربیع کے زمانے میں نکلتے تھے تو کھیتیاں اور سبزے سب کھا جاتے تھے ، کچھ نہ چھوڑتے تھے اور خشک چیزیں لاد کر لے جاتے تھے ، آدمیوں کو کھا لیتے تھے درندوں ، وحشی جانوروں ، سانپوں ، بچھوؤں تک کو کھا جاتے تھے ، حضرت ذوالقرنین سے لوگوں نے ان کی شکایت کی کہ وہ ۔

(ف200)

تاکہ وہ ہم تک نہ پہنچ سکیں اور ہم ان کے شر و ایذا سے محفوظ رہیں ۔

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ(۹۵)

کہا وہ جس پر مجھے میرے رب نے قابو دیا ہے بہتر ہے (ف۲۰۱) تو میری مدد طاقت سے کرو (ف۲۰۲) میں تم میں اور اُن میں ایک مضبوط آڑ بنادوں (ف۲۰۳)

(ف201)

یعنی اللہ کے فضل سے میرے پاس مالِ کثیر اور ہر قِسم کا سامان موجود ہے تم سے کچھ لینے کی حاجت نہیں ۔

(ف202)

اور جو کام میں بتاؤں وہ انجام دو ۔

(ف203)

ان لوگوں نے عرض کیا پھر ہمارے متعلق کیا خدمت ہے ؟ فرمایا ۔

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِؕ-حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْاؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًاۙ-قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ(۹۶)

میرے پاس لوہے کے تختے لاؤ (ف۲۰۴) یہاں تک کہ وہ جب دیوار دونوں پہاڑوں کے کناروں سے برابر کردی کہا دھونکو یہاں تک کہ جب اُسے آگ کردیا کہا لاؤ میں اس پر گلا ہوا تانبا اونڈیل دوں

(ف204)

اور بنیاد کھودوائی جب پانی تک پہنچی تو اس میں پتّھر پگھلائے ہوئے تانبے سے جمائے گئے اور لوہے کے تختے اوپر نیچے چن کر ان کے درمیان لکڑی اور کوئلہ بھروا دیا اور آ گ دے دی ، اس طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک اونچی کر دی گئی اور دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی جگہ نہ چھوڑی گئی ، اوپر سے پگھلایا ہوا تانبہ دیوار میں پلا دیا گیا ، یہ سب مل کر ایک سخت جسم بن گیا ۔

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا(۹۷)

تو یاجوج و ماجوج اس پر نہ چڑھ سکے اور نہ اس میں سوراخ کرسکے

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْۚ-فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَۚ-وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ(۹۸)

کہا (ف۲۰۵) یہ میرے رب کی رحمت ہے پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا (ف۲۰۶) اُسے پاش پاش کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے (ف۲۰۷)

(ف205)

ذوالقرنین نے کہ ۔

(ف206)

اور یاجوج ماجوج کے خروج کا وقت آپہنچے گا قریبِ قیامت ۔

(ف207)

حدیث شریف میں ہے کہ یاجوج ماجوج روزانہ اس دیوار کو توڑتے ہیں اور دن بھر محنت کرتے کرتے جب اس کے توڑنے کے قریب ہوتے ہیں تو ان میں کوئی کہتا ہے اب چلو باقی کل توڑ لیں گے دوسرے روز جب آتے ہیں تو وہ بحکمِ الٰہی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے ، جب ان کے خروج کا وقت آئے گا تو ان میں کہنے والا کہے گا کہ اب چلو باقی دیوار کل توڑ لیں گے ان شاء اللہ ، ان شاء اللہ کہنے کا یہ ثمرہ ہوگا کہ اس دن کی محنت رائیگاں نہ جائے گی اور اگلے دن انہیں دیوار اتنی ٹوٹی ملی گی جتنی پہلے روز توڑ گئے تھے ، اب وہ نکل آئیں گے اور زمین میں فساد اٹھائیں گے ، قتل و غارت کریں گے اور چشموں کا پانی پی جائیں گے ، جانوروں درختوں کو اور جو آدمی ہاتھ آئیں گے ان کو کھا جائیں گے ، مکّہ مکرّمہ ، مدینہ طیّبہ اور بیت المقدِس میں داخل نہ ہو سکیں گے ، اللہ تعالٰی بدعائے حضرت عیسٰی علیہ السلام انہیں ہلاک کرے گا اس طرح کہ ان کی گردنوں میں کیڑے پیدا ہوں گے جو ان کی ہلاکت کا سبب ہوں گے ۔

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَىٕذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ(۹۹)

اور اس دن ہم انہیں چھوڑیں گے کہ ان کا ایک گروہ دوسرے پر ریلادے گا اور صور پھونکا جائے گا (ف۲۰۸) تو ہم ان سب کو (ف۲۰۹) اکٹھا کر لائیں گے

(ف208)

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یا جوج ماجوج کا نکلنا قربِ قیامت کے علامات میں سے ہے ۔

(ف209)

یعنی تمام خَلق کو عذاب و ثواب کے لئے روزِ قیامت ۔

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَىٕذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاﰳۙ(۱۰۰)

اور ہم اس دن جہنم کافروں کے سامنے لائیں گے (ف۲۱۰)

(ف210)

کہ اس کو صاف دیکھیں ۔

الَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠(۱۰۱)

وہ جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا تھا (ف۲۱۱) اور حق بات سن نہ سکتے تھے(ف۲۱۲)

(ف211)

اور وہ آیاتِ الٰہیہ اور قرآن و ہدایت و بیان اور دلائلِ قدرت و ایمان سے اندھے بنے رہے اور ان میں سے کسی چیز کو وہ نہ دیکھ سکے ۔

(ف212)

اپنی بدبختی سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ عداوت رکھنے کے باعث ۔