متقدمین احناف کے فقیہ امام القدوری کا تعارف !!

ازقلم : اسد الطحاوی الحنفی

امام قدوری فقہ حنفی کے مشہور و معروف محدث ، فقیہ ہیں اور انکی سب سے مشہور کتاب مختصر القدوری ہے جو فقہ حنفی کی بنیادی کتب میں سے ایک اپنی منفرد حیثیت رکھتی ہے

یہ بغداد میں 362 هـ میں پیدا ہوئے اور انکی وفات 428 هـ میں ہوئی

اسکے علاوہ انکی چند مشہور تصانیف :

تجرید یہ سات جلدوں میں ہے۔ اس میں احناف اور شوافع کے اختلافی مسائل پر محققانہ بحث ہے ۔

مسائل الخلاف اس میں دلائل سے تعرض کیے بغیر امام صاحب اور آپ کے اصحاب کے مابین فروعی اختلاف کا ذکر ہے ۔

کتاب التقریب اس میں مسائل کو دلائل سمیت ذکر کیا ہے۔

شرح مختصر الکرخی

شرح ادب القاضی

مختصر القدوری ہیں !!!

انکے تلامذہ میں امام خطیب بغدادی کے علاوہ اور بھی علمی شخصیات ہیں

امام خطیب انکا ترجمہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن أَحْمَد بْن جَعْفَرِ بْن حمدان، أَبُو الحسين الفقيه، المعروف بالقدوري:

سمع عبيد اللَّه بْن مُحَمَّد الحوشبي. ولم يحدث إلا بشيء يسير،

كتبت عنه وكان صدوقا، وكَانَ ممن أنجب في الفقه لذكائه، وانتهت إليه بالعراق رياسة أصحاب أَبِي حنيفة، وعظم عندهم قدره، وارتفع جاهه. وكَانَ حسن العبارة في النظر، جرى اللسان، مديما لتلاوة القرآن.

وسمعت أبا بشر مُحَمَّد بْن عمر الوكيل. وأبا القاسم التنوخي القاضي يذكران: أن مولد القدوري في سنة اثنتين وستين وثلاثمائة

انہوں نے عبیداللہ بن محمد سے سنا ہے لیکن یہ ان سے حدیث روایت نہیں کرتے تھے لیکن بہت کم

میں نے ان سے لکھا ہے وہ صدوق درجہ کے ہیں اور یہ ان لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی زہانت سے فقہ معروف ہوئے عراق میں اصحاب ابی حنیفہ کی قیادت میں عراق میں ان پر فقہ کی انتہاء ہوتی ہے اور یہ عمدہ عبارت لکھتے تھے ، اور تلاوت قرآن میں مشغول رہتے تھے

(تاریخ بغداد للخطیب )

احناف کے جید محدث و ناقد امام قاسم بن قطلوبغہ (جو کہ امام ابن حجر عسقلانی کے شیخ و شاگرد تھے )

وہ اپنی تصنیف تاج التراجم میں لکھتے ہیں :

أحمد بن محمد بن أحمد بن جعفر بن حمدان أبي الحسين بن أبي بكر القدوري البغدادي، صاحب “المختصر”.

ولد سنة اثنتين وستين وثلاثمائة.

وتفقه على أبي عبد الله محمد بن يحيى الجرجاني.

وروى الحديث وكان صدوقا.

وانتهت إليه رئاسة الحنفية بالعراق. وعظم عندهم قدره، وارتفع جاهه. وكان حسن العبارة في النظر، جريئاً بلسانه مديما لتلاوة القرآن.

صنف “المختصر” وشرح “مختصر” الكرخي.

قلت: وصنف كتاب “التجريد” في سبعة أسفار، يشتمل على الخلاف بين الشافعي وأبي حنيفة وأصحابه؛ شرع في إملائه سنة خمس وأربعمائة. وكتاب “التقريب” في مسائل الخلاف بين أبي حنيفة وأصحابه مجردا عن الدلائل. ثم صنَّف “التقريب” الثاني فذكر المسائل بأدلتها.

وله “جزء حديثي” رويناه عنه.

مات ببغداد في يوم الأحد منتصف رجب سنة ثمان وعشرين وأربعمائة.

وقال الذهبي: خامس رجب.

روى عنه الخطيب وقال: كان صدوقا.

وكان يناظر الشيخ أبا حامد الإسفراييني.

ولا أدري سبب نسبته إلى القدور.

امام القدوری انہوں نے فقہ امام ابی عبداللہ الجرجانی سے پڑھی

یہ حدیث روایت کرتے تھے اور صدوق تھے

اور ان پر فقہ حنفی کی ریاست کی انتہاء تھی اور یہ اچھی عبارت لکھنے والے تھے اور تلاوت قرآن میں مشغول رہتے

انہوں نے المختصر ، شرح مختصر الکرخی تصنیف کی

میں کہتا ہوں انہوں نے تجرید یہ سات جلدوں میں ہے۔ اس میں احناف اور شوافع کے اختلافی مسائل پر محققانہ بحث ہے ۔مسائل الخلاف اس میں دلائل سے تعرض کیے بغیر امام صاحب اور آپ کے اصحاب کے مابین فروعی اختلاف کا ذکر ہے ۔کتاب التقریب اس میں مسائل کو دلائل سمیت ذکر کیا ہے۔

اور امام ذھبی کہتے ہیں کہ امام خطیب نے انکو صدوق قرار دیا ہے اور یہ حامد الاسفرائینی (شافعی فقیہ ) سے مناظرے کرتے رہتے تھے

اسکے بعد امام قاسم بن قطلوبغہ کہتے ہیں میں انکی نسبت قدور کے بارے کچھ نہیں جانتا

(تاج التراجم – لأبي الفداء زين الدين أبي العدل قاسم بن قُطلُوبغا)

اور انکی نسبت کے بارے میں امام سمعانی فرماتے ہیں :

هذه النسبة إلى القدور، واشتهر بهذه النسبة أبو الحسين أحمد بن محمد ابن أحمد بن جعفر بن حمدان الفقيه المعروف بالقدوري،

یہ نسبت قدور (برتن)کی طرف ہے اور اس شہرت کی نسبت سے مشہور امام ابو الحسین احمد بن حامد فقیہ جو معروف ہے القدوری سے ۔۔

(الانساب للسمعانی)

یہی کچھ امام ذھبی نے سیر اعلام میں نقل کیا ہے امام قدوری کے ترجمہ میں

عبد الحئ لکھنوی لکھتا ہے :

ذكره ابن كمال باشا الرومي ومن تبعه في أصحاب الترجيح من المقلدين الذين شأنهم تفضيل بعض الروايات على بعض من دون قدرة على الاجتهاد وتعقبه بعض الفضلاء بأن القدورى متقدم على شمس الأئمة الحلوانى زمانًا وأعلى كعبًا وأطول باعًا فما باله نقص مرتبته عن مرتبته.

ابن کمال پاشا نے امام قدوری اور صاحب ہدایہ کو پانچویں طبقہ میں شمار کیا ہے جن کا کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کر دیتے ہیں کہ صاحب مذہب سے جو مختلف روایات ہوں، ان میں سے کون سی روایت افضل ہے اور کون سی روایت مفضول ہے لیکن اکثر علما نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ حضرات قاضی خان وغیرہ سے ان کا ایک درجہ اوپر ہے۔ اگر بالفرض ایک درجہ اوپر نہ بھی ہو تو برابر کے ضرور ہیں لہذا امام قدوری کو تیسرے درجہ میں شمار کرنا چاہیے۔

( الفوائد البهية في تراجم الحنفية – أبو الحسنات محمد عبد الحي اللكنوي الهندي.)

دعاگو: اسد الطحاوی الحنفی