اثر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ترک رفع الیدین اور امام بخاری و ابن حمد بن حنبل کے اعتراضات کا جواب

ازقلم: اسد الطحاوی

 

اعتراضات کا جواب دینے سے پہلے ہم شوافع اور حنابلہ کا منہج اور احناف و مالکیہ اور دیگر محدثین و فقہا کا منہج کا مختصر جائزہ پیش کر دیں کہ روایت کو رد اور قبول کرنے پر شوافع و حنابلہ کس چیز کو مد نظررکھا ہے رفع الیدین کے موضوع پر اور احناف نے کس چیز کو

 

سب سے پہلے احناف اور دیگر ائمہ کا دعویٰ پیش کرتے ہیں جن میں ابراہیم النخعی، امام شعبی ، امام اابو اسحاق السبعی ، امام ابو بکر بن عیاش ، امام مالک ، امام اسحاق بن اسراعیل امام طحاوی ، امام ابو یوسف اور امام سفیان الثوری وغیر ہیں

 

انکا دعویٰ ہے کہ نماز میں رفع الیدین صرف شروع کے مقام پر ہے باقی ہر جگہ رفع الیدین منسوخ ہے

اہم نقطہ:

تارک رفع الیدین کا دعویٰ یہ نہیں کہ رفع الیدین عند الرکوع، یا سجود ثابت نہیں بلکہ انکا کہنا ہے کہ رفع الیدین کی روایات رکوع جاتے رکوع آتے یا سجدوں میں بالکل احادیث سے ثابت ہیں

اور کثیر احادیث میں رکوع آنے اور جانے پر رفع الیدین کا ثبوت ثابت ہے

 

لیکن احناف و مالکیہ اور دیگر ائمہ محدثین جو ترک رفع الیدین کے قائل ہیں انکا یہ دعویٰ ہے کہ رفع الیدین کی احادیث کے بعد ترک رفع الیدین کی روایات بھی صحیح الاسناد صحابہ سے مرفوع ، موقف و مرسل ثابت ہیں

جس میں نہ کرنے کا حکم ہے تو بے شک جتنی بھی تعداد سے رفع الیدین کرنے کی احادیث آئی ہیں

لیکن بقول مخالف قلیل تعداد سے ہی صحیح ترک رفع الیدین کی روایات پہنچ چکی صحیح الاسناد تو اب رفع الیدین کے اثبات کی روایات منسوخ ہو گئیں اور انکی ناسخ ترک رفع الیدین کی روایات بن گئیں

اور شوافع و حنابلہ کا دعویٰ ہے کہ چونکہ اثبات رفع الیدین کی روایات کی تعداد زیادہ ہے متواتر کے لگ بھگ اور ترک رفع الیدین مرسل ، اثار تابعین یا حضرت بن مسعود سے روایت ہے جو اثبات رفع الیدین کی روایات کو منسوخ نہیں کرسکتی

 

اسکا جواب احناف و مالکیہ اور دیگر ائمہ محدثین یہ دیتے ہیں کہ

اس خاص مسلے میں احادیث کی تعداد نہیں دیکھی جائے گی اثبات اور ترک پر بلکہ یہ دیکھا جائے گا اگر دونوں روایات ثابت ہیں صحیح الاسناد تو تطبیق دی جائے گی جن جن احادیث اور اثار میں رفع الیدین کا ذکر آیا ہے یا جس جس صحابی یا تابعی سے رفع الیدین کرنے کا عمل ثابت ہے

اس سے ترک کا بھی عمل ثابت ہے

جیسا کہ حضرت بن مسعود

حضرت علی

حضرت ابو بکر

حضر عمر

حضرت براء بن عازب

پھر تابعین میں

امام شعبی

حضرت خثیمہ

امام قیس بن ابی حازم

امام ابو اسحاق

امام ابراہیم النخعی

اصحاب بن مسعود و اصحاب علی

امام ابو حنیفہ

اور تابع تابعین میں

امام ابن ابی لیلی

امام زفر

امام ابو یوسف

امام محمد

امام سفیان الثوری

امام ابو بکر بن عیاش

امام اسحاق بن اسراعیل

امام مالک

 

ان میں کسی سے حکم یا عملا رفع الیدین کا ذکر آیا ہے تو ترک رفع الیدین کا ذکر بھی آیا ہے

تو اثبات رفع الیدین کی روایات کو منسوخ اور چونکہ ترک کی روایات ثابت ہو گئی تبھی یہ روایت ناسخ بنیں گی۔

تو کسی بھی امام یا راوی یا صحابی یا تابعی سے رفع الیدین کے اثبات یا ترک پر روایت آتی ہے تو احناف و مالکیہ اور دیگر محدثین اس میں تطبیق دینے کے قائل ہیں

 

لیکن شوافع ، حنابلہ اور اہل ظاہر محدثین ترک رفع الیدین کے قاہل ہی نہیں سرے سے کچھ کا دعویٰ ہے قلیل روایت ہیں

کچھ کا دعویٰ ہے کہ تابعین سے یہ عمل مروی ہے

کچھ کا دعویٰ ہے کہ کچھ بھی ثابت نہیں ترک رفع الیدین کے بارے میں

 

اپنے ان دعووں کی بنیاد پر یہ گروہ رفع الیدین کی روایت صحیح سند سے پا بھی لیتا ہے تو چونکہ انہی راویان اور اصحاب سے رفع الیدین کی روایات بھی ثابت ہوتی ہیں تو یہ ترک والی روایت کو وھم یا خطاء پر محمول کر دیتے ہیں کیونکہ انکے بقول ترک رفع الیدین ثابت نہیں

 

جبکہ یہ بات تحقیقا ثابت ہو چکی کہ نبی پاک ۹ ہجری تک رفع الیدین کرتے رہے یعنی زیادہ عرصہ رفع الدین کیا تو اسی وجہ سے ان سے صحابہ کی زیادہ تعداد رفع الیدین کی روایات قولی اور فعلی بیان کرنے والی بن گئی

لیکن چونکہ ہم نے نبی کی آخری نماز اور اس سنت پر عمل کرنا ہے جسکو نبی نے جاری نہ رکھا بلکہ ترک کردیا اب اس فعل کو ترک کرنا احناف و مالکیہ اور دیگر ائمہ کے لیے سنت بن گیا

اور ترک کی روایات اس وجہ سے کم ہو گئیں

لیکن کبیر تابعین جو خلفاء راشدین کے دور میں پیدا ہونے والے ہیں

جیسا کہ ابراہیم النخعی

ابو اسحاق

امام شعبی

 

بلکہ امام قیس بن ابی حازم تو نبی اکرمﷺ کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے یہاں تک کہ انکے بارے مشہور ہو گیا کہ وہ صحابی رسولﷺ ہیں لیکن انہوں نے نبی اکرمﷺ کو نہیں دیکھا تھا ۔ وہ حضرت ابوبکر ؓ کی خدمت میں رہے پھر حضرت عمرؓ کے ساتھ رہے پھر حضرت عثمان اور پھر حضرت علی کے ساتھ رہے ۔

اسکے علاوہ وہ عشرہ مبشرہ صحابہ کے بھی شاگرد ہیں

 

وہ بھی رفع الیدین نہیں کرتے تھے ۔ اور ان سے بہتر سند محدثین نے کسی کی بھی بیان نہیں کی کیونکہ انکا سماع جید صحابہ سے تھا ۔ کوفہ میں ان سے بہتر کسی کی سند نہ تھی بقول امام ابو داود ۔

 

انہوں نے چونکہ صحابہ سے ڈریکٹ علمی فیض پایا جب یہ ترک پر عمل کرتے تھے تو امام اعظم ابی حنیفہ جو امام شعبی کے شاگردوں میں ہیں انہوں نے امام شعبی کی روایات و تحقیقات کو ہی پکڑا

لیکن طعن غیر مقلدین کا امام اعظم یا احناف پر کرنا انکی نری جہالت ہے

 

اب اسی اصول کو سمجھ لیا جائے تو ہماری تحقیق کو سمجھنے میں آسانی ہوگی اب آتے ہیں اثر بن عمر ترک رفع الیدین کی طرف :

 

امام ابن ابی شیبہ اپنی مصنف میں حضرت ابن عمرؓ سے سند صحیح سے روایت کرتے ہیں ؛

 

– حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَا يَفْتَتِحُ»

[مصنف ابن ابی شیبہ برقم : 2452]

 

اور امام طحاوی بھی اپنی مشہور تصنیف معانی الاثار میں سند صحیح سے یہی راویت لاتے ہیں :

 

حدثنا بن ابی داود حدثنا احمد بن یونس ثنا ابو بکر بن عیاش عن حصیں عن مجاہد الخ۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اس روایت کے سارے رجال صحیحین کے رجال کے ہیں اور سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے

 

اس پر زبیر زئی نے اپنی تصنیف نور العینین میں امام بخاری والی نقل ماری ہے

 

کہ امام بخارری نے کہا امام یحییٰ بن معین ؒ فرماتے ہیں کہ ابو بکر بن عیاش کا وھم ہے اور اس روایت کی کوئی اصل نہیں ہے اور ابو بکر بن عیاش کو اختلاط بھی ہو گیا تھا

امام احمد نے اس روایت کو باطل

اور امام بن معین نے کہا اسکی کوئی اصل نہیں

(نور العینین زبیری زئی )

 

الجواب :

 

پہلے ہم امام بخاری اور امام احمد اور امام ابن معین کا موقف مکمل پیش کرتے ہیں :

اور اما م بخاری نے اپنی دلیل کیا دی ہے ؟ وہ بھی بیان کرتے ہیں :

 

فَقَدْ خُولِفَ فِي ذَلِكَ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ وَكِيعٌ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ صُبَيْحٍ قَالَ رَأَيْتُ مُجَاهِدًا: يَرْفَعُ يَدَيْهِ “

وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنِ الرَّبِيعِ رَأَيْتُ مُجَاهِدًا: يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ “

وَقَالَ جَرِيرٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ «أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ» وَهَذَا أَحْفَظُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ

[قرة العينين برفع اليدين في الصلاة،امام بخاری]

 

امام بخاری کہتے ہیں : مجاہد سے اس(ابو بکر بن عیاش) کے مخالف وکیع نے الربیع سے بیان کیا میں نے مجاہد کو دیکھا رفع الیدین کرتے ہوئے

اور امام ابن مہدی لیث سے اور وہ مجاہد سے بیان کرتے ہیں کہ مجاہد رفع الیدین کرتے تھے

اور پھر امام بخاری کہتے ہیں یہ زیادہ حافظ ہیں اہل علم کے نزدیک

یعنی جو مجاہد سے انکا عمل بیان ک رہے ہیں

 

نوٹ : (اہم نقطہ)

یہ بات یاد رکھنے کی ہے امام بخاری نے ابو بکر بن عیاش کی مجاہد سے ابن عمر کا ترک کرنے والی روایت کو اس لیے ابو بکر کا وھم قرار دیا

کہ مجاہد کا خود کا عمل تھا کہ وہ رفع الیدین کرتے تھے تو بقول امام بخاری کے جو شاگرد خود رفع الیدین کرتا تھا وہ اپنے شیخ یعنی ابن عمر سے ترک رفع الیدین کی روایت کیسے بیان کر سکتا ہے ؟

 

اب امام احمد کی جرح اور اسکی دلیل پیش کرتے ہیں

اور امام احمد نے کہا کہ :

 

– وقال ابن هانىء: وسئل (يعني أبا عبد الله أحمد بن حنبل) عن حديث مجاهد: ما رأيت ابن عمر يرفع يديه إلا حين يفتتح الصلاة؟

قال: هذا خطأ، نافع وسالم أعرف بحديث ابن عمر، وإن كان مجاهد أقدم، فنافع أعلم منه.

[موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله4058]

 

بن ھانی نے کہا کہ سوال کرنے والے (یعنی عبداللہ بن احمد ) نے پوچھا مجاہد کی روایت کے بارے کہ میں نے دیکھا ابن عمر کو وہ صرف شروع میں رفع الیدین کرتے

امام احمد نے فرمایا: یہ خطاء یعنی غلطی ہے راوی کی نافع اور سالم نے ابن عمر سے روایت کیا ہے اسکے خلاف (یعنی رفع الیدین کرنے کا ) اور وہ مجاہد سے زیادہ جاننے والے ہیں

 

اور پھر دوسرا قول بیان کیا گیا ہے امام احمد سے

 

وسئل عن حديث ابن عمر في الرفع؟ قال: رواه أبو بكر بن عياش، عن حصين، عن مجاهد، عن ابن عمر، وهو باطل.

وقد روى عن ابن عمر، عن النبي – صلى الله عليه وسلم – خلاف ذلك.

وقد روى عنه مرسلاً خلاف ذلك، حديث الوليد، أنه كان إذا رأى رجلاً لم يرفع يده حصبه. «سؤالاته» (237) .

[موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله]

 

امام احمد سے سوال کیا گیا حدیث ابن عمر کا ہاتھ اٹھانے کے تعلق سے فرمایا : کہ یہ باطل ہے (یہ جرح مبھم ہے اور مبھم جرح قابل رد ہوتی ہے جسکا سبب بیان نہ کیا جائے جبکہ سند تو صحیحین کی شرط پر صحیح ہے اور متن بھی متابعت و شواہد سے ثابت ہے یعنی متن بھی منفرد نہیں

 

کیونکہ ابن عمر ؓ نبی پاک سے اسکے مخالف بیان کرتے ہیں

اور ان سے مرسل یہ بیان ہے جسکو ولید نے بیان کیا ہے کہ جب ابن عمر کسی کو نماز میں رفع الیدین کرتا نہ دیکھتے تو اسکو پتھر مارتے

 

نوٹ : (اہم نقطہ)

 

یہاں پر امام احمد کا اس روایت کو رد کرنے اور ابو بکر بن عیاش کی روایت کو وھم و خطاء کہنے کی وجہ وہ خود بیان کر رہے ہیں کہ ایک تو حضرت ابن عمر خود نبی سے ابو بکر بن عیاش کی بیان کردہ روایت کے خلاف متن بیان کرتے ہیں

اور پھر انکا خود کا عمل یہ تھا کہ وہ رفع الیدین نہ کرنے والے کو کنکریاں مارتے تھے

 

اب خلاصہ

 

۱۔ امام بخاری نے اس روایت کا رد اس لیے کیا کہ

مجاہد خود رفع الیدین کرتے تھے بقول انکے

اور امام ابن معین نے وھم بنا دیا بغیر دلیل کے کیونکہ احمد بن یونس اور امام ابن ابی شیبہ کا سماع حضرت ابو بکر بن عیاش سے قدیم ہے اور صحیح ہے اور ابن عیاش کی روایات حصین سے بھی بالکل صحیح ہوتی ہیں

 

جیسا کہ خود بخاری نے اپنی صحیح میں بطور احتجاج لیا ہے

ایسے ہی

امام مسلم نے اپنی صحیح میں

امام ابن خذیمہ نے اپنی صحیح میں

امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں

امام حاکم نے اپنی مستدرک میں (اور امام ذھبی نے بھی موافقت کرتے ہیں شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے اس طریق کو )

امام ابی عوانہ نے اپنی مسند میں

الغرص سب محدثین کے نزدیک یہ طریق اصح ہے

 

۲۔ امام احمد نے اس روایت کا رد ایک بار اس لیے کیا کہ

نافع اور سالم مجاہد کے خلاف بیان کر رہے ہیں اور یہاں بقول امام احمد کے غلطی مجاہد کو لگی ہے کیونہ نافع اور الم مجاہد سے زیادہ علم رکھتے تھے اثر حضرت ابن عمر کا

 

۳۔ امام احمد ا س روایت کا رد اس وجہ سے بھی کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر کا رفع الیدین کا عمل اور حدیث روایت کرنے کو بیان کرتے ہوئے اپنے پہلے موقف کو تقویت دی کہ سالم اور نافع کی بات اصح ہے

 

اسی طرح دارقطنی نے بھی یہی علت بیان کی اور یہ اضافہ کردیا کہ وھم شاید ابو بکر یا حصین سے ہوا ہے

جبکہ امام دارقطنی کی جرح سے معلوم ہوا کہ علل کے ناقدین کا استدلال اس لحاظ سے بھی ہوتا تھا کہ اکثر کے خلاف جو ایک ثقہ راوی بیا ن کرے اور اسکا کوئی متابع یا شاہد بھی نہ ہو

تو وہ اس روایت کو ثقہ کا وھم سمجھتے تھے

 

یہ بات اصول کافی حد تک صحیح ہے کہ ایسے راوی کا وھم کی طرف غالب گمان ہوتا ہے

جیسا کہ یہاں اوپر تمام محدثین نے

مجاہد کے خلاف نافع اور سالم

ابو بکر بن عیاش کے خلاف حضرت بن عمر کی مرفوع روایت

اور

حضرت ابن عمر کا کنکر مارنے والی روایت کو ابو بکر بن عیاش کی مخالفت اوثق سے بیان کر کے خطاء پر محمول کیا ابو بکر بن عیاش کی روایت کو اور اسکا تفرد قرار دیا

 

اب ہم انکا جواب اللہ کے فضل سے دینے کی کوشش کرتے ہیں ؛

 

سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ ابو بکر بن عیاش

اور مجاہد حضرت ابن عمر سے ترک رفع الیدین بیان کرنے میں منفرد ہیں ؟

یا کوئی شواہد یا متابعت موجود ہے ؟

 

نوٹ :

امام ابو بکر بن عیاش ثقہ صحیحین کے راوی ہیں اور انکی روایت کی شاہد سند ضعیف یا حسن یا صحیح ان میں سے کوئی ایک بھی ثابت ہو جائے تو یہ جرح باطل ہو جاتی ہے کہ راوی کو وھم ہوا ہے کیونکہ اپنی روایت میں وہ منفرد نہیں ہے اور جو گمان وھم یا خطاء کا ہوتا ہے وہ رفع ہو جاتا ہے

 

پہلا شاہد بطور تقویت :

 

– قَالَ مُحَمَّدٌ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةِ افْتِتَاحِ الصَّلاةِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُمَا فِيمَا سِوَى ذَلِكَ

[موطأ مالك برواية محمد بن الحسن الشيباني108]

 

امام محمد فرماتے ہیں : مجھے خبر دی محمد بن ابان بن صالح انہوں نے عبدالعزیز بن حکیم سے

کہ میں نے ابن عمر کو دیکھا وہ نماز میں سوائے شروع کے رفع الیدین کرنے کے بعد اسکی طرف نہ لوٹتے

اب اس روایت میں مجاہد کا متابع عبدالعزیز بن حکیم ہے

اور ان سے بیان کرنے والا محمد بن ابان صالح ہے

جو ضعیف راوی ہے لیکن متابعت و شواہد میں اسکی روایت قبول ہوتی ہے

 

اب اس میں مجاہد کا متابع حضرت ابن عمر کا دوسرا شاگرد عبد العزیز بن حکیم ہے تو مجاہد کا تفرد نہ رہا

 

جسکی وجہ سے امام احمد کا مجاہد کے مقابل کے طاوس وغیرہ کو ذکر کرنا بیکار ثابت ہوا بلکہ طاوس تو طلاق ثالثہ میں خود منکر روایت بیان کر چکا ہے ابن عباس سے تو اسکی روایت میں نکارت کا احتمال زیادہ ہے بجائے مجاہد کے اور مجاہد کا متابع عبد العزیز بن حکیم موجود ہے

 

اور ابو بکر بھی حضرت ابن عمر سے ترک رفع الیدین بیان کرنے والے منفرد نہ رہے جیسا کہ اس روایت پر بخاری و امام ابن معین کی مبھم جرح تھی وہ بھی ساقط ہوئی

کیونکہ انکا متابع ابان بن صالح ہے جو متابعت و شواہد میں معتبر راوی ہے جس پر پچھلی تحریر میں تفصیلی کلام لکھا ہے

 

اور پھر حضرت ابن عمر سے تیسرا جید شاہد بھی ثابت کیا تھا جسکی اپنی منفرد سند بھی حسن ہے اور اس میں ابن عباس بھی موجود ہیں انکے ساتھ

 

حضرت ابن عمر سے صرف شروع میں رفع الیدین کا تیسرا اثر سند حسن و صحیح سے :

جس میں مقیم راوی تفرد ختم کر دیتا ہے

مجاہد کا

عبد العزیز بن حکم کا

اور یہ تین راوی ایک دوسرے کے موافق راویت بیان کر رہے ہیں

 

– حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُقِيمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” تُرْفَعُ الأَيْدِي فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ: افْتِتَاحِ الصَّلاةِ، وَاسْتِقْبَالِ الْبَيْتِ، وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَالْمَوْقِفَيْنِ، وَعِنْدَ الْحَجَرِ “.

[كشف الأستار عن زوائد البزار، امام ہیثمی 519]

 

وَقَالَ الْبَزَّارُ فِي مُسْنَدِهِ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٌ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: “تُرْفَعُ الْأَيْدِي فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ: افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ. وَاسْتِقْبَالِ الْبَيْتِ. وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. وَالْمَوْقِفَيْنِ. وَعِنْدَ الْحَجَرِ”

[مسند البزار بحوالہ نصب الرائیہ]

(سند حسن )

حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے : کہ نبی کریم نے فرمایا ۔ رفع الیدین سات مقامات پر کیا جائے گا نماز کے شروع میں بیت اللہ کی زیارت کے وقت صفاءو مروہ پر ، عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کے وقت اور رمی جمار کے وقت بھی

 

پھر امام طحاوی نے امام بخاری و احمد کی بات کا رد بھی دلائل سے کیا

 

جسکے دلائل ہم نے سابقہ تحریر میں لکھے تھے جس میں ابن عیاش کا اپنا قول تھا

 

تو امام طحاوی خود ابو بکر بن عیاش کا قول سند صحیح سے نقل کرتے ہیں :

 

حدثنی ابن ابی داود قال : ثنا احمد بن یونس، قال ثنا ابو بکر بن عیاش قال: مارایت فقیھا قط یفعله رفع یدہ غیر تکبیر اولیٰ

امام ابو بکر بن عیاش (جو حضرت ابن عمر سے اثر ترک رفع الیدین بیان کرتے ہیں )

وہ فرماتے ہیں میں نے کسی اہل علم فقیہ کو نماز میں سوائے شروع کے پھر رفع الیدین کرتے نہیں پایا

[شرح معانی الاثار ، برقم : 1367]

 

یہاں امام طحاوی نے امام احمد کے اس دعوے کی نفی کی ہے کہ طاوس وغیرہم رفع الیدین کرتے تھے یا مجاہد جو خود رفع الیدین کرتا تھا وہ ترک کا قول کیسے بیان کر سکتا ہے ابن عمر سے

 

تو عرض ہے کہ مجاہد رفع الیدین کرتے تھے تو کیا وفات تک انکے رفع الیدین کرنے کی تصریح تو نہیں ہے

تو ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ

 

مجاہد نے جب ابن عمر سے ترک کا عمل بیان کر دیا تو وہ خود بھی مطلع ہونے کے بعدترک کے قائل ہو گئے

اور

مجاہد کو دیکھنے والے امام حصین بھی ترک کے قائل ہو گئے

 

اور

 

انکے شاگرد امام ابو بکر بن عیاش بھی ترک کے قائل ہو گئے

 

یہی وجہ ہے کہ ابو بکر بن عیاش نے فرمایا کہ انہوں نے کسی فقیہ عالم کو نہیں دیکھا جوسوائے شروع کے پھر رفع الیدین کرتا ہو

 

تو جیسے بخاری و احمد نے قیاس کیا کہ مجاہد رفع الیدین کرتے ہوئے ترک کا عمل کیسے بیان کر سکتے ہیں

 

تو

 

ایسے ہی ہم کہتے ہیں کہ جب مجاہد ترک کا عمل بیان کر دیا تو وہ خود کیسے رفع الیدین بعد میں کر سکتے ہیں اگر کرتے ہوئے تو انکے تلامذہ بھی کرتے اور پھر ابو بکر بن عیاش بھی انکو دیکھ لیتے کرتے ہوئے رفع الیدین لیکن معاملہ اسکے بر عکس ہے

 

امام ابو بکر بن عیاش جو امام بخاری کے شیخین اور امام ابو حنیفہ و امام مالک کے ہم عصر تھے اور کوفہ کے جید محدثین میں انکا شمارتھا یہ بھی اپنے وقت کے مجتہد محدث تھے

جب انکا اپنا مذہب بھی ترک رفع الیدین کا تھا تو وہ کیسے اپنے مذہب کی تائید کی روایت میں دھوکا کھا گئے ؟

بلکہ انکا تو استدلال بھی اسکی روایات کے تحت تھا

نوٹ: (اہم نقطہ)

 

یاد رہے امام طحاوی نے ابو بکر بن عیاش کا یہ قول انکے شاگرد احمد بن یونس سے لیا ہے

اور امام بخاری نے جو اپنی صحیح میں ابو بکر بن عیاش سے تفسیر کے باب میں استدلال کیا ہے وہ روایات بھی احمد بن یونس سے مروی ہیں

تو امام طحاوی نے اس راوی کا مذہب بیان کر کے سارے اعتراضات اور گمان کا رد کر دیا

اور اس پر ہم شافعی ناقد و محدث امام ابن حجر کی گواہی بھی پیش کرتے ہیں جو شوافع کے دلائل کو تقویت دیتے اور اپنے مذہب کے خلاف روایات کو ضعیف قرار دینے میں تھوڑے متعصب ضرور تھے لیکن انکو بھی فتح الباری میں یہ تسلیم کرنا پڑا کہ اس روایت میں تطبیق تو ممکن ہے ایسا نہیں کہ روایت کو خلاف یا شاز بنا کر رد کیا جائے

 

تو انکو کہنا پڑا :

 

مَعَ أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ مُمْكِنٌ وَهُوَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَرَاهُ وَاجِبًا فَفَعَلَهُ تَارَةً وَتَرَكَهُ أُخْرَى

 

ان دونوں روایات کو جمع کرنا ممکن ہے وہ یہ کہ وہ (ابن عمر ) رفع الیدین کو واجب نہیں سمجھتے تھے تبھی پہلے کرتے تھے پھر ترک کر دیا

 

اسکے بعد پھر امام ابن حجر نے امام بخاری والی بات نقل کی اور پھر امام طحاوی کا ذکر کیا

[فتح الباری ، ابن حجر ، جلد ۵، ص ۲۲۹، کتاب الایمان۱۰]

 

جب ترک رفع الیدین کی روایات میں تطبیق ممکن ہے تو اسکو محدثین کا خطاء و وھم بنانا انکا اپنا منہج ہے جبکہ ہمارے منہج پر تو ترک رفع الیدین کی روایات اثبات رفع الیدین کی روایت کے خلاف نہیں بلکہ وہ روایات ہم ناسخ سے پہلے مانتے ہیں جو مرفوع ہیں

اور جو تابعین یا صحابہ سے ہیں تو انہیں سے ترک رفع الیدین صحیح الاسناد کو بھی ثابت مان کر انکی اثبات رفع الیدین کو پہلے کے عمل پر محمول کرتے ہوئے ترک رفع الیدین کی روایات کو ناسخ بناتے ہیں

یہی وجہ ہے کہ محدثین نے فقط متن میں تکرار کو وھم یا خطاء سمجھ لی جبکہ یہ فی حقیقت ایسا نہ تھا

 

اب کچھ غیر کے مقلدین ائمہ علل کے نقد پر بہت اچھل کھود کر رہے تھے اور کہتے ہیں کہ انکا رد تو کیا ہی نہیں جا سکتا ہے بس انہوں نے جو کہہ دیا اسکی تقلید ہوگی اور کوئی بھی جواب نہیں دیا جا سکتا

 

پھر امام بخاری نے آخری اعتراض یہ جڑ دیا کہ ابو بکر بن عیاش پہلے ابراہیم سے منطقع یعنی مرسل روایت بیان کرتے تھے پھر اختلاط کے بعد اسکو مجاہد سے تبدیل کر کے ابن عمر کا قول بیان کرنے لگ گئے

 

سبحان اللہ ؟؟؟؟

 

یہ کیسا اختلاط تھا کہ جس میں ابو بکر بن عیاش نے پوری کی پوری روایت ، رجال سمیت بدل دی ۔۔

اور امام بخاری کو کیسے پتہ کہ ابو بکر بن عیاش نے یہ روایت خود سنی ہوئی نہیں بلکہ اسکا وھم ہے اسکا ثبوت کیا تھا امام بخاری کے پا س؟

 

جبکہ امام ابو بکر بن عیاش حضرت ابراہیم سے مرسل نہیں بلکہ انکا قول بیان کرتے تھے

 

جیسا کہ امام ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں اسکو نقل کیا ہے :

حدثنا أبو بكر بن عياش، عن حصين، ومغيرة، عن إبراهيم، قال: «لا ترفع يديك في شيء من الصلاة إلا في الافتتاحة الأولى»

 

امام ابو بکر بن عیاش امام حصین کے حوالے سے اور مغیرہ کے حوالے سے حضرت ابراہیم النخعی سے بیان کرتے ہیں

ابراہیم فرماتے ہیں : نماز میں کہیں بھی رفع الیدین نہیں ہوگا ۔ سوائے تکبیر افتتاح کے وقت

[مصنف ابن ابی شیبہ وسند صحیح برقم : 2447]

 

اور پھر اسی باب میں امام ابن ابی شیبہ اور روایت بیان کرتے ہیں امام ابو بکر بن عیاش سے جو حضرت ابن عمر سے مروی ہے

 

حدثنا أبو بكر بن عياش، عن حصين، عن مجاهد، قال: «ما رأيت ابن عمر، يرفع يديه إلا في أول ما يفتتح»

 

امام ابو بکر بن عیاش حصین کے طریق سے مجاہد سے بیان کرتے ہیں : وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر کو خود دیکھا ہے وہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے سوائے تکبیر افتتاح کے وقت

[مصنف ابن ابی شیبہ وسند صحیح برقم : 2452]

 

تو یہ دو مختلف روایات ہیں نہ کہ اختلاط میں انجنئیرنگ کر دی تھی ابن عیاش نے جیسا کہ امام بخاری نے بغیر دلیل کے دعویٰ کر دیا

 

اب باقی وابی حضرات امام بخاری اور امام احمد کے کمزور دلائل کی تقلید جامد کر کے بیٹھ جائیں گے کہ نہیں وہ علل کے امام ہیں تمہاری اتنی اوقات نہیں کہ انکا رد کر سکو ۔۔ فلاں ڈھینگ جیسا کہ یہ اپنے دلائل کے دفاع میں کرتے ہیں

 

لیکن یہ بھول جاتے ہیں جب یہ رفع الیدین کی روایت ابو حمید ساعدی والی کو دلیل بنانے بیٹھتے ہیں تو اس روایت کو منقطع قرار دیا ہوا ہے امام ابو حاتم نے

 

جیسا کہ وہ علل میں کہتے ہیں :

 

وسألت أبي عن الحديث الذي رواه عبد الحميد بن جعفر ، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن أبي حميد الساعدي: في عشرة من أصحاب النبي ؛ في صفة صلاة النبي: فرفع اليدين … ؟

فقال: رواه الحسن بن الحر ، عن عيسى ابن عبد الله بن مالك، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن العباس بن سهل بن سعد، عن أبي حميد الساعدي، عن النبي (ص) ؛ بمثل حديث عبد الحميد بن جعفر. والحديث أصله صحيح؛ لأن فليح بن سليمان قد رواه عن العباس بن سهل، عن أبي حميد الساعدي.

قال أبي: فصار الحديث مرسل

 

ابن ابی حاتم کہتے ہیں میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ حدیث کے بارے جسکو عبد الحمید بن جعفر محمد بن عمرو بن عطاء کے طرقی سے ابی حمید ساعدی سے بیان کرتا ہے ۔ جس میں دس اصحاب رسولﷺ کا ذکر ہے رفع الیدین کے باب میں

 

تو انہوں نے کہا کہ اسکو الحسن بن الحر نے عیسیٰ بن عبداللہ سے محمد بن عمرو بن عطاء کے طریق سے عباس بن سھل سے اور انہوں نے ابی حمید سے نبی کریم سے بیان کیا ہے عبد الحمید بن جعفر کی مثل ۔

اور اس حدیث کی اصل صحیح ہے (اس سے مراد کہ یہ واقعہ صحیح ثابت ہے جیسا کہ اسکو بخاری نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے جس میں فقط شروع میں رفع الیدین کا ذکر ہے بس )

اور فلیح بن سلیمان نے بھی اسکو عباس بن سھل کے طریق سے بیان کیا ہے

اور یہ روایت مرسل یعنی منطقع ہے

(ابی حاتم کے نزدیک محمد بن عمرو بن عطاء نے ابو حمید سے سماع نہیں کیا )

 

لیکن اسکا رد زبیر زئی جیسا بندہ کرنے بیٹھ گیا تو اسکو وابی حضرات ابو بنا لیتے ہیں تو یہ تضاد ہوگا

 

بلکہ بغیر دلائل کے انکے زبیر میاں تو بخاری کو بھی لتاڑ دیتے تھے

 

جیسا کہ ایک جگہ لکھتا ہے :

 

 

اصول حدیث اور اسماء الرجال کی رو سے صحیح و حسن حدیث جو صحیح بخاری یا مسلم میں موجود ہو ، اس پر اس طرح کی مبہم جرح ناقابل سماعت ہوتی ہے

(مقالات ۶ ، ص 398)

 

یعنی اس زبیری نے یہ بات تو صحیح کی کہ صحیح و حسن روایات پر جرح مبہم قابل قبول نہیں ہوتی لیکن صحیحٰن کی شرط اس نے کہاں سے لگائی ؟

اگر اسکو قبول بھی کیا جائے تو ہماری پیش کردہ روایت بھی صحیحین کی شرط پر ہے

 

اور باقی زبیر ی نے اپنے مقالے میں امام بخاری کی جروحات کا خود رد کرتا ہے

 

ایک جگہ امام بخاری سے جرح نقل کرتا ہے :

امام بخاری نے فرمایا کہ معروف یہ ہے کہ عثمان کے زمانے میں معاویہ کے دور امارت میں ابو زر شام میں تھے اور یزی کے زمانے میں فوت ہوئے اور عمر کے زمانے میں ابو زر کا شام آنا معروف نہیں

 

(التاریخ الاوسط بخاری )

 

اسکا جواب زبیرزئی دیتا ہے :

اس کا جواب یہ ہے کہ امام بخاری نے اپنے ا دعوے کی کوئی دلیل بیان نہیں کی اور کسی بات کو معروف ہونا اس کے صحیح یا ضعیف ہونے کی دلیل نہیں ہوتا بلکہ صحیح سند والی روایت صحیح ہوتی ہے چاہے مشہور یا نہ ہو

اصول حدیث کتابوں میں بی یہ بتایا گیا کہ مشہور حدیث صحیح بھی ہوتی ہں اور حسن بی ہوتی ہیں ایسی بھی ہوتی ہے کہ جسک ی اصل نہین ہوتی اور کلتیا موضوع بھی

[مقالات ج۶، ص ۳۸۰]

 

اب یہ امام بخاری کی باتوں کا رد اس لیے کر سکتا ہے کہ اسکے نزدیک امام بخاری کی بات ایک صحیح سند اقوال کے خلاف ہے تو سند کے بغیر امام بخاری کوئی بات کر دیں تو ہم قبول نہیں کرتے جبکہ کسی بھی دلیل کو رد یا قبول کرنے کا معیار سند صحیح یا حسن ہونا ہے

 

پھر آگے زبیرزئی لکھتا ہے کہ صحیح حدیث کے سامنے امام بخاری کی جرح مبہم کون سنتا ہے ؟؟؟؟

 

یہی ہم کہتے ہیں صحیح الاسناد اثار و حدیث کے سامنے دوسری صدی ہجری کے علل کے اماموں کی کون سنتا ہے

 

اور بعد والے اماموں کا ترک رفع الیدین کی روایات پر کمزور اعتراض کو سنجیدہ لینا بنتا ہی نہیں ہے کیونکہ یہ زمینی حقائق کے بھی خلاف ہے اور خود انکے منہج کے بھی خلاف ہے

 

جیسا کہ

حضرت ابراہیم ، امام شعبی ، امام خثیمہ ، امام قیس بن حازم جو نبی کریم کی زندگی میں پیدا ہوئے ، امام علقمہ ، امام اسود ، اما م ابو اسحاق ، اصحاب ابن مسعود و مولا علی یہ سب رفع الیدین نہ کرتے تھے

 

اسکا انکا محدثین کو بھی نہیں تھا

 

تو ہم کہتے ہیں جو روایات یہ لوگ بیان کرتے اور جو عرصہ انہوں نے صحابہ کے ساتھ براہ راست گزارا جب یہ ترک پر عمل کرتے تھے

 

تو محدثین کی یہ اوقات کس نے بنائی ہے کہ وہ یہ جہالت گھمائیں کہ تابعین کے عمل کو ہم نہیں دیکھتے انکی روایات ہمارے تحکیک میں ضعیف ہیں اور ہم نبی اکرمﷺ کی احاددیث پر عمل کرینگے

 

جبکہ ان محدثین کے جراثیم بھی ابھی انکے والدین کے گٹھنوں میں نہ ہونگے اس دور میں امام

قیس بن ابی حازم خلفائے راشدین کے ساتھ رہتے

اور امام شعبی مولا علی کے پیچھے نمازیں پڑھتے

اور امام ابراہیم اصحاب ابن مسعود میں رہتے

اور اصحاب مولا علی و ابن مسعود نبی اکرمﷺ کی احادیث و سنت کا زیادہ علم جاننے والے تھے

 

تو ان تابعین کا عمل ترک کا اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ جمہور صحابہ و تابعین کا موقف یہی تھا کہ اثبات کی روایات منسوخ ہیں

 

کیونکہ تابعین کا عمومی عمل جمہور صحابہ کے موقف پر ہوتا ہے

 

اسی لیے امام ترمذی نے فرمایا کہ

 

ترک رفع الیدین کا عمل غیر واحد صحابہ اور تابعین کا ہے جبکہ اثبات رفع الیدین بعض صحابہ و تابعین کا ہے

 

دعاگو : اسد الطحاوی الحنفی