کیا گوہ کھانا حلال ہے؟

اہل سنت احناف گوہ کا گوشت کھانے کو حرام سمجھتے ہیں جبکہ باقی مذاھب اور وہابیہ اسے حلال سمجھتے ہیں۔ اس پر احناف کے پاس یہ دلائل ہیں:

عبدالرحمٰن بن شبل اوسی انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کا گوشت کھانے سے منع فرمایا

سنن ابو داود # 3796، مشکاة # 4127۔ اس کو البانی نے حسن کہا۔

احناف قرآن کی اس آیت سے بھی استدلال کرتے ہیں:

۔۔۔وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الۡخَبٰٓئِثَ۔۔۔

ترجمہ: ۔۔۔(نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر ) پاکیزہ چیزوں کو حلال بناتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں۔۔

سورہ الاعراف، آیت 157

فیگر مذاھب اور وہابیہ کی یہ دلیل ہے:

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ خالد بن ولید ؓ نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں میمونہ ؓ کے پاس گئے اور وہ خالد بن ولید کی اور ابن عباس کی خالہ ہیں ، انہوں نے ان کے ہاں بھنا ہوا سانڈا(گوہ) پایا ، میمونہ ؓ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں وہ پیش کیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سانڈے سے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا تو خالد ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا سانڈا حرام ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، لیکن یہ میری قوم کے علاقے میں پایا نہیں جاتا اس لیے میں طبعی طور پر اسے ناپسند کرتا ہوں ۔‘‘ خالد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اسے اپنے قریب کر لیا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری طرف دیکھ رہے تھے ۔ متفق علیہ

مشکاة # 4111

احناف کہتے ہیں کہ ایسی روایات اوپر ابو داود والی روایت کی وجہ سے منسوخ ہیں۔ اور قرآن کی نص سے بھی خبائس کا کھانا حرام ثابت ہوتا ہے اور یہ انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ گوہ اور ایسی چھپکلیوں کو خبائس سمجھتے ہیں۔