موسیقی اور جاوید احمد غامدی

تحریر : محمّد سلیم

جاوید احمد غامدی کے مطابق موسیقی حرام نہیں ہے ۔ کیوں کہ قران نے اس کو حرام قرار نہیں دیا ۔ حدیث دیتی ہے ؟ دیتی رہے ۔

صحیح بخاری ۔ حدیث نمبر 5590

مجھ سے ابوعامر رضی اللہ عنہ یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! انہوں نے جھوٹ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو شرم گاہ، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور موسیقی کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر ( اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے ) چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ رات کو ان کو ( ان کی سرکشی کی وجہ سے ) ہلاک کر دے گا پہاڑ کو ( ان پر ) گرا دے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کر دے گا۔

غامدی صاحب کے موسیقی کو حلال قرار دینے کی کئی وجوہات ہیں ۔

پہلی وجہ

قران مجید کی سورہ الاعراف آیت نمبر 33 کے مطابق ﷲ نے کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ صرف پانچ چیزیں حرام کی ہیں ۔

1 ۔ کوئی فحش کام نہیں ہونا چاہئے ۔

2 ۔ حق تلفی نہیں ہونی چاہئے ۔

3 ۔ کسی کی جان مال آبرو کی حق تلفی نہیں ہونی چاہئے ۔

4 ۔ ﷲ کی طرف کوئی بات منسوب کر کے کہا جائے کہ یہ ﷲ کا دین ہے اور وہ ﷲ کا دین نہ ہو ۔

5 ۔ شرک کرنا ۔”

ان پانچ چیزوں میں چونکہ موسیقی شامل نہیں ہے لہٰذا وہ موسیقی کو حرام نہیں سمجھتے ۔

دوسری وجہ

نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کے سامنے بچیوں نے دف پر گانا گایا اور آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا ۔

تیسری وجہ

ابن ماجہ میں 2341 نمبر حدیث ہے ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعَ قِرَاءَةَ رَجُلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا؟، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ .

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی قراءت سنی تو پوچھا: یہ کون ہے؟ عرض کیا گیا: عبداللہ بن قیس ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں داؤد ( علیہ السلام ) کی مزامیر میں سے حصہ ملا ہے ۔

اس حدیث میں لفظ مزامیر آیا ہے جو موسیقی کے آلات کو کہتے ہیں ۔

چوتھی وجہ

حضرت داؤد علیہ السلام کو ﷲ نے خوش الحان آواز کا معجزہ دیا تھا اور بائبل کے مطابق وہ زبور کی تلاوت سازوں کے ساتھ کیا کرتے تھے ۔ لہٰذا موسیقی حرام کیسے ہو سکتی ہے ؟

پانچویں وجہ

صحیح بخاری ۔ حدیث نمبر 5590 میں موسیقی کے علاوہ جن چیزوں کی حرمت کا ذکر ہے وہ بھی کسی نہ کسی شکل میں حلال ہیں جیسے شرم گاہ نکاح سے حلال ہو جاتی ہے لہٰذا اس حدیث میں موسیقی صرف اس صورت میں حرام ہو گی اگر اس میں فحاشی یا گناہ کا عنصر ہو ۔

یہ ہیں وہ پانچ وجوہات جن کی بنا پر غامدی صاحب موسیقی کو حلال قرار دیتے ہیں ۔

سب سے پہلے تو ایک اصول کو سمجھ لیں ۔

اگر اصول یہ ہے کہ کسی بھی چیز کو حرام یا حلال قرار دینے کا حق صرف ﷲ کو ہے تو اس اصول کے بارے میں جس ہستی کو سب سے زیادہ علم ہونا چاہیئے وہ ہیں خود نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کہ جن پر قران نازل ہوا ۔

اس کے باوجود اگر ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے قران سے ہٹ کر بھی کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے تو اس کی چند وجوہات ہو سکتی ہیں ۔

١ ۔ نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کو یہ حکم ﷲ ہی کی طرف سے وحی غیر متلو کے ذریعے دیا گیا ہو ۔

٢ ۔ نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے کچھ ایسی چیزوں کو حرام قرار دے دیا جن کو ﷲ نے حرام نہیں کیا ۔

٣ ۔ وہ تمام احادیث جھوٹ پر مبنی ہیں جن میں نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم نے قران سے ہٹ کر کسی چیز کو حرام قرار دیا ۔

دوسری صورت کہ نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم جن پر قران نازل ہوا اپنے اختیارات سے تجاوز کر جائیں ممکن ہی نہیں ہے اور اگر کوئی شخص اس صورت کو ممکن سمجھتا ہے تو اسے اپنے ایمان کی خیر منانی چاہئے کیوں کہ ایسے شخص کو کم از کم مسلمان تو نہیں کہا جا سکتا ۔

تیسری صورت کو اگر تسلیم کر لیا جائے تو اس کا مطلب وہی نکلے گا جسے میں نے پچھلے حصے میں بیان کیا کہ تمام وہ محدثین جنہوں نے وہ احادیث بیان کیں, تمام ائمہ کرام جنہوں نے موسیقی کی حرمت کے فتوے دیئے, تمام وہ صحابہ کرام تابعین تبع تابعین جنہوں نے ایسی حدیثوں کو روایت کیا وہ سب کے سب جہنمی ہیں کیوں کہ نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کا یہ کھلا اعلان ہے کہ جس شخص نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔

کیا یہ صورت ممکن ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد چودہ صدیوں تک کے تمام علماء جہنمی ہوں اور پھر ایک جنتی شخص جاوید احمد غامدی کے نام سے پیدا ہوا ؟

یہاں یہ اعتراض اٹھایا جا سکتا ہے کہ تمام کیوں ؟ صرف وہ بھی تو غلط ہو سکتے ہیں جنہوں نے موسیقی کو حرام کیا ۔

جی نہیں ۔

غامدی صاحب کا معاملہ صرف موسیقی کے گرد نہیں گھوم رہا ۔

وہ سورہ اعراف کی آیت سے استدلال لے کر ہر اس چیز کی حرمت کے خلاف ہیں جسے حدیث میں حرام کیا گیا ہو ۔ ایسی چیزوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن کا ذکر اگلے حصوں میں آئے گا ۔

یعنی اوپر مذکور تین صورتوں میں جو ہر ایک کے لیئے قابل قبول ہو سکتی ہے وہ پہلی صورت ہی ہے ۔

آگے چلیں ۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ غامدی صاحب نے سورہ اعراف کی آیت نمبر 33 سے کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ “صرف” چار چیزوں کی حرمت کا جو استدلال لیا ہے اس کی بنیاد ہی غلط ہے ۔

سورہ اعراف کی ان آیات کو اگر آپ شروع سے پڑھیں تو اس میں لباس کا موضوع زیر بحث ہے ۔ یعنی عرب قبائل میں کعبہ کا طواف برہنہ حالت میں کرنے کی رسم تھی اور اس رسم کو ﷲ سے منسوب کیا جاتا تھا ۔

اسی رسم کے خلاف یہ آیات ہیں جن میں پہلے یہ بتایا گیا کہ ﷲ بے حیائی کے حکم نہیں دیا کرتا ۔ پھر یہ بتایا گیا کہ لباس تو زینت ہے کس نے تم پر زینت کو حرام کیا ؟ اور پھر مزید وضاحت اس آیت میں آگئی کہ فحاشی تو بذات خود ﷲ کے ممنوعہ معاملات میں سے ہے ۔ انہیں ﷲ جائز کیسے قرار دے سکتا ہے ؟

اس آیت سے چار چیزوں کے سوا ہر چیز کی حلت کا فتویٰ اخذ کرنا بذات خود ایک جہالت ہے ۔

ذرا آیت کو پڑھیں ۔

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّىَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْـهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْـمَ وَالْبَغْىَ بِغَيْـرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّـٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطَانًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّـٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (33)

کہہ دو میرے رب نے بے حیائی کی باتوں کو حرام کیا ہے خواہ وہ علانیہ ہوں یا پوشیدہ، اور ہر گناہ کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو بھی، اور یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ جس کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، اور یہ کہ اللہ پر وہ باتیں کہو جو تم نہیں جانتے۔

غامدی صاحب نے یہاں لفظ “انما” کا ترجمہ “صرف” کے طور پر کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ صرف کا مطلب باقی ہر چیز کا انکار ۔ جبکہ عربی زبان میں یہ لفظ اس جگہ استعمال کیا جاتا ہے جہاں ایک کام کا انکار دوسرے کے اقرار سے ثابت کرنا ہو یعنی بالکل مختلف بات سے ۔

مثال کے طور پر کوئی کہے کہ کیا آپ چور کو دیکھا تھا ؟

جواب میں کہا جائے کہ میں نے تو صرف اس کے قدموں کی آواز سنی ہے ۔

اس جوابی جملے میں جو صرف استعمال ہوا ہے اس کے لیئے عربی میں لفظ انما استعمال ہوتا ہے ۔ یہاں اگر آپ جملے پر غور کریں تو اندازہ ہو گا کہ یہاں چور کو دیکھے جانے کا انکار کرنے کے لیئے صرف اس کے قدموں کی آواز سننے کا اقرار کیا جا رہا ہے ۔ اس سے کوئی بھی شخص یہ مراد نہیں لے گا کہ مذکورہ شخص نے چور کے قدموں کی آواز کے سوا کبھی کوئی آواز سنی ہی نہیں ۔

اس کی مثالیں قران میں جگہ جگہ موجود ہیں ۔

وَاِذَا قِيْلَ لَـهُـمْ لَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ قَالُوْا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ (11)

اور جب اُنہیں کہا جاتا ہے کہ ملک میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔

یہاں ملاحضہ فرمائیں ۔ جب ان سے کہا گیا کہ زمین پر فساد نہ ڈالو تو انہوں نے کہا انما نحن مصلحون ۔ ہم تو صرف اصلاح کر رہے ہیں ۔ کیا مطلب لیا جائے یہاں کہ وہ اصلاح کے سوا کچھ اور کرتے ہی نہیں ؟ یہاں ہر کام کا انکار نہیں بلکہ صرف اس بات کا انکار آئے گا جو اس وقت موضوع گفتگو ہے ۔

یہی معاملہ سورہ اعراف آیت 33 کے ساتھ بھی ہے کہ جب عرب کے لوگوں سے کعبہ کے برہنہ طواف کی بابت دلیل مانگی گئی تو انہوں نے یہ دعویٰ کر دیا کہ یہ برہنہ طواف کا حکم ﷲ ہی نے پچھلی کتابوں میں دیا تھا ۔

اس دعوے کے جواب میں ﷲ نے لفظ انما کے ساتھ یہ بتایا ہے کہ تم جس فحاشی کے حکم کا الزام ﷲ پر ڈال رہے ہو ﷲ کے احکامات اس کے بالکل خلاف فحاشی کو حرام قرار دیتے ہیں ۔

آپ قران میں جہاں جہاں انما کا لفظ استعمال ہوا ہے انہیں دونوں پیمانوں پر جانچ لیں ۔ اگر آپ وہ معنی مراد لیں گے جو غامدی صاحب نے مراد لیئے ہیں تو ترجمہ فہم سے باہر ہو جائے گا ۔ لیکن اگر وہ اصول لاگو کریں گے جو میں بتا رہا ہوں تو کسی ترجمے میں کوئی بگاڑ نہیں آئے گا بلکہ وہی ترجمہ ہو گا جو مروجہ ہے ۔

اب یہاں مجھے نہیں لگتا کہ غامدی صاحب کو اس ترجمے کا علم نہیں ہو گا ۔ کیوں کہ جس قسم کی علمیت کا وہ مظاہرہ کرتے ہیں یقیناً انہیں اس کا علم ہو گا ۔ اس کے باوجود اس مخصوص آیت میں وہ اگر انما سے یہی مراد لے رہے ہیں تو اس میں کم علمی سے زیادہ بدیانتی کا عمل دخل لگتا ہے ۔

چلیں پھر بھی میں کچھ دیر کے لیئے فرض کر لیتا ہوں کہ اس آیت میں صرف چار چیزوں کی حرمت کا مطلب باقی تمام چیزوں کی حلت ہے تب بھی غامدی صاحب کا مسئلہ حل نہیں ہوتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غامدی صاحب جب بھی اس آیت کی تشریح یا ترجمہ کسی پروگرام میں پیش کرتے ہیں تو انہیں کہنا پڑنا ہے کہ ﷲ نے “کھانے پینے کی اشیاء کے سوا” صرف یہ چار چیزیں حرام کی ہیں ۔

اب اگر غامدی صاحب سے صرف اتنا پوچھا جائے کہ اس آیت میں کن الفاظ کا ترجمہ آپ نے “کھانے پینے کی اشیاء کے سوا” کیا ہے ؟

اگر ﷲ نے صرف یہ چار چیزیں حرام کی ہیں تو باقی سب کچھ حلال ہے پھر چاہے وہ خنزیر کا گوشت ہو یا شراب ۔ کیوں کہ صرف کا مطلب تو صرف ہی ہوتا ہے ۔

غامدی صاحب جو جواب دیں گے وہ مجھ سے ابھی سن لیں ۔

وہ کہیں گے کہ کھانے کی چیزوں اور شراب وغیرہ کی حرمت کی وضاحت کسی اور آیت میں کر دی گئی ہے لہٰذا ان کو اس سے استثنیٰ حاصل ہے ۔

استثنیٰ کا یہ قانون غامدی صاحب بالکل ٹھیک استعمال کریں گے ۔ یعنی مجھے معلوم ہے کہ اگر میں یہاں بحث برائے بحث میں پڑ کر کہہ دوں کہ جناب صرف کا مطلب تو صرف ہی ہوتا ہے لہٰذا یہاں اگر صرف ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قرانی آیت کا قرانی آیت سے ہی ٹکرا جانا ثابت ہو جاتا ہے تو غامدی صاحب اس کا کوئی منطقی جواب نہیں دے سکتے ۔ مگر میرا مقصد چونکہ نیک ہے لہٰذا میں وہ بات نہیں کرتا جو مجھے زیب نہیں دیتی ۔ مگر اسی اصول استثنیٰ کو اگر میں نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کی موسیقی سے متعلق حدیث پر لاگو کرنے کو کہوں تو وہ حدیث پر یہ الزام لازمی عائد کریں گے کہ یہ تو اس قرانی آیت سے ٹکراتی ہے ۔ اسے کہتے ہیں بدنیتی ۔

یعنی استثنیٰ کا جو قانون وہ قران پر لاگو کرتے ہیں اسے وہ حدیث پر کسی صورت لاگو کرنے کو تیار نہیں ۔ جبکہ امت مسلمہ میں یہ اصول قران و حدیث دونوں پر لاگو ہوتا ہے ۔

دوسری وجہ موسیقی کے حلال ہونے کی وہ یہ بتاتے ہیں کہ نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کے سامنے بچیوں نے دف پر گانا گایا اور آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا ۔

اس حدیث کو اور اس قسم کی دوسری احادیث کو وہ بطور دلیل پیش کرتے ہیں ۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان احادیث کا انکار کیوں نہیں کرتے ؟

یہ بھی بخاری ہی کی ہے ۔

یہاں سے بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ دین کی کسی حلت یا حرمت کو حدیث سے لینے کے قائل نہیں ۔ جس حدیث میں کوئی شرعی حکم آئے گا اعتراض بھی بس اسی پر ہو گا ۔ اس کا تعلق حدیث کے صحیح یا ضعیف ہونے سے نہیں ہے ۔ بس حدیث میں کوئی شرعی حکم نہیں ہونا چاہیئے ۔

اس حدیث کی بابت میں پوری پوسٹ کر چکا ہوں جس میں میں نے یہ بات ثابت کی ہے کہ گانا اور موسیقی دو مختلف چیزیں ہے اور دونوں پر مختلف احکامات کا اطلاق ہو گا ۔ گانا ایک انسان کی قدرتی آواز ہے جب کہ موسیقی آلات سے مصنوعی طور پر پیدا کی جانے والی آواز کو کہتے ہیں ۔

یعنی اس حدیث سے صرف دف کے جائز ہونے کا ثبوت ملتا ہے ناکہ تمام آلات موسیقی کا ۔

تیسری وجہ ایک حدیث ہے جس میں ایک صحابی عبدﷲ بن قیس کی تلاوت سن کر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں داؤد علیہ السلام کی مزامیر کا ایک حصہ ملا ہے ۔

غامدی کے مطابق مزامیر آلات موسیقی کو کہتے ہیں لہٰذا موسیقی جائز ہے ۔ کسی حد تک یہ بات ٹھیک بھی ہے مگر یہاں فٹ نہیں بیٹھتی ۔

پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ مزامیر آلات موسیقی کو نہیں کہتے بلکہ مزامیر عربی میں اس آواز کو کہتے ہیں جسے حلق کے اتار چڑھاؤ یا منہ کی ہوا سے خوش الحان بنایا جائے ۔ بعد میں یہ لفظ ان آلاتِ موسیقی کے لیئے بھی استعمال ہونے لگا جن کو منہ کی ہوا سے بجایا جاتا ہے ۔ جیسے بانسری اور باجا وغیرہ ۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آج بھی قران کو خوش الحانی کے ساتھ پڑھنے کو مزامیر ہی کہا جاتا ہے ۔ حالانکہ اس میں کوئی موسیقی کا آلہ استعمال نہیں ہوتا ۔ یو ٹیوب پر یہ مزامیر بھری پڑی ہیں جن میں آپ کو قران کی تلاوت خوش الحان آواز میں ملے گی ۔

مزید اس کا ثبوت حدیث کے الفاظ سے بھی مل جاتا ہے کہ عبدﷲ بن قیس قران کی تلاوت بغیر موسیقی کے کر رہے تھے ناکہ موسیقی کے ساتھ ۔ مجھے نہیں لگتا کہ غامدی صاحب قران کی تلاوت کو موسیقی کے ساتھ جائز سمجھتے ہوں گے ۔

اگلا مرحلہ حضرت داؤد علیہ السلام کا ہے ۔ کیا وہ زبور کی تلاوت موسیقی کے ساتھ کیا کرتے تھے ؟ قران و حدیث کے مطابق ان کا معجزہ ان کی قدرتی خوش الحان آواز تھی نہ کہ بانسری بجانے کا فن ۔ اگر میں مزامیر سے مراد موسیقی کے آلات لوں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ﷲ نے داؤد علیہ السلام کو معجزے کے طور پر بانسری دی تھی ؟ یا بانسری بجانے کا فن ؟

یہاں یہ بھی مسئلہ ہے کہ داؤد علیہ السلام مزامیر کی دھن پر زبور کی تلاوت کر بھی نہیں سکتے تھے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مزامیر کو اگر آلات موسیقی کے لیئے استعمال بھی کیا جاتا ہے تو ان آلات موسیقی کے لیئے کیا جاتا ہے جو ہاتھ کے بجائے منہ سے بجائے جاتے ہیں ۔ یعنی اگر بانسری بجائی جائے تو تلاوت ممکن نہیں اور اگر تلاوت کی جائے تو بانسری بجانا محال ۔

ایک اور دلچسپ بات جو میں نے غامدی صاحب میں نوٹ کی وہ یہ کہ وہ داؤد علیہ السلام سے استدلال لیتے وقت بائبل کا حوالہ بھی دیتے ہیں کہ بائبل میں ان سازوں کا نام بھی بتایا گیا ہے جن پر داؤد علیہ السلام “گیت” گایا کرتے تھے ۔ اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلے حصے میں میں نے بتایا تھا کہ بخاری پر ان کے اعتراض کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کی حدیثیں بائبل سے ملتی جلتی ہیں ۔

یہاں خود بائبل سے حوالہ لے کر موسیقی حلال کر لی ۔ سبحان ﷲ ۔

پانچویں اور آخری وجہ وہ موسیقی کی حلت کی اسی حدیث سے بیان کرتے ہیں جس سے ہم موسیقی کی حرمت کا حکم لیتے ہیں ۔

غامدی صاحب کے مطابق جو باقی چیزیں اس حدیث میں بیان کی گئی ہیں وہ بھی کوئی مکمل حرام نہیں ہیں ۔

مثلاً شرم گاہ کو حرام کیا گیا ہے مگر وہ نکاح سے حلال بھی ہو جاتی ہے ۔

ریشم کو حرام کہا گیا جبکہ وہ عورت کے لیئے حلال بھی ہے ۔

شراب نوشی کو حرام کہا گیا ۔ اب یہ کون سے موقعے پر حلال ہو جاتی ہے اس کا ذکر غامدی صاحب نے نہیں کیا ۔

اسی طرح موسیقی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر حد سے بڑھے گی تو حرام ہو گی ورنہ حلال ہے ۔ فحش ہو گی تو حرام ہو گی ورنہ حلال ہے ۔

غامدی صاحب میں جو ایک قابلیت میں نے اور دیکھی وہ یہ ہے کہ جس معاملے کا کلی انکار نہ کر سکیں اس میں ایسا ابہام پیدا کر دیتے ہیں کہ انکار نہ کر کے بھی مقاصد حاصل کر لیتے ہیں ۔ یعنی وہ کام کر جاتے ہیں کہ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی ۔ اس قابلیت کا اظہار میں پہلے بھی ایک پوسٹ میں کر چکا ہوں جس میں وہ جہاد کو ایسی چیزوں سے مشروط کرتے ہیں جن کا ہونا ہی ممکن نہیں ۔

موسیقی کے معاملے میں بھی انہوں نے یہی کام کیا ہے ۔

موسیقی فحش نہیں ہونی چاہیئے ۔

سوال یہ ہے کہ ہم تو آج تک دیکھنے کی چیزوں میں یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ کیا فحش ہے اور کیا نہیں ۔ موسیقی سن کر یہ فیصلہ کون کرے گا کہ یہ فحش ہے یا نہیں ؟

کہاں وہ اخلاقیات کے دائرے کے اندر ہے اور کہاں باہر چلی جاتی ہے اس کا فیصلہ کرے گا کون ؟

پھر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ موسیقی آج کل کے دور میں اکیلے بیٹھ کر کرنے والا کام بھی نہیں ہے ۔ ایک گھر والے نے میوزک لگایا ہوا ہو تو اس کے پڑوسی کو مجبوراً سننا پڑے گا ۔ ممکن ہے جو موسیقی آپ پر حلال ہو وہ آپ کے پڑوسی کی نظر میں حرام ہو پھر کیا ہو گا ؟

یہ بڑا مضبوط سوال ہے کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ موسیقی کی کون سی قسم حرام ہے اور کون سی حلال ۔ شرم گاہ کی وضاحت سے تو قرآن و حدیث بھرے پڑے ہیں کہ آزاد شہوت رانی نہ کرتے پھرو بلکہ نکاح کرو یا لونڈیاں مخصوص کر لو ۔

موسیقی کی کیا وضاحت ہے ؟ طبلہ بجانا حلال ہے اور ڈرم بجانا حرام ؟ ستار حلال ہے گٹار حرام ؟ یا اسٹیریو سسٹم کا والیوم پچاس سے بلند نہ ہونے پائے ورنہ حرام ہو جائے گا ؟

یہ وضاحتیں کون کرے گا ؟

موسیقی حلال آپ نے کر دی کہ کچھ قسمیں موسیقی کی حلال ہیں اور کچھ حرام اب اس کی تفصیلات کہاں سے آئیں گی ؟ کیسے پتہ چلے گا کہ جو موسیقی ہم سن رہے ہیں وہ حلال ہے یا حرام ؟

اس کا صرف ایک ہی مطلب نکلتا ہے کہ جو لوگ پہلے موسیقی سنتے وقت حیا سے کام لیتے تھے کہ ہم ایک حرام کام کے مرتکب ہو رہے ہیں انہیں ایک اطمینان دے دیا گیا کہ جو مرضی کرو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔