اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ

وَ عَلٰی آلِکَ وَ اَصْحَابِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہِ ﷺ

’’بسم اللہ‘‘ کے فضائل

’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ کی فضیلتیں، برکتیں اور خوبیاں بہت زیادہ ہیں، ہم یہاں اختصار کے ساتھ اس کی چند خوبیوں اور برکتوں کو قرآن و حدیث کے ذریعہ واضح کر تے ہیں تاکہ مسلمان بھائی اس کی برکتوں سے اچھی طرح فائدہ اٹھا سکے۔

قرآن کی کنجی

قرآن مقدس اللہ  کی عظیم کتاب ہے۔ یہ برکت والی کتاب ہے۔ اس کی آیتیں مومنوں کے لئے شفا ہیں اس کے ایک ایک حرف میں د س دس نیکیاں اللہ  نے مقرر فرمائی ہیں قرآن مقدس دنیا وآخرت کی پریشانیوں کا علاج ہے قرآن مقدس رحمتوں کا خزانہ ہے لیکن اس عظیم رحمت والے خزانے سے مالا مال ہونا ہو تو پہلے سچے دل سے ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھو۔ پھر اس خزانے کو کھولو اور زیادہ سے زیادہ اللہ  کی رحمتوں کو حاصل کرو۔

سبحان اللہ! جب قرآن مقدس جیسی عظیم کتاب بغیر’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘کے نہیں کھلتی تو دوسرے جائز کام کی برکتیں بغیر ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘کے کیسے حاصل ہو سکتی ہیں۔

جائز کام کی ابتدا

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! ہر جائز کام سے پہلے’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ضرورپڑھ لیا کرو۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ اگر خدا نخواستہ اس کام میں کوئی عیب یا نقص رہنے والا ہوتو’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘کی برکت سے وہ نقص یا عیب دور ہو جائے گا اور اللہ د کی رحمت اس پر سایہ فگن ہوگی اور خدائے قدیر اس کام میں برکتیں عطا فرمادے گا۔

اس لئے کہ جو شخص اپنے جائز کام کی ابتدا میں اپنے رب د کو نہ بھولا تو بھلا اس کی رحمت اسے کیسے چھوڑ سکتی ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ حضور اقدس سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بھی اہم کام ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ سے شروع نہ کیا جائے وہ کام ناقص اور ادھورا رہتا ہے۔ لہٰذا جو بھی اپنے کام کو مکمل کرنا چاہے وہ بندہ اپنے کام کی ابتدا ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ سے ہی کرے۔

……… بخشش کا ذریعہ

حضرت علی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ بڑی عمدگی اور خوبی سے لکھا اس کی وجہ سے اس کی بخشش ہوگئی۔ ( درمنثور )

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! ہم’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ تو پڑھتے ہی ہیں لیکن عمدگی اور خوبی سے ایک بار پڑھ لیں تو بخشش کا ذریعہ بن جائے۔ لہٰذا جب بھی ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘پڑھیں تو نہایت ہی عمدگی اور خوبی سے پڑھاکریں۔ اس میں خدائے کریم کے تین اسمائے حُسنیٰ ہیں۔ ایک اسمِ ذات ’’اللّٰہ‘‘ اور دو اسمائے صفات’’الرَّحْمٰن‘‘ اور’’الرَّحِیْم‘‘ ان اسماء کو عمدگی اور خوبی سے پڑھنا در حقیقت اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے اور جو دل اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرے گااللہ تعالی اسے اپنے قربِ خاص سے ضرور سرفراز فرمائے گا۔

نرالا انداز

حضرت انس سے روایت ہے کہ مدنی آقا رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایاجو شخص اللہ د کی تعظیم کے لئے’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ عمدہ شکل میں تحریر کرے گا اللہ اسے بخش دے گا۔ ( دُرِّمنثور )

سچ ہے ؎

رحمتِ حق بہانہ می جوید

رحمت ِ حق بہا،نمی جوید

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! ذرا غور تو کرو ہمارے آقا ا کو ہم گنہ گاروں کاکتنا خیال ہے کہ کسی طرح امت کی بخشش ہو جائے۔ لیکن ہم کتنے غافل ہیں کہ اپنے آقا ﷺ کے فرمان کا خیال نہیں رکھتے۔ افسوس ! آج ہم اپنے بچوں کو انگریزی لکھنا، پڑھنا تو ضرور سکھاتے ہیں لیکن قرآن شریف پڑھنا اور لکھنا نہیں سکھاتے۔ اگر ہمیں یا ہماری اولاد کو عربی پڑھنا آتا تو مذکورہ حدیث پاک پر عمل پیرا ہوکر اپنی نجات تلاش کرتے اور ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ ادب کے ساتھ لکھتے تو آقا ﷺ کے فرمان کے مطابق پروردگار عزوجل ہمیں بخش دیتا۔ لہٰذا اپنے بچوں کو عربی لکھنا، پڑھنا ضرور سکھائو۔

حضرت موسیٰ کا علاج

حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ الصلوۃ والسلام ایک بار علیل ہو گئے اور شکم میں شدید درد ہوا آپ نے اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں اس کا ذکر کیا، اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو جنگل کی ایک گھاس بتائی۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اسے کھایا۔ اللہ کے فضل سے موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کو شفا مل گئی، پھر دوبارہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اسی مرض میں مبتلا ہوئے،آپ نے پھر وہی گھاس کھائی لیکن اس مرتبہ مرض بڑھ گیا، آپ نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کی اے پروردگار میں نے پہلے اسے کھایا تو فائدہ ہوا اور اب کھایا تو مرض بڑھ گیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی بار گھاس کیلئے تم میرے حکم سے گئے تھے لہٰذا شفا ملی اور دوسری بار تم خود گئے اس لئے مرض میں اضافہ ہو گیا، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ پوری دنیا زہرِ قاتل ہے اور اس کا تریاق (علاج )میرا نام ہے۔ سبحان اللہ (در منثور،تفسیر کبیر، ص؍۱۶۷)

ھلاکت سے حفاظت

مروی ہے کہ فرعون نے اپنی خدائی کے دعویٰ سے پہلے ایک محل بنوایا تھا اور اس کے باہر دروازہ پر ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ لکھنے کا حکم دیا تھاپھر جب اس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور اس کے پاس حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام بھیجے گئے، حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اس کو خدائے واحدپر ایمان لانے کی دعوت دی لیکن اس کی سرکشی اور شرک و کفر کو دیکھ کر بارگاہ الٰہی میں عرض کیا اے پروردگار !میں بار بار اس کو تیری طرف بلاتا ہوں لیکن اس میں مجھے کوئی بھلائی نظر نہیں آتی، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے موسیٰ تم اس کی ہلاکت چاہتے ہو۔ اے موسیٰ تم تو اس کے کفر کو دیکھ رہے ہو اور میں اپنا نام دیکھ رہا ہوںجو اس نے اپنے دروازے پر لکھ رکھا ہے۔

اہم نکتہ

امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس میں نکتہ یہ ہے کہ جس نے کلمۂ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ اپنے باہری دروازے پر لکھ لیا وہ ہلاکت سے بے خوف ہو گیا خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو تو بھلا اس مسلمان کا عالم کیا ہو گا جس نے ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ کو ساری زندگی اپنے قلب کی حیات کا ذریعہ بنائے رکھا ہو۔(در منثور)

میر ے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! آج اکثر مسلمان پریشانی کی شکایت کرتے ہیں لیکن اس کا سبب تلاش نہیں کرتے۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمانوں کے گھر وں کے باہر ی دروازوں پر اپنے نام کی پلیٹ تو لگی ہوتی ہے، لیکن اللہ  کے نام کی پلیٹ نہیں لگی ہوتی۔

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! ہمیں چاہئے کہ خوبصورت طریقے سے ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ باہری دروازہ پر لکھوا کر اس کی تختی باہر کے دروازہ پر لگا دیں انشاء اللہ گھر کی بھی حفاظت ہو گی اور گھر والوںکی بھی حفاظت ہوگی۔

تباہی سے چھٹکارہ

حضرت علی سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایاجب تم تباہی میں پڑ جائو تو ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ العَلِیِّ العَظِیْمِ‘‘ پڑھو۔ اس لئے کہ اللہ تعالی اس سے کئی طرح کی مصیبتیں دور فرماتا ہے۔

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! سب سے بڑی تباہی مال و دولت کی قلت نہیں۔ بلکہ انسان کا گناہوں کے دلدل میں دھنسنا ہے۔ اگر تباہی اورذلت وخواری کے دلدل سے باہر نکلناچاہتے ہو تو ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘کواپنا وظیفہ بنا لو۔

حضرت ابن عباس ص سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان نے ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ کے بارے میں حضور ﷺ سے دریافت فرمایاتو آپ نے ارشاد فرمایا یہ اللہ تعالی کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کے اور اللہ تعالی کے اسم اکبر کے درمیان آنکھ کی سیاہی اور سفیدی جتنا فاصلہ ہے۔(در منثور، تفسیر ابو حاتم وغیرہ)

تاجدار مدینہﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت ابوبکر کو اپنی انگوٹھی مرحمت فرمائی اورارشاد فرمایا اس میں ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ نقش کرالائو۔ حضرت ابو بکر  نے وہ انگو ٹھی نقاش کو دی اور اس سے فرما یا اس میں ’’لَاَ اِلٰہَ اِلّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ نقش کر دو، نقاش نے اس میں لاَ اِلٰہَ اِلّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘نقش کر دیا، حضرت ابو بکر  سرکار مدینہﷺ کی خدمت میں انگوٹھی لے کر حاضر ہوئے۔ تاجدار دوعالم ﷺ نے اس میں ’’لَاَ اِلٰہَ اِلّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ اَبُوْ بَکْرٍ صِدِّیْق‘‘ منقش دیکھا۔

سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا اے ابوبکر (ص)یہ’’لَاَ اِلٰہَ اِلّا اللّٰہُ‘‘سے زائد عبارت کیسی ہے حضرت ابوبکر صدیق ص نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ مجھے یہ بات پسند نہ تھی کہ میں آپ کے اسم گرامی کو اللہ تعالیٰ کے اسم گرامی سے الگ کرتا لیکن باقی حصہ ’’ابو بکر صدیق‘‘اس کے لئے میں نے نہیں کہا تھا۔ حضرت ابو بکر کو ندامت ہوئی، اتنے میں حضرت جبر ئیل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہﷺ ابوبکر کا نام تو میں نے لکھوایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے آپ کے نام مبارک کو اللہ تعالیٰ کے مقدس نام سے جدا کرنا پسند نہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے نام کو آپ کے نام نامی سے جدا کرنا پسند نہیں فرمایا۔ سبحان اللہ!

تاجدار مدینہ ﷺ نے فرمایا جو شخص احترام اور تعظیم کے سبب زمین سے کوئی کاغذ اٹھاتا ہے جس میں’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ لکھا ہو تو وہ اللہ کے نزدیک صدیقین میں لکھاجاتا ہے اور اس کے والدین کے عذاب میں کمی کی جاتی ہے۔ (در منثور)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! اللہ تعالیٰ کا نام لکھا ہو ا کاغذ تعظیم کے سبب زمین سے اٹھائے تو صدّیقین کا درجہ حاصل ہوتا ہے، لہٰذا اخبار وغیرہ میں جو نام باری تعالیٰ لکھے ہوتے ہیں اس کی تعظیم کرنی چاہئے بلکہ جہاں کہیں بھی ایسا پرچہ نظر آئے یا اخبار نظر آئے اس کو فوراً اٹھالیں اسے اونچی اور پاک وصاف اوربلند جگہ پر رکھ دیںیا مسجد میں صندوق میں احتیاط سے ڈال دیں۔

جہنم سے نجات

حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہﷺ نے فرمایا جب استاذ بچے سے کہتا ہے’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ کہو۔ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ استاد، بچے اور اس کے والدین کے لئے جہنم سے نجات لکھ دی جا تی ہے۔ (در منثور)

میرے پیارے آقاﷺکے پیارے دیوانو!آج ہم اپنے بچوں کو دنیوی تعلیم تو دلا تے ہیں اس دنیوی تعلیم کا فائدہ تو صرف دنیا میں ہوسکتا ہے آخرت میں نہیں، لیکن اگر ہم اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے لئے مدرسہ میں بھیجتے ہیںتو بچے کی زبان سے نکلے ہوئے پہلے لفظ کی برکت سے بخشش کا پروانہ مل جاتا ہے لہٰذا اپنے بچوں کو دین کی طرف مائل کریں اور آخرت سنواریں۔

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت جبرئیل جب پہلی مرتبہ وحیٔ خدا لے کر حضور پرنور اکی بارگاہ بے کس پناہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ’’اِقْرَأ‘‘تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا ’’مَا اَنَا بِقَارِیٍ‘‘میں نہیں پڑھتا۔ لیکن جب مزید عرض کیا ’’اِقْرَأ بِاِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ‘‘ یعنی پڑھو اپنے رب کے نام سے تو آپ پڑھنے لگے۔

لیکن اے شمع رسالت کے پروانو! ہم نے اپنا معمول کچھ اور ہی بنا لیا ہے۔ ہماری فکریں بدل گئی ہیں۔ اپنے پیارے نبی ﷺ کے بتائے ہوئے عظیم طریقوں کو ہم نے بھلا دیا ہے۔ جس کا خمیازہ یہ ہے کہ ہم بھی بھولی ہوئی داستان بن گئے ہیں دنیا نے ہمیں بھلا دیا، ہم بے یارو مددگار ہوکر رہ گئے ہیں۔

کامل وضو

جب کوئی ایمان والا مرد یا عورت وضو کرنے سے قبل’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھ لیتاہے تو وہ اعضائے وضو پانی سے دھل جاتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ ان کے گناہ بھی جھڑ جاتے ہیں اور اعضائے وضو کے سوا بدن کے دوسرے حصے پر جہاں وضوکا پانی نہیں پہونچتا اللہ د اسے اپنے رحم وکرم کے پانی سے دھو دیتا ہے۔

اے شمع رسالت کے پروانو! دیکھا آپ نے’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ کی برکت؟ ہمیں اور آپ کو چاہئے کہ وضو کرنے سے قبل ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ نیز ہر عضو کو دھوتے وقت’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ ضرورضرور پڑھ لیا کریں۔اللہ تعالی اپنے حبیب ومحبوبﷺ کے صدقے اور طفیل میں ہمارے گناہوں کو معاف فرمادے گا۔

اور نبی کی قربت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیدنا حضرت سلیمان سے جب ھُدھُد نے ملکۂ صبا بلقیس کے تخت شاہی اور فرماںروائی اور کفرو الحاد کا ذکرکیا تو سید نا حضرت سلیمان نے بلقیس کو خط لکھ کر اسلام کی دعوت دی اور اطاعت گزاری کاحکم دیا۔ اس خط کی ابتدا آپ نے ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ سے فرمائی۔ جس کا تذکرہ بلقیس نے اپنے درباریوں میں اس طرح فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر قرآن میں فرمایا’’قَالَتْ یٰاَیُّہَا الْمَلَأُ اِنِّیْ اُلْقِیَ اِلَیَّ کِتَابٌ کَرِیْمٌo اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمَانَ وَ اِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ترجمہ (بلقیس) بولی اے سردارو! بے شک میری طرف ایک عزت والا خط ڈالا گیا بے شک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بے شک وہ اللہ کے نام سے ہے جو نہایت مہربان رحم والا۔اور اس طرح بلقیس نے اللہ کے نام اور اس کے نبی کے بھیجے ہوئے خط کی تعظیم کی تواللہ تعالیٰ نے اسے اس تعظیم کی برکت سے ایمان کی دولت نصیب فرمائی اور سید نا سلیمان ں کے زوجیت میں داخل ہونے کا موقعہ نصیب فرماکر قربتِ نبی سے سرفراز فرمادیا۔

علاج درد سر

قیصر شاہ روم نے حضرت عمر  کی خدمت میں لکھاکہ مجھے مستقل دردِ سر رہتا ہے۔ آپ میرے لئے کوئی دوا بھیجئے۔ حضرت عمر  نے اس کے پاس ایک ٹوپی بھیجی جب بھی اس ٹوپی کو وہ اپنے سر پر رکھتا اس کا دردِ سر جاتا رہتا۔ اور جب اسے اتار دیتا پھر دردسر شروع ہوجاتا۔ اس سے اس کو حیرت ہوئی اس نے ٹوپی کی تلاشی لی تو اس کے اندر ایک کاغذ ملا جس پر’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ لکھا ہوا تھا۔(تفسیر کبیر)

میرے پیارے آقاﷺکے پیارے دیوانو! بڑے بڑے طبیب جس بیماری کے علاج سے عاجز ہیں ان بیماریوں کا علاج اللہ عزوجل کے کلام میں ہے اے کاش! ہمارا لگائو قرآن مقدس سے ہوتا اور اپنی بیماریوں کا علاج دوائوں کے ساتھ ساتھ ہم اللہ د کے کلام سے بھی کرتے۔ جو یقیناً شافی ہے، لیکن افسوس ہمارا ایمان اتنا کمزور ہوگیا ہے کہ طبیبوں کی دواپر تو بھروسہ ہوتا ہے لیکن اللہ د کے کلام پر کامل بھروسہ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے تاثیر نظر نہیں آتی۔ اللہ د ہم سب کو قرآن مقدس سے فیض حاصل کرنے اور ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم۔

زہر بے اثر

کسی نے حضرت خالد سے کوئی نشانی طلب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اسلام کی دعوت دے رہے ہیں ہمیں کوئی نشانی دکھایئے تاکہ ہم اسلام قبول کرسکیں۔حضرت خالد نے فرمایا میرے پاس زہر قاتل لائو۔ اس کا ایک طشت لایا گیا آپ نے اس کو اپنے ہاتھ میں لیا اور’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھ کر سب پی گئے اور اللہ  کے فضل سے سلامتی کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے یہ دیکھ کر مجوسیوں نے کہا کہ یہ دین حق ہے۔ (در منثور)

سبحان اللہ!کیا ایمان تھا ان بزرگوں کا اور ذات باری تعالی ٰپر کتنا اعتماد تھا ؟اللہ د ان بزرگوں کے ایمان کا صدقہ ہمیں بھی نصیب فرمائے اور صحابۂ کرام کے فیوض وبرکات سے مستفیض فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حجاب ہے

حضرت انس سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہﷺ نے فرمایا جب بنی آدم اپنے کپڑے اتار تے ہیں اس وقت اگر وہ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھ لیں تو یہ ان کی شرمگاہوں اور جنوں کی نگاہوں کے درمیان پردہ بن جاتی ہے۔اس طرح شیطانی نگاہیں انسانی شرمگاہوں تک پہنچ نہیں سکتیں۔

اس میں اشارہ یہ ہے کہ دنیا کے اندر جب یہ اسم الٰہی انسان اور دشمن جنوں کے درمیان حجاب اور پردہ بن سکتا ہے توکیا یہی اسم الٰہی آخرت میں بندئہ مومن اور عذاب کے فرشتوں کے درمیان حجاب نہ بن سکے گا۔ (درمنثور)

سبحان اللہ!اللہ داپنے پیارے محبوبﷺ کے طفیل’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم۔

ایسی آیت بتاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ ﷺ نے فرمایا مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تمہیں ضرور ایک ایسی آیت یا سورت بتائوں گا جو حضرت سلیمان ں کے بعد میرے علاوہ کسی اور نبی پر نازل نہیں ہوئی۔

راوی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ چلے اور میں حضورﷺ کے پیچھے ہو لیا۔ حضور ﷺ مسجد کے دروازے پر پہونچے اور اپنا ایک پائوں مسجد کی دہلیز سے باہر کرچکے ابھی دوسرا پائوں مسجد کی دہلیز کے اندر ہی تھا کہ میں عرض کیا یا رسول اللہ ا مجھے اشتیاق ہے (وہ بات رہ گئی )اس وقت حضورﷺ اپنے چہرئہ مبارک کے ساتھ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا نماز میں کس چیز سے قرآن شروع کرتے ہو؟ میں نے کہا ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ سے۔ سرکارﷺ نے فرمایا یہی تو وہ آیت ہے جو حضرت سلیمان کے بعد میرے علاوہ کسی نبی ں پر نازل نہیں ہوئی۔ اس کے بعد حضور ﷺ مسجد سے باہر تشریف لے گئے۔ (در منثور)

سمندر میں جوش

حضرت جابر بن عبد اللہ ص سے روایت ہے کہ جب’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ نازل ہوئی بادل مشرق کی طرف بھاگا، ہوا ٹھہر گئی،سمندر میں جوش آگیا، چوپایوں نے توجہ کے ساتھ اپنے کان سے سنا، شیطانوں پر آسمان سے پتھر برسے، اور اللہ  نے اپنے عزت وجلال کی قسم کے ساتھ فرمایا جس چیز پر بھی اسکا نام لیا جائے گا وہ اس میں برکت دے گا۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ (درمنثور)

اللہ ہمیں اپنے پیارے محبوب ﷺ کے صدقہ میں ہر جائز کام پر ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھنے کی توفیق رفیق بخشے اور زیادہ سے زیادہ برکتیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم

وہ شخص ملعون ہے

حضرت عمر بن عبد العزیز سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ ﷺ کا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جہاں زمین پر ایک تحریرتھی۔ سرکارﷺ نے اپنے ساتھ کے ایک شخص سے فرمایااس زمیں پر گرے ہوئے کاغذ پر کیا لکھا ہے؟ اس نے کہا ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ سرکار ﷺ نے فرمایا جس نے یہ کیا (گرایا) وہ ملعون ہے۔ ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ کا جو مقام ہے وہی اسے دو۔ (بو دائود،درمنثور)

میرے پیارے آقاﷺکے پیارے دیوانو! اس سے ثابت ہوا کہ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ کی توہین کرنے والا ملعون ہے۔ لہٰذا خدارا ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ لکھا ہوا کاغذ زمین پر نہ پھینکیں بلکہ کہیں نظر آئے تو اسے ادب اورتعظیم کے ساتھ بلند مقام پر رکھیں۔

وصیت

ایک بزرگ نے’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ لکھا اور وصیت کی کہ یہ ان کے کفن میں رکھا جائے۔ان سے پوچھا گیا اس میں کیا فائدہ ہے۔انہوں نے فرمایامیں قیامت کے دن عرض کروںگااے میرے اللہتونے ایک کتاب بھیجااس کا عنوان’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ رکھا لہٰذا تو اپنی کتاب کے عنوان کے لحاظ سے میرے ساتھ معاملہ فرمااور بخش دے۔ (در منثور)

تین ہزار نام

تفسیر کبیر کے شروع میں’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ کے تحت ہے کہ حق تعالیٰ کے تین ہزار نام ہیں۔ جن میں سے ایک ہزار کو ملائکہ جانتے ہیں اور ایک ہزار کو صرف انبیاء علیہم السلام جانتے ہیں۔ اور ایک ہزار میں سے تین سو نام توریت شریف میں اور تین سو نام انجیل شریف میں اور تین سو نام زبور شریف میں اور نناوے نام قرآن پاک میں ہیں اور ایک نام وہ ہے جس کو صرف حق تعالیٰ ہی جانتاہے لیکن ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘میں حق تعالیٰ کے جو تین نام آئے ان تین میں تین ہزار کے معنی پائے جاتے ہیں لہٰذا جس نے ان تین ناموں سے حق تعالیٰ کو یاد کرلیا گویا اس نے تمام ناموں سے اس کو یاد کرلیا۔ (تفسیر نعیمی)

چار نہریں

صاحبِ تفسیر روح البیان نے ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ کے تحت ایک حدیث نقل فرمائی کہ جب حضور ا معراج میں تشریف لے گئے اور جنتوں کی سیر فرمائی تو وہاںچار نہریں ملاحظہ فرمائیںایک پانی کی، دوسری دودھ کی، تیسری شرابِ طہور کی اور چوتھی شہد کی۔ جبرئیل امین ں سے دریافت کیا یہ نہریں کہاں سے آرہی ہیں؟حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے عرض کیامجھے خبر نہیں۔ دوسرے فرشتے نے کہا ان چاروں کاچشمہ میں دکھاتا ہوں۔ ایک جگہ لے گیا۔ وہاں ایک درخت تھا جس کے نیچے ایک عمارت بنی ہوئی تھی اور دروازہ پر قفل(تالہ) لگاہواتھا اور اس کے نیچے سے یہ چاروں نہریں نکل رہی تھیں۔ ارشاد فرمایا درواز ہ کھولو۔ عرض کیااس کی چابی ہمارے پاس نہیں بلکہ آپ کے پاس ہے یعنی ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ حضور انے ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھ کر قفل کو ہاتھ لگا یا دروازہ کھل گیا۔اندر جاکر ملاحظہ فرمایا کہ اس عمارت میں چار ستون ہیں اور ہر ستون پر لکھا ہوا ملاحظہ فرمایا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

۱        ۲       ۳       ۴

اور بسم اللہ کی(میم)سے پانی جاری ہے، اور اللّٰہ کی (ھا) سے دودھ جاری ہے، رحمٰن کی (میم) سے شراب طہور جاری ہے، اور رحیم کی (میم) سے شہد۔اندر سے آواز آئی اے میرے محبوب اآپ کی امت میں سے جو شخص’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھے وہ ان چاروں کا مستحق ہوگا۔ (تفسیر نعیمی)

’’بِسْمِ اللّٰہِ‘‘ کیوں؟

(۱) جس کام کی ابتدا اچھی ہو اس کی انتہا بھی اچھی ہوتی ہے۔بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے۔ تاکہ اس کی ابتدا اللہ کے نام پر ہو اور اس کی تمام زندگی بخیریت گزرے۔

(۲) دکان دار اپنی پہلی بِکری کے وقت زیادہ بھائو تائو نہیں کرتا تاکہ سارا دن تجارت کے لئے اچھا گزرے۔ اسی طرح مسلمان کے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنے ہر جائز کام کی ابتدا اللہ کے نام سے کرے تاکہ بخیر وخوبی انجام کو پہونچے۔

(۳) حکومت کے مال پر کوئی حکومت کی علامت لگادی جاتی ہے تاکہ کوئی چور اس کو لیتے وقت خوف کرے اور چُرانہ سکے کیوں کہ حکومت کے مال کی چوری ایک قسم کی بغاوت ہے۔ اسی طرح مسلمان کو چاہئے کہ اپنے ہر جائز کام کی ابتدا میں ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھ لے تاکہ وہ رب العالمین کی نشانی بن جائے اور شیطان چور اس میں اپنا دخل نہ دے سکے۔ اور حدیث پاک میں بھی آیا ہے کہ جس جائز کام کی ابتدا میں’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ نہ پڑھی جائے اس میں شیطان شریک ہوجاتا ہے۔ اور ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ کے پڑھ لینے سے وہ کام محفوظ ہوجاتا ہے۔

(۴) آدمی جس کا ذکر زیادہ کرتا ہے اس کو اسی کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ انسان’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ زیادہ پڑھے تو انشاء اللہ دونوں جہاں میں رحمت الٰہی اس کے ساتھ رہے گی۔ کیونکہ انسان صبح سے لیکر رات تک بے شمار جائز اور ناجائز کام کرتا ہے۔ اور اگر جائز کام کی ابتدا میں بسم اللہ پڑھے توصبح سے شام تک رب کا ذکر اس کی زبان پر جاری رہے گا۔ جس کی وجہ سے رحمت الٰہی اس کے ساتھ رہے گی۔ البتہ ناجائز کام کی ابتدا میں’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھنا ناجائز اور حرام ہے۔

(۵) دنیا کے سارے کام انسان کے لئے زہر قاتل ہوتے ہیں کیوں کہ یہ رب تعالیٰ سے غافل کرنے والے ہیں۔ اور اس کا تریاق رب د کانام ہے تو جو انسان رب  کے نام سے اپنے کام شروع کرے گا۔ خدا چاہے تو اس کا کوئی کام ذکرِ الٰہی و خوفِ خدا سے غفلت پیدا نہ کرے گا۔

(۶) جب کوئی فقیر کسی امیر کے دروازے پر جاتا ہے تو بھیک مانگنے کی غرض سے اس کی تعریف شروع کردیتا ہے۔ جس سے امیر یہ سمجھتا ہے کہ یہ بھکاری ہے میری تعریف کرکرکے مجھ سے مانگنا چاہتا ہے تو گویا فقیر کا یہ کہنا کہ گھر والا بڑا سخی، داتا ہے۔مطلب اس کا کچھ یہ ہوتا ہے کہ دلوادے۔ اسی طرح جب کوئی انسان کام شروع کرتا ہے تو چاہتا ہے رب تعالیٰ سے اس میں مدد مانگے اور اس کے پورا کرنے اور درست کرنے کی توفیق مانگے۔تو صاف صاف نہیں کہتا، بلکہ رب تعالیٰ کی تعریفیں کرتا ہے اور اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ میرے اس نام لینے کی لاج رکھتے ہوئے توہی اس بیڑے کو پار لگانے والا ہے۔ لہٰذا رب تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے بندے کے سوال کو ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ کی برکت سے پورا فرمادیتا ہے۔ (تفسیر نعیمی)

تفسیر عزیزی میں ہے کہ اولیاء اللہ میں سے ایک ولی نے مرتے وقت وصیت کی تھی کہ میرے کفن میں’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ لکھ کر رکھ دینا۔ لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ قیامت کے دن میری دستاویز ہوگی جس کے ذریعہ میں رحمت الٰہی کی درخواست کروں گا۔

بِسْمِ اللّٰہ کے۱۹؍ حروف

تفسیر کبیر وغیرہ میں ہے کہ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ میں ۱۹؍حروف ہیں اور دوزخ پر عذاب کے فرشتے بھی انیس ہیں۔امید ہے کہ اس کے ایک حرف کی برکت سے ایک ایک فرشتے کا عذاب دور ہوجائے گا۔ دوسری خوبی یہ ہے کہ دن رات میں چوبیس گھنٹے ہیں جن میں سے پانچ گھنٹے پانچ نمازوں نے گھیر لئے اور انیس گھنٹوں کے لئے’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ کے انیس حروف عطا فرمائے گئے جو’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ کا ورد کرتا ہے۔ انشاء اللہ اس کا ہر گھنٹہ عبادت میں شمار ہوگا اور ہر وقت کے گناہ معاف ہوں گے۔ (تفسیر نعیمی)

ترازو کا پلہ

تاجدار مدینہ ﷺ نے فرمایا کہ ایسی کوئی دعا رد نہیں ہوتی جس کے آغاز میں ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ ہو۔ آپ نے فرمایا قیامت کے دن بلا شبہ میری امت’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ کہتی ہوئی آگے بڑھے گی اور میزان میں اس کی نیکیاں وزنی ہوجائیں گی۔ اس وقت دوسری امتیں کہیں گی کہ امت محمدی ﷺ کے ترازو میں کس قدر وزنی اعمال ہیں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ان کے جواب میں فرمائیں گے کہ امت محمدیہﷺ کے کلام کا آغاز اللہ کے تین ایسے ناموں سے ہے کہ ان کو اگر ترازو کے ایک پلہ میں رکھ دیا جائے اور تمام مخلوق کی برائیاں (گناہ)دوسرے پلے میں رکھ دی جائیں تب بھی یقینا نیکیاں ہی بھاری ہوںگی۔ (غنیتہ الطالبین)

کھانے اور گھر میں داخل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھانے سے قبل اور گھر میں داخل ہونے سے پہلے ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھنے کی حدیث شریف میں بڑی تاکیدیں وارد ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کھانے پر ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ نہ پڑھی جائے شیطان کے لئے وہ کھانا حلال ہوجاتا ہے۔ (مسلم شریف)

یعنی بسم اللہ نہ پڑھنے کی صورت میں شیطان اس کھانے میں شریک ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوایوب  روایت کرتے ہیں کہ ہم حضورﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ کھانا پیش کیا گیا ابتداء میں کھانے میں اتنی برکت ہوئی کہ ہم نے اتنی برکت کسی بھی کھانے میں نہیں دیکھی تھی۔ مگر آخر میں بڑی بے برکتی دیکھی۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ !ایسا کیوں ہوا۔ ارشاد فرمایاہم سب نے کھانے کے وقت ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھی تھی پھر ایک شخص بغیر’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھے کھانے کے لئے بیٹھ گیا۔ اس کے ساتھ شیطان نے کھانا کھالیا۔ (شرح سنہ)

اس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک ساتھ چند آدمی کھانا کھائیں اور ان میں سے ایک نے بھی’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘نہ پڑھی تو پورے کھانے کی برکت چلی جاتی ہے اور اس ایک کے نہ پڑھنے کی وجہ سے شیطان کھانے میں شریک ہوجاتا ہے۔ لہٰذا’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ بلند آواز سے پڑھیں تاکہ ساتھ والوں کو بھی یاد آجائے۔

اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص مکان میں آیا اور داخل ہوتے وقت اور کھانے کے وقت اس نے بسم اللہ پڑھ لی تو شیطان اپنی ذُرِیت سے کہتا ہے کہ اس گھر میں نہ تمہیں رہنے ملے گا، نہ کھانا اور اگر گھر میں داخل ہوتے وقت بسم اللہ نہ پڑھی تو اپنی ذُرّیت سے کہتا ہے اب تمہیں رہنے کی جگہ مل گئی اور کھانے کے وقت بسم اللہ نہ پڑھی تو کہتا ہے کہ رہنے کی بھی جگہ ملی اور کھانا بھی ملا۔ (مسلم شریف )

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! پتہ چلا کہ اگر ہم ذرا سی غفلت برتیں اور بسم اللہ نہ پڑھیں تو شیطان اپنی ذرّیت (اولاد) کے ساتھ ہمارے گھر میں بھی گھس آتا ہے اور کھانے میں بھی شریک ہو جاتا ہے جس سے کھا نے کی برکت بھی چلی جاتی ہے اور پورے گھر میں بے برکتی رہتی ہے اور اگر بسم اللہ پڑھنا ہمارا معمول رہا تو ہمارے کھانے میں بھی برکتیں نازل ہوں گی اور گھر بھی خیرو برکت سے معمور رہے گا شیطان کی ذریت سے مکان وسامان سب محفوظ ہو جائیں گے۔

لہٰذا ہمیں بسم اللہ پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہئے تا کہ اس کی برکتیں زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکیں اور ہرگز اس سے غفلت نہ برتیں ورنہ شیطان ہمارے کام میں شریک ہو جائے گا۔

بسم اللہ شریف کے فوائد وفضائل بہت زیادہ ہیں طوالت کے خوف سے ہم نے ان میں سے کچھ یہاں ذکر کیا اس امید پر کہ ہمارے اسلامی بھائی اور بہن اس کی افادیت و اہمیت کو سمجھیں گے اور اسکے پڑھنے لکھنے کی جانب پوری توجہ دیں گے اور خیر وبرکت سے مالامال ہوں گے۔ ربِ پاک اپنے حبیب پاک اکے صدقہ میں ہماری اس کوشش کو قبول فرمائے اور ہمارے لئے اسے ذریعۂ نجات بنائے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم۔

مسائل متعلقہ بسم اللہ

بسم اللہ قرآن مقدس کی پوری آیت ہے مگر کسی سورت کا جزو نہیں ۔بلکہ سورتوںمیں فاصلہ کرنے کے لئے اتاری گئی ہے ۔اسی لئے نماز میں اس کو آہستہ ہی پڑھتے ہیں ہاں جو حافظ تراویح میں پورا قرآن پاک ختم کرے وہ ضرور کسی نہ کسی سورت کے ساتھ بسم اللہ زور سے پڑھے ۔

مسئلہ: سوا سورئہ توبہ کے باقی ہر سورت بسم اللہ سے شروع کرے لیکن اگر کوئی شخص سورئہ توبہ سے ہی تلاوت شروع کرے تو وہ تلاوت کے لئے بسم اللہ پڑھ لے۔

مسئلہ: ہر جائز کا بسم اللہ سے شروع کرنا مستحب ہے ،ناجائز کام پر بسم اللہ پڑھنا منع ہے۔اگر کوئی شخص بسم اللہ کہہ کر شراب پئے ،چوری کرے، غیبت کرے،جھوٹ بولے تو کفر کا اندیشہ ہے ۔شامی میں ہے کہ حقہ پیتے وقت اور بد بودار چیزیں (جیسے پیاز، لہسن وغیرہ)کھاتے وقت بسم اللہ نہ پڑھنا بہتر ہے۔

مسئلہ: ننگے ہوکر ،پاخانہ میں پہنچ کر بسم اللہ پڑھنا منع ہے۔

مسئلہ: نمازی نماز میں جب کو ئی سورۃ پڑھے ،آہستہ بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے۔

مسئلہ: جو جائز کام بھی بغیر بسم اللہ کے شروع کیا جائے گا اس میں برکت نہ ہوگی۔

مسئلہ: جب مردہ کو قبر میں اتارا جائے تو اتارنے والے یہ پڑھتے جائیں بِسْمِ اللّٰہِ وَعَلیٰ مِلَّتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ۔