تحریک آزادی پاکستان کے حامی اور مخالفین

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : آج تک جن حضرات کے نام تحریک پاکستان میں لیے جاتے رہے ان میں سے اکثر نے اس کی مخالفت کی تھی جن حضرات کو آج قائد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے انہوں نے اس وقت مخالفت کی تھی اور جن حضرات نے حقیقی طور پر قیام پاکستان کے لیے کام کیا آج ان کے ناموں کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے بہرحال میں یہاں پر مختصر طور پر ان افراد کے نام اور ان کے اقوال نقل کروں گا جنہوں نے اس وقت قیامِ پاکستان کی مخالفت کی تھی ۔ حقایق پڑھیں اور پاکستان کے مخالفین کو پہچانیں :

 

ابوالکلام آزاد دیوبندی کی مخالفت اتحریک آزادی پاکستان

 

آزاد لکھتا ہے : تقسیم صرف ملک کے نقشے پر ہوئی ہے لوگوں کے دلوں میں نہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ تقسیم مختصر مدت کے لیے ہوئی ہے (سی-ایچ فیلپس ،دی پارتیشن آف انڈیا ،لندن ١٩٧٠صفحہ نمبر٢٢٠)

 

ابوالکلام آزاد نے غیراسلامی ترانہ (بندے ماترم)کی تعریف کی (روزنامہ مشرق ٢٥ دسمبر ١٩٧٤ بروز منگل)

 

ابوالکلام آزاد کے محبوب دوست مسٹر گاندھی ۔ (بیس بڑے مسلمان، عبدالرشید ارشد، مکتبہ رشیدیہ لاہور ١٩٨٦ صفحہ ٣٠٧)

 

مسلمانوں کو مرتد اور نیست نابود کرنے والی تحریکوں شدھی وغیرہ کی ہمت افزائی کی (برصغیر پاک و ہند کی سیاست میں علما کا قردار، قومی ادارہ برائے تحقیق وثقافت اسلام آباد ١٩٨٥ صفحہ ٢٧٥)

 

جناح کا یہ نظریہ کہ ہندوستان میں دو جدا گانہ قومیں ہیں یہ غلط فہمی پر مبنی ہے میں ان سے اتفاق نہیں کرتا (تحریک پاکستان میں نیشنلسٹ علما کا کردار ،چوہدری حبیب احمد ،البیان لاہور ١٩٦٦ صفحہ ٢١٣)۔(ماہنامہ طلوع اسلام دہلی مارچ ١٩٤٠صفحہ ٦٧،چشتی)

 

آپ نظریہ پاکستان کے مخالف تھے ۔ (ماہنامہ طلوع اسلام دھلی جون ١٩٤٦صفحہ ٥٩)

 

ابوالکلام آزاد کانگریسی ملا تھے (علمائے ہند کا سیاسی مئوقف صفحہ ٩٥)

 

پنڈت لال جواھر نہرو کے سیکرٹری نے آپ پر شراب نوشی کا الزام لگایا ۔ (ہفت روزہ اسلامی جمہوریہ لاہور ١٤تا٢٠ فروری ١٩٧٨ صفحہ ٢٥) (تحریک پاکستان کا ایک بابساگر سندھ اکادمی لاہور ١٩٨٧ صفحہ ٤٦ از پروفیسر محمد سرور)

 

اور بقول شورش کاشمیری کے:ہندو انھیں گالیا دیتے تھے (پس دیوار زنداں مطبوعات چٹان لاہور صفحہ ٣٠٧،چشتی)

 

مولوی فضل الرحمان دیوبندی نے قیام پاکستان کو فراڈ اعظم کہا ۔ (روزنامہ خبریں لاہور ٧مارچ ١٩٩٤ بروزسوموار)

 

مفتی محمود دیوبندی والد مولوی فضل الرحمان کی مخالفت پاکستان

 

مفتی محمود دیوبندی نے کہا : ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے (ماھنامہ ترجمان سواد اعظم لاہور اگست ١٩٧٩ نظریہ پاکستان نمبر صفحہ ٣٧) (کل پاکستان سنی کانفرنس ملتان عبدالحکیم شرف قادری،مکتبہ قادریہ لاہور صفحہ ١٤)

 

اور یہ بات قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں بھی موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں ۔

 

مفتی محمود دیوبندی نے کہا : میرے نذدیک گاندھی کیپ پہننا باعث ثواب ہے ۔ (علمائے ہند کا سیاسی مؤقف صفحہ ٦٦،چشتی)

 

قاضی مظہر دیوبندی چکوال نے کہا : مسلم لیگ کی بنیاد انگریز نے رکھی اور مسلم لیگی انگریز کے ایجنٹ ہیں (پاکستان اور گانگریسی علماء کاکردار مکتبہ الرضا ص٢٧)

 

مولوی شبلی نعمانی دیوبندی : شبلی نعمانی گانگریسی ملا تھے ۔ (علمائے ہند کا سیاسی مؤقف ص٥٩)

 

مولوی عطاءاللہ شاہ بخاری دیوبندی کی مخالفت پاکستان

 

عطاءاللہ شاہ بخاری دیوبندی نے کہا : پاکستان بننا تو بڑی بات کسی ماں نے ایسا بچہ نہیں جنا جو پاکستان کی پ بھی بنا سکے (تحریک پاکستان اور نیشنلسٹ علماء البیان لاہور ١٩٦٦ ص٨٨٣)

 

عطاءاللہ شاہ بخاری دیوبندی نے کہا : جو مسلم لیگ کو ووٹ دے دیں گے وہ سؤر اور سور کھانے والے ہیں(١٩٤٤،٤٥ کے انتخابات کے وقت) (چمنستان، یونائٹڈ پبلیکیشنرز لاہور ١٩٤٤ ص١٢٥،چشتی)

 

عطاءاللہ شاہ بخاری دیوبندی نے کہا : قائداعظم انگریز کے پٹھو ۔ (ہفت روزہ استقلال لاہور ٦تا ١٣ دسمبر ١٩٨٢ ص٢٠)

 

عطاءاللہ شاہ بخاری دیوبندی نے کہا : پاکستان ایک بازاری عورت ہے جس کو احرار نے مجبوراً قبول کیا ہے (رپورٹ آف دی کورٹ آف——-ڈسٹربینس———١٩٥٣،گورنمنٹ پرنٹنگ پریس پنجاب لاہور ص٢٥٦)

 

عطاءاللہ شاہ بخاری دیوبندی نے کہا : اگر پاکستان کی پ بھی بن گئی تو میری داڑھی پیشاب سے مونڈھ دینا (ماھنامہ عرفات لاہور مارچ ١٩٧٩ ص٤،٥)

 

مولوی سراج احمد دین پوری دیوبندی نے کہا : پاکستان بنتے وقت لاالہ الااللہ کا نعرہ ڈھونگ تھا ۔ (ہفت روزہ ترجمان الاسلام لاہور ١٥نومبر١٩٨٥ ص٥)

 

ڈاکٹر رشید احمد جالندھری دیوبندی نے کہا : افسوس کہ پاکستان کی سر زمین پر کوئی گاندھی جی کے پایہ کا راھنما پیدا نہ ہوا ۔ (ہفت روزہ خدام الدین لاہور ١٤ اپریل ١٩٧٧ ص١٦،چشتی)

 

مولوی حسین احمد مدنی ٹانڈوی دیوبندی کی مخالفت تحریک آزدی پاکستان

 

مولوی حسین احمد مدنی ٹانڈوی دیوبندی نے کہا : اقوام اوطان سے بنتی ہیں ۔ (مشعل راہ ،عبد الحکیم شاہجاہنپوری ،فرید بکسٹال لاہور ص٨٥٦)

 

مولوی حسین احمد مدنی ٹانڈوی دیوبندی نے کہا : ہندو مسلم بھائی بھائی ہیں ۔ (تحریک آزادی ھند اور مشائخ و علماء کا کردار ص نمبر ١١)

 

مولوی حسین احمد مدنی ٹانڈوی دیوبندی نے قائداعظم کو کافر اعظم کہا اور کہا کہ مسلم لیگ میں مسلمانوں کی شرکت حرام ہے ۔ (رہبر دین ٢٩ اکتوبر ١٩٤٥) (پیغام بنام موتمر کل ہند جمیعت علمائے اسلام ھاشمی بکڈپولاہور ١٩٤٥صفحہ ٤٨)

 

مولوی حسین احمد مدنی ٹانڈوی دیوبندی نے کہا : نظریہ پاکستان انگریزوں کی ایجاد ہے ۔ (کشف حقیقت دی پرنٹنگ پریس دھلی صفحہ ٣٠)

 

مولوی حسین احمد مدنی ٹانڈوی دیوبندی نے کہا : گانگریس میں مسلمانوں کی شرکت فرض ہے (سیرت اشرف مطبوعہ ملتان ١٩٥٦صفحہ ٢٦٣)

 

جبکہ مفتی محمد شفیع صاحب دیو بندی کا فتویٰ ہے کہ گانگریس کی حمایت کفر کی حمایت ہے ۔ (ماھنامہ البلاغ کراچی جمادی الثانی تا شعبان ١٣٩٩ھ صفحہ ٨٢٢)

 

مولوی حسین احمد مدنی ٹانڈوی دیوبندی نے دو قومی نظریہ کے خلاف محاذ آرائی کرنے کے لیے ایک جماعت بنائی ۔ (اکابرتحریک پاکستان ،صادق قصوری ١٩٧٩لاہور صفحہ ٤٧٠،چشتی)

 

تحریک احرار کے شاعروں امین گیلانی دیوبندی ، سائیں حیات دیوبندی نے میاں چنوں کے ایک مشاعرے میں قائداعظم کو گالیاں دیں ۔ (تحریک اسلامی اور اس کے مخالفین مکتبہ چاہ ٹوٹیانوالہ گھر جاکھ گوجرانوالہ ص٣٨٠،٣٨١)

 

اندرا گاندھی نے دارالعلوم دیوبند کے جشن صد سالہ میں کہا کہ دارالعلوم دیوبند نے گاندھی جی کی قیادت میں تحریک آزادی میں تعاون کیا ۔ (١٠رجب المرجب ١٤٠٠ھ بروزاتوار روزنامہ نوائے وقت ٢٥مئی ١٩٨٠)۔(ماھنامہ رضوان لاہور مئی جون ١٩٨٠ص٧،٨)

 

مولوی عبیداللہ سندھی دیوبندی کی مخالفت تحریک آزادی پاکستان

 

مولوی عبیداللہ سندھی دیوبندی نے کہا : ملک میں ایک جدید تعمیری پروگرام کا ہونا ضروری ہے جو گاندھی جی کے زیر قیادت گورنمنٹ کےساتھ تعاون پر مبنی ہو (ماھنامہ طلوع اسلام دھلی اپریل ١٩٤٠ ص٧٧)

 

مولوی عبیداللہ سندھی دیوبندی نے کہا : سچ پوچھو تو اقبال ایک روایت پرست یہودی کی طرح مسلمانوں کی موہوم جماعت کو پوجتا ہے ۔ (افادات و ملفوظات مولانا عبیداللہ سندھی سندھ ساگر اکادمی لاہور ١٩٨٧ص٤٣٤)

 

مولوی عبیداللہ سندھی دیوبندی نے کہا : اقبال کا اسلام عملاً ایک فرقہ پرست ہندوستانی بلکہ پنجابی مسلمان کا اسلام ہے (افادات و ملفوظات مولانا عبیداللہ سندھی سندھ ساگر اکادمی لاہور ص٤٣٥)

 

1857ء کی تحریک ِآزادی علامہ فضل ِ حق خیر آبادی(1797ء۔ 1861ء )کے فتویٔ جہاد سے شروع ہوئی ،جس کی پاداش میں انگریزوں نے علامہ کو کالے پانی کی سخت سزا سنائی، جہاں اس مردِ مجاہد نے انتقال کیا ۔ وہ علماء جنہوں نے انگریزوں کے تسلط کو ختم کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا ئی تھی انہیں تختہ دار پر کھینچ دیا گیایا قید و بند میں انسانیت سوز اذیتیں دی گئیں ،ان سرفروشوں میں مولانا سید احمد اﷲ شاہ مدراسی، مفتی کفایت علی کافی،مولانا عنایت احمد کاکوروی، مولانا فضل رسول بدایونی، مفتی صدر الدین آزردہ، مولانا رضی الدین بدایونی، مولانا رحمت اﷲ کیرانو ی، مفتی سعید احمد بدایونی اورامام بخش صہبائی کے نام نمایاں ہیں ۔جن لوگوں نے ان مجاہدین سے ہمدردی کا اظہار کیا انگریز سرکار نے انھیں بھی گولیوں سے بھون دیا ۔ایک اعداد و شمار کے مطابق تقریباً5لاکھ مسلمانوں کو سزائے موت ہوئی(تقدیم: مفتی عطاء اﷲ نعیمی، تخلیق ِ پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار، ناشر جمعیت اشاعت اہلسنت کراچی،2010ء ،صفحہ 11) ۔ تحریک کے بعد مسلمانوں کے متعدد مدارس و مساجد کو ختم کر دیا گیا اورانہیں معاشی ،سماجی اور مذہبی طورپر سخت نقصان پہنچایا گیا۔ انگریزوں اور ہندوؤں نے برصغیر میں جو تعصب اور امتیازی سلوک روا رکھا، وہ آگے چل کر پاکستان کے ظہور کی بنیاد بنا۔

 

1857ء کی تحریک آزادی کامیابی سے ہم کنار نہ ہوسکی مگر اس کے مجاہدین کی قربانیوں نے پاکستان کے قیام کی راہ ہموار کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ تحریک آزادی کے ان مجاہدوں کا تعلق اہلسنت و جماعت سے تھا جسے آج اہلسنت و جماعت بریلوی مکتب ِ فکر کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔اس مکتب کا قیامِ ِپاکستان میں لازوال کردار رہا ۔ بدقسمتی سے یہ کردار اس مکتب کے علما ء و مشائخ کی شرافت اور سازشی ہتھکنڈوں سے ناواقفیت کے باعث مخالف حلقے کے تعصّب اور طاقت کی نذر ہوگیا اور تاریخ کی کتابوں میں وہ جگہ نہ پاسکا جس کا یہ مستحق تھا۔

 

بریلی کے مولانا احمد رضا خاں( 1856ء۔1921ء) بھی1857ء کے مجاہدوں کے فکری جانشیں تھے ۔ وہ شروع سے ہندو مسلم اتحاد کے سخت خلاف تھے اور مسلمانوں پر اپنا علیحدہ تشخص قائم رکھنے پر زور دیتے تھے۔ وہ مرتے دم تک اپنے اس موقف پر قائم رہے۔انھوں نے 1904ء میں بریلی میں دار العلوم منظر اسلام قائم کیاجہاں سے فارغ التحصیل علماء ا ور اُن کے تلامذہ نے آگے چل کر تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا۔

 

1916 ء میں مسلم لیگ اور کانگریس کے مابین میثاق لکھنو کے ذریعے ہندو مسلم اتحاد کی کوشش کی گئی تو علامہ محمد اقبال اور مولانا احمد رضا نے اس معاہدے کی مخالفت کی، بعد کے تجربات نے ثابت کر دیا کہ ان افراد کا موقف درست تھا ( ڈاکٹر جلال الدین احمد نوری، فاضل ِ بریلوی کا سیاسی کردار، مکتبہ نوریہ، کراچی، 2007ء ،صفحہ58)۔

 

جب ہندوستان میں ارتداد کا فتنہ سر اٹھانے لگا تومولانا احمد رضا نے اس کے مقابلے کے لیے 1917ء میں ’’ جماعت رضائے مصطفی‘‘ قائم کی( پروفیسر محمد مسعود احمد، تحریک آزادی ہند اور السواد ِ اعظم،رضا پبلی کیشنز، لاہور،1979ء، صفحہ233)۔ اس تنظیم نے مولانا کے انتقال کے بعد شدھی تحریک کے خلاف اہم کردار ادا کیا۔1918ء میں مولانا احمد رضا کے خلیفہ مولانا نعیم الدین(1887ء۔1948ء) نے مراد آباد سے ماہنامہ ’’السوادِ اعظم ‘‘ جاری کیا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے مسائل اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

 

1921-1919ء میں آل انڈیا نیشنل کانگریس نے گاندھی کی سربراہی میں ہندوستان میں تحریک خلافت، تحریک ترکِ موالات اور تحریک ہجرت شروع کی۔ عبد الرشید ارشد لکھتے ہیں ’’ 3ذیقعدہ 1338ھ کو مولانا محمود حسن نے ترک ِ موالات کی حمایت میں فتوی جاری کیا جس میں حضرت رحمتہ اﷲ علیہ نے ترک ِ موالات کی تمام دفعات میں کانگریس کی موافقت کی۔ اس کے بعد یہی فتویٰ جمعیت علماء ہند کے متفقہ فیصلہ کی صورت میں تقریباً 500 علماء کے دستخطوں سے شائع کیا گیا ‘‘(عبد الرشید ارشد، بیس بڑے مسلمان، مکتبہ رشیدیہ ،لاہور، 1983ء ، صفحہ285،چشتی) ۔ مئی1920ء میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی نے ہندوستان کو دار الحرب قرار دے کر یہاں سے ہجرت کرنے کا فتوی جاری کیا۔ ان تحریکوں سے مسلمانوں کو شدید نقصان سے دوچار ہونا پڑا اور ان کے نتیجے میں مسلمان فاقوں تک پر مجبور ہوگئے( پروفیسر احمد سعید، حصول ِ پاکستان، ایجوکیشنل ایمپوریم، لاہور،1979ء، صفحہ160-158)۔

 

ان حالات میں ہندوستان میں مولانا احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی پہلے عالم ِ دین تھے جنہوں نے مسلمانوں کو ان تحریکوں سے الگ رہنے کی تلقین کی اور انھیں دو قومی نظریے کے تصور سے آگاہ کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کے بڑے بڑے راہ نما ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے۔ ممتاز مورخ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کے بقول ’’مولانا احمد رضا خاں نے ترکِ موالات کی مخالفت اصولی بنیادوں پر کی تھی‘‘ (دو قومی نظریہ کے حامی علماء اور ڈاکٹراشتیاق حسین قریشی ، سورتی اکیڈمی کراچی، 1982ء صفحہ20)۔تحریک ہجرت کی مخالفت میں مولانا اشرف علی تھانوی بھی مولانا احمد رضا کے ہمنو ا تھے( راجا رشید محمود، ’’ تحریک ِ ہجرت‘‘، مکتبہ عالیہ ،لاہور،1995ء ، صفحہ72)۔

 

اہلسنت و جماعت بریلوی مکتب فکر کے علماء و مشائخ نے تقدیس ِ رسالت کے تحفظ میں تاریخی کردار ادا کیا، تحریکِ موالات اور تحریکِ ہجرت کی مخالفت کی ، گاندھی کو مسلمانوں کا راہ نما تسلیم کرنے سے انکار کردیا، مسلمانوں پر الگ تشخص قائم رکھنے پر زور دیا اورقیام ِ پاکستان کے لیے بے مثال جدوجہد کی ۔ اِن علما نے ہر موقع پر اُن فیصلوں کی مخالفت کی جن سے مسلمانوں کو نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔ اپنے اس کردار کے باعث اِن علماء نے کانگریس اور دیوبند کے اُن علماء کی مخالفت مول لے لی جو ہندوؤں کے شانہ بشانہ سرگرم تھے ۔ اس صورتحال نے برصغیر میں فرقہ وارانہ رسہ کشی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

 

ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی (1981-1903ء) لکھتے ہیں ’’ بریلوی مکتب فکر کے علماء کانگریس کی قیادت قبول کرنے کے اس لیے خلاف تھے کہ انھیں اس بات کا یقین تھا کہ اس طرح مسلمان آہستہ آہستہ اپنی جداگانہ شخصیت کو ضائع کردیں گے اور ہندوؤں کے خیالات اور طور طریقے قبول کر لیں گے ‘‘ (ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، علماء میدان سیاست میں، اردو ترجمہ ہلال احمد زبیری، شعبہ تصنیف و تالیف کراچی یونیورسٹی، 1994ء صفحہ440)۔ مولانا احمد رضا کی انگریز وں سے بیزاری کا یہ عالم تھا کہ آپ ڈاک کے لفافوں پر برطانیہ کی ملکہ اور بادشاہ کی تصویر والا ڈاک ٹکٹ، تصویر الٹا کرکے چسپا ں کیا کرتے تھے(عکس لفافہ: پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد، گناہِ بے گناہی، ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی، 1984ء، صفحہ38)۔ 1921ء میں مولانا احمد رضا خاں رحلت کر گئے۔

 

حضرت مجدد الف ثانی(1624-1564ء)، علامہ فضل حق خیر آبادی(1861-1797ء) اور مولانا احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی کی فکر کے وارث علماء ومشائخ 19-16مارچ1925ء کو مراد آباد میں منعقدہ سنی کانفرنس میں جمع ہوئے۔ اس موقع پر مسلمانوں کے مذہبی و سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ’’ آل انڈیا سنی کانفرنس ‘‘ کے نام سے تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کے صدر پیر جماعت علی شاہ علی پوری( متوفی1951ء ) اور ناظم اعلیٰ مولانا نعیم الدین مراد آباد ی( متوفی1948) منتخب ہوئے۔ پاکستان کی کوئی تاریخ’’ آل انڈیا سنی کانفرنس‘‘ اور علماء اہلسنت کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں کہلائی جاسکتی۔اس کانفرنس کے بعد ہندوستان کے طول و عرض میں ’’ آل انڈیا سنی کانفرنس‘‘ کے جلسے ہوئے ۔ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی بیان کرتے ہیں ’’ مولانا نعیم الدین مراد آبادی، سید محمد محدث کچھوچھوی، مولانا عبدالحامد بدایونی اور دیگرعلما نے سنی کانفرنسیں منعقد کرکے تحریک ِ پاکستان کی حمایت کی اور اپنے مکتب ِ فکر کے علماء اور عوام کو اس کی حمایت پر آمادہ کیا۔ یقینا ان علما ء کی اس جدوجہد سے تحریک ِ پاکستان کو تقویت پہنچی کیونکہ ان علماء کا اثر تھا اور کافی تھا‘‘( انٹرویو: ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، دو قومی نظریہ کے حامی علماء، سورتی اکیڈمی، کراچی،1982ء ،صفحہ 22بحوالہ ہفت روزہ افق، کراچی شمارہ8 جنوری1979ء)۔ 1930ء، یہ وہی زمانہ ہے جب علامہ محمد اقبال اس طرف متوجہ ہوئے اور ا لہٰ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا تصور پیش کیا۔ اسی طرح 1933ء میں محمد علی جنا ح مسلم لیگ میں دوبارہ متحرک ہوئے۔

 

23مارچ 1940ء کو قرارداد لاہور کے جلسے میں جن ممتاز علماء و مشائخ نے شرکت کی اُن میں علامہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری، مولاناعبدالغفور ہزاروی، مولانا عبدالحا مدبدایونی،پیر عبداللطیف زکوڑی شریف، پیر امین الاحسنات مانکی شریف اور مولانا عبدالستار خاں نیازی جیسے علماء شامل تھے۔ مولانا بدایونی نے قرار داد کی حمایت میں اس جلسے سے خطاب بھی کیا( محمد صادق قصوری، تحریک پاکستان میں علماء و مشائخ کا کردار، تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ ،لاہور،2008ء ،متفرق صفحات )۔

 

مارچ1946ء میں 50سے زائد علما و مشائخ نے اپنے دستخطوں سے مسلم لیگ کی حمایت میں فتویٰ جاری کیا( عکس فتوی، محمد جلال الدین قادری، تاریخ آل انڈیا سنی کانفرنس،سعید برادران گجرات،1999ء،صفحہ208)۔ 30-27اپریل 1946ء کو بنارس میں عظیم الشان سنی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں دو ہزار سے زائد علماء و مشائخ اور 60ہزار کے قریب عام مسلمان شریک ہوئے(پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین احمد نوری، ’’ فاضل ِ بریلوی کا سیاسی کردار ، صفحہ136 اور خواجہ رضی حیدر قائد اعظم کے 72سال)۔ کانفرنس میں تنظیمی ،تربیتی، سیاسی اور تبلیغی نوعیت کے مختلف فیصلے کیے گئے۔ نیزبھرپور انداز میں مطالبۂ پاکستان کی تائید کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ کو ہر ممکن حمایت کا یقین دلایا گیا۔اس موقع پر پاکستان کا دستور بنانے کے لیے ممتاز علماء کرام پر مشتمل 13رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔کانفرنس میں تنظیم کے نئے صدر سید محمدمحدث اشرفی کچھوچھوی ، ناظم اعلیٰ مولانا نعیم الدین مراد آبادی اور ناظم نشر و اشاعت مولانا عبدالحامد بدایونی منتخب ہوئے( محمد جلال الدین قادری، تاریخ آل انڈیا سنی کانفرنس، صفحہ238،260)۔

 

جب مسلمانوں کی اکثریت نے کانگریس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک الگ وطن کی خواہش کا اظہار کیا تو گویا ایک بھونچال آگیا۔ امن اور عدمِ تشدد کی آڑ میں مسلمانوں پر جو ظلم و ستم ڈھائے گئے وہ تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔پاکستان کی حمایت کرنے کے وجہ سے مختلف علماء و مشائخ کی بھی گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ پیر سید امین الحسنات ( مانکی شریف)، پیر صاحب زکوڑی شریف، خواجہ قمر الدین سیالوی، پیر صاحب گولڑہ شریف، مولانا ابراہیم چشتی ، پیر آف تونسہ شریف ، پیر صاحب مکھڈشریف اور دیگر اکابر پابند سلاسل ہوئے( محمد جلال الدین قادری، تاریخ آل انڈیا سنی کانفرنس، صفحہ301)۔

 

ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی لکھتے ہیں ’’ یہ جماعت پاکستان کے لیے اپنے عہد و پیماں میں اس قدر راسخ تھی کہ مولانا نعیم الدین مراد آباد ی نے پنجاب شاخ کے ناظم ابوالحسنات سید محمد احمد قادری کو ایک خط میں لکھا ’’ جمہوریہ اسلامیہ اپنے اس مطالبے کو کسی حال میں ترک نہیں کرسکتی خواہ مسٹر جناح خود اس کے حامی رہیں یا نہ رہیں ‘‘ ( ڈاکٹر اشتیاق احمد قریشی، علماء میدان سیاست میں، مترجم ہلال احمد زبیری، شعبہ تصنیف و تالیف کراچی یونیورسٹی، صفحہ441)۔ ’’ آل انڈیا سنی کانفرنس ‘‘ کا مذکورہ فیصلہ دبدبہ سکندری رام پور میں 10جون1946ء کے شمارے میں بھی شائع ہوا( خبر کا عکس :خطبات آل انڈیا سنی کانفرنس، مکتبہ رضویہ گجرات، 1978ء، صفحہ 312) یہی بات مولانا عبدالحامد بدایونی نے قائد اعظم سے ،اپنی ایک ملاقات میں دہرائی (جلال الدین قادری، تاریخ آل انڈیا سنی کانفرنس، صفحہ384؛ بحوالہ: دبدبہ سکندری رام پور، شمارہ21مئی1947ء،چشتی)۔

 

آل انڈیا سنی کانفرنس کے راہ نماؤں نے مطالبۂ پاکستان کو متعارف کرانے کے لیے پورے ہندوستان کے دورے کئے۔ مطالبے کو عالمی سطح پر متعارف کرنے کے لیے مولانا عبدالعلیم صدیقی اور مولانا عبدالحامد بدایونی پر مشتمل وفد مختلف اسلامی ممالک بھیجا گیا۔ قیام پاکستان سے قبل علماء اہلسنت نے مشرقی اور مغربی حصو ں کے درمیان خطہ اتصال نہ ہونے کی طرف بھی توجہ دلائی( جلال الدین قادری، تاریخ آل انڈیا سنی کانفرنس، صفحہ294-292)۔ اگر مسلم لیگ ابتدا سے اس خطہ اتصال کو بھی اپنے مطالبات میں شامل کر لیتی تو شاید مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سانحہ نہ ہوتا۔

 

تحریکِ پاکستان میں بعض علمائے دیوبند کی خدمات کوبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم تحریک کے دوران دیوبند مکتب ِفکر کے مولانا اشرف علی تھانوی(1943-1863ء)، مولانا شبیر احمد عثمانی(1949-1886ء)، مولانا ظفر احمد عثمانی (1974-1982ء) اورمفتی محمد شفیع(1976-1897ء ) کو چھوڑ کر علماء ِدیوبند کی بھار ی اکثریت نے ہندوؤں کے شانہ بشانہ انڈ ین نیشنل کانگریس (1885ء) ،جمعیت علمائے ہند( 1919ء) اور دیگر تنظیموں کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کے علیحدہ وطن کی بھر پور مخالفت کی ۔ دارالعلوم دیوبند کو بحیثیت ادارہ پاکستان کی مخالفت میں استعمال کیا گیا۔ بقول ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی ’’ دو چار علماء کے علاوہ دیوبندیوں کا باقی ماندہ حصہ تو ہندوؤں میں بالکل مدغم ہوچکا تھا‘‘ (دوقومی نظریہ کے حامی علماء، صفحہ20)۔ دار العلوم دیوبند کے ممتاز عالم مولانا حسین احمد مدنی نے مسلم لیگ میں شرکت کو حرام اور قائد اعظم کو کافرِ اعظم قرار دیا( ڈاکٹر ایچ بی خان، تحریک پاکستان میں علماء کا سیاسی و علمی کردار، الحمد اکادمی ،کراچی، 1995ء ،صفحہ342) اور مفتی محمد شفیع کے بقول ’’دیوبند میں کانگریسی مزاج پختہ ہوتا چلا گیا‘‘ ( انٹر ویو: مفتی محمد شفیع ، ماہنامہ اردو ڈائجسٹ ،لاہور، جولائی1968ء ،صفحہ28)۔

 

پاکستان مخالف مہم میں اسلامی شعائر کی پامالی سمیت پاکستان، قائد اعظم اور اُن کے حامیوں کے بارے میں ایسے نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے جو دین کے نام لیواؤں کے منصب کے یکسر منافی تھے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی بیان کرتے ہیں ’’ آج دارالعلوم نہ صرف ہنود کا مداح ہے بلکہ ان کے رنگ میں بہت کچھ رنگا جا چکا ہے‘‘(حیات شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی، فیض انبالوی و شفیق صدیقی، ادارہ پاکستان شناسی ،لاہور، 2002ء، صفحہ59 )۔ پاکستان کو پلیدستان، خاکستان، خونخوار سانپ ، پاکستان کی حمایت کرنے والوں کو سور کھانے والے ، مسلم لیگ میں شرکت کو حرام اور قائد اعظم کو کافرِ اعظم قرار دیا گیا( تخلیق پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار ، صفحہ102)۔ بقول مولانا احتشام الحق تھانوی (متوفی11اپریل1980ء) ’’ مفتی محمود اور مولانا یوسف بنوری جو کہ جمعیت علماء ہند صوبہ گجرات کے صدر تھے، ان دونوں کا نظریہ ہے کہ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی کو پاکستان بنانے کے جرم کی پاداش میں قبر میں عذاب مل رہا ہے ‘‘( انٹرویو: مولانا احتشام الحق تھانوی، مشمولہ: دی گریٹ لیڈر حصہ اوّل، منیر احمد منیر، آتش فشاں لاہور، 2011ء، صفحہ79)۔

 

جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابو الاعلی مودودی جیسے سنجیدہ شخص نے مطا لبۂ پاکستا ن کو بَکر ی کی بولی قرار دیا ( تحریک آزادی ٔ ہند اور مسلمان ،دوئم ، اسلامک پبلی کیشنز ، لاہور، 2005ء، صفحہ107 )۔ جماعت اسلامی کے اپریل 1947ء کے اجلاس منعقدہ پٹنہ میں کانگریس کے راہ نما گاندھی دو خواتین کے ہمراہ بنفسِ نفیس شریک ہوئے اور اجلاس میں کی جانے والی تقریر پر مسرت کا اظہار کیا(رودادِ جماعت اسلامی حصّہ پنجم، شائع کردہ شعبہ نشرو اشاعت جماعت ِاسلامی، ملتان روڈ، لاہور،1992ء، صفحہ251)۔ ’’ جماعت کے اس جلسے میں بندے ماترم کے ترانے کے ساتھ گاندھی کا استقبال ہوا ‘‘ (انٹرویو: مولانا احتشام الحق تھانوی، دی گریٹ لیڈر، صفحہ79)۔

 

مولانا اشرف علی تھانوی کے سوانح نگار پروفیسر احمد سعید لکھتے ہیں ’’ مسلمانوں نے مندروں میں جاکر دعائیں مانگیں۔ وید کو الہامی کتاب تسلیم کیا گیا۔ رامائن کی پوجا میں شرکت کی گئی۔ مسلمانوں نے اپنے ماتھے پر تلک لگائے۔ گنگا پر پھول اور بتاشے چڑھائے گئے۔ بار بار اعلان کیا جاتا کہ ’’ گاندھی مستحق نبوت تھا‘‘ اور یہ کہا گیا کہ ’’اگر نبوت ختم نہ ہوتی تو گاندھی نبی ہوتا۔ گائے کی قربانی موقوف کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں اور سب سے غضب یہ کیا کہ دہلی کی جا مع مسجد میں منبر رسول پر ایک متشدد اور متعصب ہندو شردھانند سے تقریر کروائی گئی‘‘ ّ ( پروفیسر احمد سعید، حصول ِ پاکستان ، الفیصل تاجران کتب، لاہور، 1996ء ،صفحہ123)۔

 

ممتاز محقق اور قائد ِ اعظم اکیڈمی کے سابق ایکٹنگ ڈائریکٹر خواجہ رضی حیدر تحریک پاکستان میں ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ کی عدم شرکت کی وجہ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ 8جون 1936ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کونسل اور مرکزی پارلیمنٹری بورڈ کے اجلاس لاہور میں ہوئے۔ ان اجلاسوں سے مولانا حسین احمد مدنی، مفتی کفایت اﷲ اور مولانا احمد سعید نے بھی خطاب کیا اور انہوں نے کہا کہ دیوبند کا ادارہ اپنی تمام خدمات لیگ کے لیے پیش کردے گا بشرطے کہ پروپیگنڈہ کا خرچ لیگ برداشت کرے۔ اس کام کے لیے ابتدائی طور پر پچاس ہزار کی رقم بھی طلب کی گئی جو لیگ کی استعداد سے باہر تھی‘‘ (خواجہ رضی حیدر، قائد اعظم کے 72سال، نفیس اکیڈمی کراچی،1986ء ،صفحہ303 ؛ میاں عبدالرشید،پاکستان کا پس منظر اور پیش منظر، ادارہ تحقیقاتِ پاکستان،لاہور، 1985ء، صفحہ113)۔واقعہ کی تفصیل تحریک پاکستان کے ممتاز راہ نما اور قائد اعظم کے دستِ راست مرزا ابوالحسن اصفہانی(1981-1902ء) نے بھی اپنی کتاب “Quaid-e-azam as I knew him”، اردو ترجمہ بعنوان ’’قائدِ اعظم جناح میری نظر میں‘‘ مطبوعہ روٹا پرنٹ ایجنسی کراچی، 1968ء کے صفحہ30پر تحریر فرمائی۔

 

ممتاز صحافی اور کالم نویس ضیاء الاسلام زبیر ی تحریر کرتے ہیں ’’ سیدعطا اﷲ شاہ بخاری اور اس قسم کے دوسرے لوگ فنِ خطابت کے امام تھے۔ ہندو کانگریس نے ان کے فن ِ خطابت ہی کی وجہ سے ان کو بھاری قیمت کے عوض خرید رکھا تھا‘‘( پر وفیسر ڈاکٹر جلال الدین احمد نوری، فاضل ِ بریلوی کا سیاسی کردار،صفحہ146، بحوالہ: روزنامہ نوائے وقت، 26اگست1971ء)۔

 

دیوبند اور بریلوی مکتب فکر میں تحریکِ پاکستان کے حوالے سے ایک واضح فرق یہ ہے کہ بریلوی مکتب فکر کے علماء شروع سے پاکستان کے قیام کی راہ ہموار کرتے رہے۔ یہ وہ قافلہ تھا جس نے 1857ء میں پھانسی کے پھندوں اور خون کے نذرانوں سے تحریک آزادی کی بنیاد رکھی جبکہ تحریک پاکستان میں شریک بعض علمائے دیوبند آخری دنوں میں تحریک میں شریک ہوئے۔

 

ممتاز کانگریسی لیڈر ابو الکلام آزاد (1958-1888ء)کی یادداشتوں پر مبنی کتاب India Wins Freedom، اُن کے انتقال (22فروری1958ء) کے بعد 1958ء میں ہی چھپی۔کتاب کے کچھ ابواب ان کی وصیت کے مطابق 30سال بعد1988ء میں کتاب کے نئے ایڈیشن میں شامل کیے گئے۔ ان ابواب میں آزاد اعتراف کرتے ہیں کہ:

“One has to admit with regret that the nationalism of the Congress had not then reached a stage where it could ignore communal considerations and select leaders on the basis of merit without regard to majority or minority.” ( Orient Longman Limited, Madras, 1988 , page No. 18 )

ترجمہ : ’’افسوس کے ساتھ یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ کانگریس کی قوم پرستی ابھی اس سطح تک نہیں پہنچی تھی ،جہاں یہ فرقہ واریت سے بالا تر اور اقلیت و اکثریت سے بے نیاز ہو کر محض اہلیت کی بنیاد پر اپنے لیڈروں کا انتخاب کرسکتی‘‘

 

’’ 10 اکتوبر1992ء کو ٹائمز آف انڈیا میں سکینہ یوسف خان نے انکشاف کیا کہ مولانا آزاد کی ایک کتاب ’’ جشنِ آزادی یا تقسیمِ ہند‘‘ کو شائع نہیں ہونے دیا گیا کیونکہ اس کتاب میں مولانا نے نہرو اور پٹیل کے علاوہ گاندھی پر بھی تنقید کی تھی‘‘ ( بحوالہ کالم: حامد میر، ابوالکلام آزاد اور پاکستان، روزنامہ جنگ، 19دسمبر2013ء)۔

 

اگست2009ء میں بھارت کے سابق وزیر خارجہ و زیر ِ دفاع اور بھارتیہ جنتا پارٹی(PJP) کے مرکزی راہ نما جس ونت سنگھ کی کتاب India-Partition Independence JINNAH: شائع ہوئی ۔ اس کتاب میں جس ونت سنگھ نے تحریر کیا کہ جب گاندھی نے مذہب کو سیاسی ہتھیار بنا لیا تو قائد ِ اعظم کو بھی اپنی راہ جد ا کرنی پڑی۔ سنگھ نے اپنی کتاب میں ہندو راہنماؤں کو بھی تقسیم کا ذمہ دار قرار دیا۔ اِن تلخ حقائق کی اشاعت پر سنگھ کی کتاب کو انڈیا میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا اور اُن کی پارٹی نے انھیں پارٹی سے نکالنے کا اعلان کر دیا۔

 

قیام پاکستان کے بعد علماء و مشائخ نے سیاسی سرگرمیوں سے گریز کیا۔ وزیر اعظم لیاقت علی خاں خود شیخ الاسلام خواجہ قمر الدین سیالوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اُنھیں پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی میں اعزازی مشیر کے عہدے کی پیشکش کی۔ قائد اعظم نے شیخ الاسلام کو اس سلسلے میں خط بھی تحریر کیا مگر خواجہ صاحب نے معذرت کر لی ۔ (مضمون علامہ شبیر احمد ہاشمی، تعمیر ملت کے لیے جمعیت علماء پاکستان کی سیاسی جدوجہد، سہ ماہی انورِ رضا، لاہور، اگست 2012ء، صفحہ352)۔اس طرح وزارت کی پیشکش پیر سید امین الحسنات (مانکی شریف) کو بھی کی گئی اور انھوں نے بھی معذرت کر لی( بحوالہ عکس خط: وزیر اعظم لیاقت علی خاں،مشمولہ :عبد الحکیم شرف قادری، تذکرہ اکابر اہلسنت ، مکتبہ قادریہ، لاہور،1989ء، صفحہ101)

 

مارچ 1948ء میں تحریک پاکستان کے ممتاز علماء ا کاایک اجلاس ملتان میں منعقد ہوا ۔ اس اجلاس میں ’’مرکزی جمعیت العلماء پاکستان ‘‘ کا قیام عمل میں آیا ۔ جس کے پہلے صدرابو الحسنات علامہ سید محمد احمد قادری( متوفی 20جنوری 1961ء) اور ناظم اعلی علامہ سید احمد سعید کاظمی (متوفی 4جون 1986ء) منتخب ہوئے ، اس طرح پاکستان سے قبل کی’’آل انڈیا سنی کانفرنس‘‘ ، پاکستان کے بعد ’’ جمعیت علماء پاکستان‘‘ کے نام سے موسوم ہوگئی۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)