امام زہری کی تدلیس کے دلائل اور ایک مجہولیے کے اعتراضات کا جائزہ
امام زہری کی تدلیس کے دلائل اور ایک مجہولیے کے اعتراضات کا جائزہ
ازقلم: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی
پہلا:
امام ابو حاتم الرازی ایک حدیث پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: “الزهري لم يسمع من عروة هذا الحديث، فلعله دلسه” زہری نے یہ حدیث عروہ سے نہیں سنی، شاید زہری نے تدلیس کی ہے۔ (علل الحدیث لابن ابی حاتم 3/407 رقم 968)۔
شاید تدلیس کی ہے سے تدلیس ثابت نہیں ہوتی۔ امام زہری جیسے بڑے اور جلیل القدر امام کی اتنی تو حیثیت ہے کہ ان پر اتنا بڑا الزام صرف ایک شاید کی بناء پر نہ لگایا جائے۔ جو لوگ تحقیق کی باتیں کرتے ہیں ان کو تو کم از کم یہ حرکت نہیں کرنی چاہیے۔
الجواب :
امام ابو حاتم نے تدلیس کا شبہ کا اظہار اس لیے کیا ہے کیونکہ زہری تدلیس میں معروف تھا اور مشہور تھا
اور اس پر متعدد محدثین کی جرح بھی ہے جیسا کہ آگے بیان کرینگے اور نہ ہی زہری کی تدلیس کے لیے فقط یہی ایک دلیل ہے جس پر مجہول میاں کا یہ کہنا کہ زہری جیسے بڑے حافظ کے لیے اس طرح کے اقوال پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا
لیکن مجہولیے کو یہ تب کہنا چاہیے جب امام ابو حاتم کا تفرد ہو یا زہری کی تدلیس کی اورکوئی دلیل ہی نہ ہو ۔
جبکہ زہری کی تدلیس کے ثبوت ہم پیش کرینگے آگے !!!
مجہولیے نے چونکہ اپنی تحریر کے آخر میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ”امام زہری تدلیس سے برئ ہیں ”
سب سے پہلےہم اس مجہولیے کے اس دعویٰ کی حیثیت پیش کرتے ہیں پھر اسکی تحریر کو پیش کرینگے
امام العلل نسائی سے زہری کی تدلیس کا ثبوت !!!
امام نسائی اپنی سنن کبری میں روایت کا پہلا طریق نقل کرتے ہیں :
جس میں امام زہری اپنے شیخ قبیصہ بن ذویب سے بیان کرتے ہیں اور امام زہری سے یہ روایت امام اوزاعی بیان کرتے ہیں
أخبرني محمود بن خالد الدمشقي، قال: حدثنا عمر يعني ابن عبد الواحد الدمشقي، عن الأوزاعي، عن الزهري، عن قبيصة بن ذؤيب، أن الجدة جاءت في عهد أبي الخ۔۔۔۔
پھر اسکا اسکا دوسرا طریق نقل کرتے ہیں جس میں امام زہری اپنے شیخ قبیصہ سے بیان کرتے ہیں اور زہری سے یہ روایت امام معمر بیان کرتے ہیں
فأنفذ ذلك أبو بكر أخبرنا نصر بن علي بن نصر الجهضمي، قال: أخبرنا عبد الأعلى يعني ابن عبد الأعلى، قال: حدثنا معمر، عن الزهري، عن قبيصة بن ذؤيب، أن جدة أتت أبا بكر، وساق الحديث
پھر اس روایت کا تیسرا طریق نقل کرتے ہیں جس میں زہری قبیصہ سے روایت بیان کرتے ہیں اور زہری سے اسحاق بن رشد بیان کرتے ہیں
أخبرني محمد بن جبلة الرافقي، قال: حدثنا عبد الله بن سليم، قال: حدثنا عبيد الله يعني ابن عمرو الرقي، عن إسحاق يعني ابن راشد، عن الزهري، عن قبيصة بن ذؤيب، أن الجدة أم الأم أتت أبا بكر، وساق الحديث.
اسکو نقل کرنے کے بعد امام نسائی کہتے ہیں زہری نے یہ روایت قبیصہ سے نہیں سنی ہے
قال أبو عبد الرحمن: الزهري لم يسمعه من قبيصة
پھر اسکے ثبوت بیان کرتے ہیں
پھر اس روایت کا چوتھا طریق نقل کرتے ہیں جس میں زہری قبیصہ سے فقط قال کے صیغے سے بیان کرتے ہیں ۔
أخبرني عمران بن بكار البراد، قال: حدثنا أبو اليمان يعني الحكم بن نافع، قال: أخبرنا شعيب، عن الزهري، قال: قال قبيصة: جاءت الجدة، وساق الحديث.
پھر اسکا پانچواں طریق بیان کرتے ہیں جس میں امام زہری زعم کے الفاظ سے قبیصہ سے بیان کرتے ہیں ینعی انہوں نے فقط دعویٰ کیا کہ قبیصہ بن ذویب بیان کرتے ہیں
أخبرنا هارون بن سعيد بن الهيثم الأيلي، قال: حدثنا خالد بن نزار، قال: أخبرنا القاسم بن مبرور، عن يونس، قال ابن شهاب: زعم قبيصة بن ذؤيب أن الجدة أتت أبا بكر وساق الحديث.
پھر امام نسائی نے اس روایت کا چھٹا طریق روایت کیا ہے جس میں زہری نے تصریح کی ہے کہ انہوں نے یہ روایت ایک شخص سے سنی اور وہ قبیصہ بن ذویب کے حوالے سے روایت کرتا ہے
أخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد المقرئ، قال: حدثنا سفيان، قال: سمعت الزهري، يحدث، عن رجل، عن قبيصة بن ذؤيب، أن الجدة أتت إلى أبي بكر ” وساق الحديث
[السنن الکبری برقم :6306تا6311]
تو ثابت ہوا کہ امام نسائی نے متعدد طریق سے زہری سے ثابت کیا کہ ان سے پہلے قبیصہ سے عن سے پھر زعم کے الفاظ سے پھر عن رجل کے طریق سے بیان کیا جس سے زہری کی تدلیس کا ثبوت قطعی ثابت ہو گیا
لیکن موصوف کا یہ دعویٰ باطل کرنا کہ زہری تدلیس سے بری ہے یہ ناقص تحقیق ہے فقط
اسی طرح دوسرے امام العلل دارقطنی کا بھی یہی موف ہے :
وقال ابن عيينة عن الزهري، عن رجل لم يسمه، عن قبيصة بن ذويب
فقوي هذا القول مالك وأبي أويس.
ورواه يونس بن زيد، وعقيل بن خالد، ومعمر والأوزاعي وأسامة بن زيد، وأشعث، وإبراهيم بن إسماعيل بن مجمع وشعيب بن أبي حمزة، وصالح بن كيسان، ويزيد بن أبي حبيب عن الزهري، عن قبيصة بن ذؤيب.
لم يذكروا بينهما أحدا.
امام دارقطنی کہتے ہیں ابن عیینہ نے کہا کہ زہری نے یہ ایک مبھم رجل سے روایت کیا ہے اور انہوں نے (یہ حدیث) قبیصہ بن ذویب سے نہیں سنی ہے
اور اس اس بات کو امام مالک اور ابی اویس (کاطریق) قوی بناتا ہے
اور روایت کیا ہے یونس بن زید ، عقیل ، معمر ۔ اوزاعی ، اسامہ ، اشعت اور ابراہیم، شعیب ، صالح ، اور یزید نے زہری سے عن کے ساتھ قبیصہ سے
لیکن انہوں نے (زہری اور قبیصہ) کے درمیان شخص کا ذکر نہیں کیا ہے
پھر امام دارقطنی اس مبھم شخص پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہتے ہیں :
ويشبه أن يكون الصواب ما قاله مالك، وأبو أويس وأن الزهري لم يسمعه من قبيصة وإنما أخذه عن عثمان بن إسحاق بن خرشة عنه.
اور مجھے لگتا ہے کہ صحیح (طریق) وہی ہے جو مالک اور ابو اویس نے(زہری سے روایت )کیا ہے ۔
زہری نے قبیصہ سے نہیں سنا ہے (اس روایت کو) اور انہوں (زہری) نے یہ روایت عثمان بن اسحاق بن خرشہ سے سنی ہے
[العلل الواردة في الأحاديث النبوية. برقم: 46]
امام العلل دارقطنی سے زہری کی تدلیس کا دوسرا ثبوت:
وسألته عن حديث يونس عن الزهري عن سهل بن سعد (الماء من الماء) .
فقال: لا يصح، لأن الزهري لم يسمعه من سهل بن سعد.
قلت له: قد سمع منه، فما تنكر أن يكون سمع هذا منه؟ فقال: الدليل عليه أن عمرو بن الحارث رواه عن الزهري،
کہ میں نے سوال کیا یونس کی حدیث کا جو وہ زہری سے بیان کرتےہیں عن سھل بن سعد کے طریق سے
تو (دارقطنی)نے کہا یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ زہری نے سھل بن سعد سے (یہ حدیث) نہیں سنی ہے
تو میں نے کہا (زہری) نے ان سے سنی ہے آپ کیوں کہہ رہے ہیں کہ زہری نے سھل بن سعد سے نہیں سنی ہے ؟
تو امام زہری کہتے ہیں :
فقال فيه: حدثنى من أرضاه عن سهل بن سعد
اس میں ہے کہ (زہری کہتے ہیں ) مجھے بیان کی ہے یہ حدیث سھل بن سعد سے روایت کرنے والے نے
[سؤالات أبى بكر البرقانى للدارقطني في الجرح والتعديل]
یعنی اس میں مبھم شخص سے سھل بن سعد سے سنا ہے جبکہ زہری عن کے صیغے سے سھل سے بھی بیان کردیتے تھے ۔
تو یہاں تک یہ ثابت ہوگیا کہ زہری مجہول اور ثقہ ہر قسم کے راوی سے تدلیس کرتے تھے جیسا کہ علل کے ائمہ نے تصریح کی ہے
جبکہ موصوف تو زہری کی تدلیس کا مطلق انکار کر کے احمقوں کی جنت میں خوش تھا ۔
اسکے بعد اس مجہولیے نے امام طحاوی رحمہ اللہ سے زہری پر تدلیس کی صریح جرح کا بہت بھونڈے اور تعصب بھرے انداز مین گھٹیا جواب دینے کی بے کار کوشش کی ہے جسکا جواب ہم تفصیلی پیش کرینگے ۔۔۔
امام طحاوی کی جرح نقل کرکے اس مجہولیے جو جہالت بکھیری ہے وہ درج زیل ہے :
ابو جعفر الطحاوی فرماتے ہیں: “وهذا الحديث أيضا لم يسمعه الزهري من عروة إنما دلس به” اس حدیث میں بھی زہری نے عروہ سے نہیں سنا، کیونکہ انہوں نے تدلیس کی ہے۔
(شرح معانی الآثار 1/72 رقم 429)
ابو جعفر الطحاوی اگرچہ صدوق فی الحدیث ہیں لیکن متعصب حنفیوں میں سے ہیں۔ اپنے مذہب کی تائید میں بعید سے بعید تر تاویلات بھی کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ علم حدیث سے ان کا ایسا تعلق نہیں کہ صرف ان کے قول کی بنیاد پر کسی راوی پر فیصلہ کیا جائے۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: “وَالطَّحَاوِيُّ لَيْسَتْ عَادَتُهُ نَقْدَ الْحَدِيثِ كَنَقْدِ أَهْلِ الْعِلْمِ ; وَلِهَذَا رَوَى فِي ” شَرْحِ مَعَانِي الْآثَارِ ” الْأَحَادِيثَ الْمُخْتَلِفَةَ، وَإِنَّمَا يُرَجِّحُ مَا يُرَجِّحُهُ مِنْهَا فِي الْغَالِبِ مِنْ جِهَةِ الْقِيَاسِ الَّذِي رَآهُ حُجَّةً، وَيَكُونُ أَكْثَرُهَا مَجْرُوحًا مِنْ جِهَةِ الْإِسْنَادِ لَا يَثْبُتُ، وَلَا يَتَعَرَّضُ لِذَلِكَ ; فَإِنَّهُ لَمْ تَكُنْ مَعْرِفَتُهُ بِالْإِسْنَادِ كَمَعْرِفَةِ أَهْلِ الْعِلْمِ بِهِ، وَإِنْ كَانَ كَثِيرَ الْحَدِيثِ، فَقِيهًا عَالِمًا
” حدیث کی نقد طحاوی کی عادت نہیں ہے جیسا کہ اہل العلم نقد کرتے ہیں، اسی لیے انہوں نے شرح معانی الآثار میں کئی مختلف احادیث بیان کیں، اور اس میں سے جن کو بھی دوسرے پر ترجیح دیتے ہیں تو اس میں زیادہ تر قیاس کی وجہ سے ہوتا ہے جسے وہ حجت سمجھتے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر مجروح الاسناد غیر ثابت ہوتی ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ وہ کثیر الحدیث، اور فقیہ عالم تھے لیکن ان کی معرفتِ اسناد اہل العلم کی معرفت جیسی نہیں تھی ۔
(منہاج السنہ النبویہ لابن تیمیہ: 8/195-196)۔
اور اگر آپ اس حدیث کو کھول کر دیکھیں جس کہ تحت طحاوی نے امام زہری پر یہ الزام لگایا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس حدیث میں بھی طحاوی صاحب حنفیوں کے دفاع میں ہی بے جا لگے ہوئے ہیں اور ثقہ راویوں پر بھی جرح کرنے میں مصروف ہیں۔ لہٰذا جرح و تعدیل اور علم حدیث امام ابن تیمیہ کے بقول طحاوی کا فن نہیں ہے تو کسی غیر ماہر اور متعصب شخص کی بناء پر ایسے الزام کی بنیاد رکھنا محققین کا شیوہ نہیں ہے۔
مزید یہ کہ امام طحاوی نے امام زہری کی عروہ سے مس الذکر والی حدیث پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حدیث کو زہری نے عروہ سے براہ راست نہیں سنا بلکہ انہوں نے تدلیس کی ہے، اور اس تدلیس کو ثابت کرنے کے لیے طحاوی صاحب اگلی روایت زہری عن ابو بکر بن محمد بن عمرو عن عروہ سے روایت کرتے ہیں۔
گویا اگر زہری نے ایک روایت ابو بکر بن محمد عن عروہ اور عن عروہ دونوں طرق سے روایت کی تو امام طحاوی نے سمجھ لیا کہ زہری نے تدلیس کی ہے جبکہ اس میں ان کی کسی نے تائید نہیں کی ہے بلکہ
الٹا امام ابن حزم نے المحلی میں اس روایت کے متعلق فرمایا ہے کہ: “
فَإِنْ قِيلَ: إِنَّ هَذَا خَبَرٌ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عُرْوَةَ، قُلْنَا: مَرْحَبًا بِهَذَا، وَعَبْدُ اللَّهِ ثِقَةٌ، وَالزُّهْرِيّ لا خِلافَ فِي أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ عُرْوَةَ وَجَالَسَهُ، فَرَوَاهُ عَنْ عُرْوَةَ وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عُرْوَةَ، فَهَذَا قُوَّةٌ لِلْخَبَرِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.
” اگر یہ کہا جائے کہ اس خبر کو زہری نے عن عبد اللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم عن عروہ سے روایت کی ہے، تو ہم کہتے ہیں: مرحبا بہذا اور عبد اللہ ثقہ ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ زہری نے عروہ سے سنا ہے اور ان کے پاس بیٹھے ہیں، تو انہوں نے اسے عروہ سے بھی روایت کر دیا اور عبد اللہ بن ابی بکر عن عروہ سے بھی روایت کر دیا، لہٰذا یہ خبر کے لیے قوت کا باعث ہے، والحمد للہ رب العالمین۔”
چنانچہ امام طحاوی کے برعکس امام ابن حزم کے نزدیک اگر امام زہری نے ایک روایت کو عبد اللہ بن ابی بکر عن عروہ سے اور پھر براہ راست عروہ سے بھی روایت کر دیا تو یہ ان کی تدلیس کی دلیل نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ زہری نے یہ روایت دونوں سے لی ہے۔
اس کے بعد عرض ہے کہ جس روایت میں طحاوی نے امام زہری پر تدلیس کا الزام لگایا ہے اسی روایت کے ایک دوسرے طریق میں امام زہری نے خود امام عروہ بن الزبیر سے سماع کی صراحت کر دی ہے۔
(دیکھیں تاریخ بغداد: 10/451، واسنادہ صحیح؛ ومسند الشامیین للطبرانی: 2875)۔
لہٰذا جس روایت کی بنیاد پر امام زہری پر تدلیس کا الزام لگایا گیا اس میں انہوں نے تدلیس کی ہی نہیں تو الزام کیسا!؟
لہٰذا، امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ پر تدلیس کا الزام غلط ہے ۔آپ تدلیس سے برئ ہیں اور آپ کی تمام معنعن روایات صحیح ہیں، والحمد للہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس مجہولیے کی جہالت کے چند نکات
امام طحاوی حدیث میں صدوق ہیں
امام طحاوی متعصب ہیں
اور امام طحاوی نے یہ الزام لگایا ہے
امام طحاوی کو اسناد کی معرفت نہیں تھی بقول ابن تیمیہ
اور
ابن حزم نے امام طحاوی کا رد کیا ہے
اب ہم ان نکات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں :
سب سے پہلی جہالت اس مجہولیے کی یہ ہے کہ اس نے تعصب میں آکر امام طحاوی کو فقط صدوق درجہ کا حافظ قرار دیا ہے اور یہ اسکی تعصب پر مبنی بات ہے کیونکہ یہ وہابیوں کو گھٹی میں ملا ہے ان میں ان بیچاروں کا قصور نہیں
امام طحاوی ائمہ حدیث کے نزدیک :
امام طحاوی کیونکہ مصری تھے تو سب سے پہلے مصر کے ناقد امام ابن یونس سے امام طحاوی کے بارے موقف پیش کرتے ہیں
وہ تفصیل سے امام طحاوی کا تذکرہ کرتے ہیں برحال ہم انکے فقط توثیقی کلمات نقل کرتے ہیں :
امام ابن یونس کہتے ہیں :
وكان ثقة ثبتا، فقيها عاقلا، لم يخلّف مثله
وہ (امام طحاوی) ثقہ ثبت اور عاقل فقیہ تھے اور انکے جیسا کوئی نہ تھا (انکے زمانے میں )
[تاريخ ابن يونس المصري (المتوفى: 347هـ ص۲۲]
امام صلاح الدين خليل بن أيبك امام ابو اسحاق شیرازی کا قول نقل کرتے ہیں امام طحاوی کے بارے :
قال أبو إسحاق الشيرازي انتهت إليه رئاسة أصحاب أبي حنيفة بمصر
امام ابو اسحاق کہتے ہیں کہ اصحاب ابی حنیفہ میں ان(طحاوی) پر (علم) کی انتہاء تھی مصر میں
اور امام ذھبی انکو تذکرہ الحفاظ میں شامل کرتے ہوئے سب سے اعلیٰ درجہ کی توثیق کرتے ہوئے انکو حجہ کے درجہ کا محدث قرار دیا
امام ذھبی فرماتے ہیں :
والحافظ أبو جعفر أحمد بن محمد بن سلامة الطحاوي الفقيه حجة
حافظ ابو جعفر احمد بن محمد طحاوی یہ فقیہ تھے اور حجت تھے (حدیث میں )
[المعين في طبقات المحدثين برقم: 1234]
نیز امام طحاوی کے شیخ امام نسائی بھی طحاوی سے روایات لیتے تھے جس سے معلوم ہوا کہ امام طحاوی کثیر الحدیث تھے
جیسا کہ وہ خود فرماتے ہیں :
قال أبو جعفر كتب هذا الحديث عني أبو عبد الرحمن يعني النسائي الخ۔۔۔۔۔۔
ابو جعفر طحاوی رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ حدیث مجھ سے ابو عبد الرحمن النسائی نے لکھی ہے۔ گویا الخ۔۔۔۔۔۔
[شرح مشكل الآثار13/297]
باقی رہا مسلہ ابن تیمیہ جیسے بندے کو امام طحاوی جیسے امام پر جارح بنا کر بیان کرنا تو یہ کام کسی الو کا ہو سکتا ہے صاحب علم کا نہیں
ابن تیمیہ وہ بندہ تھا جو احادیث کو بغیر تحقیق کے موضوع قرار دے دیتا تھا اور رجال میں تو کسی امام نے اس کو بطور ناقد لیا ہی نہیں
غیر مقلدین کے ممدوح اور انصاف پسند محدث عبد الحئ لکھنوی لکھتا ہے :
وهناك خلق لهم تشدّد في جرح الرواة يجرحون الرواة من غير مبالاة ويدرجون الأحاديث الغير الموضوعة في الموضوعات، منهم: ابن الجوزي، والصغاني، والجوزقاني، والمجد الفيروزآبادي، وابن تيمية الحَرَّاني الدمشقي، وأبو الحسن بن القطان وغيرهم
یعنی ایسے ہی بعض لوگ جرح میں تشدد سے کام لیتے ہیں اور غیر موضوع احادیث کو موضوعا میں شمار کرنے میں خوف محسوس نہیں کرتے ان لوگوں میں ابن جوزی ، صغانی ، ، جوزقانی ، مضد والدین فیروزآبادی ، ابن تیمیہ اور ابن القطان شامل ہیں
[التعليق الممجد على موطأ محمد ص ۱۲۶]
اور جس روایت کو بنیاد پر کر ابن تیمیہ نے رد کیا تھا امام طحاوی کا یعنی رد الشمس اس روایت پر امام طحاوی ہی کا موقف اصح تھا اور جمہور محدثین نے امام طحاوی کے مطابق اس روایت کو اصح قرار دیکر الٹا ابن تیمیہ جیسے بندے کا رد کیا
جیسا کہ اس روایت کو صحیح و حسن کہنے والوں میں شمول امام ابن حجرعسقلانی ، امام بدرالدین عینی، امام طحاوی ، امام قاضی عیاض ، امام جلال الدین سیوطی ، امام مغلطائی الحنفی ، امام ابن حجر مکی ، امام ابو بکر الہیثمی امام شامی ، امام شاہ ولی اللہ محدث ، امام زرقانی سمیت اور بھی بہت ہیں
اور ابن تیمیہ حدیث کے متعدد طریق اور روایات کا مکمل احاطہ لگا کر حکم لگانے میں کتنا کچا تھا اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے جو کہ امام قسطلانی نے ابن تیمیہ کا رد کیا ہے
جیسا کہ وہ لکھتےہیں :
جیسا کہ امام زرقانی ابن تیمیہ کی کلاس لیتے ہوئے فرماتے ہیں :
ولا عجب أصلًا؛ لأن إسناد حديث أسماء حسن، وكذا إسناد حديث أبي هريرة الآتي، كما صرَّح به السيوطي قائلًا: ومن ثَمَّ صححه الطحاوي والقاضي عياض، وذكره ابن الجوزي في الموضوعات فأخطأ، كما بينته في مختصر الموضوعات، وفي النكت البديعات، انتهى. يعني: لما تقرر في علوم الحديث: أنَّ الحسن إذا اجتمع مع حسن آخر، أو تعددت طرقه ارتقى للصحة، فالعجب العجاب إنما هو من كلام ابن تيمية هذا، لا من عياض؛ لأنه الجاري على القواعد المعلومة في الألفية وغيرها، لصغار الطلبة.
ولذا قال الحافظ في فتح الباري: أخطأ ابن الجوزي بذكره في الموضوعات، وكذا ابن تيمية في كتاب الرد على الروافض في زعم وضعه، انتهى.
اس میں کوئی حیرانگی کی بات نہیں کہ حدیث جو اسماء تک اسکی سند حسن ہے اور اسی طرح حضرت ابو ھریرہ سے مروی روایت کی بھی سند حسن ہے ۔
امام جلال الدین سیوطی نے تفصیل سے اسکو بیان کیا ہے اس روایت کو صحیح قرار دینے والوں میں سے امام طحاوی ، امام قاضی نے کہا ہے ۔
اسکے بعد امام زرقانی امام سیوطی نے ابن جوزی کا رد اور خطاء کو ظاہر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
یہ اصول حدیث ہے کہ جب متعدد حسن طریق دوسرے حسن طریق سے ملتے ہیں تو وہ صحیح کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں یہ بات عام سا طالب علم بھی جانتا ہے جسکو ابن تیمیہ نے چھوڑ دیا
[شرح العلامہ الزرقانی علی المواھب الدنیہ امام القسطلانی ص ۴۸۸]
اور تدلیس کے مسلے پر خود امام طحاوی نے کتاب لکھی ہے جو کہ اب مفقود ہے
جیسا کہ محدث ابن الندیم کہتے ہیں امام طحاوی کی کتب کے بارے :
ورقة كتاب نقض كتاب المدلسين على الكرابيس
اور انکی کتاب ہے نقص کتاب المدلسین علی کرابیس،
[الفهرست ۲۵۷]
جس سے معلوم ہوا کہ امام طحاوی کو تدلیس پر معرفت تھی تبھی تو کرابیسی کے رد پر مکمل کتاب لکھی مسلہ تدلیس میں ۔
تیسرا نکتہ کہ ابن حزم نے کہا کہ زہری نے اسکو دونوں راویان سے سنا ہے تو تدلیس نہیں ہے
یہ تو جہالت بکھیر دی ہے ابن حزم نے یعنی اس اصول سے تو کسی کو بھی مدلس قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ہر مدلس کے بارے یہی گمان کیا جا سکتا ہے کہ اس نے تددلیس نہیں کی بلکہ اپنے شیخ اور شیخ الشیخ دونوں سے سنی ہے
ابن حزم مصحفی سے اس سے زیادہ کی امید بھی نہیں کی جاسکتی ہے اور رجال میں ایک تو اسکا علم ناقص تھا اور یہ متساہل قسم کا انسان تھا
اور علم رجال میں اس نے ایسی فحش خطائیں بھی کھائیں ہیں کہ امام ترمذی کو مجہول قرار دے دیا
جسکی وجہ سے امام ذھبی کو میزان الاعتدال میں امام ترمذی کا ترجمہ لکھنا پڑا
8035 – محمد بن عيسى بن سورة [الحافظ العلم أبو عيسى] الترمذي، صاحب الجامع.
ثقة مجمع عليه.
ولا التفات إلى قول أبي محمد بن حزم فيه في
الفرائض من كتاب الايصال: إنه مجهول، فإنه ما عرفه ولا درى بوجود الجامع ولا العلل اللذين له.
محمد بن عیسی الترمذی صاحب الجامع انکی ثقاہت پر اجماع ہے
اور ابن حزم کے اس قول کی طرف باکل توجہ نہیں کی جائے گی کہ جیسا اس نے کتاب الایصال میں فرائض کے باب میں کہا ہے کہ یہ (ترمذی) مجہول ہے جبکہ یہ انکو کیسے نہیں جان پایا جبکہ انکی کتاب جامع اور علل موجود ہیں
[ميزان الاعتدال]
اور سیر اعلام میں تصریح کی ہے کہ اندلس میں یہ ان کتب پر مطلع نہ ہو سکا ۔
اور امام سخاوی نے امام ذھبی کے قول کہ متساہل امام کون کون سے ہیں ان میں ابن حزم کا بھی اضافہ کیا ہے
اور کہتے ہیں :
وقسم منهم متسمح كالترمذي والحاكم
قلت وكابن حزم فانه قال في كل من الترمذي صاحب الجامع وأبي القسم البغوي واسمعيل بن محمد الصفار وأبي العباس الأصم وغيرهم من المشهورين انه مجهول.
اور وہ قسم جن میں متساہل ہیں جیسا کہ ترمذی و حاکم
میں (سخاوی) کہتا ہوں کہ ابن حزم بھی جیسا کہ اس نے امام ترمذی صاحب الجامع ، ابوقاسم البغوی ، اسمعیل بن محمد الصفار ، ابو العباس الاصعم وغیرہم جو کہ مشہور ائمہ ہیں انکو مجہول کہہ دیا
[الإعلان بالتوبيخ لمن ذم التاريخ ص ۲۹۳]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب آتے ہیں تیسرے نکتے کی طرف :
امام طحاوی نے جو زہری کی روایت بیان کی اور کہا کہ اس میں زہری نے تدلیس کی ہے زہری نے یہ روایت عروہ سے نہیں سنی ہے بلکہ ابن ابی بکر سے سنی ہے ۔
پھر اس مجہولیے نے یہ دعویٰ کیا کہ زہری نے اس روایت میں عروہ سے سماع کی تصریح کی ہے
اور بطور حوالہ اس نے مسند الشامیین للطبرانی اور تاریخ بغداد کا ذکر کیا لیکن اسناد حذف کر دی اسکی وجہ ہم بیان کرتے ہیں
امام طبرانی کی سند درج ذیل ہے :
حدثنا أبو عامر محمد بن إبراهيم النحوي الصوري، ثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، ثنا الوليد بن مسلم، ثنا عبد الرحمن بن نمر اليحصبي، قال: سألت محمد بن مسلم الزهري عن قدر الغسل، من الجنابة؟ فقال: أخبرني عروة بن الزبير، عن عائشة، قالت: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسل من الجنابة في قدح هو الفرق»
[مسند الشاميين برقم: 2875]
جبکہ یہ سند ضعیف ہے جسکے اسباب درج ذیل ہیں :
امام طبرانی کا شیخ مجہول ہے اسکی توثیق کسی سے مروی ہی نہیں ہے یہی وجہ ہے امام ذھبی اسکے بارے فرماتے ہیں :
محمد بن إِبْرَاهِيم، أَبُو عامر الصوري النَّحْوِيّ
عَنْ: سليمان بن عَبْد الرَّحْمَن، وهشام بْن عَمَّار، وَيَحْيَى بن بُكَيْر، وعبد الله بن ذكوان المقرئ.
وَعَنْهُ: أَبُو عَليّ بن هَارُون، وَأَبُو الْقَاسِم الطَّبَرَانيّ، وغيرهما. وآخر من رَوَى عَنْهُ موسى بن عبد الرحمن الصباغ.
[تاريخ الإسلام برقم: 408]
نیز عرب کے محقق نے امام طبرانی کی کتب پر کتاب لکھی ہے اور اسکا موقف بھی یہی ہے
محمد بن إبراهيم بن أبي عامر أبو عامر الصوري النحوي.
وعنه: أبو القاسم الطبراني في ” معاجمه “، وأبو علي محمد بن هارون بن شعيب، وموسى بن عبد الرحمن البيروتي، وهو آخر من روى عنه
وهو آخر من روى عنه. قال المنذري: لا يحضرني فيه جرح ولا تعديل،
اور اس راوی پر حکم بیان کرتے ہوئے کہتا ہے
• قلت: (مجهول الحال).
[إرشاد القاصي والداني إلى تراجم شيوخ الطبراني،المؤلف: أبو الطيب نايف بن صلاح بن علي المنصوري برقم: 771]
اور اس روایت میں دوسرا ضعف یہ ہے کہ زہری کا شاگرد عمومی طور پر تو ثقہ ہے لیکن زہری سے روایت کرنے میں ضعیف ہے
جیسا کہ امام ابن معین کی جرح خاص ہے اس پر
امام ابن ابی حاتم بیان کرتے ہیں :
نا عبد الرحمن قال قرئ على العباس بن محمد الدوري عن يحيى بن معين أنه قال: ابن نمر ضعيف في روايته عن الزهري
امام یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ابن نمیر ضیعف ہے زہری سے روایت میں
[الجرح والتعدیل برقم: 1397]
تو اس روایت سے سماع کی دلیل بنانا ابن حزم کے مقلدین کا طریقہ ہو سکتا ہے اہل تحقیق کا نہیں
اور دوسرا حوالہ امام خطیب بغدادی کی تاریخ بغداد کا ہے
جس میں امام خطیب مذکورہ روایت ایک راوی صالح بن محمد بن مبارک کے ترجمہ میں بیان کی ہے:
صالح بن محمد بن المبارك بن إسماعيل أبو طاهر المقرئ المؤدب من أهل الجانب الشرقي،
حدث عن أبي ذر أحمد بن محمد بن محمد الباغندي، وأبي بكر بن مجاهد المقرئ، ومن بعدهما.
حَدَّثَنَا عنه عبد العزيز بن علي الأزجي، وأحمد بن محمد العتيقي، والحسن بن محمد بن إسماعيل بن أشناس البزاز.
أَخْبَرَنَا الْعَتِيقِيُّ وَابْنُ أَشْنَاسٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُقْرِئُ فِي سُوقِ الثُّلاثَاءِ، قَالَ ابْنُ أَشْنَاسٍ: فِي سَنَةِ خَمْسٍ وَسَبْعِينَ وَثَلاثِ مِائَةٍ، وَقَالَ الْعَتِيقِيُّ وَكَانَ ثِقَةً، ثُمَّ اتَّفَقَا، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ذَرِّ بْنُ الْبَاغَنْدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: أَخْبَرَنِي، وَفِي حَدِيثِ الْعَتِيقِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا، ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ “، وَفِي حَدِيثِ الْعَتِيقِيِّ: ” مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ
[تاريخ بغداد برقم: 4825]
امام خطیب نے اسکے دو طریق بیان کیے ہیں
پہلا ابن شناش سے جو کہ رافضی اور صحابہ کرام پر بکواسات کرتا تھا
جیسا کہ امام خطیب اسکے ترجمہ میں کہتے ہیں :
الحسن بن محمد بن إسماعيل بن أشناس مولى جعفر المتوكل، ويكنى أبا علي ويعرف بابن الحمامي البزاز
كتبت عنه شيئا يسيرا، وكان سماعه صحيحا إلا أنه كان رافضيا خبيث المذهب، وكان له مجلس في داره بالكرخ بحضره الشيعة، ويقرأ عليهم مثالب الصحابة، والطعن على السلف،
میں نے اس سے بہت ہی کم لکھا ہے اسکا سماع ٹھیک تھا لیکن یہ رافضی تھا اور خبیث مذہب والا تھا ۔ یہ کرخ کے مقام پر شیعوں کی مجلس قائم کرتا جہاں صحابہ کرامؓ اور سلف پر گالیاں بکی جاتی تھیں
[تاریخ بغداد برقم: 3951]
تو اسکی بیان کردہ روایت قابل تحقیق ہی نہیں کیونکہ رافضی تقیہ باز جھوٹ بولتے ہیں اور انکے سماع پر یقین نہیں کیا جائے گا جیسا کہ امام ذھبی و ابن حجر عسقلانی نے اہلسنت کا موقف بیان کی ہے روافض پر
اور
دوسرا طریق العتیقی سے بیان کیا ہے
جسکی سند درج زیل ہے :
وَفِي حَدِيثِ الْعَتِيقِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا، ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ “، وَفِي حَدِيثِ الْعَتِيقِيِّ: ” مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ
اور عتیقی کی حدیث میں ہے کہ ابن ابی اخی زہری سے وہ اپنے چچا (زہری) سے بیان کرتاہے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی عروہ نے انہوں نے سنا بسرہ بنت صفوان سے الخ ۔۔۔
اب اس سند میں ابن ابی اخی یعنی محمد بن عبد الله بن مسلم جسکو امام ذھبی نے تقریب میں صدوق لا اوھام کہا ہے یعنی یہ صدوق تو ہے لیکن اسکو اوھام ہو جاتے تھے
تو یہ راوی عمومی طور پر صدوق اور اوھام والا ہے لیکن امام زہری سے بیان کرنے میں اس پر جرح خاص ہے امام احمد بن حنبل کی
جیسا کہ امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا :
• وقال ابن هانىء: وسئل (يعني أبا عبد الله) عن ابن أخي الزهري، وابن إسحاق في حديث الزهري، أيهما أحب إليك؟ قال: ما أدري، كأنه ضعفهما.
بن ھانی کہتے ہیں سوال ہوا یعنی احمد بن حنبل سے کہ ابن ابی اخی زہری اور ابن اسحاق زہری کی حدیث میں آپ کو کون پسند ہے ؟
تو کہا (احمد بن حنبل) نے کہ میں نہیں جانتا اور انکو ضعیف قرار دیا
«سؤالاته» (2127) .
اسی طرح امام المروزی بھی بیان کرتے ہیں امام احمد سے :
وقال المروذي: قيل له (يعني لأبي عبد الله) : محمد بن إسحاق، وابن أخي الزهري، في حديث الزهري؟ فقال: ما أدري وحرك يده كأنه ضعفهما.
مروزی کہتے ہیں کہا گیا احمد بن حنبل کو : محمد بن اسحاق اور ابن ابی اخی زہری کی زہری کی حدیث کے بارے ؟
تو انہوں نے کہا میں نہیں جانتا اور ہاتھ کو حرکت دی اور انکو ضعیف قرار دیا
«سؤالاته» (302)
لیکن مطلق امام احمد اسکو لاباس بہ قرار دیا ہے جیسا کہ امام ابن ابی حاتم نے الجرح والتعدیل میں نقل کیا ہے
تو محمد بن عبدللہ بن مسلم الزہری پر امام زہری سے روایت کرنے میں ضعیف ہونے کی جرح خاص ہے اس لیے یہ روایت بھی مقبول نہیں
ایسے اوھام زدہ اور زہری کی روایت میں جن پر ضعف کی جرح خاص ہے اس سے سماع کی تصریح ثابت نہیں ہو سکتی ہے
تو امام زہری پر تین روایات سے تدلیس کا ثبوت ثابت ہو چکا ہے جن میں مجہول سے بھی تدلیس کرنا ثابت ہے
امام زہری چونکہ روایات میں بہت زیادہ ادراج کرتے تھے اورتدلیس بھی اور ارسال بھی انکا قبول نہیں ہے انکا کیونکہ یہ ضعیف و متروک سے بھی ارسال کرتے تھے
اس لیے انکی تدلیس کیسے قبول ہو سکتی ہے اس مین بھی ضعیف و متروک راویان کا کو حذف کرنے کا احتمال رہے گا
یہی وجہ ہے کہ امام ابن حجر عسقلانی نے اسکو طبقہ ثالثہ میں شمار کیا اور یہی راجح ہے
تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی