کس نبی عَلَیْہِ السَّلَام نے لوہے کا کام کیا ہے؟نیز کیا ہم یہ کام اُن کی سنت کی اَدائیگی کی نیت سے کرسکتے ہیں؟
سُوال:کس نبی عَلَیْہِ السَّلَام نے لوہے کا کام کیا ہے؟نیز کیا ہم یہ کام اُن کی سنت کی اَدائیگی کی نیت سے کرسکتے ہیں؟
جواب:حضرتِ سَیِّدُنا داؤُد عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے لوہے کا کام کیا ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب لوہے کو اپنے دَستِ مبارک میں لیتے تو وہ موم کی طرح نرم ہوجاتا تھا جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 422 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’عجائبُ القرآن مع غرائبُ القرآن‘‘ صَفْحَہ 63 پر ہے:”حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام باوجودیہ کہ ایک عظیم سلطنت کے بادشاہ تھے مگر ساری عمر وہ اپنے ہاتھ کی دَستکاری کی کمائی سے اپنے خورد و نوش کا سامان کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ آپ لوہے کو ہاتھ میں لیتے تو وہ موم کی طرح نرم ہوجایا کرتا تھا اور آپ اس سے زرہیں بنایا کرتے تھے اور ان کو فروخت کر کے اس رقم کو اپنا ذریعۂ معاش بنائے ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو پرندوں کی بولی سکھا دی تھی۔“
فی زمانہ لوہے کو بھٹی کے ذَریعے گرم کر کے نرم کیا جاتا ہے تو یوں بھٹی چلاتے وقت سنت کی ادائیگی کی نیت کا یہ موقع محلِ نظر نہیں آتا اور نہ ہی اس طریقے کے مطابق اس کا سنَّت ہونا کہیں پڑھا ہے کیونکہ حضرتِ سَیِّدُنا داؤُد عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تو بغیر بھٹی کے اپنے ہاتھوں سے ہی لوہے کو نرم کر کے زرہیں بنا لیا کرتے تھے ۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مولانا محمد الیاس قادری, ماہنامہ فیضان مدینہ, 2017