پنڈی کے لوکل مفتی کا ایک پرانا بیان سن رہا تھا :

 

موصوف تیقن و جزم کیساتھ فرماتے ہیں ” تم کیا سمجھتے ہو میں ایسے ہی بول دیتا ہوں ؟ نہیں ! بلکہ آپ جان کر کہتا ہوں ، کچھ دیر بعد معاذ اللہ ۔۔۔ نو ڈیمانڈ معاویہ ۔۔ نعرہ لگایا۔۔۔۔

اور سامعین کو اکساتے رہے کہ ڈرتے کیوں ہو؟ میرا مشن ہی

یہی ہے ۔۔ فلاں ڈھمکاں ۔

 

آپ سب جانتے ہیں کہ مفتی جی کو اپنے محلے میں بھی کوئی نہ جانتا تھا حتی کہ وہابیوں کے طالب الرحمن سے

مناظرہ کے بعد بھی عوام اس شخص سے نا آشنا تھی

جب اس نے کاتبِ وحی، خال المومنین، ھادی و مہدی،

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر کھُلے بندوں، کنایةً

تبرا بکا تب عوام کو معلوم ہوا کہ ہاں۔۔۔

 

یہ بھی کوئی ” نیم رافضی ” ٹائپ کا بے ہودہ شخص ہے

یوں یہ مجہول مفتی ، مشہور ہوا ۔۔

 

حال میں ایک بیان سنا کہتے ہیں، مفتی ثمر عباس قادری

صاحب میری وجہ سے مشہور ہوئے ،کہ وہ آئے دن مجھ

پر تعاقب کرتے ہیں اور نقد لگاتے ہیں

 

پنڈی کے لوکل مفتی کی میں تائید کرتا ہوں کیوں کہ

 

لوکل مفتی ، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ و دیگر اصحابِ رسول پر طعن و تشنیع کی وجہ سے ” مشہور ” ہوا

جبکہ

عاشقِ صحابہ و اہلبیت، مفتی ثمر عباس قادری اطال للہ

اس کی گستاخیوں کی وجہ سے اس کا ٹیٹوا پکڑنے پر

مشہور ہوئے( تمھارے نزدیک)

 

(جبکہ الحمد اللہ وہ اس

سے قبل بھی مشہور و معروف عالم دین تھے)

 

کون کس وجہ سے مشہور ہوا ؟ یہ بھی دیکھ لیں !

نصیب اپنا اپنا

 

ابنِ حجر

27/8/2021ء