غیر مقلدین امام مالک سے منسوب بدعت حسنہ کے رد میں کچھ اقوال پیش کرتے ہیں انکی حقیقت درج ذیل ہے۔

 

ایک سلفی لکھتا ہے:

امام دار الہجرۃ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “لن یصلح آخر ہذہ الامۃ الا وبما صلح بہ اولہا”.

ملت اسلامیہ کی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے طریقے کو اپنا لے.

اقتضاء الصراط (ص: ٣٦٧).

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

الجواب : اسد الطحاوی

اس مذکورہ قول میں صاف صاف ظاہر ہے کہ جو جو طریقہ کار صحابہ سے آیا ہے جو اثر آیا ہے ویسے ہی عمل ہو لیکن امام مالک نے کہیں یہ نہیں کہا کہ جن مسائل میں صحابہ کرامؓ کا کوئی حکم موجود نہ ہو یعنی کسی امر کو ترک کرنے میں یا اسکے اثبات پر کوئی موقف نہ ہو تو وہ وہ امور مطلق مردود ہیں ۔

تو اس قول سے بدعت حسنہ کے اثبات کا رد نہیں ہوتا ہے کیونکہ میلاد کے بارے یہ اختلاف نہیں کہ جیسے صحابہ نے منایا ویسے منایا جائے بلکہ یہ اختلاف ہے کہ صحابہ کرام ؓ سے میلاد منانے اور ترک کرنے کی کوئی صراحت موجود نہیں تو اس امر پر اب کیا حکم ہوگا ۔۔۔

اور

دوسری اہم بات یہ قول موصوف نے علامہ ابن تیمیہ کی کتاب سے نقل کیا ہے اور انہوں نے بغیر سند اسکو نقل کیا ہے اور علامہ ابن تیمیہ کا ماخذ امام قاضی عیاض مالکی کی کتاب شفاشریف ہے اور اس میں بھی یہ قول بغیر سند ہے کچھ اقوال المبسوط کتاب سے ہیں اور امام مالک کا پورا قول نقل کرنے سے عافیت سمجھی موصوف نے کیونکہ وہ انکے حق میں نہیں جاتا یہ مکمل قول کچھ یوں نقل کیا ہے امام قاضی عیاض نے :

وقال مالك في المبسوط وليس يلزم من دخل المسجد وخرج منه من أهل المدينة الوقوف بالقبر وإنما ذلك للغرباء وقال فيه أيضا لا بأس لمن قدم من سفر أو خرج إلى سفر أن يقف على قبر النبي صلى الله عليه وسلم فيصلي عليه ويدعو له ولأبي بكر وعمر فقيل له إن ناسا من أهل المدينة لا يقدمون من سفر ولا يريدونه يفعلون ذلك في اليوم مرة أو أكثر وربما وقفوا في الجمعة أو في الأيام المرة أو المرتين أو أكثر عند القبر فيسلمون ويدعو ساعة فقال لم يبلغني هذا عن أحد من أهل الفقه ببلدنا وتركه واسع ولا يصلح آخر هذه الأمة إلا ما أصلح أولها ولم يبلغني عن أول هذه الأمة وصدرها انهم كانوا يفعلون ذلك: ويكره إلا لمن جاء من سفر أو أراده،

 

امام مالک نے مبسوط میں کہا ہے کہ اہل مدینہ کے لیے یہ لازم نہیں کہ جب مسجد نبوی میں داخل ہوں یا نکلیں تو قبررسولﷺ کے سامنے کھڑے ہوں ۔ اور یہ بات مسافروں ہی کے لیے ہے ۔ اور اس میں یہ بھی کہا ہے (امام مالک نے): کہ جو شخص سفر سے آئے یا سفر کی طرف نکلے اس کے لیے مضائقہ نہیں کہ قبر رسولﷺ کے پاس کھڑا ہو ۔ اور درود شریف ڑھے ۔ آپ ﷺ کے لیے اور حضرت ابو بکر ؓ وعمر ؓ کے لیے دعا کرے۔ پھر ان (مالک علیہ رحمہ)سے کہا گیا کہ مدینہ کے لوگ نہ تو سفر سے آتے ہیں اور نہ ہی ارادہ سفر کا رکھتے ہیں لیکن وہ ہر روز ایک یا کئی دفعہ اکثر جمعہ میں یا کئی دنوں میں ایک یا دو مرتبہ یا زیادہ قبر شریف کے پاس کھڑے ہوتے ہیں سلام کہتے ہیں اور دعا مانگتے ہیں۔ ایک گھڑی تک آپ (امام مالک) نے کہا کہ مجھ کو یہ بات ہمارے شہر کے کسی اہل فقہ سے پہنچی۔ اور اس کا ترک اکثر اور بہتر ہے ۔ اور اس امت کے آخر لوگ ویسے ہی جب درست ہو سکتے ہیں کہ پہلے لوگوں کی اصلاح و درستی پر عمل کریں اور مجھ کو اس امت کے پہلے لوگوں سے یہ بات نہیں پہنچی ہے ۔ کہ وہ ایسا عمل کرتے تھے ۔ اور یہ امر مکروہ ہے مگر اس شخص کے لیے جو کہ سفر سے آئے یا سفر کا ارادہ کرے تو جائز ہے (زیارت قبر رسولﷺ )

[الشفا بتعريف حقوق المصطفى، ج ۲، ص ۸۸]

 

معلوم ہوا امام مالک تو مسافروں کے لیے زیارت رسولﷺ کے قصد کو جائز سمجھتے تھے جبکہ ابن تیمیہ کے نزدیک اس قصد سے سفر کرنا حرام تھا جبکہ یہ بات کسی صحابی رسولﷺ سے مروی نہیں کہ رسولﷺ کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کرنا حرام ہے تو یہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے والی بات ہوگئی ۔

پس یہ حوالہ بھی موصوف کے حق میں نہیں جاتا ہے اما م مالک اس امر پر پہلے گزرے لوگوں کا عمل کے مخالف نئے امر کی تردید کی ہے

جبکہ میلاد رسولﷺ پر کوئی ایسا پہلے عمل نہیں بلکہ نہ ترک کا اور نہ ہی اثبات تو اس قول کا میلاد رسولﷺ اور بدعت حسنہ کے باب سے تعلق ہی نہیں ۔

 

اور امام مالک سے منسوب ایک اور قول بھی موصوف نے اپنی عبارت میں نقل کیا :

# امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:”أترى الناس اليوم أرغبَ في الخير ممن مضى؟”

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ سلف کے مقابلے میں نیکی کو انجام دینے کی رغبت آج کے لوگوں میں زیادہ ہے؟

 

اسکا جواب یہ ہے کہ قول امام مالک سے کسی سندسے ثابت نہیں یہ قول صرف علامہ شاطبی سے ملتا ہے اور بغیر صریح ماخذ کے موجود ہے اس لیے یہ موصوف کے لیے بے فائدہ ہے جب تک اسکی صریحا ثابت نہ کرے امام مالک سے ۔۔

 

مزید لکھتا ہے:

 

# اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: “من ابتدع في الإسلام بدعة يراها حسنة فقد زعم أن محمداً خان الرسالة؛ لأن الله يقول {اليوم أكملت لكم دينكم} فما لم يكن يومئذ ديناً فلا يكون اليوم ديناً

جس نے دین اسلام میں کوئی بدعت ایجاد کی اور اسے وہ اچھا سمجھتا ہے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر خیانت کا الزام لگاتا ہے، کیوں کہ اللہ رب العالمين نے فرمایا کہ میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا ہے، چنانچہ جو عبادت نبی کے زمانے میں دین کا حصہ نہیں تھی وہ آج بھی دین کا حصہ نہیں بن سکتی.

لاعتصام (١/٢٨).

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

الجواب : اسد الطحاوی

موصوف نے اس قول کا اصل ماخذ بیان نہیں کیا ہے اور پھر سے علامہ شاطبی نقل کر دیا جو متاخرین میں سے ہیں

جہاں تک ہمارا علم ہے تو یہ قول علامہ شاطبی نےعلامہ ابن حزم کی کتاب سے نقل کیا ہے جیسا کہ ابن حزم اسکو اپنی سند سے بیان کرتےہیں :

حدثنا أحمد بن عمر بن أنس نا الحسين بن يعقوب نا سعيد بن فحلون نا يونس بن يحيى المفامي نا عبد الملك بن حبيب أخبرني بن الماجشون أنه قال قال مالك بن أنس من أحدث في هذه الأمة اليوم شيئا لم يكن عليه سلفها فقد زعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خان الرسالة لأن الله تعالى۔۔۔الخ

[الإحكام في أصول الأحكام، ج۶، ص۵۸]

 

اس قول کی سند میں متعدد ضعف ہیں

پہلا ضعف : اس قول کی سند میں ایک راوی حسین بن یعقوب کا تعین درکار ہے

دوسرا ضعف : اور دوسرا راوی یونس بن یحییٰ المفامی مجہول ہے

تیسراضعف: عبد الملك بن حبيب ضعیف راوی ہے بلکہ اس پر تکذیب کی بھی جرح ہے

 

لیکن حافظ ابن حجر انکے بارے تقریب میں لکھتےہیں :

عبد الملك بن حبيب الأندلسي، أبو مروان، الفقيه المشهور: صدوق ضعيف الحفظ، كثير الغلط،

عبد الملک بن حبیب یہ فقیہ مشہور ہیں اور فی نفسی سچے ہیں اور حافظے کے اعتبار سے ضعیف اور کثیر غلطیاں کرنے والے تھے

اور علامہ شعیب الارنووط حاشیہ میں کہتے ہیں : : ضعيف في الحديث

[تحریر تقریب التہذیب : برقم۴۷۱۴]

اور

چوتھا ضعف : روایت کا بنیادی راوی جو امام مالک کا شاگرد وہ فقیہ تو تھے لیکن روایت میں ضعیف تھے اور آخری عمر میں نابینا ہوگئے تھے

 

امام ذھبی لکھتےہیں :

صاحب مالك.

ضعفه الساجي والازدى.

وسئل أحمد بن حنبل عنه، فقال: هو كذا وكذا، ومن يأخذ عنه!

 

یہ امام مالک کے تلمیذ تھے امام ساجی نے ضعیف قرار دیا ہے اور امام احمد سے اسکے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا یہ تو ایسا تھا ویسا تھا کون اس سے اخذ کر سکتا ہے

 

نیز امام ابن عبدالبر نے اسکی فقاہت کی تعریف کی ہے :

قال ابن عبد البر: كان فقيها فصيحا دارت عليه الفتيا في زمانه وعلى أبيه قبله، وأضر في آخر عمره، وكان مولعا بسماع الغناء.یہ فقہی تھا ، اس کے زمانہ میں اس سے فتویٰ لیا جاتا تھا لیکن اس سے پہلے اسکے والد سے رجوع کیا جاتا تھا (یعنی فقاہت میں اسکے تفرد کو قبول ہونے میں اشکال تھا )

آخری عمر میں یہ نابینا ہوگیا تھا ۔ اور اس پر یہ الزام ہے کہ یہ گانے سنتا تھا

(نوٹ: الندلسی علماء میں گانا اور میوزک جائز تھا یہ فقہی اختلاف تھا البتہ اس سبب بھی اس سے ترک کر دیا گیا ہوگا ۔ لیکن اس سے انکے فسق پر استدلال نہیں کیا جا سکتا چونکہ یہ فقہی اختلاف تھا )

 

معلوم ہوا ان میں کوئی قول با سند ثابت نہیں امام مالک سے نیز کتاب المبسوط سے ادھورا قول پیش کرکے غلط استعمال کیا گیا ہے

 

تحقیق: اسد الطحاوی