مسلہ رفع الیدین اور فاتحہ خلف الامام پر امام یحییٰ بن معین کی اعتدال پسندی!

تحریر: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

 

بر صغیر کے غیرمقلدین جنکا دن رات کا مشغلہ مسلہ رفع الیدین اور فاتحہ خلف الامام کے اوپر مناظرے کرنا اور اس بنیاد پر اپنے مخالفین کی نمازوں کو ناقص و باطل قرار دینا جنکاوطیرہ بن گیا ہے ان کی تشدید کی حالت یہ ہے کہ اپنے علاوہ احناف کی نمازوں کو یہ دو ٹوک سنت کے خلاف قرار دینے میں کوئی ہکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ہیں ۔

 

جب انکو کہا جاتا ہے کہ یہ فروعی مسائل اجتہادی ہیں اس پر کسی کے پاس کوئی قطعی دلائل نہیں بلکہ چاروں ائمہ نے اپنے اجتہادی اصول کی بنیاد پر کچھ روایات کو راجح قرار دیا ہے اور دیگر نے کچھ روایات کو راجح قرار دیا ہے لیکن کسی دوسرے کی نماز سنت کے خلاف ہونے کا فتویٰ کوئی نہیں دیتا ۔

تو اسکے جواب میں یہ کہتے ہیں اگر یہ دو مسائل اتنے معمولی فروعی مسائل ہوتے تو امام بخاری کو کیا ضرورت پڑ گئی کہ انہوں نے اس پر مستقل کتاب لکھی ۔ جبکہ یہ پھکیاں انکے مولوی اپنے ان لوگوں کو دیتے ہیں جو علماء کے اختلاف پر مطلع نہیں اور نہ ہی جنکو امام بخاری سےآگے ان سے بڑے ائمہ حدیث و مجتہدین کا پتہ نہیں ۔

اہل علم لوگ جانتے ہیں حدیث اور رجال کے میدان میں امام یحییٰ بن معین اپنی مثل آپ تھے اور امام احمد جیسے ناقد بھی انکی علم حدیث اور علم رجال میں خود پر انکو مقدم قرار دیتے تھے ۔ اور امام یحییٰ بن معین کی کتب پڑھ کر امام بخاری اپنی نوجوانی میں محدث بننے کے مراحل کا سفر طے کیا ۔

اب امام یحییٰ بن معین سے پیش کرتے ہیں کہ وہ اس مسلے میں کتنی نرمی رکھتے تھے ۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ دونوں طرف روایات موجود ہیں یہ لوگوں پر ہے کہ وہ کس روایت کو کس پر مقدم کرتے ہیں ۔

 

امام یحییٰ بن معین سے انکے شاگرد ابن محرز امام یحییٰ بن معین سے بیان کرتے ہیں :

سمعت شريح بن يونس يقول: ” رفع الأيدي في الصلاة هو تزين في الصلاة، ومن ترك الرفع فهو خشوع في الصلاة “

میں نے شریح بن یونس کو کہتے سنا کہ نماز میں رفع الیدین نماز کی خوبصورتی ہے ۔ اور جو رفع الیدین کو ترک کرنے والے ہیں انکے لیے نماز میں خشوع (انکساری) ہے ۔

[معرفة الرجال للإمام أبي زكريا يحيى بن معين: 885]

 

سمعت يحيى بن معين يقول : من رفع في الصلاة فقد أحسن ، ومن لا ، فلا شيء عليه .

امام یحیٰ بن معین سے سنا وہ کہتے ہیں کہ جو نماز میں ہاتھ اٹھاتے ہیں وہ احسن (عمل)ہے اور جو (رفع الیدین) نہیں کرتے تو ان پر کوئی (عذر)نہیں ہے

[کتاب ایضا برقم: 889]

 

اور پھر انکا عمل بیان کرتے ہوئے امام ابن معین کے شاگرد کہتے ہیں :

رأيت يحيى بن معين ما لا أحصيه كثرة يرفع يديه في الصلاة إذا افتتح، وإذا أراد أن يركع، وإذا رفع رأسه من الركوع.

میں نے امام یحییٰ بن معین کو دیکھا اور میں اسکا شمار نہیں کر سکتا کہ وہ نماز میں کتنا زیادہ رفع الیدین کرتے جب وہ ارادہ کرتے رکوع جانے کا اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد

[کتاب ایضا برقم: 1023]

 

پھر انکا شاگرد کہتا ہے :

سمعت يحيى يقول : من قرأ خلف الإمام فقد أحسن ، ومن لم يقرأ فصلاته جائزة .

میں نے امام یحییٰ بن معین کو کہتے سنا : جو امام کے پیچھے قراءت کرتا ہے اسکا (عمل) احسن ہے اور جو نہیں کرتا قراءت اسکی نماز جائز ہے

[کتاب ایضا برقم: 888]

 

یہاں تک یہ معلوم ہو اگیا کہ امام یحییٰ بن معین کے نزدیک دونوں عمل ٹھیک ہے رفع الیدین کرنا اور نہ کرنا لیکن انکا ذاتی فعل رفع الیدین کرنے کا تھا ۔

اب انکے سب سے مقدم شاگرد امام الدوری ان سے بیا ن کرتے ہیں :

 

سألت يحيى عن القراءة خلف الإمام قال لا أقرأ خلفه إن جهر ولا إن خافت وإن قرأ إنسان فليس به بأس

امام دوری کہتے ہیں میں نے امام یحییٰ بن معین سے امام کے پیچھے قراءت کرنے کے بارے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ امام کے پیچھے قرآءت نہیں پڑھی جائے گی نہ ہی جہری نماوں میں نہ ہی سری نمازوں میں ۔ اور اگر کوئی پڑھ لیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں

[تاريخ ابن معين برقم: 2276 (رواية الدوري)]

 

اس روایت سے معلوم ہوا کہ امام یحییٰ بن معین کا ذاتی عمل امام کے پیچھے قراءت ترک کرنے کا تھا لیکن انکے نزدیک کو ئی قرآءت کر بھی لے تو یہ جائز ہے

 

اسی طرح امام سفیان ثوری بھی کا مذہب بھی فاتحہ خلف الامام کے مسلے میں ا مام ابو حنیفہ کے موافق تھا اور ترک رفع الیدین پر بھی

انکےساتھ امام وکیع بن جراح ، امام شعبی ، امام ابراہیم النخعی ، امام ابو بکر بن عیاش ، اما م مالک کا بھی (راجح موقف) یہی تھا ۔

 

دعاگو: اسد الطحاوی الحنفی

مزدتحاریر کے لیے کے لیے وزٹ کریں Asadtahawi.com