*اعلیٰ حضرت*

 

“اعلیٰ حضرت”، امام احمد رضا خاں قادری محدث بریلوی علیہ الرحمہ کا مشہور و معروف لقب ہے۔ محدث بریلوی کے علاوہ بھی برصغیر کے کئی اکابر علما کو اس لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ مثلا، مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور کے سابق سرپرست، سلسلۂ اشرفیہ کے شیخ طریقت، اپنے وقت کے جيد عالم، محدث اعظم ہند علامہ سید محمد محدث کچھوچھوی علیہ الرحمہ کے نانا یعنی شیخ المشائخ سید شاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی علیہ الرحمہ، تاج دار گولڑہ، صاحب فتاویٰ مہریہ، فاتح قادیانیت، مجدد سلسلۂ چشتیہ، تلمیذ علامہ احمد علی محدث سہارن پوری علیہ الرحمہ یعنی پیر مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ، شیخ نور محمد چشتی جھنجھانوی علیہ الرحمہ کے مرید و خلیفہ، صاحب کلیاتِ امدادیہ یعنی شیخ العرب والعجم حاجی امداد اللہ مہاجر مکی تھانوی نانوتوی علیہ الرحمہ، مجاہد جنگ آزادی علامہ فضل حق خیرآبادی علیہ الرحمہ کے شاگرد، خانقاہ عالیہ عثمانیہ قادريہ بدایوں شریف کے جید عالم، تاج الفحول علامہ عبد القادر بدایونی علیہ الرحمہ اور حضرت سید شاہ ابوالحسن قادری محویؔ ویلوری علیہ الرحمہ [١] کے نامور خلیفہ، بانئ جامعہ باقیات الصالحات ویلور (تمل ناڈو) [٢] یعنی مولانا عبد الوہاب قادری علیہ الرحمہ [٣] وغیرہ بھی “اعلیٰ حضرت” کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔

 

__________________

 

*حواشی:*

 

١۔ آپ کے فرزند و خلیفہ حضرت سید شاہ عبداللطیف قادری نقوی المعروف بہ “قطب ویلور” علیہ الرحمہ نے سراج الہند علامہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی معرکہ آرا تصنیف “تحفۂ اثنا عشریہ” کا ترجمہ سنہ ۱۲۸۸ھ میں فارسی سے عربی میں کیا۔ نبیرۂ قطب ویلور علامہ سید شاہ محمد ركن الدین قادری ویلوری علیہ الرحمہ کے اشارے پر ہی فقہ حنفی کی تحصیل کے لیے علامہ شہاب الدین احمد کویا شالیاتی علیہ الرحمہ امام احمد رضا محدث بریلوی کے حلقۂ درس میں حاضر ہوئے اور اجازت و خلافت حاصل کرکے واپس لوٹے۔

 

٢۔ سنہ ١٨٦٢ء میں اس مدرسے کا آغاز ہوا۔ اس جامعہ کے فضلا “باقوی” کہلاتے ہیں۔ ایشیا کے جنوبی ممالک اور بھارت کے جنوبی صوبوں کے طلبا کی ایک بڑی تعداد نے یہاں تعلیم حاصل کی، اور اپنے اپنے علاقے میں جا کر مدارس و جامعات قائم کیے، اسی لیے اس مدرسے کو “ام المدارس” کے لقب سے بھی کیا جاتا ہے۔ بانئ جامعہ مرکز الثقافة السنیة کالی کٹ (کیرالا) شیخ ابوبکر احمد شافعی باقوی حفظہ اللہ اسی جامعہ کے فارغ التحصیل ہیں۔ علاوہ ازیں شاہ الحمید شافعی باقوی علیہ الرحمہ (متوفیٰ ٢٠٢١ء) نے بھی یہیں تعلیم حاصل کی تھی۔ جب کہ درس بخاری و اجازت حدیث کی تحصیل محدث بریلی مولانا تحسین رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ سے کی۔ شاہ الحمید نے امام احمد رضا کی حیات و خدمات پر ملیالم زبان میں کتاب بھی لکھی، نیز ان کے دیوان حدائق بخشش کو ملیالم زبان میں منتقل کیا۔ اس کے علاوہ عربی، ملیالم، تمل اور اردو زبان میں تقریبا ایک درجن کتب بھی تصنیف فرمائیں۔ شمالی ہند کے اہل سنت کو جنوبی ہند کے اہل سنت سے متعارف کرانے والی شخصیت آپ ہی ہیں۔

 

٣۔ آپ کے والد ماجد حضرت علامہ شاہ حافظ عبدالقادر آتوری علیہ الرحمہ نے علامہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی گراں قدر فارسی تفسیر کا عربی ترجمہ “التعریب القادری للتفسیر العزیزی” کے عنوان سے سنہ ۱۲۴۹ھ میں کیا۔

 

( *حوالہ جات:* علامہ شہاب الدین احمد کویا شالیاتی ملیباری، حضرت علامہ شاہ الحمید حسن باقوی ؒ کی وفات امت مسلمہ کا عظیم خسارہ ہے، تیرہویں صدی ہجری کے ایک گم نام منظوم سیرت نگار: حاجی محمود مہاجر حسرت مدراسی، معارف/ فروری سنہ ٢٠١۴ء)

 

*از: محمد سلیم انصاری ادروی، صدر اقرأ لائبریری ادری، مئو*