*سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ و فداہ روحی پر رافضیوں نیم رافضیوں کے اعتراض کا جواب……!!*

.

👈 رافضی نیم رافضی کا مضبوط ترین سمجھا جانے والا اعتراض:

_ابوبکر کے آخری الفاظ….._

_”کاش مدینے میں_ ۔ میں نے فاطمہ بنتِ محمد(س) کے گھر کی بےحرمتی نہ کی ھوتی، چاھے وہاں میرے خلاف جنگ کی منصوبہ بندی ہی کیوں نہ کی جارہی ہوتی”_

*_کتبِ اھلِ سنّت:_* *1.* تاریخِ یعقوبی، *2.* تاریخِ طبری، *3.* مروّج الذّھب، *4.* کنزالاعمال *5.* الامامۃوالسیاسۃ.

_سب مومنین پرفرض ھے کہ پہلے خلیفہ کا یہ اعترافِ جرم دوسرے مومنین تک ضرور پہنچائیں، بی-بی فاطمہ(س) آپکے حق میں دعاگو ہوں گی._

حوالہ جات :

تاريخ الإسلام جلد 3 صفہہ 118 و تاريخ الطبري جلد 2 صفہہ 619 جلد 3 صفہہ 430 ط دار المعارف مصر ۔ الامامة والسياسة ابن قتيبة الدينوري تحقيق الزيني جلد 1 صفہہ 24 و تاريخ مدينة دمشق ابن عساكر جلد 30 صفہہ 422 و شرح نهج البلاغة ابن أبي الحديد جلد 2 صفہہ 46

و المعجم الكبير الطبراني جلد 1 صفہہ 62 و مجمع الزوائد الهيثمي جلد 5 صفہہ 202 و مروج الذهب مسعودي شافعي جلد1 صفہہ 290 و ميزان الاعتدال الذهبي جلد 3 صفہہ 109 و لسان الميزان ابن حجر جلد 4 صفہہ 189 و كنز العمال المتقي الهندي جلد 5 صفہہ631 وغیرہ ..

 

.

👈جواب.و.تحقیق:

پہلی بات

ہم نے سمجھا کہ یہ سوشل میڈیا پر بیٹھے ہوئے مکار رافضیوں نیم رافضیوں کا چھوڑا ہوا شوشہ ہے مگر جب کتب شیعہ کی طرف رجوع کیا تو پتہ چلا کہ انہوں نے بڑے زور و شور سے اس کو دلیل بنایا ہے

مثلا شیعوں کی معتبر کتاب بحار الانوار کا متن اور اس پر شیعوں کا حاشیہ ملاحظہ کیجئے

ذكر القصة جمهور علماء العامة، ونص عليها الطبري في تاريخه ٤ / ٥٢، وابن قتيبة في الإمامة والسياسة ١ / ١٨، والمسعودي في مروج الذهب ١ / ٤١٤، وابن عبد البر في العقد الفريد ٢ / ٢٥٤، وأبو عبيدة في الأموال: ١٣١١، وغيرهم، والاسناد صحيح رجاله كلهم ثقات عندهم أربعة منهم من رجال الصحاح الست، كما نص على ذلك شيخنا الأميني في الغدير ٧ / ١٧٠ – ١٧١، فراجع. وانظر حول الكشف عن بيت فاطمة سلام الله عليها – غير ما مر – تاريخ ابن جرير ٢ / ٦١٩، وميزان الاعتدال ٢ / ٢١٥، وغيرهما

(شیعہ کتاب بحار الانوار و حاشیتہ30/124)

.

عبد الزهراء شیعہ مصنف لکھتا ہے

الحافظ سعيد بن منصور (المتوفى 227) وقال حديث حسن (1).حميد بن زنجويه (2) (المتوفى 251) ابن قتيبة الدينوري (3) (المتوفى 2766) اليعقوبي (4) (المتوفى 292) الطبري (5) (المتوفى 310) الجوهري (66) (المتوفى 323) ابن عبد ربه الأندلسي (7) (المتوفى 3288) خيثمة بن سليمان الإطرابلسي (8) (المتوفى 343) المسعودي (9) (المتوفى 346) الطبراني (100) (المتوفى 360) الحافظ ابن عساكر (11) (المتوفى 5711) وقال: أخبرنا جماعة في كتبهم

(شیعہ کتاب الهجوم على بيت فاطمة ص157)

.

۔

👈 دوسری بات

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرماتے ہیں

فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ” لَا نُورَثُ ؛ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ “. إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ، وَاللَّهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی کہ آل محمد اہل بیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مال سے خرچہ راشن وغیرہ ملتا رہے گا جیسے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم دیتے رہتے تھے اور اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار مجھے اپنے رشتے داروں سے زیادہ محبوب ہیں

(بخاری 4036)

👈 دل پہ ہاتھ رکھ کے تعصب کی عینک اتار کر ایمان سے بتائےجو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر سے اس طرح محبت کا اظہار کر رہا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار زیادہ محبوب ہیں مجھے میرے اداروں سے۔۔۔کیا ایسا محبت کرنے والا با ادب شخص سیدہ فاطمہ طیبہ طاہرہ کے گھر کی بے حرمتی کرے گا…؟ ہرگز نہیں

.

۔

👈 ذرا سیدنا صدیق اکبر کی شفافیت کا بھی حال سنتے چلیے …خلیفہ اول،خلیفہ برحق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت وصیت فرمائی:

اے میری پیاری بیٹی عائشہ(صدیقہ طیبہ طاہرہ)سن….!!

میں نے کبھی خلافت کو دنیا دولت منافعہ کمانے کا ذریعہ نہیں بنایا، البتہ معمولی تنخواہ لی، معمولی کھایا، معمولی پہنا…..اس وقت گھر میں تھوڑا بہت جو کچھ ہے وہ یہ ہے کہ ایک غلام ہے ایک پانی بھرنے کی اونٹی ہے اور ایک پرانی چادر………میں جب وفات پا جاؤں تو یہ سب بیت مال بھیج دینا..(دیکھیے طبقات کبری3/146)

.

جسکی شفافیت و صدیقیت و احتیاط و خوف خدا کا

یہ عالم ہو تو کیا وہ کسی اہلبیت کا حق غصب کرسکتا ہے؟ہرگز نہیں….!! یہی وجہ ہے کہ باغ فدک سیدنا علی نے بھی اولاد فاطمہ میں بطور میراث تقسیم نہ کیا بلکہ اسکی وہی صورت برقرار رکھی جو سیدنا ابوبکر و عمر نے رکھی تھی…..رضی اللہ عنھم اجمعین

.

جَمَعَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بَنِي مَرْوَانَ حِينَ اسْتُخْلِفَ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ فَدَكُ، فَكَانَ يُنْفِقُ مِنْهَا، وَيَعُودُ مِنْهَا عَلَى صَغِيرِ بَنِي هَاشِمٍ، وَيُزَوِّجُ مِنْهَا أَيِّمَهُمْ، وَإِنَّ فَاطِمَةَ سَأَلَتْهُ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهَا فَأَبَى، فَكَانَتْ كَذَلِكَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، فَلَمَّا أَنْ وَلِيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، فَلَمَّا أَنْ وَلِيَ عُمَرُ عَمِلَ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَا حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، ثُمَّ أُقْطِعَهَا مَرْوَانُ، ثُمَّ صَارَتْ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ. قَالَ عُمَرُ – يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ : فَرَأَيْتُ أَمْرًا مَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ لَيْسَ لِي بِحَقٍّ، وَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ رَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ. يَعْنِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

👈 سیدنا عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ ہوئے تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فدک کو خرچ کیا کرتے تھے بنو ہاشم وغیرہ پر …سیدہ فاطمہ نے رسول کریم سے فدک مانگا لیکن رسول کریم نے ان کی ملکیت میں نہ دیا پھر یہی طریقہ جاری رہا سیدنا ابوبکر صدیق کے دور میں سیدنا عمر کے دور میں پھر میرے حصے میں آیا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ جو چیز رسول کریم نے اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ کو نہ دی وہ بھلا میری کیسی ہو سکتی ہے میں اس کو اسی طریقے پر جاری کرتا ہوں جو طریقہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا جو طریقہ ابوبکرصدیق کا تھا جو طریقہ سیدنا عمر کا تھا

(ابوداود 2972)

.

👈 تیسری بات

ایس روایات میں صحابہ کرام کی توہین اور یہ لکھا ہے کہ سیدنا علی نے بیعت کرلی…یہ اس کے جھوٹی منکر روایت کی دلیل ہے…سیدنا ابوبکر کی بیعت سیدنا علی نے اس واقعے کے بڑے عرصے بعد اپنی مرضی سے کی…(دیکھیے بخاری روایت4241وغیرہ)

.

👈چوتھی بات:

اب آتے ہیں رافضیوں نیم رافضیوں کے دیے گئے حوالہ جات کی طرف

ایک حوالہ طبرانی و مجمع الزوائد کا:

👈 حوالہ تو دے دیا لیکن علامہ ہیثمی کا تبصرہ حذف کر دیا جو کہ مکاری ہے دھوکہ بازی ہے اور خیانت ہے…باطل ہونے کی نشانی ہے

علامہ ہیثمی اس روایت کو لکھنے کے بعد فرماتے ہیں

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُلْوَانُ بْنُ دَاوُدَ الْبَجَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَهَذَا الْأَثَرُ مِمَّا أُنْكِرَ عَلَيْهِ

اس روایت میں علوان بن داود ہیں جو کہ سخت ضعیف ہے اور جو اس نے یہ بات کہی ہے تو یہ صحیح روایات کے خلاف منکر روایت ہے

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد5/203)

.

👈 دوسرا حوالہ: مروج الذہب کا

پہلی بات سند ہی نہیں لکھی

دوسری بات اسے اہلسنت عالم کہنا عین مکاری دھوکے بازی ہے…مروج الذہب کا مصنف معتزلی شیعہ تھا معتبر اہلسنت نہ تھا اگرچہ اسکی کتب میں سنی شیعہ معتزلی سب کی حمایت میں مواد موجود ہے

صَاحب غرائب

👈مروج الذهب کا مصنف غجیب و غریب (بے سر و پا) باتیں لکھتا تھا

(الوافي بالوفيات21/5)

.

وكان معتزليًّا

👈 مروج الذهب کا مصنف (سنی نہیں) معتزلی تھا

(كتاب تاريخ الإسلام – ت بشار7/829)

.

وكتبه طافحة بأنه كان شيعيا متعزليا

👈 مروج الذهب کا مصنف اسکی کتب بھری پڑی ہیں ایسی باتوں سے کہ جو اسکے شیعہ اور معتزلی ہونے کا ثبوت ہیں

(ابن حجر العسقلاني ,لسان الميزان ,4/225)

.

👈 حتی کہ شیعہ مصنفین نے اسے اپنا معتبر عالم تک لکھا ہے

علي بن الحسين بن علي المسعودي بخط التقي المسعودي شيعي وكتاب مروج الذهب لا يظهر منه تشيعه والمعتمد كتبه الآخر بخط ولده المجلسي: أقول عندنا كتاب اثبات الوصية له ويدل على أنه من أكمل الشيعة وخواصهم

👈 مروج الذہب کا مصنف مسعودی شیعہ تھا بلکہ کامل شیعہ تھا خواص شیعہ میں سے تھا

(أعيان الشيعة – السيد محسن الأمين – ج ٨ – الصفحة ٢٢١)

.

👈 تیسرا حوالہ:

تاریخ اسلام اور میزان الاعتدال کا اور یہاں بھی چلا کی مکاری اور دھوکہ بازی خیانت کرتے ہوئے مصنف کا تبصرہ حذف کردیا جو رافضیوں نیم رافضیوں شیعوں کے باطل مردود فسادی جھوٹے مکار ہونےکی نشانی ہے

علامہ ذہبی فرماتے ہیں اس روایت کے متعلق

علوان” بن داود البجلي مولى جرير بن عبد الله ويقال علوان بن صالح قال البخاري علوان بن داود ويقال ابن صالح منكر الحديث وقال العقيلي له حديث لا يتابع عليه ولا يعرف إلا به

👈 علوان بن داود اس روایت کا راوی ہے امام بخاری نے کہا ہے کہ یہ منکر الحدیث ہے صحیح حدیث کے خلاف روایت کرتا ہے امام عقیلی نے فرمایا کہ اس کی حدیث کی کسی نے مطابقت نہیں کی

( ميزان الاعتدال3/108)

.

👈 چوتھا حوالہ:

تاریخ یعقوبی کا

أحمد بن أبي يعقوب اسحق (ت ٢٨٤ هـ) مؤرخ شيعي إمامي

👈 تاریخ یعقوبی کا مصنف امامی شیعہ تھا

(كتاب عصر الخلافة الراشدة محاولة لنقد الرواية التاريخية وفق منهج المحدثين19)

.

👈 حتی کہ شیعوں نے اسے اپنا علامہ مانا ہے

ويظهر تشيعه من كتابه في التاريخ …. أن مؤلفه شيعي

👈 تاریخ یعقوبی کی کتب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ شیعہ تھا اور اس کے جو کتابیں ہیں ان میں شیعہ روایات ہیں

.(شیعہ کتاب اعیان الشیعۃ3/202)

.

👈 پانچواں حوالہ:

الامامۃ والسیاسۃ کا

الامامۃ و السیاسۃ بھی معتبر اہلسنت کتاب نہین بلکہ متنازعہ کتاب ہے بعض نے اسے ابن قتیبہ کی تصنیف ہی قرار نہ دیا بعض نے لکھا کہ ابن قتیبہ دو تھے ایک سنی ایک شیعہ،شیعہ نے کتاب لکھی اور شیعہ اسے سنی مصنف کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں..(دیکھیے میزان الکتب ص 275 لسان المیزان ر4460)

.

👈 چھٹا حوالہ:

العقد الفرید کا…معتبر اہل سنت کتاب نہیں بلکہ اس میں شیعہ روایات موجود ہیں باطل روایات موجود ہیں تو اس کی روایات کو دیگر روایات کی بنیاد پر پرکھا جائے گا

..ويدل كثير من كلامه على تشيع فيه وميل إلى الحد من بني أمية وهذا عجيب منه لأنه أحد مواليهم وكان الأولى به أن يكون ممن يواليهم لا ممن يعاديهم)]البداية والنهاية () [وقال في موضع آخر ـ رحمه الله تعالى ـ : ( كان فيه تشيع شنيع ومغالاة في أهل البيت

👈 عقد الفرید کے مصنف کی کتب میں ایسی باتیں ہیں کہ جو اس کے شیعہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں یہ بہت برا شیعہ تھا اہل بیت میں غلو کرتا تھا

(البداية والنهاية 10/ 433)11/230)

اور مذکورہ واقعہ کی سند بھی نہیں لکھی

.

👈 ساتواں حوالہ:

أبو عبيدة في الأموال…..قال الأصمعى ، وقال أبو عمرو ، وفيه خمسة وأربعون حديثا لا أصل لها

👈 ابو عبیدہ نے چالیس کے قریب ایسی حدیث بیان کی ہیں جن کی کوئی اصل نہیں ہے

(سیر اعلام النبلاء10/502)

👈 لہذا اس کی بیان کردہ روایت کو پرکھا جائے گا کہ معتبر کتاب میں موجود ہے یا نہیں ہے

اس مین بھی سند وہی ہے جو طبری و طبرانی کی ہے جسکی تفصیل تحقیق نیچے آرہی ہے

.

👈 اٹھواں حوالہ:

کزالعمال کا…سند نہین لکھی

.

👈 نواں حوالہ:

تاریخ طبری کا…اس میں اس روایت کی دو سندیں لکھی ہین جسکی تحقیق نیچے آرہی ہے

.

👈 دوسواں حوالہ

لأحاديث المختارة کا….اس روایت کی سند بھی وہی ہے جو طبری طبرانی نے لکھی جس کی تحقیق نیچے آ رہی ہے

.

👈 گیارواں حوالہ:

ابن عساکر کا….اس روایت کی سند بھی وہی ہے جو طبری طبرانی نے لکھی جس کی تحقیق نیچے آ رہی ہے

.

👈 بارواں حوالہ:

کنزالعمال کا….سند نہین لکھی

.

👈 تیرواں حوالہ:

لسان المیزان کا…مکاری اور دھوکہ بازی خیانت کرتے ہوئے مصنف کا تبصرہ حذف کردیا جو رافضیوں نیم رافضیوں شیعوں کے باطل مردود فسادی جھوٹے مکار ہونے کی نشانی ہے

وكتبه طافحة بأنه كان شيعيا متعزليا

👈 مروج الذهب کا مصنف اسکی کتب بھری پڑی ہیں ایسی باتوں سے کہ جو اسکے شیعہ اور معتزلی ہونے کا ثبوت ہیں

(ابن حجر العسقلاني ,لسان الميزان ,4/225)

 

.

👈 پانچویں بات:

مذکورہ روایت کی سند یہ ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي عُلْوَانُ بْنُ دَاوُدَ الْبَجَلِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:

[الطبراني ,المعجم الكبير للطبراني ,1/62

.

باقی تاریخ طبری میں یہ روایت مکمل سند کے ساتھ لکھی ہے طبری میں یہ دو سندیں لکھی ہیں

.

¹حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُلْوَانُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ،

.

²وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمُرَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُلْوَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أَبَا بكر الصديق رضى الله عَنْهُ(تاریخ طبری3/431)

.

.قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عُلْوَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ

(الأموال للقاسم بن سلام ,page 174)

.

👈 ان چاروں سندوں میں واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ سندوں میں اسکا مرکزی راوی علوان ہے، طبری کے علاوہ بھی جہاں کہیں بھی یہ روایت مجھے ملی تو اس میں یہی راوی علوان موجود تھا…..واللہ تعالی اعلم

.

سارے قصے کا دار و مدار اس علوان نامی راوی پر ہے آئیے پڑھتے ہیں کہ یہ علوان راوی کیسا تھا….کہیں اس نے جھوٹ گھڑ کر سیدنا ابوبکر کی طرف منسوب تو نہیں کر دیا…..؟؟

.

قال البخاري وأبو سعيد بن يونس: ” منكر الحديث

👈 امام بخاری اور امام ابو سعید نے فرمایا کہ یہ راوی علوان منکر الحدیث ہے(جو صحیح روایت یا صحیح حدیث کے خلاف روایت کرےاسے منکر الحدیث کہتے ہیں)

(المعجم الصغير لرواة الإمام ابن جرير الطبري ,1/388)

.

علوان” بن داود البجلي مولى جرير بن عبد الله ويقال علوان بن صالح قال البخاري علوان بن داود ويقال ابن صالح منكر الحديث وقال العقيلي له حديث لا يتابع عليه ولا يعرف إلا به

👈 یہ راوی علوان منکر الحدیث ہے(جو صحیح روایت یا صحیح حدیث کے خلاف روایت کرےاسے منکر الحدیث کہتے ہیں)اسکی رواہت کی تاءید کسی معتبر نے نہیں کی

( لسان الميزان4/188)

 

.

 

منكر الحديث….وَلَا يُعْرَفُ عُلْوَانُ إِلَّا بِهَذَا مَعَ اضْطِرَابِ الْإِسْنَادِ، وَلَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ

علوان منکر الحدیث ہے(جو صحیح روایت یا صحیح حدیث کے خلاف روایت کرےاسے منکر الحدیث کہتے ہیں)علوان کی کوئی پہچان نہیں سوائے اس کے کہ یہ اس روایت کے ذریعہ سے پہچانا جاتا ہےاس کی اس روایت میں اضطراب بھی ہے اور اس کی اس روایت کی تائید و متابعت کسی دوسری روایت سے نہیں ہوتی

(الضعفاء الكبير للعقيلي ,3/421)

 

منكر الحديث وقال العقيلي: له حديث لا يتابع عليه، ولا يعرف إلا به

علوان منکر الحدیث ہے(جو صحیح روایت یا صحیح حدیث کے خلاف روایت کرےاسے منکر الحدیث کہتے ہیں)امام عقيلي فرماتے ہیں کہ علوان کی کوئی پہچان نہیں سوائے اس کے کہ یہ اس روایت کے ذریعہ سے پہچانا جاتا ہے اور اس کی اس روایت کی تائید و متابعت کسی دوسری روایت سے نہیں ہوتی

(ميزان الاعتدال ,3/108)

.

قال البخاري: علوان بن داود ويُقال: ابن صالح منكر الحديث.

وقال العقيلي: له حديث لا يتابع عليه، وَلا يعرف إلا به.

وقال أبو سعيد بن يونس: منكر

👈 امام بخاری فرماتے ہیں کہ علوان منکر الحدیث ہے(جو صحیح روایت یا صحیح حدیث کے خلاف روایت کرےاسے منکر الحدیث کہتے ہیں)یہ علوان بن داود ہے اور اسے علوان بن صالح بھی کہا گیا ہے

امام عقيلي فرماتے ہیں کہ علوان کی کوئی پہچان نہیں سوائے اس کےکہ یہ اس روایت کے ذریعہ سے پہچانا جاتا ہےاور اس کی اس روایت کی تائید و متابعت کسی دوسری روایت سے نہیں ہوتی

ابوسعید بن یونس نے فرمایا کہ علوان منکر الحدیث ہے(جو صحیح روایت یا صحیح حدیث کے خلاف روایت کرےاسے منکر الحدیث کہتے ہیں)

(لسان الميزان ت أبي غدة ,5/472)

.

شیعہ سنی نجدی سب کا متفقہ اصول ہے کہ

فحديثه منكر مردود

ترجمہ:

اسکی حدیث.و.روایت منکر و مردود ہے..(شیعہ کتاب رسائل فی درایۃ الحدیث1/185)

.

نیز اس روایت کا ایک اور راوی محمد بن اسماعیل مرادی مجھول و باطل مردود ہے

مُحَمَّد بن إِسْمَاعِيل الْمرَادِي عَن أَبِيه قَالَ أَبُو حَاتِم مَجْهُول وَأَبوهُ مَجْهُول والْحَدِيث الَّذِي رَوَاهُ بَاطِل

👈 مُحَمَّد بن إِسْمَاعِيل الْمرَادِی کے متعلق امام ابو حاتم نے فرمایا ہے کہ یہ اور اس کا والد مجہول ہیں اور اس نےجو حدیث بیان کی وہ باطل ہے

(الضعفاء والمتروكون لابن الجوزي3/42)

.

مُحَمَّد بن إِسْمَاعِيل الْمرَادِي لَا يدرى من هُوَ والْحَدِيث بَاطِل

👈 مُحَمَّد بن إِسْمَاعِيل الْمرَادِی مجہول راوی ہے اور اس نے جو حدیث بیان کی ہے وہ باطل ہے

(المغني في الضعفاء2/555)

.

محمد بن إسماعيل المرادي. أتى بحديث باطل

👈 مُحَمَّد بن إِسْمَاعِيل الْمرَادِی نےجو حدیث بیان کی ہے وہ باطل ہے

(لسان الميزان ت أبي غدة6/570)

.

 

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات مرض اور وصیت وغیرہ کے متعلق تمام احوال مستند کتب میں آئے ہیں جس میں مذکورہ واقعہ کا کچھ اتا پتہ ہی نہیں لیھذا یہ منفرد و منکر روایت مردود باطل و ناقابل حجت ہے…سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا کچھ نہیں کہا اور نہ ہی سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا و فداھا روحی کے گھر کی بےحرمتی کی…اس سلسلہ میں جو کچھ شیعہ بیان کرتے ہیں وہ جھوٹ ، مکاری دجل و فریب ضعیف جدا، منکر و مردود باطل ہے

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

whats App nmbr

00923468392475

03468392475

other nmbr

03062524574