غیر مقلدین کے ایک اعتراض کا جواب۔

کیا فقہ حنفی میں پیشاب سے سورہ فاتحہ لکھنا جائز ہے؟

( جواب از امام اہل سنت امام احمد رضا محدث بریلوی)

ترتیب و پیشکش: ابو الفتح محمد شعیب خان

 

مسئلہ ۱۰۹ : از اوجین محلہ مرزا واڑی مرسلہ شیخ آفتاب حسین وشیخ حامد علی صاحبان ۲۱ محرم الحرام ۱۳۱۵ھ بسم ﷲ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علی رسول محمد والہ واصحابہ اجمعین۔

اللہ تعالٰی کے مقدس نام سے شروع جو بےحد رحم کرنے والا مہربان ہے، سب تعریف اس اللہ تعالٰی کے لئے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور درود وسلام اس کے رسول مقبول پر ہو اور ان کی تمام اولاد اور ساتھیوں پر۔ (ت)

اما بعد گزارش خاکسار یہ کہ چند مسئلہ کتب فقہیہ امام اعظم صاحب علیہ الرحمۃ مثل ہدایہ شرح وقایہ وفتاوی قاضی خاں ودرمختار وردالمحتار وفتاوٰی علمگیری وفتاوٰی برہنہ وفتاوٰی سراجیہ خلاف حدیث رسول خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں من جملہ مسائل خلافیہ کے ایک یہ مسئلہ اس میں لکھا ہے کہ قرآن شریف کی آیت کا پیشاب سے لکھنا جائز ہے میں اس کا ثبوت دے سکتا ہوں یہ عبارت کتب مذکورہ میں ہے یا اتہام؟ اس کے حق میں کیا حکم ہے؟ بیان فرمادیں۔ (محمد رفیع الدین)

 

*الجواب* الحمد ﷲ رب العالمین وافضل الصلٰوۃ واکمل السلام علی سید المرسلین سیدنا ومولانا محمد والہٖ واصحابہ وعلماء امتہ و مجتہدی ملتہ اجمعین اٰمین۔ تمام خوبیاں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو پرورش کرنے والا ہے تمام جہانوں کی، اور سب سے بہتر درود اور سب سے کامل سلام رسولوں کے سردار پر ہو جو ہمارے آقا ومولا محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں، اور ان کی آل اصحاب، علمائے امت اور مجتہدین مذہب ان سب پر (بالواسطہ) درود وسلام ہو۔ آمین،

 

*اقول* وباللہ التوفیق (میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں، ت)

معترض نے اس عبارت میں متعدد طور پر دھوکے دینے سے کام لیا ہے۔

 

*اولا* ایہام کیا کہ ہدایہ وغیرہ سب کتب مذکورہ میں یہ مسئلہ لکھا ہے۔ حالانکہ نہ ہدایہ میں اس کا پتا نہ شرع وقایہ میں نشان، نہ درمختار میں وجود، نہ عالمگیری میں ذکر بول موجود، یہ سب معترض صاحب مغالطہ دہی ہے فتاوی برہنہ فقیر کے پاس نہیں۔ نہ وہ کوئی معتبر کتابوں میں معدود۔

 

*ثانیا* سراجیہ میں اس کے بعد صراحۃ لکھ دیا لکن لم ینقل ۱؎ مگر یہ منقول نہ ہوا، اسی طرح ردالمحتار ۲؎ میں نقل فرمایا۔ تو ان کی طرف حکم جواز کی نسبت کردینی محض افترا ہے حکم کسی شرط پر مشروط کرکے وجود شرط حکم کو تسلیم نہ کرنا ہے نہ کہ حکم دینا کما لایخفی علی جاھل فضلا عن فاضل (جیسا کہ کسی ان پڑھ سے بھی پوشیدہ نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل سے پوشیدہ ہو۔ ت)

(۱؎ فتاوٰی سراجیہ کتاب الکراھیۃ باب التداوی والعلاج نولکشور لکھنؤ ص۷۵)

(۲؎ ردالمحتار کتاب الطھارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۴۰)

 

*ثالثا* فتاوٰی قاضی خاں میں صاف بتادیا کہ یہ مسئلہ نہ امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ارشاد ہے نہ ان کے اصحاب کا، نہ شاگردان کا نہ شاگردان شاگرد کے کسی شاگرد کا، بلکہ شیخ ابوبکر اسکاف بلخی کا قول ہے کہ چوتھی صدی کے مشائخ سے تھے وہ بھی نہ اس طور پر جس طرح معترض نے بیان کیا جیسا کہ عنقریب آتا ہے تو اس کے باعث یہ ایہام کرنا کہ فقہ امام اعظم کا یہ حکم ہے صحیح فریب دہی ہے۔

 

*رابعا* فتاوٰی قاضی خان کی عبارت یہ ہے :*الذی رعف فلا یرقا دمہ فاراد ان یکتب بدمہ علی جبھتہ شیئا من القراٰن ، قال ابوبکر الاسکاف رحمہ اﷲ تعالٰی یجوز قیل لوکتت بالبول، قال لوکان فیہ شفاء لابأس بہ قیل لوکتب علی جلد میتۃ قال ان کان فیہ شفاء جاز وعن ابی نصر بن سلام رحمہ ﷲ تعالٰی معنی قولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام ان ﷲ لم یجعل شفاء کم فیما حرم علیکم انما قال ذٰلک فی الاشیاء التی لایکون فیہ شفاء فاما اذا کان فیہا شفاء فلا بأس بہ قال الاتری ان العطشان یحل لہ شرب الخمر حال الاضطرار ۱؎۔

*ترجمہ* جس شخص کی نکسیر آئے کہ خون بند نہ ہو پھر اس نے اپنے خون سے قرآن مجید کا کوئی حصہ اپنی پیشانی پر لکھنے کا ارادہ کیا ہو (تو شرعا کیا حکم ہے) ابوبکر اسکاف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ جائز ہے۔ پھر ان سے پوچھا گیا اگر پیشاب سے لکھے (تو پھر کیا حکم ہے) فرمایا اگر اس میں شفاء معلوم ہو تو کچھ حرج نہیں، پھر کہا گیا کہ اگر مردار کی کھال پر لکھے، توفرمایا اگر اس میں بھی شفاء معلوم ہو تو جائز ہے۔ ابوالنصر بن سلام رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ارشاد کہ ” بے شک اللہ تعالٰی نے جو کچھ تم پر حرام فرمایا ہے اس میں تمھارے لئے شفا نہیں رکھی” کا مفہوم یہ ہےکہ یہ ان چیزوں سے متعلق ہے جن میں فی الواقع شفاء نہیں لیکن جن میں شفا موجود ہے تو ان کے استعمال میں کیا حرج ہے کیا تم دیکھتے نہیں کہ پیاسے آدمی کے لئے اضطراری حالت میں شراب کا پینا بھی حلال ہے۔ (ت)

(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں کتا ب الحظروالاباحۃ نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۸۰)

 

اس عبارت سے واضح کہ فقیہ ممدوح سے اس حالت کا سوال ہوا تھا کہ کسی کے دماغ سے ناک کی راہ خون جاری ہے اور کس طرح نہیں تھمتا اس حالت میں اس کی جان بچانے کو اگر خون یا بول سے لکھیں تو اجازت ہے یانہیں؟

فقیہ موصوف نے فرمایا اگر اس سے شفا ہو جانا معلوم ہو تو مضائقہ نہیں اور اس کی نظیر یہ بتائی گئی کہ پیاس سے جان جاتی ہو اور سوا شراب کے کوئی چیز موجود نہیں یا بھوک سے دم نکلتا ہو اور سوا مردار کے کچھ پاس نہیں تو اس وقت بمقدار جان بچانے کے شراب ومردار کے استعمال کی شرع مطہر نے رخصت دی ہے تو فقیہ موصوف کا یہ حکم حقیقۃ تین شرطوں سے مشروط تھا :

 

*اول* یہ کہ جان جانے کا خوف ہو، جیساکہ عبارت قاضی خان ((فلا یرقا دمہ))

(اس کا خون بند نہ ہو۔ت) سے ظاہر ہے

اور اسی ردالمحتار میں کہ اس کا نام بھی معترض نے گن دیا۔عبارت یوں ہے *:نص مافی الحاوی القدسی اذا سال الدم من انف انسان ولا ینقطع حتی یخشی علیہ الموت* ۲؎۔ (حاوی قدسی میں تصریح فرمائی) یعنی خون ناک سے جاری ہے اور نہیں تھمتا یہاں تک کہ اس کے مرجانے کا اندیشہ ہو۔

 

(۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۴۰)

 

*دوم* اس تدبیر سے اسے شفا ہوجانا بھی معلوم ہو جیسا کہ عبارت قاضی خاں (لوکان فیہ شفاء) ۱؎

(اگر اس میں شفا ء معلوم ہو۔ ت) سے ظاہر،

(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۸۰)

اور اسی ردالمحتار میں بعد عبارت مذکورہ ہے : (وقد علم انہ لو کتب ینقطع) ۱؎

بتحقیق معلوم ہو کہ لکھا جائے تو خون منقطع ہوجائے گا

 

(۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۴۰)

 

*سوم* اس کے سوا کوئی اور تدبیر شفا نہ ہو جیساکہ عبارت قاضی خاں (حال الاضطرار) سے ظاہر، اور اس ردالمحتار میں ہے :(فی النھایۃ عن الذخیرۃ یجوز ان علم فیہ شفاء ولم یعلم دواء اٰخر) ۳؎۔

(نہایہ میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے) جب جائز ہے کہ اس سے شفا ہوجانا معلوم ہو اور دوسری کوئی دوا نہ معلوم ہو۔

 

(۳؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۴۰)

 

اسی میں ہے (:ھذا لمصرح فی عبارۃ النھایۃ کما مر و لیس فی عبارۃ الحاوی الا انہ یفاد من قولہ کما رخص الخ لان حل الخمر والمیتۃ حیث لم یوجد مایقدم مقامھما) ۲؎۔

عبارت نہایہ میں یہ تصریح کی گئی جیسا کہ بیان گزر چکا ، لیکن عبارت حاوی قدسی میں یہ تصریح موجود نہیں مگر یہ کہ اس کے قول ”کما رخص” سے افادہ کیا جائےا لخ اس لئے کہ شراب اور مردار (وہاں) حلال ہیں جہاں کوئی نعم البدل نہ پایا جائے لہذا بصورت دیگر وہ حلال نہیں (ت)

 

(۴؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۴۰)

 

اہل انصاف غور کریں کہ جو حکم ان تین شرطوں کے ساتھ مشروط ہو جن کے بعد اس میں اصلا استبداد نہیں کہ الضرورات تبیح المحظورات (ضرورتیں ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں۔ ت) شرع وعقل وعرف سب کا مجمع علیہ قاعدہ ہے ان تمام شرائط کو اڑا کر مطلقا یوں کہہ دینا کہ ان کتابوں میں لکھا ہے کہ قرآن شریف کی آیت کا پیشاب سے لکھنا جائز ہے کون سی ایمان وامانت ودین ودیانت کا مقتضا ہے یہ تو ایسا ہوا کہ کوئی کافر نصرانی یہودی بک دے کہ قرآن مجید میں سور کھانا حلال لکھا ہے۔ اور ثبوت میں یہ آیت پیش کرے کہ : فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فلا اثم علیہ ۱؎۔

پھر کوئی بیقرار ہوگیا بشرطیکہ بغاوت اور زیادتی کرنیوالا نہ ہو تو اس پر (مردار کھالینے کا) کوئی گناہ نہیں۔ (ت)

 

(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۱۷۳)

 

یا کوئی مردود نیچری یُوں جَھک کمارے کہ کفر کے بول بولنا اللہ تعالٰی نے جائز فرمادیا ہے اور سند میں یہ آیت سنا دے کہ:الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان ۲؎۔

مگر اس کو کلمہ کفر کہنے کی اجازت ہے کہ جس کو مجبور کیا جائے جبکہ اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو۔ (ت)

 

(۲؎القرآن الکریم ۱۶/ ۱۰۶)

 

ان مفتری کذابوں سے یہی کہا جائے گا کہ قرآن عظیم نے تو سور کھانا اور کلمہ کفر بکنا قطعی حرام کئے ہیں یہ تیرا محض افتراء وبہتان ہے، ہاں دم نکلتا ہو اور کچھ اور میسر نہیں تو جان بچانے کو حرام چیز کھانے کی اجازت دینی یا کوئی ظالم بغیر کفر کے ظاہر کئے مارے ڈالتا ہو یا آنکھیں پھوڑتا یا ہاتھ پاؤں کاٹتا ہو تو دل میں خاص ایمان کے ساتھ حفظ جسم وجان کے لئے کچھ ظاہر کرنے کی رخصت فرمائی یہ قطعا حق وعین رحمت ومصلحت ہے اور اسے تیرا اس طور پر تعبیر کرنا یقینا بہتان وصریح شرارت وخباثت ہے بعینہٖ یہی جواب ان غیر مقلد صاحبوں کے اعتراض کا سمجھ لیجئے۔

 

*خامسا* فقیر کہتا ہے غفر اللہ تعالٰی لہ اگر اللہ عزوجل نظر غائر وقت شناس نصیب فرمائے تو عندالتحقیق ا س کلام علماء کا مرجع ومآل صاف ممانعت ہے نہ تجویز واجازت کہ وہ شرط فرماتے ہیں کہ جب اس سے شفاء ہوجانا معلوم ہو حالانکہ اس علم کا کوئی ذریعہ نہیں، اگرعلم بمعنی یقین لیجئے جب تو ظاہر کہ یقین تو ظاہر وواضح ومجرب ومعقول الاثرداؤں میں بھی نہیں نہایت کارظن ہے۔اسی ردالمحتار میں ہے :(قدعلمت ان قول الاطباء ولا یحصل بہ العلم) ۳؎۔

بیشک تو نے جان لیا کہ طبیبوں کے قول سے علم حاصل نہیں ہوتا۔ (ت)

 

(۳؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۴۰)

 

اور اگر ظن کو بھی شامل کیجئے تو یہ لکھنا غایت درجہ از قبیل رقیہ ہوگا نہ از قبیل معالجات ورضحہ طبیہ اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ایسے معالجات سے شفاء معلوم ہونا درکنار مظنون بھی نہیں صرف موہوم ہے۔

اسی عالمگیری میں فصول عمادی سے ہے :الاسباب المزیلۃ للضرر تنقسم الی مقطوع بہ کالماء للعطش والخبز للجوع والی مظنون کا لفصد والحجامۃ وشرب المسھل وسائر ابواب الطب یعنی معالجۃ البرودۃ بالحرارۃ ومعالجۃ الحرارۃ بالبرودۃ وھی الاسباب الظاھرۃ فی الطب والی موھوم کالکی والرقیۃ ۱؎۔

جن اسباب سے ضرور دور ہوتاہے وہ دو قسم کے ہیں (۱) یقینی جیسے پانی پیاس دورکرنے کے لئے اور کھانا بھوک کو رفع کرنے کے لئے (۲) ظنی، جیسے خون نکلوانا، پچھنے لگوانا، جلاب آور دوا پینا اور دیگر ابواب طب یعنی سردی کا گرمی سے علاج کرنا، اور گرمی کا سردی سے، اور علم طب میں یہ ظاہری اسباب ہیں اور وہمی اسباب جیسے داغ لگانااور جھاڑ پھونک یعنی دم کرنا۔ (ت)

 

(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵۵)

 

تو دیکھو علمائے تصریح فرمائی کہ یہ لکھنا جائز جب ہو کہ اس سے شفاء معلوم ہو اور ساتھ ہی یہ بھی تصریح فرمائی کہ اس سے شفاء معلوم نہیں تو کیا حاصل یہ نکلا کہ یہ لکھناجائز ہے یا یہ کہ ہر گز جائز نہیں صحیح حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے دربارہ رمل سوال ہوا ارشاد فرمایا :کان نبی من الانبیاء یخط فمن وافق خطہ فذاک رواہ مسلم ۲؎ فی صحیحہ واحمد ابودؤد والنسائی عن معاویۃ بن الحکم رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

بعض انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کچھ خط کھینچا کرتے تھے تو جس کی لکیریں ان کے خطوں سے موافق ہوں وہ ٹھیک ہے (امام مسلم نے اپنی صحیح مسلم میں امام محمد ، ابوداؤد اور نسائی نے معاویہ بن حکم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس کو روایت کیا ہے۔ ت)

 

(۲؎ صحیح مسلم کتاب المساجد باب تحریم الکلام فی الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۰۳)

اب اس حدیث سے ٹھہرادینا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے رمل پھینکنے کی اجازت دی ہے حالانکہ حدیث صراحۃ مفید ممانعت ہے کہ جب حضورا قدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کا جواز مواقف خط انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام سے مشروط فرمایا اور وہ معلوم نہیں تو جواز بھی نہیں۔ امام نووی رحمہ اللہ تعالٰی نے کتاب الصلٰوۃ باب تحریم الکلام میں زیر حدیث مذکور فرماتے ہیں :معناہ من وافق خطہ فھو مباح لہ ولکن لاطریق لنا الی العلم الیقینی بالموافقۃ فلا یباح والمقصود انہ حرام لانہ لایباح الابیقین بالموافقۃ ولیس لنا یقین بھا ۱؎۔

حدیث پاک کا مفہو م اور مراد یہ ہے کہ جس آدمی کی لکیریں بعض انبیاء کرام کی لکیروں کے موافق ہوجائیں تو اس کے لئے (علم رمل) مباح ہے لیکن حصول موافقت کے لئے ہمارے پاس یقینی علم تک رسائی کاکوئی راستہ نہیں لیکن علم مذکور (ہمارے لئے) مباح نہیں اور مقصد یہ ہے کہ وہ حرام ہے کیونکہ یقینی موافقت کے بغیر وہ مباح نہیں ہوسکتا اور یقنی موافقت کا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں۔ (ت)

(۱؎ شرح صحیح البخاری للنوعی مع صحیح مسلم کتا ب المساجد باب تحریم الکلام فی الصلٰوۃ ۱ /۲۰۳)

یعنی مقصود حدیث تحریم رمل ہےکہ اباحت بشرط موافقت ہے۔ اور وہ نامعلوم تو اباحت معدوم ۔ علامہ علی قاری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں :حاصلہ ان فی ھذا لزمان حرام لان الموافقۃ معدومۃ او موھومۃ ۲؎

۔یعنی حاصل حدیث یہ ہے کہ رمل اس شریعت میں حرام ہے کہ موافقت معدوم ہے یا موہوم۔

(۲؂ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ االمصابیح کتاب الصلٰوۃ باب مالایجوز من العمل الخ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۶۴)

اسی میں امام ابن حجر سے انھوں نے اکثر علماء سے نقل فرمایا :لایستدل بھذا الحدیث علی اباحتہ لانہ علق الاذن فیہ علیہ موافقۃ خط ذٰلک النبی صلی موافقۃ غیر معلومۃ فاتضح تحریمہ ۳؎۔

یعنی اس حدیث سے رمل کی اباحت پر استدلال نہ کیا جائے کہ اس میں تو اجازت ان نبی کے خط سے موافقت پر موقوف فرمائی ہے اور یہ موافقت معلوم نہیں تو اس کا حرام ہونا روشن ہوگیا۔

(۳؎مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ االمصابیح کتاب الصلٰوۃ باب مالایجوز من العمل الخ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۶۴)

بعینہٖ یہی حالت اس قول علماء کی ہے کہ جب اجازت کتابت علم شفا سے مشروط فرماتے ہیں اور وہ معدوم یا موہوم ہو تو اباحت معدوم۔

 

ھکذا ینبغی التحقیق وﷲ ولی التوفیق ثم بعد کتابتی لھذا المحل الشامی نقل عن البحر عن الفتح مانصہ واھل الطب یثبتون لبن البنت نقعا لوجع العین واختلف المشائخ فیہ قیل لا یجوز وقیل یجوز العلم انہ یزول بہ الرمد ولا یخفی ان حقیقۃ العلم متعذرۃ فالمراد اذا غلب علی الظن والاظھر معنی المنع ۱؎ اھ یونہی تحقیق کرنی چاہئے اور اللہ تعالٰی ہی توفیق کا مالک ہے۔ پھر میں نے یہ جگہ لکھنے کے بعد فتاوٰی شامی کو دیکھا اس میں بحرالرائق بحوالہ فتح القدیر نقل کیا کہ جس کی اس نے تصریح فرمائی کہ اہل طب نے لڑکی کے دودھ کو درد کے لئے مفید قراردیا ہے اور مشائخ کرام نے اس میں اختلاف کیا ہے __________ چنانچہ کہاگیا ہے کہ یہ جائز نہیں، اور یہ بھی کہا گیا کہ جائز ہے۔ جبکہ یہ علم ہوجائے کہ ا سے درد چشم زائل ہوجائے گا لیکن یہ پوشیدہ نہیں کہ حقیقت علم تک رسائی مشکل ہے اور مراد یہ ہے کہ جب غالب گمان ہو ورنہ یہی منع کا مفہوم ہے۔ اھ

 

(۱؎ ردالمحتار کتاب النکاح باب الرضاع داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۰۴)

 

اقول : وانت تعلم ان لاوجہ فیما نحن فیہ بغلبۃ الظن ایضا فھو معنی المنع قطعا وھذا عین مافھمت وﷲ الحمد۔اقول : (میں کہتاہوں) کہ تم جانتے ہو کہ یہاں غلبہ ظن کی کوئی وجہ نہیں لہذا یہی قطعی طور پر مفہوم منع ہے اور یہ بعینہٖ وہی ہے جس کو میں نے سمجھا، اور خدا ہی کے لئے تمام خوبیاں ہیں۔ (ت)

 

*سادسا* طرہ یہ کہ معترض نے چوتھی صدی کے ایک فقیہ کاقول بہزاران عیار سب شرائط اڑا کر طرح طرح کی تہمت وبہتان کے ساتھ فقیہ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ پر بزعم خود اعتراض جمانے کے لئے نقل کیا، اور اسی درمختار و ردالمحتار وقاضی خاں وعالمگیری وغیرہا عامہ کتب معتمدہ مذہب متون و شروح وفتاوٰی میں جوخود ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا اصل مذہب کہ ظاہرالروایۃ ومعتمد فی المذہب ہے اور اس پر تصریحات کثیرہ ہیں وہ سب اڑا گیا کہ بے علم بیچاروں کو دھوکے دے کہ امام الائمہ امام اعظم معاذ اللہ ایسے موحش حکم دیتے تھے معترض اگر کچھ پڑھا لکھا ہے اور اس نے ان کتابوں کے نام کسی سن کریا رجمایا بالغیب آنکھیں بند کرکے نہ لکھ دے تو ایمان سے کہے کہ اسی درمختار میں یہیں یعنی کتاب الطہارۃ میں یہ عبارت تو نہ تھی اختلف فی التداوی بالحرام وظاھر المذھب المنع ۲؎

حرام چیز دواء استعمال کرنے میں اختلاف ہے اور ہمارے ائمہ کا اصل مذہب ظاہر الروایۃ کہ جائز نہیں۔

 

(۲؎ الدالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۸)

 

اسی درمختارکتاب الرضاع میں یہ عبارت تو نہ تھی :فی البحر لا یجوز التداوی بالمحرم فی ظاھر المذھب ۱؎

۔یعنی بحرالرائق میں ہےکہ مذہب حنفی ظاہر الروایہ میں حرام چیز سے علاج کرنا جائز نہیں۔

 

(۱؎ درمختار کتاب النکاح باب الرضاع مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۱۲)

اسی درمختار میں کتاب الحظروالاباحۃمیں یہ عبارت تو نہ تھی:جاز الحقنہ للتداوی بطاھر لا بنجس وکذا کل تداو لا یجوز ۲؎۔

حقنہ بغرض دوا پاک چیز سے جائز ہے ناپاک سے نہیں، اسی طرح کوئی علاج ناپاک چیز سے جائز نہیں۔

(۲؎ درمختار کتاب الحظر و الاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۲)

 

اسی ردالمحتار میں بحوالہ درمنتقی قول جواز ذکر کرکے یہ تو نہ تھا کہ المذھب خلافۃ ۳؎ مذہب حنفی اسی قول کے جواز کے خلاف ہے۔

 

(۳؎ ردالمحتار کتاب الحظر و الاباحۃ فصل فی البیع دار احیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۹)

 

اسی عالمگیری میں یہ عبارت تو نہ تھی :تکرہ ابوال الابل ولحم الفرس للتداوی کذا فی الجامع الصغیر ۴؎

۔اونٹ کا پیشاب اور گھوڑے کا گوشت دوا میں بھی مکروہ ہے ایسا ہی جامع صغیر میں امام محمد میں ہے۔

(۴؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ البا ب الثامن عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵۵)

اسی میں یہ تو نہ تھا :قال لہ الطیب الحاذق علتک لا تندفع الا باکل القنفذ اوالحیۃ اودواء یحل فیہ الحیۃ لایحل اکلہ ۵؎۔ یعنی ساہی یا سانپ یا ایسی دوا جس میں سانپ ڈالا جائے علاج کے لئے بھی کھانا حلال نہیں۔ اگر چہ حکم حاذق کہے کہ تیرا مرض بغیر اس کے نہ جائے گا۔ (۵؎فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ البا ب الثامن عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵۵)

 

اسی عالمگیری میں اسی فتاوٰی قاضی خاں سے یہ نہ تھا:تکرہ البان الا تان للمرض وغیرہ وکذٰلک لحومھا وکذٰلک التداوی بکل حرام ۱؎

۔گدھی کا دودھ اور گوشت مرض وغیرہ کسی میں مباح نہیں اور ایسے ہی حرام چیز سے علاج علاج۔

(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵۵)

اسی عالمگیری میں اسی ہدایہ سے یہ تو نہ تھا :لایجوز ان یداوی بالخمر جرحا اودبر دابۃ ولا ان یسقی ذمیا ولا ان یسقی صبیا للتداوی والوبال علی من سقاہ ۲؎۔جائز نہیں کہ شراب سے کسی زخم یا جانور کی لگی ہوئی پیٹھ کا علاج کرنے نہ کسی ذمی کافر کو پلانا جائز نہ دوا کے لئے بچے کو پلانا اور بچے کو پلانا میں وبال پلانے والے پر ہے۔

 

(۲؎فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵۵)

غیر مقلد صاحبو! خدارا انصاف ، جو ائمہ دین تمھارے حقنہ کے لئے بھی کسی ناپاک چیز کا استعمال جائز نہ جانیں وہ قرآن عظیم کی آیات کا ناپاک چیز سے لکھنا کیسےجائز بتائیں گے، ذرا خدا سے ڈر کر بات کیا کرو ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم ، واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (گناہوں سے محفوظ رہنے اور نیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں بجز علم والا ہے اور اس کا علم جس کی شان عظیم ہے سب سے زیادہ کامل اور نہایت پختہ ہے۔

 

(فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 470 تا 474)

 

نوٹ: عبارت فتاوی رضویہ اپلیکیشن سے کاپی کی ہے اور حتی الامکان کتابت کی غلطیاں درست کرنے کی کوشش کی ہے پھر بھی اگر کوئی غلطی ہو تو مطلع فرمائیں۔

ابو الحسن محمد شعیب خان

17 جنوری 2020