مبسملاوحامدا::ومصلیا ومسلما

کس قطعی میں اہل علم کا اختلاف ہوتا ہے؟

 

بعض امور ایسے ہیں کہ اس کا یقین سب کو حاصل ہوجاتا ہے اوربعض امور ایسے ہیں کہ اس کا یقین سب کو حاصل نہیں ہوتا۔اس بحث میں اس امر کا تعین مقصود ہے جس کے یقین میں اختلاف ہوتا ہے اور جس کے یقین میں اختلاف نہیں ہوتا ہے۔

 

حواس ظاہرہ سے جویقین حاصل ہوتا ہے،وہ یقین مشترک ہے۔یقین مشترک ہر صاحب حواس کو حاصل ہوگا، خواہ انسان ہو یا حیوان۔اگر انسان کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا جائے تو وہ بھی وہاں سے بھاگ کھڑا ہوگا۔اسی طرح بیل بکرے کو آگ میں پھینک دیا جائے تووہ بھی وہاں سے نکل بھاگیں گے۔ جب آگ بدن کو جلائے گی تو انسان وحیوان سب کو احساس وادراک ہوجائے گاکہ آگ جلانے والی ہے۔سورج کو دیکھ کر ہر آنکھ والا یہی کہے گا کہ سورج روشن ومنور ہے۔ آگ کے جلانے اور سورج کے روشن ومنورہونے کا علم یقینی حواس ظاہرہ ہوتا ہے۔ایسے امور کے یقین میں کسی کا اختلاف نہیں ہوتا۔

 

قرائن وعلامات کے ذریعہ جو یقین حاصل ہوتا ہے۔اس میں لوگ مختلف ہوجاتے ہیں۔بعض کو یقین حاصل ہوتا ہے اور بعض کو یقین حاصل نہیں ہوتا ہے۔ایک جوہری اصلی ہیرااورنقلی ہیرا کی پہچان اس کی علامتوں کے ذریعہ کرلے گا،لیکن دوسروں کے لیے یہ پہچان مشکل ہے۔ سونے کا تاجر اصلی سونا اورنقلی سونا کی پہچان کرلیتا ہے اور دوسرے لوگ فریب بازوں کے چکر میں پھنس جاتے ہیں اور نقلی سونا کو اصلی سونا سمجھ کر خرید لیتے ہیں۔عہد ماضی میں صراف اصلی سکوں اورنقلی سکوں کو پہچان لیتا تھا،لیکن عام لوگوں کو اس کا ادراک نہیں ہوتا۔عہد حاضرمیں بھی بعض لوگ مشین کی مدد کے بغیر اصلی اورنقلی نوٹ میں فرق کرلیتے ہیں، لیکن ہرایک کو اس کا صحیح ادراک نہیں ہوتا۔

 

قرائن وعلامات کے ذریعہ جن امور کا علم ویقین حاصل ہوتا ہے،ان میں لوگ مختلف ہوجاتے ہیں۔

 

 

مفسر میں احتمال نہیں ہوتا

 

مفسر اس کلام کو کہاجاتا ہے جس میں ایک متعین معنی کے علاوہ دیگرمعانی کا احتمال نہ ہو۔ مفسر میں تاویل وتخصیص کی گنجائش نہیں ہوتی اور کلام کے متعین معنی سے حکم کا تعلق ہوتا ہے۔قائل کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ضروری دینی کے مفسر انکارپر تکفیر کلامی کی جاتی ہے۔

 

رسالہ:اہل قبلہ کی تکفیر (ص34)میں فواتح الرحموت کی درج ذیل عبارت منقول ہے۔

 

(والقطع یختلف باختلاف الاشخاص)

 

(فواتح الرحموت جلد اول: ص12-دارالکتب العلمیہ بیروت)

 

ترجمہ: قطع ویقین اشخاص کے بدلنے سے بدل جاتا ہے۔

 

منقولہ بالا عبارت میں اسی یقین کا ذکر ہے جو اشخاص وافراد کے بدلنے سے بدل جاتا ہے۔ جویقین اشخاص وافراد کے بدلنے سے نہیں بدلتا، وہ یہاں مراد نہیں۔

 

قرائن وعلامات سے ثابت ہونے والے یقین میں اختلاف ہوتا ہے۔ اسی طرح یقین اضطراری میں سب متحد ہوتے ہیں اوریقین اختیاری میں مختلف ہوجاتے ہیں۔

 

قطعی بالمعنی الاخص اور قطعی بالمعنی الاعم میں علمائے حق کا اختلاف نہیں ہوتا۔تکفیر کلامی اس وقت ہوتی ہے جب کلام کفر ی معنی میں قطعی بالمعنی الاخص ہو۔قطعی بالمعنی الاخص کلام کو متعین فی المفہوم اورمفسر بھی کہا جاتا ہے۔متعین ومفسر کلام میں متعدداحتمال کی گنجائش نہیں ہوتی۔ رسالہ:اہل قبلہ کی تکفیر میں قلت التفات کے سبب مرقوم ہوا کہ مفسر کلام میں بھی متعدد معانی کا احتمال ہوتا ہے۔اگر مدارس اسلامیہ کے طلبہ کو کہا جائے کہ اصول الشاشی،نور الانوار،توضیح وتلویح وغیرہ میں مفسر کی تعریف دیکھ کر بتائیں کہ مفسر میں ایک معنی متعین کے علاوہ دیگر معانی کا احتمال ہوتا ہے یا نہیں تو وہ بھی کہیں گے کہ مفسر میں دیگر معانی کا احتمال نہیں ہوتا۔ مفسر میں تاویل وتخصیص کا احتمال نہیں ہوتا،بلکہ مفسر کلام کا ایک متعین معنی ہوتا ہے۔ بدیہیات ومسلمات میں اختلاف کی گنجائش نہیں۔محض توجہ ارزانی کی ضرورت ہے۔

 

 

متفق علیہ قطعی ومختلف فیہ قطعی کا تعین

 

مفسر ومحکم متفق علیہ قطعی بالمعنی الاخص ہیں۔ظاہر ونص متفق علیہ قطعی بالمعنی الاعم ہیں۔ جس امر کی قطعیت قرائن وعلامات سے ثابت ہو،وہ مختلف فیہ قطعی ہوتا ہے۔

 

فرض قطعی،فرض اعتقادی،اورفرض عملی

 

امام اہل سنت قدس سرہ العزیزنے فرض عملی کی بحث میں رقم فرمایا:”مقام کی خصوصیت، قرائن کے ہجوم اور مجتہد پر منکشف ہونے والے امور سے دلیل ظنی کو ایسی قوت مل جاتی ہے کہ وہ تقریباً قطعی کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے،اسی قوی تر دلیل سے فرض عملی کا ثبوت ہوتا ہے۔یہ کلام بحر کی تقریر ہو ئی۔

اقول،وباللّٰہ التوفیق:بل القطع علٰی ثلثۃ اَوجُہٍ:

(۱)قطعٌ عَامٌّ یشترک فیہ الخواص والعوام-وہو الحاصل فی ضروریات الدین(۲)وخاصٌّ یختص بِمَن مَارَسَ العِلمَ وہوالحاصل فی سائرالفرائض الاعتقادیۃ المجمع علیہ۔

(۳)والثالث قطعٌ اَخَصُّ یختلف فی حصولہ العلماء-کما اختلف فی حصول الثانی العوام والعلماء-فربما یؤدی ذہنُ عَالِمٍ اِلٰی قَرَاءِنَ ہَجَمَت وَحَفَّت فَرَفَعَت عندہ الظنی الٰی مَنَصَّۃِ الیقین-وَلَا تَظہَرُ ذٰلِکَ لِغَیرِہ-اَوتَظہَرُ لَہ معارضاتٌ تَرُدُّہَا اِلَی المرتبۃِ الاُولٰی من الظن۔

تنظیرہ بِمَسءَلَۃٍ سَمِعَہَا صَحَابِی مِنَ النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم شفاہًا-وَبَلَغَ غَیرَہ بِاِخبَارِہ فہو قطعیٌّ عندہ ظنیٌّ عندہم-فالمجتہد لا یُثبِتُ الاِفتِرَاضَ اِلَّابِمَا حَصَلَ لَہُ القَطعُ بہ-فان کان العلماء کُلُّہُم قاطعین بہ کَانَ فَرضًا اعتقادیًّا-وان کان قطعًا خَاصًّا بہذا المجتہد،کان فرضًا عَمَلِیًّا)(فتاویٰ رضویہ:جلد اول:ص8-رضا اکیڈمی ممبئ)

 

ترجمہ:اور میں توفیق الٰہی سے کہتا ہوں:بلکہ قطعیت کی تین صورتیں ہیں:(1)عام قطعیت جس میں عوام و خواص سب شریک ہوں۔یہ ضروریاتِ دین میں پائی جاتی ہے۔

 

(2)خاص قطعیت جو علم سے شغف رکھنے والوں کے ساتھ خاص ہے،اور یہ تمام اجماعی فرائضِ اعتقادیہ میں پائی جاتی ہے۔

 

(3)اخص قطعیت جس کے حصول میں علما مختلف ہوتے ہیں، جیسے قسم دوم کے حصول میں عوام اور علما مختلف ہوتے ہیں،پس کبھی ایک عالم کا ذہن کچھ ایسے قرائن کوپا لیتا ہے جو دلیل کے گرد احاطہ و ہجوم کئے ہیں۔وہ قرائن اس عالم کی نظر میں ظنی کوقطعی کے درجہ تک پہنچا دیتے ہیں اور وہ قرائن دوسرے عالم پر ظاہر نہیں ہوتے،یا انہیں کچھ معارضات ظاہر ہوتے ہیں،وہ دلیل ظنی کو اس کی پہلی منزل یعنی ظن کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔

 

اس کی نظیر وہ مسئلہ ہے جس کو کسی صحابی نے خود حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سماعت کیا اور ان کے علاوہ کو ان صحابی کے بتانے سے معلوم ہوتو ان صحابی کے نزدیک وہ قطعی ہے،اور دوسروں کے نزدیک ظنی ہے،پس مجتہد فرضیت کا اثبات اسی دلیل سے کرتا ہے جس کے متعلق اسے قطعیت حاصل ہو چکی ہو،پس اگرتمام علما کو اس کا یقین حاصل ہوتووہ فرض اعتقادی ہے، اور اگر وہ یقین اسی مجتہد کے ساتھ خاص ہے تو وہ فرض عملی ہے۔

 

(1)منقولہ بالا عبارت میں جس کو قطعی عام کا نام دیا گیا، وہ قطعی بالمعنی الاخص ہے۔

دلیل قطعی بالمعنی الاخص سے فرض قطعی کا ثبوت ہوگا،یعنی وہ دلیل قطعی الثبوت بالمعنی الاخص اورقطعی الدلالت بالمعنی الاخص ہو۔ مفسر ومحکم قطعی الدلالت بالمعنی الاخص ہیں۔ متواتر لفظی قطعی الثبوت بالمعنی الاخص ہے۔

 

(2)منقولہ بالا اقتباس میں جس کوقطعی خاص کا لقب دیا گیا،وہ قطعی بالمعنی الاعم ہے۔ اس سے فرض اعتقادی کا ثبوت ہوتا ہے۔ظاہرونص قطعی الدلالت بالمعنی الاعم ہیں،اور متواتر معنوی قطعی الثبوت بالمعنی الاعم ہے۔

 

(3)منقولہ بالا عبارت میں جس کو قطعی اخص کہا گیا،اس سے فرض عملی کا ثبوت ہوتا ہے۔ اس کو قطعی مختص کہا جا سکتا ہے،کیوں کہ یہ کسی ایک مجتہد کے ساتھ خاص ہوتا ہے۔یہ دراصل ظنی ہے، گرچہ قرائن کے سبب کسی مجتہد کو اس کا یقین حاصل ہوچکا ہو۔

 

ہر فرض ضروریات دین میں سے نہیں۔فرض اعتقادی وہ ہے کہ کسی مجتہد کوشرعی دلائل کی روشنی میں کسی امر کا یقین حاصل ہوا،پھر تمام مجتہدین نے اس پر اتفاق کیا،پس وہ فرض اعتقادی ہے۔فرض اعتقادی ضروریات دین میں شامل نہیں ہوتا،کیوں کہ اس کی فرضیت حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ منقول نہیں ہوتی،بلکہ مجتہد ین کے اتفاق سے اس کی فرضیت کا ظہورہوتاہے۔اگر اس کی فرضیت حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ منقول ہوتی توکسی مجتہدکی تلاش وتتبع کے بعد اس پر یقین اور پھر دیگر مجتہدین کے اس پراتفاق کا کوئی معنی نہیں ہوتا، کیوں کہ ضروری دینی پرخواص وعوام سب کا اتفاق ہی ہوتا ہے۔خاص طورپر مجتہدین کے اتفاق کی ضرورت نہیں۔

 

امام اہل سنت قدس سرہ العزیزنے اسی بحث میں منقولہ بالاعبارت سے قبل تواترکے ساتھ منقول فرض کے لیے ”فرض قطعی“کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔فرض قطعی ضروریات دین میں سے ہے اورفرض اعتقادی ضروریات اہل سنت میں سے ہے،کیوں کہ فرض اعتقادی کا ثبوت قطعی بالمعنی الاعم دلیل سے ہوتاہے۔فرض عملی نہ ضروریات دین میں سے ہے،نہ ہی ضروریات اہل سنت میں سے۔

 

امام اہل سنت قدس سرہ العزیزنے رقم فرمایا:(ولیس اکفار جاحد الفرض لازمًا لہ-وانما ہوحکم الفرض القطعی المعلوم من الدین بالضرورۃ)

(حاشیہ فتاویٰ رضویہ:جلد اول:ص247:جامعہ نظامیہ لاہور)

 

ترجمہ: فرض کے منکر کی تکفیرہرفرض کے لیے لازم نہیں، اوریہ حکم اس فرض قطعی کا ہے جو ضروریات دین میں سے ہو۔

 

ہر فرض کی یہ لازمی صفت نہیں کہ اس کے منکر کی تکفیر کی جائے،بلکہ صرف فرض قطعی کے منکر کوکافر قراردیا جائے گا،کیوں کہ فرض قطعی ضروریات دین میں سے ہے۔فرض اعتقادی وفرض عملی ضروریات دین سے نہیں۔فقہائے کرام کے یہاں فرض اعتقادی کے منکر کی بھی تکفیر فقہی ہوگی،لیکن منقولہ بالا اقتباس میں تکفیر کلامی کا ذکر ہے کہ تکفیر کلامی صرف فرض قطعی کے انکار پر ہوتی ہے۔

 

 

دونوں ضروریات میں فرق کیسے کیا جائے؟

 

جوامردینی حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے متواتر ہو،وہ ضروریات دین (قسم اول)میں ہوگا،اور جو متواتر نہ ہو،بلکہ قطعی بالمعنی الاعم دلائل سے بطریق نظرواستدلال ثابت ہو،وہ ضروریات دین کی قسم دوم(ضروریات اہل سنت) میں ہوگا۔

 

فرض اعتقادی ضروریات اہل سنت میں شامل ہے۔فرض قطعی ضروریات دین میں سے ہے۔فرض عملی دونوں سے خارج۔کبھی فرض قطعی کو فرض اعتقادی کہہ دیا جاتا ہے۔

 

الحاصل مرقومہ بالا بحث سے یہ واضح ہوگیا کہ مفسر ومحکم میں ایک متعین معنی کے علاوہ دیگر معانی کا احتمال بالکل نہیں ہوتا،اور اس بحث میں اتنا ہی مقصود ہے۔

 

طارق انور مصباحی

 

جاری کردہ:22: جنوری 2022