مبسملاوحامدا::ومصلیا ومسلما

حوالہ دکھاؤ!ایک لاکھ انعام پاؤ!

 

اہل سنت وجماعت میں پھیلے ہوئے بعض غلط نظریات کو دور کرنے کے واسطے یہ تحریر مرقوم ہوئی۔نہ ہم اکابر ین میں سے ہیں، اور عمر بھی چالیس کی سرحد عبورکرچکی ہے، لہٰذا اصاغر ین بھی ہمیں اپنے دائرہ میں قبول نہیں کرتے، پس ہم لوگ بین السطور ہیں اور چاہتے ہیں کہ اکابرعلمائے کرام کی موجود گی میں اہم داخلی معاملات حل ہوجائیں۔اس کے واسطے اللہ ورسول (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)سے مددکے طلب گار ہیں۔گرچہ داخلی معاملات کا حل ہونابظاہرمشکل معلوم ہوتا ہے،لیکن:السعی منی والاتمام من اللّٰہ تعالٰی

 

کوشش تو کی ہے سیر کروں کوہ طور کی

 

یارب دعا قبول ہو بین السطور کی

 

(1)حوالہ دکھانے پر انعام کا اعلان

 

اسماعیل دہلوی کی تکفیر تقویۃ الایمان کی بحث شفاعت کی عبارتوں پر ہوئی ہے۔اگر کوئی شخص معتمدومستند حوالوں سے یہ ثابت کردے کہ29:ربیع الثانی 1240 ھ میں وقوع پذیر جامع مسجد(دہلی) کے مناظرہ میں حضرت علامہ خیر آبادی قدس سرہ العزیز شریک تھے، اور تقویۃ الایمان کی بحث شفاعت کی عبارتوں پر مباحثہ ہوا تھاتو میں اسے ایک لاکھ روپے بطورتحفہ پیش کر وں گا۔ معتمد ومستندحوالوں میں صریح لفظو ں میں مرقوم ہونا چاہئے کہ جامع مسجد(دہلی)کے مباحثہ میں حضرت علامہ خیرآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان شریک وحاضر تھے، اوراس مجلس میں تقویۃ الایمان کی بحث شفاعت کی عبارتوں پر مباحثہ ہوا تھا۔

 

قیاس آرائی قبول نہیں کی جائے گی،بلکہ صراحت چاہئے۔ تاریخ گڑھنے والے مؤرخین مثلاً غلام رسول مہر وغیرہ کا حوالہ ناقابل قبول ہوگا۔اسی طر ح عہد خیرآبادی کے بعد کے مؤرخین بلا حوالہ کچھ لکھ دیں تووہ بھی ناقابل قبول ہوگا۔تکفیر کلامی کے مسئلہ میں ضعیف وغیر معتبر حکایات کے سبب کوئی نظریہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔باب فضائل اورباب عقائدکے اصول وضوابط جداگانہ ہیں۔افواہی خبریں تو باب فضائل میں بھی مقبول نہیں۔

 

وہابی ودیوبندی تاریخ نویسوں اور تذکرہ نگاروں نے اسماعیل دہلوی اور سرسید احمد رائے بریلوی واکابر دیوبند وغیرہم کی بے سروپا حکایتوں سے اوراق تاریخ سیاہ کیے ہیں۔

 

(2)ایک افواہی خبراور برادران اہل سنت کی تشویش

(الف)یہ ایک افواہی خبر ہے کہ حضرت علامہ خیر آبادی قدس سرہ العزیز جامع مسجد (دہلی)کے مباحثہ میں شریک تھے۔ اسی افواہی خبر کی بنیاد پر یہ کہا گیاکہ اسماعیل دہلوی کے ساتھ مناظرہ ومباحثہ کے سبب حضرت علامہ خیرآبادی قدس سرہ العزیز کی نظر میں تقویۃ الایما ن کی محتمل عبارتیں کفری معنی میں مفسر ومتعین ہوگئیں، لہٰذا انہوں نے اسماعیل دہلوی کی تکفیرکلامی فرمائی اور امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے لیے تقویۃ الایمان کی عبارتیں محتمل تھیں،لہٰذا آپ نے تکفیر فقہی فر مائی۔ایک افواہی خبر کی بنیادپر ایک نظریہ وجود میں آگیا۔

 

اب یہ سوال ہوگا کہ تکفیر کلامی سے اختلاف کی گنجائش ہے یانہیں؟ پس تکفیر کلامی سے اختلاف کی چندصورتیں بھی بیان کردی گئیں۔اسی طرح ”من شک فی کفرہ فقد کفر“کی بھی ایک نئی تشریح وضع کر لی گئی،نیز آمد اسلام کے چودہ صدیوں بعد ”مفسر“کی بھی ایک نئی تعریف وضع کر لی گئی۔

 

کج خیالوں نے دیکھا کہ جب تکفیرکلامی سے اختلاف کی گنجائش ہے تو وہ اشخاص اربعہ کی تکفیر کلامی سے اختلاف کرنے لگے اور تاویلات باطلہ پیش کرنے لگے۔ اس طر ح ایک افواہی خبر کی بنیاد پراہل سنت وجماعت میں اعتقاد ی اختلاف کو راہ مل گئی۔ اس نظریہ کے حاملین اصحاب علم وفضل ہیں،پس عوام کوبھی شبہہ ہوگیا۔

 

(ب)بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اسماعیل دہلوی نے دہلی جامع مسجد میں تقویۃ الایمان کی عبارتوں کی تاویل تھی، جس کے سبب حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمۃ والرضوان کی نظر میں تقویۃ الایمان کی عبارتیں کفری معنی میں متعین ہوگئیں،لہٰذا آپ نے تکفیر کلامی فرمائی،اور امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کو وہ تاویلات خبر واحد سے موصول ہوئیں،لہٰذا آپ نے تکفیر فقہی فرمائی۔سوال ہے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیزنے تاویل کے موصول ہونے کا کہاں ذکر فرمایا ہے؟وہ کیا تاویل تھی؟ کوئی ایک تاویل پیش کی جائے۔ اگریہ دعویداروں کا محض ذاتی خیال ہے تو ایسے خیالات سے مذہبی مسائل حل نہیں ہوتے۔

 

(ج)بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت علامہ خیرآبادی قدس سرہ العزیز سے مناظرہ کے وقت اسماعیل دہلوی نے سکوت اختیار کیا،لہٰذادہلوی کے سکوت کے سبب تقویۃ الایمان کی محتمل عبارتیں علامہ خیرآبادی کی نظرمیں کفری معنی میں مفسر ومتعین ہوگئیں، پس علامہ خیر آبادی نے تکفیر کلامی فرمائی، اور اسماعیل دہلوی کے عاحز وساکت ہونے کی خبر امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کو تواتر کے ساتھ نہیں ملی،لہٰذا آپ نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی فرمائی۔

 

مذکورہ خیال بھی باطل ہے۔ قائل کے ساکت وعاجز ہونے کے سبب محتمل کلام کفری معنی میں متعین ومفسر نہیں ہوتا۔ سکوت وخموشی متکلمین کے یہاں بیان قطعی نہیں۔ محتمل کلام بیان قطعی سے مفسر ومتعین ہوتا ہے۔البر کات (رسالہ دہم:باب سوم)میں تفصیل مرقوم ہے۔

 

امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان نے رقم فرمایا:”مباحثہ میں لوگ یہ شرط کرلیتے ہیں کہ جو ساکت ہوجائے گا، وہ دوسرے کا مذہب اختیار کرلے گا۔ یہ سخت حرام اوراشد حماقت ہے۔ہم اگر کسی سے لاجواب بھی ہوجائیں تو مذہب پر کوئی الزام نہیں کہ ہمارے مقدس مذہب کا مدار ہم پر نہیں۔ ہم انسان ہیں،اس وقت جواب خیال میں نہ آیا“۔

(الملفوظ:حصہ اول:ص 99- رضوی کتاب گھر دہلی)

 

کبھی جواب ذہن میں نہ آنے کے سبب بھی سکوت ہوتا ہے۔ کبھی مناظر کی ہیبت وشوکت کے سبب سکوت ہوتا ہے۔کبھی ناراضگی کے سبب سکوت ہوتا ہے۔متکلمین کے یہاں سکوت بیان قطعی کی منزل میں نہیں۔ تکفیر کلامی اسی وقت ہوتی ہے،جب کلام فی نفسہ وفی حدذاتہ کفری معنی میں متعین ومفسر ہو، یا متکلم کے بیان قطعی سے مفسر ومتعین ہوجائے۔

 

 

(3)سات امور کی جانب توجہ لازم

 

مسئلہ حاضرہ میں مندرجہ ذیل سات امورانتہائی لائق توجہ وقابل غوروفکر ہیں۔

 

(الف)حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی قدس سرہ العزیز دہلی جامع مسجد مناظرہ میں شریک نہیں تھے۔شرکت کا دعویٰ کسی مستند حوالہ سے ثابت نہیں۔

 

(ب)جامع مسجد میں تقویۃ الایمان کی بحث شفاعت کی عبارتوں سے متعلق مباحثہ نہیں ہواتھا، بلکہ اسماعیل دہلوی اور عبد الحئ بڈھانوی اپنے وعظ میں معمولات اہل سنت وجماعت کو شرک وبدعت کہتے تھے،اور علمائے اہل سنت کو مناظرہ کی دعوت دیتے تھے،لہٰذا ان امور سے متعلق چودہ سوالات تیارکرکے مذہب اہل سنت وجماعت کے مطابق ان کے جوابا ت حضرت علامہ رشید الدین خاں دہلوی نے رقم فرمائے، جس پر علامہ خیرآبادی کابھی دستخط تھا۔بڈھانوی سے اس جواب نامے پر تصدیق طلب کی گئی۔اس نے تصدیق سے انکار کیا،تب ان چودہ امورسے متعلق دہلی جامع مسجد میں عبد الحئ بڈھانوی سے مباحثہ ہوا۔

عبد الحئ بڈھانوی (م1243ھ)شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کا داماد تھا اور اسماعیل دہلوی ان کابھتیجہ تھا۔

 

دہلوی ابتدائی مرحلہ میں شریک مجلس ضرور تھا،لیکن مباحثہ بڈھانوی سے ہورہاتھا۔دہلوی کو روکا گیا کہ آپ کی بھی تصدیق مطلوب ہے،لیکن وہ جلد ہی ناراض ہوکر مجلس سے نکل بھا گا۔نہ دہلوی نے مباحثہ کیا،نہ ہی علامہ خیر آبادی شریک مجلس تھے،نہ ہی تقویۃ الایمان کی بحث شفاعت کی عبارت زیر بحث تھی،جس پردہلوی کی تکفیرہوئی،لیکن اہل سنت وجماعت کے درمیان افواہی خبروں کے سبب ایک غلط نظریہ پھیل گیا۔

 

ابوالحسن زید فاروقی دہلوی نے لکھا کہ جامع مسجد مباحثہ کے بعد اسماعیل دہلوی نے ان چودہ سوالوں کا تحریر ی جواب لکھا تھا۔ زیدفاروقی نے چودہ سوالات اور دہلوی کے جوابات کو اپنی کتاب ”اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان“کے اخیرمیں نقل کیا ہے۔ اصل سوال وجواب فارسی میں ہیں۔فاروقی نے سوالات وجوابات کاترجمہ بھی لکھ دیا ہے۔

 

(1)ابوالحسن زیدفاروقی نے لکھا:”یہ سوال وجواب ”رسالہ چہاردہ مسائل“کے نام سے مشتہر ہوا“۔(اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان:ص48-شیرربانی پبلی کیشنز لاہور)

 

(2)”میرے پاس یہ رسالہ ”چہاردہ مسائل“اسی زمانے کا لکھا ہوا محفوظ ہے“۔

(اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان:ص48-شیرربانی پبلی کیشنز لاہور)

 

(3)چودہ سوالات وجوابات فارسی میں ہیں۔ جواب کے اخیر میں ہے:”تمام شد جواب چہاردہ مسائل کہ خان صاحب مولوی رشیدالدین خان صاحب ازمولوی اسماعیل استفسار نمودہ بود“۔(اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان:ص108-شیرربانی پبلی کیشنز لاہور)

 

(ج)اسماعیل دہلوی مباحثہ میں خاموش تھا۔وہ شروع سے ہی نکل جانا چاہتا تھا، لیکن علمائے اہل سنت کے کہنے پر کچھ دیر رک گیا، پھر وہ مباحثہ کے درمیان ہی مسجد سے نکل بھا گا۔مذکورہ چودہ سوالوں سے متعلق اس نے کچھ جواب نہیں دیا۔وہ خاموش بیٹھاتھا۔

 

(د)یہ مباحثہ حضرت علامہ رشید الدین خاں دہلوی علیہ الرحمۃوالرضوان اور عبد الحئ بڈھانوی کے درمیان ہوا تھا۔بڈھانوی نے مباحثہ میں اکثر سوالوں کا جواب اہل سنت وجماعت کے موافق دیا تھا۔ بعدمیں اپنے باطل نظریات ہی پر قائم رہا۔

 

(ہ)جامع مسجد(دہلی) کے مبا حثہ کے وقت تک تقویۃ الایمان کی اشاعت نہیں ہوئی تھی، نہ ہی چودہ سوالات میں تقویۃ الایمان کا تذکرہ تھا۔حضرت علامہ فضل رسول بدایونی قدس سرہ العزیز نے ان امور کا تذکرہ فرمایا ہے جن سے متعلق مباحثہ ہواتھا۔

 

(و)علامہ خیرآبادی قدس سرہ العزیز نے 18:رمضان المبارک 1240مطابق 05:lمئی 1825کو دہلوی کی تکفیرتحقیق الفتویٰ میں کی تھی اور جامع مسجد کا مناظرہ قریباً پانچ ماہ قبل 29:ربیع الثانی 1240کو ہوا تھا۔

 

اگرجامع مسجد مباحثہ میں اسماعیل دہلوی کی عبارتیں کفری معنی میں متعین ومفسر ہوجاتیں توتکفیر میں پانچ ماہ تاخیر کی نوبت نہیں آتی۔

 

(ز)حضرت علامہ فضل رسول بدایونی قدس سرہ العزیزنے سیف الجبار میں رقم فرمایا کہ حضرت علامہ خیر آبادی نے اسماعیل دہلوی کے روبرو اس کا رد وابطال کیا اور تکفیر کی، نوبت تحریرکی آئی۔ لفظ ”روبرو“ سے بعض لوگوں نے سمجھا کہ علامہ خیرآبادی نے جامع مسجد مباحثہ ہی میں دہلوی کی تکفیر فرمادی تھی،حالاں کہ تکفیر پانچ ماہ بعد ”تحقیق الفتویٰ“میں کی گئی۔

 

مذکورہ امور کی تفصیل ہم نے”البرکات النبویہ“(رسالہ دہم:باب اول وباب دوم) میں رقم کردی ہے۔ان شاء اللہ تعالیٰ جلدہی ایک تفصیلی مضمون بھی رقم کردوں گا۔

 

جب لفظ کا حقیقی معنی متعذر ہو تو اس کا مجازی معنی مراد ہوتا ہے۔”روبرو“کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت علامہ خیر آبادی نے دہلی ہی میں اسماعیل دہلوی کی حیات وموجودگی میں اس کا ردوابطال فرمایا اور تحقیق الفتویٰ میں اس کی تکفیر کی۔ علمائے دہلی سے اس پر تصدیق لکھوائی۔

 

 

(4)خیرآبادیات کے مشہور محقق

 

خیرآبادیات کے مشہور محقق ڈاکٹر اسید الحق بدایونی کی اپنی وفات سے چند روز قبل جامعہ سعدیہ (کاسرگوڈ:کیرلا) کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے واسطے آمد ہوئی تھی۔

میں نے حضرت مفتی اشفاق احمد مصباحی (صدر شعبہ احناف:جامعہ سعدیہ کیرلا) کی موجودگی میں ڈاکٹرموصوف سے دریافت کیا تھا کہ جامع مسجد (دہلی)کے مناظرہ میں حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی قدس سرہ العزیز شریک تھے یا نہیں؟موصوف نے جواب دیا تھا کہ تاریخی روایات میں حضرت علامہ خیر آبادی کی شرکت کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔

 

 

(5)معتبر کتابو ں میں شرکت کا ذکر نہیں

 

حضرت علامہ فضل رسول بدایونی قدس سرہ العزیز نے جامع مسجد(دہلی)کے مناظرہ اورتحقیق الفتویٰ کاذکر سیف الجبا ر (ص:100-تاج الفحول اکیڈمی بدایوں)، الفوز المبین(ص:67-تاج الفحول اکیڈمی بدایوں)،بوارق محمدیہ (مترجم: ص 53-52 تاج الفحول اکیڈمی بدایوں -فارسی نسخہ:ص20)میں کیا۔کہیں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ حضرت علامہ خیر آبادی علیہ الرحمۃوالرضوان جامع مسجد(دہلی) کے مباحثہ میں شریک تھے۔

 

بوارق محمدیہ کی عبارت سے واضح ہے کہ مناظرہ کے بعد حضرت علامہ خیرآبادی قدس سرہ العزیزنے اسماعیل دہلوی کاتحریری رد وابطال فر مایا،جب ایک سائل نے تقویۃ الایمان، بحث شفاعت کی عبارت پیش کرکے چند سوالات کیے۔جامع مسجد میں مباحثہ علامہ رشید الدین خاں نے کیا تھا، اور چودہ سوالوں کے جوابات بھی آپ نے ہی تحریر فرمائے تھے۔

 

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے ”انوار آفتاب صداقت“کی سماعت فرمائی ہے۔ اس میں بھی جامع مسجدکے مباحثہ میں حضرت علامہ خیر آبادی علیہ الرحمۃ والرضوا ن کی شرکت کا ذکر نہیں۔ (انوار آفتاب صداقت:ص 514-کتب خانہ سمنانی میرٹھ)

 

وہابی تذکرہ نگارسیف خالدنے بھی لکھا کہ جامع مسجد(دہلی)کا مناظرہ علامہ رشید الدین خاں دہلوی نے فرمایا تھا۔(تذکرہ شہید:ص234 -کمر شیل نیوزپرنٹنگ پریس فیصل آباد)

 

 

(6)مناظرہ کے بعد علامہ خیر آبادی کی پیش قدمی

 

دہلی جامع مسجد کے مناظرہ کے بعد ایک سائل نے تقویۃ الایمان کی بحث شفاعت کی عبارتیں نقل کرکے حضرت علامہ خیر آبادی قدس سرہ العزیز سے تین سوال کیا۔

 

حضرت علامہ خیرآبادی قد س سرہ العزیز نے دہلوی سے استفسار کے لیے بحث شفاعت کی عبارتوں سے متعلق فارسی زبان میں چندسوالات رقم فرمائے جو”تقریر اعتراضا ت بر تقویۃ الایمان“کے نام سے مشہور ہے۔اسماعیل دہلوی نے رسالہ: ”یک روزی“ میں ان سوالوں کا جواب دیا۔تاریخوں میں صرف اسی تحریری مباحثے کا ذکر ہے۔

 

علامہ خیرآبادی واسماعیل دہلوی کے مابین کسی زبانی مباحثے کا ذکر نہیں ملتا۔ تکفیر دہلوی کے بعد سرحدی علاقوں کے علما ئے اہل سنت وجماعت نے دہلوی سے اس کے غلط عقائدسے متعلق مباحثہ کیا تھا۔

رسالہ یک روزی میں دہلوی نے رب تعالیٰ کے لیے امکان کذب تسلیم کیا اورامکان وقوعی کا صریح انکار کردیا۔اسی طرح حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لیے امکان نظیر تسلیم کیا اور امکان وقوعی کا صریح انکار کردیا۔مذکورہ دونوں مسئلوں میں امکان وقوعی کے انکار کے سبب اس پر کفر کلامی کا حکم عائد نہیں ہوسکتا۔ علامہ خیرآبادی نے حضوراقدس سرور دوجہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان اقدس میں بے ادبی کے سبب اسماعیل دہلوی کی تکفیر کی ہے، اور بحث شفاعت کی عبارتوں میں تنقیص نبوی مفسر ومتعین نہیں،بلکہ محتمل ہے۔

 

 

(7)عہد ماضی کے کفارفقہی اور متکلمین

 

تقویۃ الایمان کی بحث شفاعت کی عبارت تنقیص شان نبوی میں مفسر ومتعین نہیں، نہ ہی تنقیص شان نبوت سے متعلق علامہ خیر آبادی قدس سرہ العزیز نے اسماعیل دہلوی سے کوئی سوال فرمایا تھا کہ وہ جواب دیتا، لہٰذا مباحثہ ومناظرہ اور قرائن کے ذریعہ تقویۃ الایمان کی بحث شفاعت کی عبارت کے کفری معنی میں متعین ومفسر ہونے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

 

قرینہ قطعیہ بھی قطعیت بالمعنی الاخص کا افادہ نہیں کرتا،پس قرینہ قطعیہ کے سبب کسی کلام کا کفری معنی میں متعین ومفسر ہونے کا قول بھی بے بنیاد ہے۔

 

عہد ماضی کے تمام کافر فقہی کو متکلمین گمراہ کہتے ہیں،کیوں کہ کفر فقہی کو متکلمین ضلالت سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ فقہاومتکلمین کا لفظی وتعبیری اختلاف ہے۔قرآن مجید کو مخلوق ماننے کے سبب معتزلہ،جہمیہ وغیرہ کی تکفیر فقہی کی گئی۔ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز باب تکفیر میں مذہب متکلمین پر تھے،لہٰذا آپ نے خلق قرآن کے قائلین کی تکفیر نہیں فرمائی، یعنی تکفیر کلامی نہیں فرمائی،نہ ہی وہ لوگ کافر کلامی ہیں، بلکہ کافر فقہی ہیں۔

 

فتاویٰ ہندیہ میں مرقوم ہے:(من قال بخلق القرآن فہو کافر،کذا فی الفصول العمادیۃ)(فتاویٰ عالمگیری)

 

تر جمہ:جوقرآن مجید کو مخلوق کہے،وہ کافر ہے۔ایساہی فصول عمادیہ میں ہے۔

 

امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے حاشیہ میں رقم فرمایا:

(قولہ:من قال بخلق القرآن فہوکافر)والصحیح لا)

(التعلیقات الرضویۃ علی الفتاوی الہندیہ:ص 57-صدیقی پبلشرز کراچی)

 

تر جمہ: مؤلف کا قول:جوقرآن مجید کو مخلوق کہے،وہ کافر ہے،اور صحیح یہ ہے کہ وہ کافر نہیں۔

 

امام اہل سنت علیہ الرحمۃوالرضوان نے متکلمین کا مذہب بیان فرمایا اور فتاویٰ ہندیہ نے فقہائے کرام کا مذہب بیان فرمایا۔ متکلمین کافرفقہی کواپنی اصطلاح میں گمراہ کہتے ہیں، اور فقہائے کرام کی طرف نسبت کرتے ہوئے ملزم کوکافر فقہی، بحکم فقہا کافر یاعند الفقہا کافر کہتے ہیں، جیسا کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیزنے الکو کبۃ الشہابیہ اور سل السیوف الہندیہ میں اسماعیل دہلوی کو کافر فقہی قرار دیا۔وہ کافر کلامی نہیں تھا،پس تکفیر کلامی نہیں فرمائی۔

 

 

(8)کافر فقہی کے لیے ”من شک“ کا استعمال

 

خلق قرآن کے قائلین کے واسطے تیسری صدہجری میں ائمہ مجتہدین وائمہ محدثین نے ”من شک فی کفرہ فقد کفر“کا اصول استعمال فرمایا ہے۔ بارہ حوالے ہم نے مناظراتی مباحث اورعقائدونظریات، ضروریات دین اور عہد حاضر کے منکرین (دفتر اول) اور اعلامیہ (2021)میں نقل کیے ہیں۔امام اہل سنت قدس سرہ العزیز انہیں لوگوں کے بارے میں فرمار ہے ہیں کہ ان کی عدم تکفیر صحیح ہے،یعنی صحیح یہ ہے کہ مذہب متکلمین پر ان کی تکفیرنہیں ہوگی۔عہدماضی کے تمام کافر فقہی افراد وجماعات کو متکلمین گمراہ کہتے ہیں،حالاں کہ ان میں سے خلق قرآن کے قائلین اور عہد ماضی کے تبرائی روافض کی تکفیرمیں فقہائے کرام نے ”من شک“ کا اصول بھی استعمال فرمایا ہے۔عہدماضی کے تبرائی روافض،معتزلہ، جہمیہ وغیرہ کافر فقہی ہیں اور عہد حاضر کے تبرائی روافض ضروریات دین کے انکار کے سبب کافر کلامی ہیں۔

 

 

(9)ہر مشہور بات صحیح نہیں ہوتی

 

(1)بعض باتیں مشہور ہوتی ہیں،لیکن غلط ہوتی ہیں،جیسے نصاریٰ کے درمیان مشہور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃوالسلام کو سولی دی گئی ہے، حالاں کہ یہ بالکل غلط ہے۔

 

ارشاد الٰہی ہے:(وما قتلوہ وما صلبوہ)(سورہ نساء: آیت 157)

 

(2)کبھی کسی کی جانب کوئی قول منسوب ہوجاتاہے اور بہت سی کتابوں میں نقل ہو جاتا ہے۔احادیث موضوعہ بھی اسی قبیل سے ہے۔وہ احادیث نبویہ نہیں ہیں۔

 

حضرت عبد العزیز دباغ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کسی امام کی طرف منسوب کسی مسئلہ کا ایک یاایک ہزار کتاب میں پایا جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ انہیں کا قول ہے۔

 

(قد قال القاضی ابوبکر الباقلانی فی کتاب الانتصار ما معناہ:ان وجود مسئلۃ فی کتاب او فی الف کتاب منسوبۃ الی امام لا یدل علٰی انہ قالہا حتی تنقل عنہ نقلا متواترا یستوی فیہ الطرفان والواسطۃ)

(الابریز من کلام سیدی عبدالعزیزالدباغ:ص420-دارالکتب العلمیہ بیروت)

 

ترجمہ:قاضی ابو بکر باقلانی نے کتاب انتصار میں فرمایا ہے جس کا مفہوم ہے کہ ایک کتاب یا ایک ہزار کتاب میں کسی امام کی طرف کسی مسئلہ کا پایا جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ انہوں نے یہ فرمایا ہے،یہاں تک کہ وہ ان سے نقل متواتر کے طور پر منقول ہو،جس میں موضوع ومحمول اوررابطہ یکساں ہو۔

 

(3)فقہی کتابوں میں بھی کبھی کوئی مر جوح وضعیف قول نقل ہوجاتا ہے،پھر دس بیس کتابوں میں بھی وہ قول منقول ہوجاتا ہے،لہٰذا فقہا کوتحقیق واحتیاط کا حکم ہے۔

 

علامہ شامی قدس سرہ نے رقم فرمایا:(وقد رأیت فی فتاوی العلامۃ ابن حجر:

سئل فی شخص یقرأ ویطالع فی الکتب الفقہیۃ بنفسہ ولم یکن لہ شیخ، ویفتی ویعتمد علٰی مطالعتہ فی الکتب-فہل یجوز لہ ذلک ام لا؟

 

فاجاب بقولہ:لایجوزلہ الافتاء بوجہ من الوجوہ-لانہ عامی جاہل لایدری ما یقول؟بل الذی یاخذ العلم عن المشائخ المعتبرین لا یجوز لہ ان یفتی من کتاب ولا من کتابین-بل قال النووی رحمہ اللّٰہ تعالٰی:ولا من عشرۃ فان العشرۃ والعشرین قد یعتمدون کلہم علٰی مقالۃ ضعیفۃ فی المذہب فلا یجوز تقلیدہم فیہابخلاف الماہرالذی اخذ العلم عن اہلہ وصارت لہ فیہ ملکۃ نفسانیۃ فانہ یمیز الصحیح من غیرہ ویعلم المسائل وما یتعلق بہا علی الوجہ المعتد بہ-فہذا ہوالذی یفتی الناس ویصلح ان یکون واسطۃ بینہم وبین اللّٰہ تعالٰی-واما غیرہ فیلزمہ اذا تسور ہذا المنصب الشریف التعزیرالبلیغ والزجرالشدید الزاجر ذلک لامثالہ عن ہذا الامرالقبیح الذی یؤدی الٰی مفاسد لا تحصی-واللّٰہ تعالٰی اعلم)

(شرح عقودرسم المفتی: ص11)

 

ترجمہ:میں نے علامہ ابن حجرہیتمی کے فتاویٰ میں دیکھاکہ اس شخص کے بارے میں سوال کیاگیاجوازخودفقہی کتابوں کوپڑھے اور مطالعہ کرے،اوراس کا کوئی شیخ نہ ہو،اوروہ فتویٰ دیتاہو اور اپنے مطالعہ کتب پراعتماد کرتا ہو،پس کیایہ اس کے لیے جائزہے یانہیں؟

 

پس علامہ ابن حجرہیتمی شافعی نے جواب دیا:اس کے لیے کسی طرح فتویٰ دیناجائز نہیں،اس لیے کہ وہ عامی غیرعالم ہے۔اسے معلوم نہیں کہ وہ کیاکہہ رہاہے،بلکہ وہ شخص جو معتبر مشائخ سے علم حاصل کرتا ہے،اس کے لیے بھی ایک یادوکتاب سے فتویٰ دیناجائز نہیں،بلکہ امام نووی نے فرمایاکہ نہ ہی دس کتابوں سے،اس لیے کہ دس اوربیس مؤلفین کبھی اعتماد کرتے ہیں مذہب کے کسی ضعیف قول پر،پس ان کی تقلیدجائزنہیں ہے۔

 

برخلاف ماہر کے جس نے قابل استاذسے علم حاصل کیا،اوراسے اس بارے میں ذاتی ملکہ ہوگیا،پس وہ صحیح اورغیرصحیح کی تمیز کرلیتاہے اورمسائل کواوراس کے متعلقات کو قابل اعتماد طریقے پرجانتاہے،پس یہ وہ ہے جولوگوں کو فتویٰ دے گا،اوراللہ تعالیٰ اورمومنین کے درمیان واسطہ ہونے کے لائق ہے،لیکن اس کے علاوہ شخص جب اس بزرگ منصب پر آجائے توزبردست تعزیر اورشدیدزجر لازم ہے جوان کے مماثلین کواس امرقبیح سے روکنے والا ہوجوبے شمارمفاسدتک پہنچانے والاہو۔

 

(4)نماز میں الصاق کعبین کی روایت زاہدی نے لکھی،پھر دیگر حنفی کتب فقہ میں اس کی نقل ہوگئی۔زاہدی غزمینی:ابوالرجاء مختار بن محمودبن محمد(م 658ھ)نے المجتبیٰ شرح القدوری،الحاوی للفتاویٰ، القنیۃالمنیۃ لتتمیم الغنیہ ودیگرکتب لکھیں۔ الملفوظ میں ہے:

 

عرض: در مختار،کبیری وصغیری وغیرہ میں لکھا ہے کہ رکوع میں دونوں ٹخنوں کوملانا سنت ہے۔

 

ارشاد: لم یثبت۔کہیں ثابت نہیں۔دس بارہ کتابوں میں یہ مسئلہ لکھا ہے، او رسب کا منتہیٰ زاہدی ہے۔(الملفوظ:جلدچہارم:ص 368-رضوی کتاب گھر دہلی)

 

وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم::والصلوٰۃوالسلام علیٰ حبیبہ الکریم::واصحابہ وآلہ العظیم

 

طارق انور مصباحی

 

جاری کردہ:13:فروری 2022=شب:دو شنبہ

٭٭٭٭٭