مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

قوم مسلم کی سیاسی رہبری اور اہل سنت وجماعت

 

پہلی جنگ آزادی 1857سے آج تک علمائے اہل سنت وجماعت قوم مسلم کی سیاسی رہبری کرتے رہے ہیں۔1857 کی جنگ آزادی کے روح رواں حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی قدس سرہ العزیز تھے۔حضرت علامہ خیر آبادی نے بعض مواقع پر جنگ آزادی میں سپہ سالاری کے فرائض بھی انجام دیئے تھے۔

 

پہلی جنگ آزادی کو جنگ غدر بھی کہا جاتا ہے۔اس میں بے شمار علمائے اہل سنت وجماعت کو شہید کر دیا گیا۔بادشاہ دہلی سمیت بہت سے علما کو قید وبند میں ڈال دیا گیا۔

 

ایک مدت بعداپر کاسٹ ہندؤں نے 28:دسمبر 1885 کو انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھی۔کانگریس کے خفیہ مقاصد کے پیش نظر سر احمد خاں(بانی:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)نے 27:دسمبر 1886 کو محمڈن ایجوکیشنل کانفرنںس کی بنیاد رکھی۔سرسید نے دو قومی نظریہ کی تشہیر کی تھی۔

 

 

بیسویں صدی کے دوسرے عشرہ میں مسلمانوں کے درمیان دو قسم کے سیاسی افکار ونظریات منظر عام پر آئے۔

 

(1)امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز نے دو قومی نظریہ کو اپنایا۔

 

(2)علامہ عبد الباری فرنگی محلی قدس سرہ العزیز نے قوم ہنود اور کانگریس سے اتحاد کی راہ اختیار کی۔انہوں نے ہی جمعیۃ العلما قائم کی۔بعد میں دیوبندیوں نے جمعیۃ العلما پر قبضہ جما لیا۔جمعیۃ العلما نے متحدہ قومیت کا نظریہ پیش کیا اور آج تک اسی نظریہ پر قائم ہے اور اپنے وجود کے وقت ہی سے کانگریس کی حامی وطرفدار ہے۔اب کانگریس شکست وریخت کا شکار ہو چکی ہے۔جمعیۃ العلما بھی دو حصوں میں منقسم ہو چکی ہے۔

 

سر سید احمد خاں نے دو قومی نظریہ کی تشہیر کی تھی۔1998میں سرسید کی موت ہو گئی۔اس کے بعد30:نومبر 1906 کو مسلم لیگ کا قیام ہوا۔مسلم لیگ نے بھی دو قومی نظریہ کو اختیار کیا۔تقسیم ہند کے بعد مسلم لیگ کے اہم کارکنان ولیڈران پاکستان چلے گئے۔بھارت میں کیرلا اور مدراس میں آج بھی مسلم لیگ متحرک وسرگرم عمل ہے۔

 

امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز نے بھی دو قومی نظریہ کو اختیار فرمایا۔آپ کی قائم کردہ تنظیم:جماعت رضائے مصطفے نے مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کرتی رہی۔

 

مارچ 1925میں صدر الافاضل قدس سرہ العزیز نے آل انڈیا سنی کانفرنس قائم کی اور اسی کے پلیٹ فارم سے علمائے اہل سنت وجماعت قوم مسلم کی سیاسی رہنمائی فرماتے رہے۔آزادی ہند کے بعد سنی کانفرنس کو بھارت میں موقوف کر دیا گیا-

 

حضرت صدر الافاضل قدس سرہ العزیز کے بعد حضور مجاہد ملت علیہ الرحمۃ والرضوان قوم مسلم کی سیاسی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔قوم مسلم کی سماجی خدمات انجام دینے کے واسطے آپ نے تحریک خاکساران حق کا قیام فرمایا۔اسی عہد میں حضرت سید مظفر حسین کچھوچھوی بھی مختلف محاذ پر مسلمانوں کی سیاسی رہبری فرماتے رہے۔

 

حضور مجاہد ملت قدس سرہ العزیز کی وفات(23:مارچ 1981)کے بعد سیاسی محاذ پر ایک خلا محسوس ہونے لگا۔علمائے اہل سنت وجماعت کی جانب سے قوم مسلم کی سیاسی رہنمائی کا تسلسل ٹوٹ گیا۔اب اسی مستحکم سلسلہ کے تانے بانے درست کرنے ہیں۔

 

یہ چند سطور بھارت کی طویل سیاسی تاریخ کا خلاصہ ہے۔اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ علمائے اہل سنت وجماعت نے بھارت کی سیاست میں مضبوط کردار ادا فرمایا ہے۔ہمیں بھی اپنے اسلاف کرام کے نقش قدم کی پیروی کرنی چاہئے۔

 

طارق انور مصباحی

 

جاری کردہ:20:اپریل 2022

The failure, and hope, of Muslim politics in India