*پردہ پوشی کا ثواب ۔

پردہ دری کا عذاب* ۔

احادیث مقدسہ کے بیش قدر ذخیرہ مطھرہ میں سے چند ارشادات

قبول و اثر آفرینی کی دعاؤں کے ساتھ ۔

 

رسول الله صلى الله عليه وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان راوی ہیں کہ

رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا

لا تُؤذُوا عبادَ اللهِ ولا تُعيِّروهم ولا تطلُبوا عوراتِهم فإنَّه مَن تطلَّب عورةَ أخيه المسلمِ طلَب اللهُ عورتَه حتَّى يفضَحَه في بيتِه

📗:مسند احمد و

مجمع الزوائد الهيثمي

اللّٰہ کے بندوں کو ایذاء نہ دو ، انہیں عار مت دلاؤ اور ان کی شرم والے معاملات کی طلب میں مت پڑو اس لیئے کہ جو بھی اپنے مسلمان بھائی کی شرم والے امور کی ڈھونڈھ میں لگا ، اللّٰہ اس کے ایسے ہی برے رویوں کی ڈھونڈھ شروع کروا دے گا ، وہ اپنے گھر میں بھی ہوا رسوا کروائے گا ۔

 

حضرت يَعْلَى بنُ أُمَيَّة راوی ہیں کہ

ایک صاحب کھیتوں میں ننگے ہی نہا رہے تھے تو

رسول اللہ صلی اللّٰہ تبارک وتعالی علیہ و علی آلہ واصحابہ وبارک وسلم نے بر سرِ منبر حمد و ثناء کے بعد فرمایا

“إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَل حَلِيمٌ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ، يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ، فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ”

📗 سنن النسائي

مسند أحمد

سنن أبو داود

 

بلا شبہ اللّٰہ عز وجل بہت حلم والا ، بہت حیا دار اور ، پردے ڈالنے والا ہے اور حیا و پردہ پوشی کو پسند رکھتا ہے۔ جو غسل کا ارادہ کرے تو وہ پہلے کچھ پردہ بنا لیا کرے ۔

 

حضرت عقبہ بن عامر سے رسول اللہ صلَّى الله عليْه وسلَّم کا ارشاد مروی ہے

: «مَن رأى عورة فسترها، كان كمَن أحيا موءودة من قبرها»

📗 مسند احمد ، سنن النسائی ، و دیگر کتب

جس نے کوئی باعث شرمندگی ماجرا دیکھا اور اس پر پردہ ڈالا تو یہ زندہ در گور کو نکالنے جیسا ہے ۔

 

حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت شدہ درج ذیل حدیث کا عموم بھی یہی بتاتا ہے

 

– من ستر عورةَ أخيه المسلمِ ستر اللهُ عورتَه يومَ القيامةِ ومن كشف عورةَ أخيه المسلمِ كشف اللهُ عورتَه حتى يفضحَه بها في بيتِه

📗- سنن ابن ماجہ

 

– جس نے اپنے مسلمان بھائی کے قابل شرم رویہ پر پردہ ڈالا ، اللّٰہ بروز قیامت اس کا پردہ رکھے گا اور جس نے اپنے مسلمان بھائی کی پردہ دری کی اللّٰہ اس کا پردہ فاش کرے گا ، اسے اس کے گھر میں ہوتے ہوئے بھی رسوائی میں ڈال دے گا ۔

– جیسی کرنی ویسی بھرنی

 

حضرت أبو بَرْزَةَ الأسلمي اور حضرت البراء بن عازب

رضی اللّٰہ تبارک و تعالٰی عنہما راوی ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے گھروں میں پردہ نشیں عورتوں تک پہنچتی بلند آواز سے فرمایا: ((يا معشرَ مَنْ آمَنَ بلسانه، ولم يدخُل الإيمانُ قلبَه، لا تغتابوا المسلمين، ولا تتَّبِعوا عوراتِهم؛ فإنَّه من تتبَّع عورة أخيه المسلم تتبَّع الله عورتَه، ومَنْ تتبَّع اللهُ عورتَه يفضحه ولو في جوف بيته))؛

📗 مسند احمد

سنن ابی داؤد

 

اے وہ گروہ جو زبان سے ایمان لائے ہو اور تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا ، مسلمانوں کی غیبت سے باز رہو اور ان کے پس پردہ امور کی ٹوہ میں نہ لگو ۔ یہ بدیہی معاملہ ہے کہ جو بھی اپنے مسلمان بھائی کے پس پردہ امور کی جستجو میں لگا اللّٰہ اس کے قابل شرم معاملات کی ٹوہ شروع کروا دے گا اور اسے شرمندہ کروائے گا اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہوا ۔

ابتدائے کلام سے ایسا لگتا ہے کہ یہ تنبیہ منافقین کے بارے میں ہے اور منافقین ایسا کرتے بھی تھے

لیکن اسی ارشاد کا حصہ ” أخيه المسلم” ( اپنے مسلمان بھائی) یہ شعور دیتا ہے کہ یہ وارننگ اہل اسلام کو بھی ہے کیونکہ اللّٰہ تبارک و تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نزدیک منافق و مسلمان کے مابین کوئی اخوت نہیں اور دیگر ارشادات بھی اس کے مؤید ہیں ۔

حضرت أبو هريرة -رضي الله عنه- سے مروی ارشاد النبي صلى الله عليه وسلم ہے -: “لا يستُر عبدٌ عبدًا في الدنيا إلا سترَه الله يوم القيامة”

📗صحيح مسلم

 

جو بندہ دنیا میں دوسرے بندے کی پردہ پوشی کرے گا ، اللّٰہ بروز قیامت اس کی پردہ پوشی کرے گا ۔

 

🖋️یہاں قدرے یہ وضاحت ضروری محسوس ہو رہی ہے کہ یہاں پردہ پوشی سے مراد یہ نہیں کہ بالکل ہی خاموش رہے بلکہ یہ کہ اسے کوٹھوں نہ چڑھائے اور آج کل کے مطابق سوشل میڈیا پر نہ ڈالے کہ یہ بے حیائی کو مزید پھیلانے کے مترادف ہے بلکہ اسے اس جرم سے باز رکھنے کی وہ تمام شرعی مساعی اور تدابیر کرے جو اسے اس سے تائب کر دیں ۔

✒️ فقیر خالد محمود

معارف القرآن کشمیر کالونی کراچی

Roznama Dunya: خصوصی ایڈیشن :- پردہ پوشی : اعلیٰ ایمانی وصف