کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر فصیح العصر میرزا امجد رازی اور دعوت اسلامی کے بعض محبین کے درمیان تنازعہ چل رہا تھا ، جس نے ماحول پراگندہ بنا رکھا تھا ۔

جب یہ تنازع حد سے بڑھا تو ہم نے سوچا کہ کیوں نہ رازی صاحب سے ملاقات کرکے ” لسانی خانہ جنگی ” کی اس آگ کو سرد کیاجائے ۔

تو کل یہ عاجز اور مولانا سجاد مدنی زید شرفہ مع چند رفقا رازیؔ صاحب کے گھر اُن سے ملاقات کرنے پہنچے ۔
رازی صاحب نے علیل ہونے کے باجود مروت و وضع داری کا پورا پورا لحاظ کیا اور اپنے مہمانوں کا خوب اکرام کیا ۔

دورانِ گفتگو متعلقہ موضوع پر طویل بات چیت ہوئی اور ان کے شکوے شکایتیں بھی سنیں جن کا خلاصہ یہ تھا:

” میرے اس طرح رد و کد کی وجہ بعض اسلامی بھائیوں کی شدتِ بے جا ہے ، آپ ہی بتائیں کہ اگر میں نے امیرِ اہل‌سنت کے کلام پر فنی نقد کر ہی دیا تو کیا کفر و فسق ہوگیا کہ‌ مجھے قادیانی ، رافضی اور جہنم کا مستحق کہا جانے لگا ؟؟!!
حکمِ شرع تو یہ ہے کہ اگر تم کسی کو کافر کہتے ہو اور وہ کافر نہیں ہوتا تو کفر تمھاری طرف لوٹ آتا ہے ۔
اب میرے عقائد ایسے ہیں کہ جن کی وجہ سے میں کافر نہیں بنتا ، تو جس جس نے مجھے کفر تک پہنچایا ہے اس پر کیا حکمِ شرعی ہو گا ؟
پھر جب کوئی بھی بندہ دعوتِ اسلامی یا امیرِ اہل سنت پر کسی قسم کی تنقید و اصلاح سوشل میڈیا پر کرتا ہے یا اپنی آواز کو منبر و محراب سے بلند کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ کون سا اصلاح کا طریقہ ہے ، آپ ہمیں علاحدگی میں سمجھائیں ۔۔۔۔۔ یوں سوشل میڈیا پر اصلاح نہیں کی جاتی ؛ تو کیا یہ قانون صرف دعوت اسلامی والوں کے لیے ہے ، دوسرے مسلمان اس سے مستثنیٰ ہیں ؟؟
میں ( رازی ) بھی بشر ہوں اگر میں نے امیرِ دعوتِ اسلامی کے کلام پر سرِ عام فنی نقد کر کے یا دیگر تنقیدات کرکے غلطی کی ہے تو پھر مجھے بھی علاحدہ تنہائی میں سمجھایا جاتا ، یوں سوشل میڈیا پر میری بے رحم اصلاح نہ کی جاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ !
جب واضعینِ قوانینِ اصلاح خود اپنے بنائے ہوئے قانون پر عمل پیرا نہ ہوں گے تو پھر رازی جیسے رندوں سے کیا توقع رکھیں گے ؟ “

( نوٹ: شکوے کے یہ الفاظ من و عن رازی صاحب کے ہیں – )

خیر الحمد للہ ہمارا جو ان سے دوستی کا تعلق تھا وہ ضائع نہیں گیا ، ہم رازی صاحب کو اس بات پر راضی کرنے میں کامیاب ہوئے کہ آئندہ وہ امیرِ اہل سنت یا دعوتِ اسلامی پر کوئی اعتراض کرنا چاہیں تو سوشل میڈیا کے بجائے کسی ذمے دار یا کسی رکنِ شوری سے پرسنل رابطہ کریں گے ، اور اس پر رازی صاحب بھی راضی برضا ہوگئے ۔

یہ خوشی کی بات ہے کہ ہم رازی سے جو توقعات لے کر گئے تھے رازی ان پر پورا اترا ۔

آخر میں رازی نے یہ بھی کہا کہ:
میرا گھرانہ وہ ہے جس میں تقریبا ہر بندہ دعوتِ اسلامی سے منسلک ہے ، جب دعوتِ اسلامی کے خلاف سب سے پہلی کتاب لکھی گئی تھی تو میرے گھرانے ہی سے دعوتِ اسلامی کے حق میں پہلا تحریری جواب آیا تھا ۔
میرے گھرانے کی دعوتِ اسلامی کے لیے کیا کیا خدمات ہیں یہ دعوتِ اسلامی کے ذمے داران سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔
رہی بات میری ، تو میں امیر دعوتِ اسلامی کے اور آپ کی تحریک کے قطعاً خلاف نہیں ، بس مجھے چِڑ ہے تو اُس شدت سے ہے جو اپنوں کو کفر تک پہنچاتی ہے ، انھیں پل بھر میں عاشق سے فاسق تک لے آتی ہے اور ان کی بدگوئی ، بے عزتی ، اور ذلت و رسوائی کو کار خیر سمجھتی ہے ۔
میرے استاد گرامی جو شیخ الحدیث اور حد درجہ عاشق رسول تھے وہ کہا کرتے تھے:
“میں نے الیاس قادری کو بارگاہ رسالت میں دیکھا ہے ۔ “
یہ بیان کرتے کرتے رازی کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں ۔😢

اللہ پاک رازی صاحب کو اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق بخشے ، ان کے علم و قلم کی جولانیاں قائم رکھے !

اللہ کریم کو صلح پسند ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اہل ایمان باہم صلح سے رہیں ، وہ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

اِنْ طَآئفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَاۚ-

اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑپڑیں تو تم ان میں صلح کروا دو ۔

ہم‌سب اہل سنت ہیں ، اللہ نے چاہا تو ہم ہمیشہ صلح سے رہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے باہمی تنازعے فیس بک پر شیئر کر کے بدمذہبوں کو مواد فراہم نہیں کریں گے ، اور نہ ہی دانستہ و نادانستہ فتنہ گروں کے آلۂ کار بنیں گے ۔

رب تعالی ہماری اصلاح فرمائے !

رازی صاحب ان دنوں علیل ہے ان کے لیے دعائے صحت بھی کردیجیے ، اللہ کریم ان کے ایمان ، جان ، مال اور اعمال کی حفاظت فرمائے ، اور انھیں خدمت نعت کی دائمی توفیق بخشے !

امید ہے صلح پسند احباب مزید ایسے قیل و قال سے پرہیزکریں گے جس سے فتنے کو ہوا ملے ۔

جس طرح ملتے ہیں لب نامِ محمد کے سبب
کاش ! ہم مل جائیں سب ، نامِ محمد کے سبب

تھا کہاں پہلے ہمیں حفظِ مراتب کا لحاظ
ہم نے سیکھا ہے اَدَب نامِ محمد کے سبب !

✍️لقمان شاہد
5-7-2022 ء