أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بِاَكۡوَابٍ وَّاَبَارِيۡقَ وَكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍۙ‏ ۞

ترجمہ:

مٹکوں اور جگوں اور شراب کے لبریز جاموں کے ساتھ

” اکواب ‘ اباریق ‘ کاس “ اور ” معین “ کے معانی اور مصادیق

الواقعہ : 18 میں فرمایا : مشکوں اور جگوں اور شراب سے لبریز جاموں کے ساتھ۔ اس آیت میں ” اباریق “ کا لفظ ہے ‘ ” ابریق “ کی جمع ہے ‘ دراصل یہ فارسی کا لفظ ہے ‘ اس کو عربی بنایا گیا ہے ‘ اصل میں یہ لفظ ” اب ریز “ تھا یعنی وہ برتن جس سے پانی یا کوئی مشروب گرایا جائے ‘ جیسے لوٹا یا جگ۔ ( مختار الصحاح ص ٢٤‘ موضحا)

اور اس میں ” اکواب “ کا لفظ ہے ‘ یہ لفظ ” کوب “ کی جمع ہے ‘ اس کا معنی ہے : کوزے ‘ آب خورے اور گلاس ‘ پانی پینے کا وہ برتن جس میں پکڑنے کے لیے دستہ نہ ہو۔ ( مختار الصحاح ص ٨٣٣‘ موضحا)

اور ” کاس “ کا لفظ ہے ‘ اس کا معنی ہے : شراب سے بھرا ہوا جام ‘ شراب کے جام کو بھی کہتے ہیں ‘ اس کی جمع ” کنوس “ ہے۔ (مختار الصحاح ص ٧٢٣‘ موضحا)

” معین “ کا معنی ہے : جاری چشمہ۔ (المفردات ج ٢ ص ١٦٤) یہاں مراد ہے : جنت میں شراب کے جاری چشمے۔

امام رازی نے لکھا ہے :” اکواب “ سے مراد بڑے پیالے ہیں جس میں پکڑنے لے لیے دستے نہ ہوں ( میں کہتا ہوں : اس سے مراد شراب کے مٹکے لینا زیادہ مناسب ہے) اور ” اباریق “ سے مراد ہے : پانی کے وہ برتن جن کا دستہ ہو اور اس کی سونڈ ( جونٹی) بھی ہو ‘ اس سے مراد لوٹے یا جگ ہیں۔ (تفسیر کبیرج ٠١ ص ٣٩٣)

یعنی جنت کی شراب کے چشموں سے شراب نکال کر مٹکوں میں رکھی جائے گی اور اس سے جگ یا لوٹے بھرے جائیں گے ‘ پر اس شراب کو جاموں یا گلاسوں میں انڈیل کر ولدان اور غلمان اہل جنت کو پیش کریں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 18