أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مُّتَّكِــئِيۡنَ عَلَيۡهَا مُتَقٰبِلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

ان پر تکیے لگائے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے

الواقعہ : 16 میں فرمایا : ان پر تکیے لگائے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے۔

یعنی وہ سابقین ایک دوسرے کے سامنے متقابل ہوں گے ‘ ان کی ایک دوسرے کی طرف پشت نہیں ہوگی ‘ دوسری تفسیر یہ ہے کہ مومنین ‘ ان کی بیویاں اور انکے اہل تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کے پاس ہمیشہ رہنے والے لڑکے گھوم رہے ہوں گے۔ مشکوں اور جگوں اور شراب لبریز جاموں کے ساتھ۔ جس سے نہ ان کے سر درد ہو اور نہ ان کی عقل میں فتور ہو۔ ان کے پسندیدہ پھل۔ اور پرندوں کا وہ گوشت جس کو وہ چاہیں۔ اور بڑی آنکھوں والی حوریں۔ جیسے چھپے ہوئے موتی۔ یہ ان (نیک) کاموں کی جزاء ہے جو وہ کرتے تھے۔ وہ اس میں نہ کوئی بےعودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات۔ مگر ہر طرف سے سلام سلام کی آواز۔ (الواقعہ : 26۔ 17)

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 16