أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں ہو

الواقعہ : 86 میں ” غیر مدینین “ کا لفظ ہے ‘ دین کا معنی ہے : اطاعت کرنا ‘ یعنی اگر تیم اللہ کے اطاعت گزار نہیں ہو اور دین سے مراد یوم آخرت اور یوم حساب بھی ہے ‘ یعنی اگر قیامت کے دن تمہارے اعمال کا حساب نہیں ہوگا اور تم کو تمہارے اعمال کی جزاء نہیں دی جائے گی اور خلاصہ یہ ہے کہ اگر تمہارے زعم کے موافق تم اللہ کی اطاعت کے پابند نہیں یا تم سے تمہارے اعمال کا حساب نہیں ہوگا تو تم اس مردے کی روح کو لوٹا تے کیوں نہیں ‘ اگر تم سچے ہو ؟ پس اگر تم سچے ہو تو جب اس مردے کی روح اس کے نرخرے تک پہنچ چکی ہے تو اس کو واپس اس کے بدن میں لوٹا دو ۔

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 86