أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِىۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ‌ؕ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِى الۡاَرۡضِ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَاؕ وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

اسی نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا ‘ پھر اس نے عرش پر جلوہ فرمایا ‘ وہ ان سب چیزوں کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہیں اور زمین سے خارج ہوتی ہیں اور جو آسمان سے اترتی ہیں اور جو آسمان میں چڑھتی ہیں ‘ اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو ‘ اور اللہ تمہارے تمام کاموں کو خوب دیکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اسی نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا ‘ پھر اس نے عرش پر جلوہ فرمایا ‘ وہ ان سب چیزوں کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہیں اور زمین سے خارج ہوتی ہیں اور جو آسمان سے اترتی ہیں اور جو آسمان میں چڑھتی ہیں ‘ اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو ‘ اور اللہ تمہارے تمام کاموں کو خوب دیکھنے والا ہے۔ آسمانوں اور زمینوں میں اسی کی حکومت ہے ‘ اور تمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ سینوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ (الحدید : ٦۔ ٤)

اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت پر دلائل اور نظاہر

الحدید : ٤ میں فرمایا : اسی نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا ‘ پھر اس نے عرش پر جلوہ فرمایا۔

آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں بنانے کی حکمت ‘ چھ دنوں کی تفصیل میں احادیث کا اضطراب اور معتبر حدیث کی تعیین ‘ عرش پر استواء اور اللہ تعالیٰ کی دیگر صفات کے متعلق شیخ ابن تیمیہ کا مؤقف ‘ استوقء اور دیگر صفات کے مسئلہ میں شیخ ابن تیمیہ کے مخالفین ‘ استواء اور دیگر صفات کے مسئلہ میں شیخ ابن تیمیہ کے موافقین ‘ استواء اور دیگر صفات کے مسئلہ میں ائمہ اربعہ اور متاخرین علماء کا مؤقف ‘ ان تمام امور پر ہم الاعراف : 54 کی تفسیر میں ” تبیان القرآن “ ج ٤ ص ٨٦١۔ ٥٥١ میں لکھ چکے ہیں۔

اس آیت سے مقصود اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلائل ہیں۔

پھر فرمایا : وہ ان چیزوں کا جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہیں ‘ یعنی بارش اور سیلاب کا پانی یا وہ بیج جس کو کسان زمین میں دباتے ہیں۔

نیز فرمایا : اور زمین سے خارج ہوتی ہیں ‘ یعنی زمین سے جو زرعی پیداوار نکلتی ہے اور دانے اور پھل نکلتے ہیں۔

اور جو آسمان سے اترتی ہیں : جیسے بارش ہوتی ہے اور اولے برستے ہیں اور فرشتے نازل ہوتے ہیں اور مخلوق کے اعمال کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

اور جو آسمان پر چڑھتی ہیں ‘ اس سے مراد بندوں کے نیک اعمال ہیں جن کو فرشتے آسمان پر لے کر جاتے ہیں۔

پھر فرمایا ؛ اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو ‘ یعنی تم اس کے علم اور اس کی قدرت سے باہر نہیں ہو۔

بظاہر اس آیت میں تعارض ہے ‘ اس آیت کے شروع میں فرمایا : اللہ تعالیٰ عرش پر جلوہ گر ہے اور اس آیت کے آخر میں فرمایا : وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو اس لیے اس آیت کے ان دو فقروں میں تاویل اور تطبیق ضروری ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ عرش پر جلوہ فرما ہے اور وہ اپنی صفت علم اور قدرت کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہے ‘ تم جہاں کہیں بھی ہو اس کو تمہارا علم ہے اور ہر طرح تم پر قادر ہے ‘ اسی لیے محققین نے کہا : ہم نے ہر چیز سے پہلے اللہ کو دیکھا ‘ اور متوسطین نے کہا : ہم نے ہر چیز کے ساتھ اللہ کو دیکھا اور علماء ظاہر نے کہا : ہم نے ہر چیز کے بعد اللہ کو دیکھا۔

اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا : اللہ تعالیٰ اوّل ‘ آخر ‘ ظاہر اور باطن ہے ‘ یعنی تمام ممکنات اس کے زیر قدرت اور یرِ تصوّف ہیں ‘ پھر فرمایا : عرش اور زمین اور آسمان سب اس کے زیرسلطنت ہیں ‘ پھر فرمایا : وہ اپنے علم اور قدرت سے تم سب کے ساتھ ہے اور وہ ہمارے ظاہر اور باطن کو خوب جاننے والا ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 4