اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـىِٔۡ وَلَدۡنَهُمۡؕ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًاؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ- سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 2
sulemansubhani نے Thursday، 21 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـىِٔۡ وَلَدۡنَهُمۡؕ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًاؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ ۞
ترجمہ:
تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ‘ (یہ کہتے ہیں کہ تمہاری پیٹھ میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے) وہ عورتیں ان کی حقیقت میں مائیں نہیں ہیں ‘ ان کی مائیں تو صرف وہ ہیں جن سے وہ پیدا ہوئے ہیں اور بیشک وہ ضرور بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں ‘ اور اللہ ضرور بہت معاف کرنے والا اور بہت بخشنے والا ہے
ظہار کی تعریف اور اس کا حکم
المجادلہ : ٢ میں فرمایا : جو لوگ تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں وہ عورتیں ان کی حقیقت میں مائیں نہیں ہیں ‘ ان کی مائیں تو صرف وہ ہیں جن سے وہ پیدا ہوئے ہیں اور بیشک وہ ضرور بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور بیشک اللہ ضرور بہت معاف کرنے والا اور بہت بخشنے والا ہے۔
علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی المتوفی ٥٧٣ ھ لکھتے ہیں :
جب کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے : تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مثل ہے تو وہ اس پر حرام ہوجاتی ہے اور اب اس سے عمل زوجیت کرنا جائز نہیں ہے اور نہ اس کو چھونا اور اس کو بوسہ دینا جائز ہے حتیٰ کہ وہ اس ظہار کا کفارہ ادا کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے المجادلہ : ٣ میں فرمایا ہے۔
اور ظہار زمانہ جاہلیت کی طلاق تھی۔ شریعت نے اس کی اصل کو برقرار رکھا اور اس کے حکم کو وقت مقرر کی تحریم کی طرف کفارہ کے ساتھ منتقل کردیا اور ظہار نکاح کو زائل کرنے والا نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ جھوٹ بولنے اور بری بات کہنے کا جرم ہے۔ اسی لئے اس کے مناسب یہ سزا ہے کہ ظہار کرنے والے پر اس کی بیوی کے ساتھ جماع کو حرام قرار دیا جائے اور کفارہ ادا کرنے سے یہ حرمت ساقط ہوجائے پھر جب اس عمل زوجیت کو حرام کیا گیا تو اس کے دواعی اور محرکات کو بھی حرام کردیا گیا۔ اس کے برخلاف حائض اور روزہ دار کے ساتھ جماع کے محرکات کو حرام نہیں کیا گیا کیونکہ حیض اور روزہ کا اکثر وقوع ہوتا ہے ‘ کیونکہ اگر ان میں عمل زوجیت کے محرکات کو حرام قرار دیا جاتا تو اس سے حرج لازم آتا۔ اس کے برخلاف ظہار کا اتنا وقوع نہیں ہوتا۔ اس میں عمل زوجیت کے دواعی اور محرکات کو حرام قرار دینے سے حرج لازم نہیں آئے گا۔
(الہدایہ نصب الرایہ ج ٣ ص ٣٥٤۔ ٣٥٣‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٦ ھ)
ظہار کے الفاظ اور اس کی دیگر تفاصیل
اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے یوں کہے کہ تم مجھ پر ایسی ہو جیسی میری ماں کی پشت ہے۔ اس کو فقہ کی اصطلاح میں ظہار کہتے ہیں۔ ظہار کی تعریف یہ ہے کہ بیوی یا اس کے کسی عضو کو اپنی ماں یا کسی اور محرم کی پشت یا کسی اور عضو سے تشبیہ دینا ‘ اس کا حکم یہ ہے کہ اس پر بیوی سے جماع اور بوس و کنار وغیرہ حرام ہوجاتا ہے۔ جب تک وہ کفارہ ظہار نہ ادا کرے اور جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا : تم مجھ پر ایسی ہو جیسے میری ماں کا پیٹ یا اس کی ران ہے تو یہ بھی ظہار ہے اور اگر اس نے ماں کے علاوہ اپنی بہن یا اپنی پھوپھی یا رضاعی ماں یا کسی اور محرم کی پشت سے اپنی بیوی کو تشبیہ دی تو یہ بھی ظہار ہے اور اگر اس نے اپنی بیوی کے کسی عضو کو اپنی ماں سے تشبیہ دی ‘ مثلاً اپنی بیوی سے کہا : تمہارا سر میری ماں کی پشت کی طرح ہے یا تمہاری شرم گاہ یا تمہارا چہرہ یا تمہارا نصف یا تمہارا ثلث میری ماں کی طرف ہے تو یہ بھی ظہار ہے اور اگر اس نے کہا : تم میری ماں کی مثل ہو تو اس کا حکم اس کی نیت پر موقوف ہے۔ اگر اس کی نیت یہ تھی کہ تم میری ماں کی طرح معزز ہو تو طلاق یا ظہار کچھ نہیں ہے اور اگر اس نے کہا : میری نیت ظہار کی تھی تو یہ ظہار ہے اور اگر اس نے کہا : میری نیت طلاق کی تھی تو اس سے طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔
(ہدایہ اولین ص ٤١٠۔ ٤٠٩‘ ملخصاً و موضحاً ‘ مطبوعہ مکتبہ شرکت علمیہ ‘ ملتان)
بیوی کو طلاق کی نیت سے ماں ‘ بہن کہنا آیا یہ ظہار یا طلاق ہے یا نہیں ؟
میں ١٩٦٦ ء سے ١٩٨٥ ء تک جامعہ نعیمیہ لاہور میں پڑھاتا رہا ہوں اور استاذ مکرم حضرت علامہ مفتی محمد حسین نعیمی (رح) کی نگرانی میں افتاء کا کام کرتا رہا ہوں۔ اس وقت میری یہی تحقیق تھی کہ اگر کوئی شخص طلاق کی نیت سے اپنی بیوی کو ماں بہن کہہ دے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی اور میں اسی کے موافق فتویٰ دیتا رہا لیکن جب میں نے ١٩٨٦ ء میں ” شرح صحیح مسلم “ لکھنی شروع کی تو بعض متاخرین فقہاء کی عبارات سے میں نے یہ سمجھا کہ اس صورت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے ‘ چناچہ ” شرح مسلم “ ج ٣ ص ١٠٠٤ اور ” تبیان القرآن “ ج ١ ص ٥٠٢ اور ص ٨٥١ میں یہ مسئلہ اسی طرح لکھا ‘ اس کے بعد ” تبیان القرآن “ کی نویں جلد ص ٣٧٣ میں سورة الاحزاب میں جب ظہار کی بحث آئی تو میں نے اس مسئلہ پر از سر نو غور کیا اور مجھ پر یہ منکشف ہوا کہ اس صورت میں طلاق نہیں ہوتی جیسا کہ میرا پہلا نظریہ تھا ‘ سو میں نے نویں جلد میں اسی کے موافق لکھا اور ” شرح صحیح مسلم “ ج ٣ ص ١٠٠٤ اور ” تبیان القرآن “ ج ١ ص ٥٠٢ اور ص ٨٥١ میں اسی کے موافق اصلاح کردی۔ سو بعد کے ایڈیش اسی کے موافق چھپ چکے ہیں۔ یہ سطور اس لئے لکھ دی ہیں کہ میرے سلسل مطالعہ کرنے ‘ میرے رجوع کرنے اور اخلاص اور للہیت کی سند رہیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے ہمیشہ حق پر قائم رکھے اور نفسانیت اور انانیت کے شر سے محفوظ رکھے۔
بیوی کو طلاق کی نیت سے ماں بہن کہنے سے طلاق واقع نہ ہونے کے دلائل
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی زوجہ حضرت سارہ کے متعلق فرمایا : یہ میری بہن ہے۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٥٨۔ ٢٢١٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٧١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٦٦‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٩٢٣٠‘ عالم الکتب)
علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
اس حدیث سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ جس شخص نے بغیر کسی نیت کے اپنی بیوی کے متعلق کہا یہ میری بہن ہے تو اس کا یہ کہنا طلاق نہیں ہے۔
(عمۃ القاری ج ١٢ ص ٤٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)
حضرت ابو تمیمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو اپنی بیوی سے یہ کہتے ہوئے سنا ‘ ” اے میری بہن ! “ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو مکروہ قرار دیا اور اس کو یہ کہنے سے منع فرمایا۔
(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٢١١۔ ٢٢١٠‘ بیروت)
علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ قول ظہار نہیں ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوائے کراہت اور ممانعت کے اس کا اور کوئی حکم نہیں بیان فرمایا ‘ اسی طرح اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اے بیٹی ! کہے تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔
(ردالمختار ج ٤ ص ١٠٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)
ان احادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ بیوی کو بہن یا بیٹی کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ بیوی کو میری ماں کہنے سے بھی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ناپسند اس لئے فرمایا کہ یہ واقع کے خلاف ہے اور جھوٹ ہے۔ اس پر صرف توبہ کرنا واجب ہے۔ فقہاء نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق کی نیت سے ماں بہن کہے تب بھی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
علامہ حسن بن منصور اوزجندی المعروف قاضی خاں متوفی ٥٩٢ ھ لکھتے ہیں :
ولو قال لا مراتہ ان فعلت کذافانت امی و نوی بہ التحریم فھو باطل لا یلزمہ شیء
اور اگر اس نے اپنی بیوی سے کہا : اگر تو نے فلاں کام کیا تو ‘ تو میری ماں ہے اور اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ اس کی بیوی اس پر حرام ہوجائے گی تو اس کا یہ قول باطل ہے اور اس پر کچھ لازم نہیں آئے گا ‘ یعنی اس کی بیوی حرام نہیں ہوگی۔
قاضی خاں کی اس عبارت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو اپنی ماں یا ا بہن کہا تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی خواہ اس نے طلاق کی نیت کی ہو۔
علامہ محمد بن علی بن محمد الحفکفی الحنفی المتوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں :
کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا : تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے ‘ یا کہا : تو میری ماں کی مثل ہے ‘ اور اس سے بیوی کے معزز ہونے کی نیت کی یا ظہار کی نیت کی یا طلاق کی نیت کی تو اس کی نیت صحیح ہے اور جس کی اس نے نیت کی وہی حکم لاگو ہوگا اور اگر اس نے کوئی نیت نہیں کی یا تشبیہ کا ذکر نہیں کیا (یعنی طلاق کی نیت سے کہا تو مریری ماں ہے) تو اس کا یہ کلام لغو ہوگا۔
(الدرالمختار مع ردالمختار ج ٥ ص ١٠٣‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :
انت امی بلاتشبیہ فانہ باطل و ان نوی :
ترجمہ :… کسی شخص نے اپنی بیوی سے بغیر تشبیہ دیئے کہا : تو میری ماں ہے تو اس کا یہ قول باطل ہے خواہ اس نے طلاق کی نیت کی ہو۔
(ردالمختار ج ٥ ص ٩٨‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)
اسی طرح علامہ ابراہیم بن محمد حلبی حنفی متوفی ٩٥٦ ھ نے لکھا ہے :
اور اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا : تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے تو اگر اس نے اپنی بیوی کے معزز ہونے کی نیت کی تو اس کی تصدیق کی جائے گی اور اگر اس نے اس قول سے ظہار کی نیت کی ہے تو یہ ظہار ہوگا یا طلاق کی نیت کی ہے تو یہ طلاق بائن ہوگی اور اگر اس نے کوئی نیت نہیں کی تو پھر اس قول سے کوئی حکم ثابت نہیں ہوگا۔
(ملتقی الابحر مع مجمع الانھر ج ٢ ص ١١٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)
نیز علامہ الکلیوبی نے لکھا ہے :
ظہار کی تعریف میں تشبیہ کی قید اس لئے لگائی ہے کہ اگر کسی شخص نے بغیر تشبیہ دیئے اپنی بیوی سے کہا : تو میری ماں ہے یا میری بہن ہے یا بیٹی ہے تو یہ ظہار نہیں ہے اور اگر اس نے اپنی بیوی سے کہا اگر تو نے فلاں کام کیا تو ‘ تو میری ماں ہے اور اس کی بیوی نے وہ کام کرلیا تو اس کا یہ قول باطل ہوگا ‘ خواہ اس نے اس قول سے بیوی کے حرام ہونے کی نیت کی ہو۔ (مجمع الانھر ج ٢ ص ١١٥)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے بحالت غصہ اپنی زوجہ کو ماں بہن کہہ دیا مگر نان نفقہ دیتا رہا ‘ عورت اس کے نکاح میں رہی یا بحکم شرع شریف جاتی رہی ؟
اعلیٰ حضرت قدس سرہ اس کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :
الجواب : زوجہ کو ماں بہن کہنا خواہ یوں کہ اسے ماں بہن کہہ کر پکارے یا یوں کہے : تو میری ماں بہن ہے سخت گناہ و ناجائز ہے ‘ مگر اس سے نہ نکاح میں خلل آئے نہ توبہ کے سوا کچھ اور لازم ہو ‘ در مختار میں ہے :
اولاینو شیئا او حذف الکاف لغاوتعین الادنی ای البر یعنی الکرامۃ و یکرہ قولہ انت امی و یا ابنتی و یا اختی و نحوہ۔
ترجمہ :… اور اگر اس نے کوئی نیت نہیں کی ‘ یا تشبیہ کا ذکر نہیں کیا تو ادنیٰ درجہ کا حکم متعین ہوگا یعنی عزت اور کرامت کا اور اس کا اپنی بیوی کو یہ کہنا مکروہ ہے کہ تو میری ماں ہے یا یہ کہنا : اے میری بیٹی اور اے میری بہن اور اس کی مثل۔
(در مختار علی ہامش ردالمختار ج ٥ ص ١٠٣‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)
علامہ شامی نے اس پر لکھا ہے : حدف الکاف بان قال انت امی و من بعض افطن جعلہ من باب زید اسد منتقی عن الھستانی قلب و یدل علیہ ما نذکرہ عن الفتح من انہ لا بد من التصریح من الاداۃ۔ اسی میں ہے : انت امی بلا تشبیہ باطل و ان نوی۔
ترجمہ :… اگر اس نے تشبیہ کا ذکر نہیں کیا اور بایں طور اپنی بیوی سے کہا تو میری ماں ہے ‘ بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ یہ قول ایسا ہے جیسے کوئی کہے زید شیر ہے ‘ میں کہتا ہوں اس پر دلیل یہ ہے کہ ہم ” فتح القدیر “ سے نقل کریں گے کہ تشبیہ کے حرف کا ذکر کرنا ضروری ہے ‘ نیز علامہ شامی نے کہا : بغیر تشبیہ کے بیوی کو یہ کہنا کہ تو میری ماں ہے ‘ باطل ہے خواہ اس نے طلاق کی نیت کی ہو۔
(ردالمختارج ٥ ص ٩٨‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)
ہاں اگر یوں کہا ہو کہ تو مثل یا مانند یا ماں بہن کی جگہ ہے ‘ تو اگر بہ نیت طلاق کہا تو ایک طلاق بائن ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی اور بہ نیت ظہار یا تحریم کہا یعنی یہ مراد ہے کہ مثل ماں بہن کے مجھ پر حرام ہے تو ظہار ہوگیا ‘ اب جب تک کفارہ نہ دے لے ‘ عورت سے جماع کرنا یا شہوت کے ساتھ اس کا بوسہ لینا یا بنظر شہوت اس کے کسی بدن کو چھونا یا بہ نگاہ شہوت اس کی شرم گاہ دیکھنا سب حرام ہوگیا اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ جماع سے پہلے ایک غلام آزاد کرے ‘ اس کی طاقت نہ ہو تو لگاتار دو مہینہ کے روزے رکھے ‘ اس کی بھی قوت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی طرح اناج یا کھانا دے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ‘ اور اگر ان میں کوئی نیت نہ تھی ‘ تو یہ لفظ بھی لغو و مہمل ہوگا جس سے طلاق یا کفارہ وغیرہ کچھ لازم نہ آئے گا ‘ در مختار میں ہے :
ان نوی بانت علی مثل امی او کامی و کذاب لو حذف علی (خانیہ) برا او ظھارا او طلاقا صحت نیتہ و وقع مانواہ و ان لم ینوشیئا او حذف الکاف لغا۔
ترجمہ :… اس نے بیوی سے کہا : تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے یا کہا : تو میری ماں کی مثل ہے اور اس سے بیوی کے معزز ہونے کی نیت کی یا ظہار کی نیت کی یا طلاق کی نیت کی تو اس کی نیت صحیح ہے اور جس کی اس نے نیت کی ہے وہی حکم لاگو ہوگا اور اگر اس نے کوئی نیت نہیں کی یا تشبیہ کا ذکر نہیں کیا (یعنی طلاق کی نیت سے کہا : تو میری ماں ہے) تو اس کا یہ کلام لغو ہوگا۔
(الدرالمختار مع ردالمختار ج ٥ ص ١٠٣‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)
” ھندیہ “ میں ” خانیہ “ سے ہے : اگئر اس نے اپنے قول سے تحریم کی نیت کی تو اس میں اختلاف ہے ‘ اور صحیح یہ ہے کہ یہ سب کے نزدیک ظہار ہوگا۔
(فتاویٰ رضویہ ج ٥ ص ٦٣١۔ ٦٣٠‘ مطبوعہ سنی دارالاشاعت فیصل آباد)
اعلیٰ حضرت نے ” درمختار “ کی آخری عبارت جو نقل کی ہے اس میں یہ تصریح ہے کہ اگر اس نے بیوی کو طلاق کی نیت سے ماں بہن کہا تو یہ کلام لغو ہے اور اس سے طلاق نہیں ہوگی۔ اسی طرح علامہ شامی کی عبارت بھی گزر چکی ہے کہ اگر اس نے بیوی کو خواہ طلاق کی نیت سے کہا : تو میری ماں ہے تو یہ قول باطل ہے۔ (ردالمختار ج ٥ ص ٩٨) یعنی اس سے طلاق نہیں ہوگی۔
خلاصہ یہ ہے کہ احادیث صحیحیہ صریحہ ‘ فتاویٰ قاضی خاں ‘ الدر المختار ‘ ردالمختار ‘ ملتقی الابحر ‘ مجمع الانھر اور فتاویٰ رضویہ کی عبارات سے یہ واضح ہوگیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ تو میری ماں بہن ہے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ خواہ اس نے یہ قول طلاق دینے کی نیت سے کہا ہو یا بیویکو اپنے نفس پر حرام قرار دینے کی نیت سے کہا ہو۔ اس شخص کا یہ قول واقع کے خلاف ہے اور جھوٹ ہے اور اس پر واجب ہے کہ وہ اس جھوٹ سیتوبہ کرے۔ ہم نے اس قدر تفصیل اس لئے کی ہے کہ یہ مسئلہ عامۃ الوقوع ہے ‘ لوگ غصہ میں بیوی کو ماں بہن کہہ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے طلاق ہوگئی۔
القرآن – سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 2