قَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّتِىۡ تُجَادِلُكَ فِىۡ زَوۡجِهَا وَ تَشۡتَكِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ ۖ وَاللّٰهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ ۢ بَصِيۡرٌ سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 1
sulemansubhani نے Thursday، 21 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّتِىۡ تُجَادِلُكَ فِىۡ زَوۡجِهَا وَ تَشۡتَكِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ ۖ وَاللّٰهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ ۢ بَصِيۡرٌ ۞
ترجمہ:
بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے خاوند کے متعلق بحث اور تکرار کررہی تھی اور اللہ سے شکایت کررہی تھی اور اللہ تم دونوں کی باتیں سن رہا تھا ‘ بیشک اللہ بہت سننے والا خوب دیکھنے والا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے خاوند کے متعلق بحث اور تکرار کررہی تھی اور اللہ سے شکایت کررہی تھی اور اللہ تم دونوں کی باتیں سن رہا تھا ‘ بیشک اللہ بہت سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں (یہ کہتے ہیں کہ تمہاری پیٹھ میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے) وہ عورتیں ان کی حقیقت میں مائیں نہیں ہیں ‘ ان کی مائیں تو صرف وہ ہیں جن سے وہ پیدا ہوئے ہیں اور بیشک وہ ضرور بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور بیشک اللہ ضرور بہت معاف کرنے والا اور بہت بخشنے والا ہے۔ (المجادلہ : ٢۔ ١)
المجادلہ : ١‘ حضرت خولۃ بنت ثعلبہ (رض) کے متعلق نازل ہوئی ‘ وہ حضرت اوس بن الصامت (رض) کے نکاح میں تھیں۔ ان کا جسم بہت حسین تھا اور ان کے شوہر بہت شہوت اور بہت غصے والے تھے۔ انہوں نے ان کو اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے بلایا ‘ حضرت خولہ نے انکار کیا۔ انہوں نے کہا : تمہاری پشت مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہے ‘ پھر وہ اپنے قول پر نادم ہوئے اور زمانہ جاہلیت میں ایلاء اور ظہار طلاق شمار ہوتا تھا۔ حضرت اوس نے کہا : میرا گمان ہے کہ تم مجھ پر حرام ہوچکی ہو۔ حضرت خولہ نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ طلاق نہیں ہے اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئیں۔ اس وقت حضرت عائشہ (رض) اپنے سر کی ایک جانب دھو رہی تھیں۔ حضرت خولہ نے کہا : یا رسول اللہ ! بیشک میرے خاوند حضرت اوس بن الصامت نے مجھ سے شادی کی تھی ‘ اس وقت میں جوان ‘ مالدار ‘ خوشحال اور رشتہ داروں والی تھی ‘ حتیٰ کہ جب حضرت اوس نے میرا مال کھالیا اور میری جوانی ختم کردی اور میرے رشتہ دار بکھر گئے اور میری عمر زیادہ ہوگئی تو انہوں نے مجھ سے ظہار کرلیا اور اب وہ نادم ہیں ‘ کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ وہ اور میں پھر سے جمع ہوجائیں اور وہ مجھ سے اپنی خواہش پوری کرسکیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس پر حرام ہوچکی ہو۔ حضرت خولہ نے کہا : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے۔ اس نے طلاق کا ذکر نہیں کیا اور وہ میرے بچوں کا باپ ہے اور مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : تم اس پر حرام ہوچکی ہو۔ حضرت خولہ نے کہا : پھر میں اللہ سے اپنے فقر و فاقہ اور تنہائی کا ذکر کرتی ہوں۔ انہوں نے میرے ساتھ بہت وقت گزارا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : میرا یہی گمان ہے کہ تم اس پر حرام ہوچکی ہو اور تمہارے معاملہ میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ وہ بار بار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنا مدعا عرض کرتی رہی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے یہی فرماتے رہے کہ تم اس پر حرام ہوچکی ہو۔ اس نے کہا : میں اللہ سے اپنے فاقہ اور اپنی پریشان حالی کی شکایت کرتی ہوں اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ اگر میں یہ بچے حضرت اوس کو دے دوں تو یہ ضائع ہوجائیں گے اور اگر میں ان بچوں کو اپنے پاس رکھوں تو یہ بھوکے رہیں گے ‘ پھر حضرت خولہ نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور کہنے لگیں : اے اللہ ! میں تجھ سے شکایت کرتی ہوں ‘ اے اللہ ! تو اپنے نبی کی زبان پر میری کشادگی کا حکم نازل فرما ‘ اور یہ اسلام میں پہلا ظہار کا واقعہ تھا۔ پھر حضرل عا ئشہ کھڑی ہو کر اپنے سر کی دوسری جانب دھونے لگیں۔ حضرت خولہ نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میرے معاملہ میں غور فرمائیں ‘ اللہ مجھے آپ پر فدا کرے۔ حضرت عائشہ نے کہا : اپنی بات مختصر کرو اور زیادہ بحث نہ کرو۔ کیا تم دیکھ نہیں رہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کی کیا کیفیت ہے ؟ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل جاتا تھا۔ جب آپ پر وحی نازل ہوچکی تو آپ نے اس سے فرمایا : اپنے خاوند کو بلائو۔ جب وہ اس کو بلا لائی تو آپ نے اس کے سامنے ” قد سمع اللہ قول التی تجادلک “ الایات پڑھیں۔ حضرت عائشہ (رض) نے کہا : برکت والی ہے وہ ذات جس کی سماعت تمام آوازوں کو محیط ہے۔ بیشک وہ عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گفتگو کررہی تھی اور میں گھر کی ایک جانب ان کی کچھ باتیں سن رہی تھی اور بعض باتیں مجھ سے مخفی رہیں۔
(معالم التنزیل ج ٥ ص ٣٩۔ ٣٨‘ مسند احمد ج ٦ ص ٤١٠‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٢١٤‘ سنن بیہقی ج ٧ ص ٣٨٩‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٢٧٩‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٥٨٠‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٦٣۔ ١٨٨‘ تفسیر عبدالرزاق رقم الحدیث : ١١١٨‘ المستدرک ج ٢ ص ٤٨١)
ظہار کو زمانہ جاہلیت میں سب سے شدید طلاق قرار دیا جاتا تھا کیونکہ اس میں بیوی کی پشت کو اپنی ماں کی پشت سے تشبیہ دی جاتی تھی اور عربوں میں نکاح اور طلاق کے جو احکام تھے ‘ وہ اسلام میں اس وقت تک معتبر رہتے تھے جب تک اسلام میں ان احکام کو منسوخ نہیں کردیا جاتا تھا اور اسلام میں ظہار کا یہ پہلا واقعہ تھا ‘ اس لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرب کے عرف کے موافق ابتداء ً اس کو برقرار رکھا۔ پھر جب حضرت خولہ (رض) اس مسئلہ سے دو چار ہوئیں اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس میں بہت بحث و تکرار کی اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کی تو اللہ تعالیٰ نے زمانہ جاہلیت کی اس رسم کو منسوخ فرما دیا اور ظہار کی مذمت میں المجادلہ : ٢ نازل ہوئی اور اس کے بعد آیات میں یہ بتایا کہ جب کوئی شخص ظہار کرنے کے بعد اس سے رجوع کرنا چاہے تو پھر اس کا کیا طریقہ ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 1