أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَـقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَيِّنٰتِ وَاَنۡزَلۡنَا مَعَهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡمِيۡزَانَ لِيَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ‌ۚ وَاَنۡزَلۡنَا الۡحَـدِيۡدَ فِيۡهِ بَاۡسٌ شَدِيۡدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَـعۡلَمَ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالۡغَيۡبِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِىٌّ عَزِيۡزٌ ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو قوی دلائل کے ساتھ بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب کو اور میزان (عدل) کو نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں سخت قوت ہے اور لوگوں کے لئے دیگر فوائد ہیں تاکہ اللہ یہ ظاہر کردے کہ اللہ کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے کون مدد کرتا ہے ‘ بیشک اللہ بہت قوی بےحد غالب ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو قوی دلائل کے ساتھ بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب کو اور میزان (عدل) کو نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں سخت قوت ہے اور لوگوں کے لئے دیگر فوائد ہیں تاکہ اللہ یہ ظاہر کردے کہ اللہ اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے کون مدد کرتا ہے ‘ بیشک اللہ بہت قوی ‘ بےحد غالب ہے۔ (الحدید : ٢٥ )

” البینات “ کا معنی اور نزول کتاب کی حکمت

اس آیت میں فرمایا ہے : بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو البینات کے ساتھ بھیجا۔

” البینات “ کی تفسیر میں دو قول ہیں : (١) مقاتل بن سلیمان نے کہا : اس سے مراد ہے ‘ معجزات ظاہرہ اور دلائل قاہرہ۔ (٢) مقاتل بن حیان نے کہا : ہم نے ان کو ان اعمال کے ساتھ بھیجا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور غیر اللہ سے اعراض کی ترغیب دیتے ہیں۔ امام رازی نے کہا : ان میں سے پہلا قول صحیح ہے کیونکہ رسولوں کی نبوت معجزات سے ثابت ہوتی ہے۔

اس کے بعد فرمایا : اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب کو اور میزان (عدل) کو نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔

کتاب کو اس لئے نازل فرمایا کہ کتاب میں ضروری عقائد کا ذکر ہے اور باطل عقائد کا رد ہے اور ان میں واقع ہونے والے مشکوک اور شبہات کا ازالہ ہے اور ان نیک اعمال کا حکم ہے جن سے متصف ہو کر انسان کی دنیا اور آخرت میں عزت اور سرخ روئی ہوتی ہے اور برے کاموں سے ممانعت ہے ‘ جن کو کرنے سے انسان کی دنیا اور آخرت میں ذلت اور رسوائی ہے اور آخرت میں شدید عذاب ہے اور میزان کا اس لئے ذکر فرمایا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے مقابلہ میں اپنے کئے ہوئے کاموں پر غور کرے کہ آیا اس کی نعمتوں کے مقابلہ میں اس کی اطاعت اور عبادات شکر کے میزان پر پوری اتر رہی ہیں یا نہیں ‘ اسی طرح والدین کے احسانات اور ان کے ساتھ اپنے سلوک کو دیکھئے کہ آیا وہ اس میزان کے مطابق ہیں یا نہیں ‘ اسی طرح دیگر اقربائ ‘ پڑوسیوں اور حکام کا اس کے ساتھ جو سلوک ہے اور اس کے مقابلہ میں جو کچھ کررہا ہے وہ میزان عدل کے موافق ہے یا نہیں۔

لوہے کے فوائد

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں سخت قوت ہے اور لوگوں کے لئے دیگر فوائد ہیں۔

امام رازی فرماتے ہیں : سو ہے میں سخت قوت ہے کیونکہ آلات حرب لوہے سے بنائے جاتے ہیں اور اس میں اور بھی بہت فائدے ہیں :

لوہے سے زرہ بنائی جاتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ترجمہ : (الانبیاء ٨٠)… اور ہم نے ان کو (حضرت دائود کو) تمہارے لئے لباس بنانے کی کاری گری سکھائی تاکہ وہ لباس تم کو جنگ کے ضرر سے محفوظ رکھے ‘ پس کیا تم شکر ادا کرو گے۔

قدیم زمانہ میں تلواروں سے جنگ ہوتی تھی اور لوہے کی زرہ تلوار کے حملہ اور اس کے وار سے محفوظ رکھتی تھی اور اب لوہے سے بلٹ پروف لباس بنایا جاتا ہے جو بندوق کی گولی کے ضرر سے محفوظ رکھتا ہے۔

نیز لوہے سے مختلف قسم کی مشینیں بنائی جاتی ہیں ‘ ہل چلانے کے لئے ٹریکٹر کے ساتھ ہل کا فریم لگا دیتے ہیں جو مٹی کو بھربھرا کرتا ہے ‘ پھر اس مٹی کو باریک کرنے کے لئے اس کے ساتھ چیزل لگا دیتے ہیں ‘ بیج بونے کے لئے ٹریکٹر کے ساتھ چیزل لگا دیتے ہیں ‘ گندم سے بھوسہ کو الگ کرنے کے لئے ٹریکٹر کے ساتھ تھریشر کو لگا دیتے ہیں ‘ فصل کاٹنے اور گندم کو بھوسہ سے الگ کرنے کے لئے ہارڈ ویسٹر کو استعمال کرتے ہیں۔ گندم پیسنے کے لئے چکی بھی لوہے سے بنائی جاتی ہے اور فلور ملزر میں اس کی بڑی بڑی مشینیں لگی ہوتی ہیں جو آٹا ‘ میدہ اور سوجی بناتی ہیں ‘ اسی طرح شوگر ملز میں بڑی بڑی مشینیں ہیں جو گنے سے رس نکالتی ہیں ‘ پھر اس رس کو مختلف مراحل سے گزار کر سفید چینی بنا دیتی ہیں۔ تیل اور گھی نکالنے کی مشینیں ہیں ‘ کپڑا بنانے اور رنگنے کے ملز ہیں ‘ کپڑا سینے کی فیکٹریاں ہیں ‘ دوائیں بنانے کی فیکٹریاں ہیں ‘ یہ سب مشینیں خام لوہے سے بنائی جات یہیں اور اب تو مکانات بنانے میں لوہا اور سیمنٹ استعمال ہوتا ہے ‘ غرض زندگی کے ہر شعبہ میں لوہے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

بعض مترجمین کے ترجمہ سے معاذ اللہ ‘ اللہ تعالیٰ کی بےعلمی ظاہر ہونا

اس کے بعد فرمایا : تاکہ اللہ یہ ظاہر کردے کہ اللہ اور اس کے رسول کی بن دیکھے کون مدد کرتا ہے۔

اس آیت کے الفاظ یہ ہیں : ” و لیعلم اللہ “ (الحدید : ٢٥) اور اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اور تاکہ اللہ جان لے۔

شیخ محمود الحسن دیو بندی متوفی ١٣٣٩ ھ اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :

اور تاکہ معلوم کرے اللہ کون مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے۔

اور شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ١٣٦٤ ھ اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :

تاکہ اللہ جان لے کہ بےدیکھے اس کی اور اس کے رسولوں کی (یعنی دین کی) کون مدد کرتا ہے۔

سید الوالاعلیٰ مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :

یہ اس لئے کہا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ کون اس کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔

(تفہیم القرآن ج ٥ ص ٣٢٢۔ ٣٢١‘ مطبوعہ ترجمان القرآن ‘ لاہور)

ان تمام تراجم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کو علم نہیں تھا ‘ اس نے اپنے رسولوں کو بھیجا ‘ پھر اس کو معلوم ہوا کہ کون اس کے رسولوں کو بن دیکھے مدد فرماتا ہے اور ظاہر ہے یہ اللہ تعالیٰ کی سخت قدر ناشناسی اور اس کی جناب میں سخت بےادبی ہے جس سے اس کے علام الغیوب ہونے پر زد پڑتی ہے۔ اس کے برخلاف ہم نے اس آیت کا یہ ترجمہ کیا ہے : تاکہ اللہ یہ ظاہر کردے کہ اللہ اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے کون مدد کرتا ہے۔

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم کو حادث مانتے ہیں ‘ وہ ” ولیعلم اللہ “ سے استدلال کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں علم سے مراد معلوم ہے (یعنی واقع میں کسی چیز کو ظاہر کرنا جس طرح ہم نے ترجمہ کیا ہے۔ تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٤٧٢)

اور اس آیت میں جو فرمایا ہے : تاکہ اللہ یہ ظاہر کردے کہ اللہ اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے کون مدد کرتا ہے ‘ یعنی لوہے کے بنے ہوئے ہتھیاروں سے کام لے کر کون اس کی راہ میں کافروں سے جہاد کرتا ہے اور اللہ کے منکروں کو قتل کرتا ہے ‘ قدیم زمانہ میں لوہے کہ یہ ہتھیار تلواریں ‘ نیزے ‘ تیر اور برچھیاں وغیرہ تھے اور اس دور میں لوہے سے کلاشن کو ف ‘ توپ ‘ ٹینک ‘ بم ‘ میزائل اور جوہری بم وغیرہ ہیں۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بیشک اللہ بہت قوی ‘ بےحد غالب ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو یہ ضرورت نہیں ہے کہ کوئی اس کے رسولوں کی یا اس کے دین کی مدد کرے اور جو مسلمان اس کے رسولوں کی اور اس کے دین کی مدد کرتے ہیں ‘ دراصل وہ اخروی اجر کے حصول کے لئے خود اپنی مدد کرتے ہیں۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 25