أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فِىۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّبۡـرَاَهَا ؕ اِنَّ ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌۚ ۞

ترجمہ:

زمین میں اور تمہاری جانوں میں جو بھی مصیبت آتی ہے ‘ اس سے پہلے کہ ہم اس مصیبت کو پیدا کریں وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے ‘ بیشک یہ اللہ پر بہت آسان ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : زمین میں اور تمہاری جانوں میں جو بھی مصیبت آتی ہے ‘ اس سے پہلے کہ ہم اس مصیبت کو پیدا کریں وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے ‘ بیشک یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ تاکہ تم اس چیز پر افسوس نہ کرو جو تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے اور اس چیز پر نہ اترائو جو اللہ نے تمہیں عطا کی ہے اور اللہ کسی اترانے والے متکبر کو پسند نہیں کرتا۔ جو لوگ خود بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو (بھی) بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو رو گردانی کرتا ہے تو بیشک اللہ بےنیاز ہے ‘ تعریف کیا ہوا۔

(الحدید : ٢٤۔ ٢٢ )

لوح محفوظ میں لکھنے کی حکمتیں

الحدید : 23۔ 22 میں زمین کی مصیبتوں کا ذکر ہے ‘ اس سے مراد ہے : بارش کا نہ ہونا ‘ غلہ اور پھلوں کا کم پیدا ہونا ‘ قیمتوں کا چڑھ جانا اور لوگوں کا مسلسل بھوک میں مبتلا ہونا۔

اور اس میں انسان کی جانوں کی مٹیبتوں کا ذکر ہے ‘ اس سے مراد : بیماریاں ‘ فقر اور تنگ دستی اور اولاد کا نہ ہونا وغیرہ

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ زمین میں جو چیزیں بھی پیدا ہوتی ہیں وہ پیدا ہونے سے پہلے لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں اور لوح محفوظ میں ان کو لکھنے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(1) لوح محفوظ میں ان چیزوں کو لکھا ہوا دیکھ کر فرشتے اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اشیاء کو پیدا کرنے سے پہلے ان کا جاننے والا ہے۔

(٢) ان کو یہ علم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ فلاں مخلوق اللہ کی نافرمانی کرے گی پھر بھی وہ اس کو پیدا کرتا ہے اور اس کو رزق دیتا ہے اور اس میں اس کی کیا حکمت ہے اس کو وہ خود ہی جانتا ہے۔

(٣) مخلوق کے گناہوں کو لکھا ہوا دیکھ کر فرشتے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ان کو ان گناہوں سے محفوظ رکھا اور ان کو اپنی عبادت کی توفیق عطا فرمائی۔

(٤) اللہ تعالیٰ کے نیک اور مقرب بندے اور اس کے اولیاء بھی لوح محفوظ کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان کو مستقبل میں ہونے والے امور کا علم ہوجاتا ہے۔

ملا علی بن سلطان محمد القاری الحنفی المتوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں :

جب روح قدسیہ کا نور زیادہ ہوجاتا ہے اور عالم محسوسات کی ظلمت سے اعراض کرنے کی وجہ سے اس کا اشراق بڑھ جاتا ہے اور اس کے دل کا آئینہ طبیعت کے زنگ سے صاف ہوجاتا ہے اور علم کے تقاضوں پر دوام کرنے کی وجہ سے اور انوار الٰہیہ کے فیضان کی وجہ سے اس کا نور قوی ہوجاتا ہے تو جو نقوش لوح محفوظ میں مرتسم ہیں۔ وہ اس کے دل کی فضا میں مرتسم ہوجاتے ہیں اور وہ مغیبات کا مطالعہ کرتا ہے اور عالم سفلی کے اجسام میں تصرف کرتا ہے بلکہ اس وقت فیاض اقدس خود اس کے دل پر اپنی معرفت کی تجلی فرماتا ہے جو سب سے عظیم عطیہ ہے تو پھر اور کونسی چیز اس سے مخفی ہوگی۔ (مرقاۃ ج ١ ص ١٢٨‘ مکتبہ حقانیہ ‘ پشاور)

مصیبت اور راحت کے وقت مسلمانوں کا طریقہ

ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ جب سعید بن جبیر مکہ سے کوفہ آئے تاکہ ان کو واسط میں حجاج کے پاس لے جایا جائے تو ہم تین یا چار شخص ان کے پاس گئے۔ ان کو لکڑی کے ایک گھورے (کچرا کنڈی) میں رکھا ہوا تھا۔ ہم ان کے پاس بیٹھ گئے اور ہم میں سے ایک شخص رونے لگا۔ سعید نے پوچھا : تم کیوں رو رہے ہو ! اس نے کہا : میں آپ کو اس مصیبت میں دیکھ کر رو رہا ہوں۔ سعید نے کہا : مت روئو کیونکہ اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم تھا کہ ایسا ہونا ہے ‘ پھر یہ آیت پڑھی :” ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتب من قبل ان نبراھا ان ذلک علی اللہ یسیر۔ “ (الحدید : ٢٢ )

(مصنف ابن ابی شیبہ ج ٦ ص ١٩٥۔ رقم الحدیث : ٣٠٦١١‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٦ ھ)

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ایمان کا ذائقہ محسوس نہیں کرسکتا جب تک کہ اس کو یہ یقین نہ ہو کہ اس پر جو مصیبت آئی ہے وہ اس سے ٹل نہیں سکتی تھی اور جو مصیبت اس سے ٹل گئی ہے وہ اس پر آ نہیں سکتی۔ پھر حضرت ابن مسعود نے یہ آیت پڑھی : ” لگیلاتا سوا علی مافا تکم۔ “

(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٤٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٧‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٠٠)

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ہر شخص غمگین بھی ہوتا ہے اور خوش بھی ہوتا ہے لیکن مومن اپنی مصیبت پر صبر کرتا ہے اور اپنی نعمت پر شکر کرتا ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٦٠٧١)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 22