أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا وَّ اِبۡرٰهِيۡمَ وَجَعَلۡنَا فِىۡ ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالۡـكِتٰبَ‌ فَمِنۡهُمۡ مُّهۡتَدٍ‌ۚ وَكَثِيۡرٌ مِّنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ  ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم کو (اپنا پیغام دے کر) بھیجا اور ہم نے ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب کو رکھ دیا ‘ پس ان میں سے بعض ہدایت یافتہ ہوئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم کو (اپنا پیغام دے کر) بھیجا اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب کو رکھ دیا۔ پس ان میں سے بعض ہدایت یافتہ ہوئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ پھر ہم نے ان کے طریقہ پر اپنے اور رسول لگاتار بھیجے اور ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور ہم نے ان کو انجیل عطا فرمائی اور ہم نے ان کے پیروکاروں کے دلوں میں شفقت اور رحمت رکھی اور رہبانیت کو انہوں نے ازخود ایجاد کیا۔ ہم نے اس کو ان پر فرض نہیں کیا تھا مگر (انہوں نے) اللہ کی رضا کی طلب کے لئے (اس کو ایجاد کیا) پھر انہوں نے اس کی ایسی رعایت نہ کی جو رعایت کا حق تھا۔ پس ہم نے ان میں سے ایمان والوں کو ان کا اجر عطا فرمایا اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ (الحدید : ٢٧۔ ٢٦ )

نبی ‘ کتاب اور فاسق کے معنی

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا : ہم نے اپنے رسولوں کو قوی دلائل کے ساتھ بھیجا اور مخلوق کو ان کی مدد کرنے کا حکم دیا اور اس آیت میں اس اجمال کی تفصیل فرمائی ہے کہ ہم نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کو رسالت (پیغام رسانی) کے ساتھ مشرف فرمایا اور ان کی اولاد میں بھی نبوت اور کتاب کو رکھا۔ اس کے بعد جو نبی بھی مبعوث ہوا وہ ان کی اولاد میں سے تھا۔

اس آیت میں پہلے نبوت کا ذکر فرمایا ہے پھر کتاب کا ذکر فرمایا ہے اور یہ ادنیٰ سے اعلیٰ درجہ کی طرف ترقی کا اسلوب ہے کیونکہ نبی اس انسان کو کہتے ہیں جس پر اللہ تع الیٰ اپنی وحی نازل فرمائے اور اس کو مخلوق کی طرف تبلیغ اخکام کے لئے بھیجے ‘ خواہ اس کو کتاب بھی عطا فرمائے یا نہیں اور رسول اس نبی کو کہتے ہیں جس پر کتاب بھی نازل کی گئی ہو اور رسول کا نبی سے بڑا رتبہ ہے۔

کتاب کا لغوی معنی ہے : جمع کرنا اور کتاب کو کتاب اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں متعدد مضامین جمع ہوتے ہیں اور آسمانی کتاب کو بھی کتاب اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے احکام اور غیب کی خبریں جمع ہوتی ہیں۔

اور فرمایا : ان میں سے بعض ہدایت یافتہ ہوتے ہیں اور اکثر فاسق ہیں ‘ ان میں سے ہر ایک کے دو محمل ہیں : حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی اولاد سے یا جن کی طرف ان کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے ‘ ان میں سے۔

فاسق اس شخص کو کہتے ہیں جو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو ‘ عام ازیں کہ اس نے کفر بھی کیا ہو یا نہیں۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 26