أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَاٰمِنُوۡا بِرَسُوۡلِهٖ يُؤۡتِكُمۡ كِفۡلَيۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِهٖ وَيَجۡعَلْ لَّـكُمۡ نُوۡرًا تَمۡشُوۡنَ بِهٖ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے اس رسول پر (ہمیشہ) ایمان رکھو ‘ اللہ تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے ایسا نور بنا دے گا جس میں تم چلو گے اور تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور اللہ بہت معاف فرمانے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے اس رسول پر (ہمیشہ) ایمان رکھو ‘ اللہ تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے ایسا نور بنا دے گا جس میں تم چلو گے اور تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور اللہ بہت معاف فرمانے والا ‘ بےحد رقم فرمانے والا ہے۔ تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل پر بالکل قدرت نہیں رکھتے اور بیشک فضل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ اسے جس کو چاہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔

(الحدید : ٢٩۔ ٢٨ )

اہل کتاب میں سے جو شخص ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لایا ‘ اس کو دو اجر ملنے کی تحقیق

الحدید : ٢٨ کے حسب ذیل محامل ہیں :

اے وہ لوگو ! جو (حضرت) موسیٰ اور (حضرت) عیسیٰ پر ایمان لائے ہو ! اللہ سے (ہمیشہ) ڈرتے رہو اور اس کے رسول (سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائو ‘ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے تم کو دو حصے عطا فرمائے گا ‘ ایک اجر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اور ایک اجر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا ‘ اس آیت کی مثل یہ آیات ہیں :

ترجمہ : (القصص : ٥٤۔ ٥٢ )… وہ لوگ جن کو ہم نے اس سے پہلے کتاب عطا فرمائی تھی ‘ سو وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اور جب اس کتاب کی آیتیں ان پر پڑھی جاتی ہیں (تو) وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کتاب پر ایمان لاچکے ہیں ‘ یہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہے ‘ ہم تو پہلے ہی اس کو ماننے والے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کے صبر پر دو مرتبہ اجر دیا جائے گا ‘ یہ نیکی سے بدی کو دور کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

ان لوگوں کو دو اجر اس لئے ملیں گے کہ یہ اپنے پہلے نبی (حضرت عیسیٰ یا حضرت موسیٰ علیہما السلام) پر بھی ایمان لائے اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ایمان لائے ‘ حدیث میں ہے :

ابو بردہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین (قسم کے) آدمیوں کے دو اجر ہیں : ایک اہل کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے نبی پر بھی ایمان لایا اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ایمان لایا اور دوسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کرے اور اپنے مالک کا بھی حق ادا کرے اور تیسرا وہ شخص جس کی ایک باندی ہو ‘ وہ اس کی اچھی تربیت کرے اور اس کو اچھی طرح علم پڑھائے ‘ پھر اس کو آزاد کرکے اس کے ساتھ نکاح کرے۔

(صحیح الحدیث رقم الحدیث : ٩٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٤‘ مسند احمد رقم الحدیث : ١٩٧٣٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)

علامہ عصام الدین اسمایل بن محمد الحنفی المتوفی ١١٩٥ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ جو لوگ گزشتہ رسولوں پر ایمان لا چکے تھے خواہ ان کے ادیان منسوخ ہوچکے ہوں ‘ جب وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں گے تو اسلام کو قبول کرنے کی برکت سے ان سب کو دو اجر دیئے جائیں گے کیونکہ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب علماء یہد میں سے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی سلام لائے تھے اور یہ آیت تمام اہل کتاب کے حق میں عام ہے۔

(حاشیۃ القونوی علی البیضادی ج ١٨ ص ٤٨٠‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ترجمہ : (الانعام : ١٦٠ )… جو شخص ایک نیکی لائے گا اس کو اس نیکی کی دس مثلیں ملیں گی۔

اس آیت کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ عام مومنین کو ان کی نیکیوں کا دس گنااجر ملے گا اور مومنین اہل کتاب میں سے جو اسلام کو قبول کریں گے ان کو ان کی نیکیوں پر بیس گنا اجر ملے گا ‘ اسی طرح اس غلام کو بھی بیس گنا اجر ملے گا جو اللہ کا حق بھی ادا کرے گا اور اپنے مالک کا بھی۔

آیا دو اجر صحیح مومن اہل کتاب کو ملیں گے یا ہر اہل کتاب کو جو اسلام قبول کرے گا ؟

اس میں بھی اختلاف ہے کہ دو اجر صحیح مومنین اہل کتاب کے ساتھ خاص ہیں یا ان یہود و نصاریٰ کو بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے دین میں بگاڑ پیدا کرلیا تھا اور حضرت عیسیٰ اور عزیر کی پرستش شروع کردی تھی۔

علامہ بد الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

اس مسئلہ میں اختلاف ہے ‘ بعض علماء نے کہا : ان سے مراد اہل کتاب ہیں جو اپنے دین پر اسی طرح باقی تھے جس طرح ان کے نبی اس دین کو لے کر آئے تھے اور انہوں نے دین میں کوئی تبدیلی نہیں اور تحریف نہیں کی تھی ‘ سو جو اہل کتاب اسی طرح اس دین پر قائم رہے ‘ حتیٰ کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث کئے گئے پھر وہ آپ کے اوپر بھی ایمان لائے تو ان کو دو اجر ملیں گے اور جنہوں نے اس دین میں تبدیلی اور تحریف کردی ‘ ان کے لئے اس دین پر قائم رہنے کا کوئی اجر نہیں ہے ‘ پھر جب وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے تو ان کو صرف آپ کی نبوت اور آپ کے دین پر ایمان لانے کا اجر ملے گا۔

اور بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ آیت عام اہل کتاب کے متعلق ہے اور اس میں کوئی استبعاد نہیں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا ان کو دو اجر عطا کرنے کا سبب ہو۔ ایک مرتبہ ان کے ان نیک اعمال پر جو انہوں نے اس دین میں کئے ہیں۔ خواہ انہوں نے دین میں تبدیلی اور تحریف کردی ہو ‘ کیونکہ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ اسلام لانے کے بعد کفار کے نیک اعمال مقبول ہوتے ہیں ‘ اسی طرح ان کو ایک اجر اپنے گزشتہ ایمان پر ملے گا اور ایک اجر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا ملے گا

(عمدۃ القاری ج ٢ ص ١٧٩‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

نیز علامہ بدالدین عینی لکھتے ہیں :

” شرح ابن التین “ میں مذکور ہے کہ یہ آیت (القصص : ٥٢) حضرت عبداللہ بن سلام (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے اور علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ وہ اہل کتاب جن کو دو اجر دیئے جائیں گے ‘ یہ وہ ہیں جو اپنے عقیدہ اور افعال میں مسلسل حق پر قائم رہے حتیٰ کہ وہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے تو ان کو پہلے حق کی اتباع کرنے پر بھی اجر دیا جائے گا اور دوسرے حق کی اتباع کرنے پر بھی اجر دیا جائے گا لیکن اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہرقل کی طرف مکتوب لکھا :

اسلم تسلم یوتک اللہ اجرک مرتین تم اسلام قبول کرلوں سلامت رہو گے ‘ تم کو دو مرتبہ اجر دیا جائیگا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧)

اور ہرقل وہ شخص تھا جو دین کے تبدیل ہونے اور تحریف کے بعد نصرانیت میں داخل ہوا تھا۔

(عمدۃ القاری ج ٢ ص ١٨٠‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

میں کہتا ہوں کہ علامہ بدالدین عینی کی دلیل بہت قوی ہے کیونکہ وہ ” صحیح بخاری “ کی حدیث پر مبنی ہے ‘ اس لئے صحیح یہی ہے کہ اہل کتاب میں سے جو شخص بھی اسلام پر ایمان لائے گا ‘ خواہ اس کے دین سابق میں تحریف ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو ‘ اس کو دو اجر ملیں گے۔ ہاں اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر مسلمان کو جس عبادت پر ایک اجر ملتا ہے اس کو اس پر دو اجر ملیں گے اور جس عبادت پر دس اجر ملتے ہیں اس پر اس کو بیس اجر ملیں گے اور جس پر ستائیں اجر ملتے ہیں اس کو اس پر چون اجر ملیں گے اور شرب قدر کی عبادت پر اس کو دو ہزار ماہ کی عبادت کا اجر ملے گا ‘ وعلیٰ ہذا القیاس اور اس غلام کو بھی اسی طرح دگنا اجر ملے گا جو اپنے مالک کی بھی خدمت کرتا ہے اور اپنے رب کی عبادت بھی کرتا ہے اور اسی طرح اس شخص کو بھی دنا اجر ملے گا جس نے اپنی باندی کی تعلیم و تربیت کی ‘ پھر اس کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرلیا لیکن یہ معنی اس صورت میں ہوگا جب دو اجروں سے مراد دگنا اجر ہو۔ والاہ تعالیٰ اعلم

نیز فرمایا : اور تمہارے لئے ایسا نور بنا دے گا جس میں تم چلو گے۔

اس نور سے مراد حسی نور بھی ہوسکتا ہے اور معنی بھی۔ اگر حسن نور مراد ہو تو اس کا معنی ہے : آخرت میں پل صراط پر تمہارے لئے روشنی کردے گا یا قیامت کے دن تمہارے لئے جنت کے راستے کو روشن کردے گا اور اگر اس سے معنوی نور مراد ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ تمہارے لئے بیان اور ہدایت مہیا کردے گا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس سے مراد قرآن ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دین اسلام میں مبلغ اور قائد بنا دے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا اور اللہ بہت معاف فرماتے والا ‘ بےحد رقم فرمانے والا ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 28