أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُوَ اللّٰهُ الَّذِىۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ۚ اَلۡمَلِكُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ الۡمُؤۡمِنُ الۡمُهَيۡمِنُ الۡعَزِيۡزُ الۡجَـبَّارُ الۡمُتَكَبِّرُ‌ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ ۞

ترجمہ:

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، وہ بادشاہ ہے، بہت پاک، ہر نقص سے سالم، امان دینے والا، نگہبان، بہت غالب، نہایت عظمت والا، سب سے بڑا مشرکین اس کے متعلق جو چھ کہتے ہیں اس سے پاک ہے.

” الملک، القدوس، السلام، المومن، العزیز، الجبار “ اور ” المتکبر “ کا معنی

الحشر : ٢٣ میں فرمایا : وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، وہ بادشاہ ہے، بہت پاک۔ الایۃ

” القدوس : کا معنی ہے : جو اپنی ذات، صفات، افعال، احکام اور اسماء میں ہر عیب اور نقص سے منزہ ہو۔

” السلام “ اس کا معنی ہے : ہر عیب اور نقص سے سلامتیو الا یا سلامتی عطا کرنے والا۔

” المومن “ اس کا ایک معنی ہے : امان دینے والا، دوسرا معنی ہے : تصدیق کرنے والا یعنی اپنے رسولوں اور اپنی کتابوں کی تصدیق کرنے والا۔

” المھیمن “ اس کا معنی ہے : شاہد جس سے کوئی چیز غائب نہ ہو۔

” العزیز ‘ اس کا معنی ہے : غالب جس کی کوئی نظری نہ ہو

” الجبار “ اس کا معنی ہے : قہر اور جبر کرنے والا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا :” جبار “ کا معنی ہے : عظیم بادشاہ۔

” المتکبر “ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : وہ اپنی ربوبیت میں سب سے بڑا ہے، اس کی مثل کوئی پرورش کرنے والا نہیں ہے۔ اب الانباری نے کہا، وہ کبریائی والا ہے۔

اللہ کے لئے ” المتکبر “ کا لفظ باعث مدح اور مخلوق کے لئے باعث مذمت ہے

مخلوق کے لئے متکبر کی صفت مذموم ہے، کیونکہ متکبروہ شخص ہے جو اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا اور بنلد جانے اور یہ اس کی صفت نہیں ہے، بلکہ وہ واقع میں حقیر، ذلیل اور مسکین ہے، پس جب وہ اپنے لئے بڑائی اور بلندی ظاہر کرے گا تو وہ جھوٹا ہوگا۔

اور اللہ سبحانہ کے لئے ہی تمام بڑائیاں اور بلندیاں ہیں، پس جب وہ اپنی بڑائی اور بلندی کو ظاہر کرے گا تو وہ مخلوق کو اپنی صفات عظمت و جلال وکبریائی کی طرف ہدایت دے گا، اس لئے اللہ تعالیٰ کے حق میں ” متکبر “ کا لفظ غایت مدح کا مظہر ہے۔

پھر فرمایا، مشرکین اس کے متعلق جو کچھ کہتے ہیں، وہ اس سے پاک ہے، جو لوگ تکبر کرتے ہیں، وہ صفت میں اللہ تعالیٰ کے شریک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اللہ سبحانہ، اس شرکت سے پاک ہے، پس ان کا تکبر کرنا اپنے آپ کو جھوٹا بنانا ہے اور اللہ سبحانہ کے لئے سب سے زیادہ بلندی اور بڑائی ہے، سو یہ اس کی صفت کمال ہے اور مخلوق کی صفت نقص ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 59 الحشر آیت نمبر 23