هُوَ اللّٰهُ الَّذِىۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ عٰلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ ۚ هُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِيۡمُ – سورۃ نمبر 59 الحشر آیت نمبر 22
sulemansubhani نے Monday، 25 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
هُوَ اللّٰهُ الَّذِىۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ عٰلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ ۚ هُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِيۡمُ ۞
ترجمہ:
وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، وہ ہر غیب اور شہادت (باطن و ظاہر) کا جاننے والا ہے، وہ نہایت رحم فرمانے والا بہت مہربان ہے۔
غیب کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور لفظ عالم الغیب کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونا
الحشر : ٢٢ میں فرمایا : وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، وہ ہر غیب اور ہر شہادت (باطن و ظاہر) کا جاننے والا ہے۔
غیب سے مراد وہ چیز ہے جو لوگوں سے غائب ہو اور شہادت سے مراد وہ چیز ہے جو لوگوں کے سامنے حاضر ہو، یہ غیب کا لغوی معنی ہے اور غیب کا اصطلاحی معنی یہ ہے کہ وہ پوشیدہ چیز جس کو حواس خمسہ اور بداہت عقل سے نہ جانا جاسکے، مثلاً جنت غیب سونگھ کر اور چھو کر نہیں جان سکتے اور نہ بغیر غور و فکر کے بداہت عقل سے اس کو جان سکتے ہیں، جس طرح ہم موسم کی گرمی اور سردی کو جان لیتے ہیں یا جس طرح ہم بغیر غور اور فکر کے جان لیتے ہیں کہ دو اور دو کا مجموعہ چار ہوتا ہے، سو ہم جنت اور دوزخ کو فرشتوں کو، عرش اور کرسی کو از خود نہیں جان سکتے، یہ سب چیزیں غیب ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ہم از خود نہیں جان سکتے وہ بھی غیب ہے، البتہ غور و فکر کر کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خبر دینے سے ہم ان سب چیزوں کو جان لیتے ہیں۔
عالم الغیب اللہ تعالیٰ کی صفت مختصہ ہے اور کسی مخلوق پر عالم الغیب کا اطلاق جائز نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے زیادہ علم غیب عطا فرمایا ہے اس کے باوجود آپ کو عالم الغیب کہنا جائز نہیں ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی لکھتے ہیں :
ہمار تحقیق میں لفظ عالم الغیب کا اطللاق حضرت عزت عز جلالہ، کے ساتھ خاص ہے کہ اس سے عرفاً علم بالذات متبادر ہے، کشاف میں لکھا ہے :
غیب سے مراد وہ مخفی چیز ہے جس میں ابتدائ، صرف اللطیف الخبیر کا علم نافذ ہوتا ہے اور ہمیں اس غیب سے اسی چیز کا علم حاصل ہوتا ہے، جس کی ہمیں خبر دے دی جاتی ہے یا جس پر ہمارے لئے کوئی عقلی دلیل قائم کردی جاتی ہے، اس لئے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ فلاں شخص غیب جانتا ہے اور جس غیب کا ہمیں علم دے دیا گیا یا جس پر ہمارے لئے دلیل قائم کردی گئی، اس کی مثال ہے اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات اور نبوت اور اس کے متعقل چیزیں اور قیامت اور حشر و نشر اور حساب اور وعد اور وعید وغیرھا۔ (الکشاف ج ١ ص 80 داراحیاء التراث العربی، بیروت، 1417 ھ)
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں : اور اس سے انکار معنی لازم نہیں آتا، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قطعاً بیشمار غیوب و مالکان ومایکون کے عالم ہیں، مگر عالم الغیب صرف اللہ عزو جل کو کہا جائے گا، جس طرح حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قطعات عزت و جلالت والے ہیں، تمام عالم میں ان کے برابر کوئی عزیز و جلیل نہ ہے نہ ہوسکتا ہے، مگر محمد عزو جل کہنا جائز نہی ہے۔ (الیٰ قولہ)
علامہ سید شریف قدس سرہ، حواشی کشاف میں فرماتے ہیں :
اللہ تعالیٰ کے غیر پر عمل غیب کا اطلاق اس لئے جائز نہیں ہے کیونکہ علم سے متبادر یہ ہوتا ہے جس کو ابتداء علم ہو، پس یہ منافی ہوگا، لیکن جب اس میں قید لگائی جائے اور یہ کہا جائے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے غیب کا علم دیا یا اس کو غیب پر مطلع فرما دیا تو پھر کوئی حرج نہیں۔ (حاشیۃ الکشاف ج ١ ص 128 مصر) (فتاویٰ رضویہ ج ٩ ص 81 مکتبہ رضویہ، کراچی)
القرآن – سورۃ نمبر 59 الحشر آیت نمبر 22