يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ قَدۡ يَــئِـسُوۡا مِنَ الۡاٰخِرَةِ كَمَا يَــئِـسَ الۡكُفَّارُ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡقُبُوۡرِ – سورۃ نمبر 60 الممتحنة آیت نمبر 13
sulemansubhani نے Tuesday، 26 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ قَدۡ يَــئِـسُوۡا مِنَ الۡاٰخِرَةِ كَمَا يَــئِـسَ الۡكُفَّارُ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡقُبُوۡرِ ۞
ترجمہ:
اے ایمان والو ! ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے، بیشک وہ آخرت سے مایوس ہوچکے ہیں جیسا کہ کفار قبر والوں سے مایوس ہوچکے ہیں ؏
الممتحنہ : ۱۳ میں فرمایا : اے ایمان والو ! ان لوگوں سے دسوتی نہ کرو جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے، بیشک وہ آخرت سے مایوس ہوچکے ہیں جیسا کہ کفار قبر والوں سے مایوس ہوچکے ہیں۔
یہود کے ساتھ دوستی رکھنے کی ممانعت
مقاتل بن حیان اور مقاتل بن سلیمان نے کہا ہے کہ فقراء مسلمین یہود کو مسلمانوں کی خبریں پہنچاتے تھے اور ان سے ملاپ رکھتے تھے اسی وجہ سے یہود ان کو پھل وغیرہ دیتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان مسلمانوں کو اس سے منع فرمایا۔
اس آیت میں فرمایا ہے کہ یہود آخرت سے مایوس ہوچکے ہیں، کیونکہ یہود نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کی حالانکہ ان کو آپ کے صدق کا علم تھا اور ان کو یقین تھا کہ آپ برحق رسول ہیں، اس کے باوجود انہوں نے عناداً آپ کی رسالت کا انکار کیا، اس وجہ سے وہ آخرت میں اپنی جات سے مایوس ہیں۔ جس طرح جو کافر مر کر قبروں میں پہنچ چکے ہیں وہ آخرت میں اپنی نجات سے مایوس ہیں، ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ ان کے لئے اجر وثواب میں سے کوئی حصہ نہیں ہے۔ مجاہد نے کہا، اس سے وہ کافر مراد ہیں جو آخرت کے عذاب کا معائنہ کرچکے ہیں۔ (الوسیط ج ٤ ص 289 دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٥ ھ)
مقاتل بن سلیمان متوفی 150 ھ لکھتے ہیں :
کافروں کے میاسو ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب کافر کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کے پاس شدید ڈانٹ ڈپٹ کرنے والا فرشتہ آتا ہے، وہ اس کو بٹھا کر اس سے سوال کرتا ہے : تیرا رب کون ہے تیرا دین کیا ہے ؟ اور تیرا رسول کون ہے کافر کہتا ہے : میں نہیں جانتا، فرشتہ کہتا ہے : اے اللہ کے دشمنچ دیکھ ! اللہ نے تیرے لئے قبر میں کیسا عذاب تیار کر رکھا ہے، فرشتہ کہتا ہے : اے اللہ کے دشمن ! یہ عذاب تیرے لئے ہے، اگر تو ایمان لے کر آتا تو تجھے جنت میں داخل کردیا جاتا، پھر اس کو جنت دکھائے گا، کافر پوچھے گا : یہ جنت کس کے لئے ہے فرشتہ کہے گا : یہ جنت اس کے لئے ہے جو اللہ پر ایمان لایا، پھر کافر پر حسرت طاری ہوگی اور اس کی امیدیں مقنطع ہوجائیں گی اور اس کو یقین ہوجائے گا کہ اس کی آخرت میں نجات نہیں ہوگی اور اس کے لئے آخرت میں کوئی اجر وثواب نہیں ہے، سو اس وجہ سے فرمایا کہ کافر اپنی آخرت سے مایوس ہوچکے ہیں کیونکہ کافر نے قبر میں اپنی آخرت کا معئانہ کرلیا ہے۔ (تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص 354، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٤ ھ)
القرآن – سورۃ نمبر 60 الممتحنة آیت نمبر ۱۳