أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ يَجۡمَعُكُمۡ لِيَوۡمِ الۡجَمۡعِ‌ ذٰ لِكَ يَوۡمُ التَّغَابُنِ‌ ؕ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۡۢ بِاللّٰهِ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًـا يُّكَفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّاٰتِهٖ وَيُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ ذٰ لِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیْمُ ۞

ترجمہ:

جس دن وہ تم سب کو جمع ہونے کے دن جمع فرمائے گا وہی دن (کفار کے) نقصان کا دن ہے، اور جو لگ اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے، اللہ ان کے گناہوں کو ان سے مٹا دے گا اور ان کو ان جنتوں میں داخل کر دے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

قیامت کے دن کو یوم التغابن فرمانے کی وجہ

التغابن : ٩ میں فرمایا : جس دن وہ تم سب کو جمع ہونے کے دن جمع فرمائے گا۔

قیامت کے دن کو ” یوم الجمع “ فرمایا کیونکہ اس دن اللہ تعالیٰ متام الوین اور آخرین کو، انسانوں اور جنات کو، آسمان والوں کو اور زمین والوں کو جمع فرمائے گا۔ ایک قول یہ یہ کہ اس دن بندے کو اس کے اعمال کے ساتھ جمع فرمائے گا اور ایک قول یہ ہے کہ اس دن مئومنوں کو اور کافروں کو جمع فرمائے گا۔

قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ نے ’ یوم التغابن ‘ فرمایا، غبن کا معنی ہے : کسی کو نقصان پہنچانا، جب کوئی شخص کسی کو کوئی چیز معروف نرخ سے زیادہ مہنگے داموں پر فروخت کر دے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے اس کے ساتھ غبن کیا ہے، یعنی اس کو نقصان پہنچایا ہے، قیامت کے دن کافروں کو پتا چلے گا کہ دنیا میں انہوں نے اپنی جانوں کو کفر اور سرکشی کی جس قیمت پر فروخت کیا تھا یہ گھاٹے کا سودا تھا اور اس تجارت میں انہوں نے اپنے نفسوں کے ساتھ غبن کیا تھا۔

علامہ شامی متوفی ١٢٥٢ ھ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسیک و کوئی چیز غبن فاحش کے ساتھ فروخت کر دے یعنی معمول اور مروج قیمت سے بہت زیادہ قیمت لے اور خریدار قاضی کے پاس گواہوں سے غبن فاحش ثابت کر دے اور قاضی بیع فسخ کر دے تو اس کی قضا نافذ ہوجائے گی۔ (رسائل ابن عابدین ج ٢ ص ٦٩ سہیل اکیڈمی، لاہور)

غبن فاحش کی تعریف اور اس کا شرعی حکم

کوئی چیز غبن فاحش کے ساتھ خریدی ہے، اس کی دو صورتیں ہیں : دھوکہ دے کر نقصان پہنچایا ہے کہ نہیں ڈ اگر غبن فاحش کے ساتھ دھوکا بھی ہے تو واپس کرسکتا ہے ورنہ نہیں، غبن فاحش کا یہ مطلب ہے کہ اتنا ٹوٹا (نقصان) ہے جو مقومین (قیمت لگانے والوں) کے اندازہ سے باہر ہو مثلاً ایک چیز دس روپے میں خریدی کوئی اس کی قیمت پانچ بتاتا ہے، کوئی چھ، کوئی سات تو یہ غبن فاحش ہے اور اگر اس کی قیمت کوئی آٹھ بتاتا ہے، کوئی نو، کوئی دس تو غبن یسر ہوتا۔ دھوکے کی تین صورتیں ہیں، کبھی بائع مشتری کو دھوکا دیتا ہے، پانچ کی چیز دس میں بیچ دیتا ہے اور کبھی مشتری بائع کو دھوکا دیتا ہے کہ دس کی چیز پانچ میں خرید لیتا ہے، کبھی دلال دھوکا دیتا ہے۔ ان تینوں صورتوں میں جس کو غبن فاحش کے ساتھ نقصان پہنچا ہے واپس کرسکتا ہے اور اگر کبھی اجنبی شخص نے دھوکا دیا ہو تو واپس نہیں کرسکتا۔ (بہار شریعت حصہ ١١ ص 58-59 ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

(البقرہ : ١٦) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے عوض گم راہی خرید لی پس ان کی تجارت نے ان کو نفع نہ پہنچایا۔

اس طرح جن مسلمانوں نیا پنی جانوں کو نفسانی خواہشوں اور گناہوں کے عوض فروخت کردیا ان کو بھی قیامت کے دن پتا چلے گا کہ انہوں نے اپنی جانوں کے ساتھ غبن کیا ہے۔

اسی طرح جن مسلمانوں نے کم عبادت کی یا کم شکر ادا کیا اور اپنی جانوں کو آرام طلبی اور سستی کے عوض فروخت کردیا ان کو بھی قیامت کے دن پتا چلے گا کہ انہوں نے اپنی جانوں کے ساتھ غبن کیا ہے۔

اس کے بعد فرمایا : اور جو لگ اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے، اللہ ان کے گناہوں کو ان سے مٹا دے گا۔

یعنی جو لوگ رسولوں کے پیغام کے مطابق قیامت اور حشر و نشر پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے، اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور ان کو ان جنتوں میں داخل فرما دے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 64 التغابن آیت نمبر 9